Today News
علمی مفلوج نسلیں : ڈیجیٹل تعلیم کا دیوالیہ پن
اسکولوں میں اورکالجوں میں مفت لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔ یہاں تک کہ دینی مدارس کے طلباء کو بھی محروم نہیں رکھا گیا۔ جنھیں لیپ ٹاپ نہ مل سکے اُن کی حسرتیں دیدنی تھیں۔
یہ سب مغرب کی اندھی چال میں اِس وجہ سے بھی کیا جا رہا تھا کہ 2002 میں ’’ مائن‘‘ وہ پہلی امریکی ریاست تھی جس نے تعلیم کے لیے اسکولوں میں ’’ لیپ ٹاپ پروگرام ‘‘ متعارف کروایا۔
جناب اینگس کنگ جو اُس وقت وہاں کے گورنر تھے انھیں یہ سہرا جاتا ہے۔ انھیں انٹرنیٹ اِس قدر بھایا کہ انھوں نے اسے طلبا کے لیے عام کردیا۔
یوں یہ بخار دیگر ریاستوں اور دنیا میں عام ہوا۔ بے سوچے سمجھے، بے جانے بوجھے۔ یہاں تک کہ21 فروری کو معروف رسالے ’’ فارچون‘‘ میں ’’ساشا روگلبرگ‘‘ کا تعلیم کے حوالے سے ایک اہم مضمون شائع ہوا۔
اِس مضمون نے تعلیمی حلقوں میں نہ صرف ہل چل مچا دی بلکہ کئی مباحث بھی چھیڑ دیے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا کے اسکولوں میں نصابی کتب اور قلم وکاغذ کو ترک کر کے لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کو فروغ دینے کا تجربہ کیا گیا۔
اِس پراجیکٹ پر صرف گزشتہ برس 30 ارب ڈالر سے زائد رقم صرف کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ رقم کئی چھوٹے ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
اس ٹیکنالوجی انقلاب کا مقصد بچوں کو معلومات کی بے پایاں دنیا سے ہم کنارکرنا اور انھیں مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیارکرنا تھا، لیکن اس تجربے کا نتیجہ کیا نکلا؟ ماہرین نفسیات اور سیکھنے کے علوم کے ماہرین کے مطابق، اس کا نتیجہ توقع کے بالکل برعکس نکلا ہے۔
جین زی پہلی جدید نسل ہے جو اپنے والدین کی نسبت علمی صلاحیتوں ( کوگنیٹیو کیپیبلیٹیز) کے ٹیسٹوں میں کم نمبر حاصل کر رہی ہے۔
بین الاقوامی طالب علم تشخیصی پروگرام اور دیگر معیاری ٹیسٹوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جیسے جیسے اسکولوں میں اسکرین کا وقت بڑھا، طالب علموں کی کارکردگی میں تنزلی آئی۔
یہ صرف اعداد نہیں ہیں، یہ ایک پوری نسل کے علمی زوال کی داستان ہے۔مائن نامی ریاست نے 2002 میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا، جہاں ساتویں جماعت کے طالب علموں کو 17 ہزار ایپل لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔
2016 تک یہ تعداد بڑھ کر 66 ہزار ہوگئی، لیکن 15 سال بعد جب تعلیمی نتائج دیکھے گئے تو کوئی بہتری نہیں تھی۔ تب کے گورنر پال لی پیج نے اس پروگرام کو ’’ بھاری ناکامی‘‘ قرار دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کو علم کی معراج سمجھا گیا، وہ علمی زوال کا سبب بن گئی؟ جدید دورکی ایپلی کیشنز، خاص طور پر سوشل میڈیا اورگیمنگ ایپس، اس طرح ڈیزائن کی گئی ہیں کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت ان پرگزارے، یہ ایک نشے کی مانند ہے۔
2014 کی ایک تحقیق کے مطابق یونیورسٹی کے طالب علم اپنے کمپیوٹر پر پڑھائی کے دوران دو تہائی وقت غیر تعلیمی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں۔جب ذہن کو بار بار ایک کام سے ہٹا کر دوسرے کام پر لگایا جاتا ہے تو اس سے توجہ مرکوزکرنے کی صلاحیت ختم ہوتی ہے، یاد داشت کمزور ہوتی ہے اور غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
سیکھنے کا عمل تو خود بخود مشکل اور محنت طلب ہے۔ جیرڈ ہوروتھ کہتے ہیں کہ ’’ سیکھنا محنت طلب، مشکل اور اکثر تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہی تکلیف گہری اور پائیدار تعلیم کی کنجی ہے۔‘‘ جدید ٹیکنالوجی نے اس’’ تکلیف‘‘ کو ختم کرکے سیکھنے کا عمل ہی ختم کردیا ہے۔
یہاں ہم جدید تعلیم کے مقاصد اور قدیم تہذیبوں کے تعلیمی نظام کا تقابل کریں تو حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں۔ قدیم یونان میں سقراط کا خیال تھا کہ علم کو ڈائیلاگ اور مکالمے سے پروان چڑھنا چاہیے۔ وہ تحریر کو بھی علم کا دشمن سمجھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک تحریر یادداشت کو کم زور کرتی ہے۔ آج ہم نے تحریرکو بھی خیرباد کہہ کرکلک اور اسکرول کو اپنا لیا ہے۔
بھارت کی قدیم گروکُل تعلیم میں استاد اور شاگرد کا رشتہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ علم صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ مشاہدے، مشق اورگروکی موجودگی میں حاصل ہوتا تھا۔
اسلامی تہذیب کی تاریخ دیکھیں تو بیت الحکمہ بغداد میں مسلمانوں نے نہ صرف یونانی فلسفہ محفوظ کیا بلکہ اسے تجربے اور مشاہدے کی کسوٹی پر پرکھا۔ ابنِ ہیثم نے بصارت پر تحقیق کی تو اس نے کتابوں پر انحصار نہیں کیا، بلکہ تجربہ گاہ میں وقت گزارا، آنکھ کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھا۔
حوزہ علمیہ قم جیسی عظیم درس گاہیں اس بات کی زندہ دلیل ہیں کہ علم حقیقی صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں۔ جہاں جدید اسکولز میں طالب علم چند منٹوں میں ٹک ٹاک ویڈیوز پر علم حاصل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، وہاں حوزہ قم کی درس گاہوں میں آج بھی صدیوں پرانی کتب کا گہرا مطالعہ، استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا اور حکمت کے دریچوں میں غوطہ زنی صبر آزما سالوں کے بعد ممکن ہوتی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں جدید ٹیکنالوجی نے علم کو سطحی اور رفتار کا اسیر بنا دیا، وہاں حوزہ قم نے صدیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ علم کی گہرائی اور اس کا عملی ارتقاء ایک سست رفتار لیکن پائیدار عمل ہے۔
ایران کے رہبرِ انقلاب کے الفاظ میں، حوزہ علمیہ قم محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ’’جامع وجود ‘‘ ہے جو علم، اخلاق، معاشرت اور سیاست کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ یہی وہ کلیت اورگہرائی ہے جسے جدید تعلیم نے ٹیکنالوجی کی قربان گاہ پرگنوا دیا ہے۔
قدیم چین میں کنفیوشس کا فلسفہ تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات اکٹھی کرنا نہیں، بلکہ کردار سازی اور اخلاقی بلندی ہے۔ ان تمام قدیم تہذیبوں کا تعلیمی نظام ایک نقطے پر متفق تھا۔ علم ایک سست رفتار،گہرا اور ارتقائی عمل ہے۔
جدید تعلیم نے اس گہرائی کو قربان کر کے وسعت کو ترجیح دی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ طالب علم کے پاس تو معلومات کے انبار ہیں، لیکن ان معلومات کو سمجھنے، پرکھنے اور ان سے نئے مسائل حل کرنے کی صلاحیت مفقود ہوگئی ہے۔
جدید ذہن ٹک ٹاک اور ریلس پر پلنے والی معلومات کا عادی ہوگیا ہے۔ بیلر یونیورسٹی کی نومبر 2025 کی ایک تحقیق نے انکشاف کیا کہ ٹک ٹاک کو استعمال کرنے میں سب سے کم ذہنی توانائی درکار ہوتی ہے،کیونکہ یہ غیر متوقع اور پرجوش مواد پیش کر کے دماغ کو بغیر سوچے سمجھے مسلسل مصروف رکھتا ہے۔
نتیجہ یہ کہ ایک پوری نسل پیچیدہ اور طویل المعیاد مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہو رہی ہے۔جین ٹوینگے، جوکہ نسلی فرق کی ماہر نفسیات ہیں، کہتی ہیں کہ اسکرین کا زیادہ وقت نہ صرف تعلیم میں غیر موثر ہے بلکہ یہ نقصان دہ ہے۔
وہ اسے نشے کی لت سے تشبیہ دیتی ہیں۔ اس لت کے اثرات اتنے سنگین ہیں کہ حال ہی میں 350 خاندانوں اور 250 اسکولوں نے میٹا، اسنیپ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے خلاف مقدمہ دائرکیا ہے، جس میں ان پلیٹ فارمزکو بچوں میں ذہنی امراض جیسے ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف امریکا تک محدود نہیں۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں یہی رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اسمارٹ اسکولز اور ٹیبلیٹ بیسڈکلاس رومزکا رواج بڑھ رہا ہے، بغیر اس بات کا جائزہ لیے کہ آیا یہ ٹولز واقعی سیکھنے میں مدد دے رہے ہیں یا محض ایک نیا کاروبار ہے۔
جیرڈ ہوروتھ کا کہنا ہے کہ اس نسل کی ناکامی انفرادی کوتاہی نہیں بلکہ ایک ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں،’’ میں جب بھی نوعمروں سے ملتا ہوں تو کہتا ہوں، یہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔ تم میں سے کسی نے نہیں کہا تھا کہ تمہیں بارہ سال تعلیم کمپیوٹرکے سامنے بیٹھ کرگزارنی ہے۔ یہ ہم (بالغوں) نے غلطی کی ہے۔‘‘
اب کچھ ریاستوں نے اس غلطی کا ادراک کر لیا ہے۔ اگست 2025 تک، امریکا کی 17 ریاستوں نے اسکولوں میں سیل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ 35 ریاستوں میں کلاس روم میں فون کے استعمال کو محدود کیا گیا ہے، لیکن کیا یہ پابندیاں کافی ہیں؟
Today News
اینٹی شپ میزائل سے لیس ایران کا جنگی بحری جہاز سری لنکا میں ڈوب گیا؛ 140 افراد لاپتا
سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز ڈوبنے کے بعد بحرِ ہند میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کی وزارتِ دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے جکہ جنگی بحری جہاز پر تقریباً 180 سوار تھے جن میں 140 تاحال لاپتا ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 30 افراد کو ریسکیو آپریشن کے دوران سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا لیکن زخمی ہونے کے باعث قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
زخمیوں میں بعض کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ کچھ کو جلنے کے زخم اور خراشیں آئی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کا شکار بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ تھا
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم جہاز ڈوبنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔
اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟ اس سوال پر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مشق میں شرکت کے لیے آیا تھا؟
بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق یہ جہاز بحری مشق آئی آر ایف اینڈ میلان 2026 میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔
Today News
26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کو پھر ریلیف مل گیا
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست پر محفوض کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
علیمہ خان آج بھی پیش نہیں ہوئی تھی اور حاضری معافی کی درخواست دائر کی تھی۔ سرکاری پراسیکیوٹر نے عدم پیشی پر حاضری معافی درخواست کی سخت مخالفت کی تھی۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں اور سرکاری وکیل مقرر کر کے آخری گواہ پر جرح کروائی جائے۔ ملزمہ مسلسل دانستہ پیش نہیں ہو رہی یہ رویہ غلط ہے، آخری گواہ رہ گیا لہٰذا سرکاری وکیل مقرر کر کے جرح مکمل کروائی جائے۔
وکیل صفائی اور پراسیکیوٹر کے دلائل سن کر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالت نے کچھ دیر بعد علیمہ خان کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرکے 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ حاضری معافی نہیں ہوگی، علیمہ خان سمیت تمام ملزمان 9 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں۔ آئندہ تاریخ پر وکیل صفائی آخری گواہ تفتیشی آفیسر پر جرح مکمل کریں گے۔
عدالت نے بانی چیئرمین سے وکالت نامے سپرنٹنڈنٹ جیل کو تصدیق کر کے وکلاء کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
Source link
Today News
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین ایک بار پھر ملتوی؛ وجہ سامنے آگئی
اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی آج ادا کی جانے والی نماز جنازہ کے اجتماع کو ملتوری کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج یعنی 4 مارچ کو ہونا تھی لیکن اب یہ ملتوی کردی گئی۔
آج نماز جنازہ کے بعد تہران کے امام خمینی نماز ہال میں تین روزہ الوداعی تقریب کی تیاری بھی کرلی گئی تھی جس میں عوام کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی تدفین مشہد میں کی جانا تھی مگر اب تدفین کا دن اور وقت ابھی تک طے نہیں کیا گیا۔
لیکن اب اس تقریب کو ملتوی بھی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آخری رسومات کا حتمی شیڈول مقام اور انتظامات کے طے نہ ہونے کی وجہ سے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
نماز جنازہ کے اجتماع کے مقام، تاریخ اور دیگر تفصیلات فی الحال بتائی نہیں گئیں تاہم اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ نماز جنازہ کے اجتماع کو ملتوی کرنے کا فیصلہ دیگر صوبوں کے شہریوں کی جانب سے آنے والی آرا کی روشنی میں کیا گیا۔
دور دراز کے علاقوں سے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے اب بھی متعدد قافلے راستے میں ہیں اور محدود سفری سہولیات کے باعث انھیں پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔
جس کے باعث رہبر اعلیٰ کے نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech1 week ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report