Connect with us

Today News

عملی اقدامات کی ضرورت – ایکسپریس اردو

Published

on


سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی قرارداد منظور کی۔ سندھ اسمبلی نے ہندوستان کے مسلمانوں سے ایک قرارداد کے ذریعے اپیل کی کہ وہ سندھ میں آکر آباد ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد جو مہاجر سندھ آئے سندھیوں نے انھیں خوش آمدید کہا مگر بعد میں صوبے میں لسانی تضادات ابھرے۔ برسرِ اقتدار حکومتوں میں سے کچھ نے ان تضادات سے اپنے مفادات پورے کیے اور کچھ حکومتوں نے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اب اگر سندھ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو پیدا ہونے والے تضادات کے اثرات اگلی صدی تک پڑیں گے۔

سندھ اسمبلی نے سندھ کو توڑنے کے خلاف قرارداد تو منظور کر لی مگر صوبے میں بدترین طرزِ حکومت اور عدم شفافیت کی جڑوں کو ختم کرنے کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی شہر کی اونر شپ نہیں لی بلکہ یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے علاوہ دیگر جماعتیں برسر اقتدار آئیں تو انھوں نے بھی کراچی کی اونر شپ نہیں لی۔ کبھی کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں آگے تھا مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔

 پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر سندھ پر 28 سال حکومت کی ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس شہر کو جدید شہر بنانے کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔ سب سے پہلے ایک پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ کا جائزہ لیا جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی 70ء کی دہائی کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیچھے چلا گیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت آئی تو اس شہر میں ڈبل ڈیکر بس، ٹرام اور سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے ٹرام وے سروس کو بند کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ماس ٹرانزٹ پروگرام تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوا، جب پیپلز پارٹی نے 1988کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو ماس ٹرانزٹ پروگرام کے بارے میں کچھ فائلوں میں کام ہوا تھا۔ جب بے نظیر بھٹو دوسری دفعہ 1993 میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں تو فہیم الزماں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ماس ٹرانزٹ پروگرام کا سنگِ بنیاد رکھا تھا مگر پھر فہیم الزماں پیپلز پارٹی کے نئے کلچر میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے۔

ان کے رخصت ہونے کے بعد ماس ٹرانزٹ پروگرام کہیں کھو گیا، سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔ کراچی بد امنی کا شکار ہوا۔ نجی شعبہ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کردی۔ جب 2008میں پیپلز پارٹی کی تیسری دفعہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت بنی تو شہری چین کے مال برداری کے لیے تیار کردہ چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ چند سال قبل شرجیل انعام میمن کو پبلک ٹرانسپورٹ محکمہ دیا گیا۔ حکومت نے 300 بسیں اور 5 ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر اپنا فریضہ پورا کر ڈالا۔ کراچی کو انڈر گراؤنڈ ٹرین، الیکٹرک ٹرام اور جدید بسوں کی ضرورت ہے مگر حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔

گزشتہ 18 برسوں کے دوران کراچی والوں کے لیے پانی ایک نیا مسئلہ بن گیا۔ شہر کے بہت سے علاقوں میں نلوں میں پانی نہیں آتا مگر شہر میں ہائیڈرنٹ قائم ہیں جہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی فروخت ہوتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے میئر سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہائیڈرنٹ پر پانی آتا ہے تو پھر نلوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ حکومت پانی کی فراہمی کے نظام کو بجلی بند ہونے کی صورت میں آج تک متبادل نظام دینے میں ناکام رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی منصوبہ بندی کتنی اعلیٰ ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ10 سال قبل اربوں روپے سے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اور مشکل سے یہ سڑک تیار ہوئی۔ سندھ حکومت کو ریڈ لائن بنانے کا خیال آیا اور اس نئی سڑک کو پھر توڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا اور اب 7 سال ہونے کو ہیں مگر یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے ایسی اذیت سے گزرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اکابرین اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح مینا بازار کریم آباد انڈر پاس کا منصوبہ مسلسل التواء کا شکار ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ سندھ میں ملازمتوں کا ہے۔ انگریز دور سے نافذ کردہ قانون کے تحت ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیاں اس ضلع کے شہریوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو بری طرح پامال کیا۔ اے جی سندھ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس قانون شکنی پر حکومت سندھ پر گرفت ہوسکتی ہے۔ سندھ حکومت کی یہ اتنی بڑی خلاف ورزی ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے جو موجودہ چیف جسٹس ظفر راجپوت پر مشتمل ہے اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں کی۔

 سندھ پبلک سروس کمیشن کی بدحالی پر تو سندھ ہائی کورٹ مفصل فیصلہ دے چکا ہے۔ اس کمیشن میں شفافیت کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق جو صدر آصف زرداری کے بچپن کے دوست ہیں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے کمیشن کا نظام کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش کی تو انھیں حقائق کا اندازہ ہوا اور وہ چھ ماہ بعد ہی مستعفیٰ ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ میں مسلسل یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ صوبے میں ملازمتیں فروخت ہوتی ہیں۔ سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سیکڑوں افراد کی اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی اور پھر ان کی برطرفی اور ان افراد کے ملازمت کے لیے لاکھوں روپے بطور رشوت دینے کی داستانیں بہت سے حقائق کو اجاگر کرتی ہیں۔

کراچی میں عمارتوں کا گرنا عام سی بات ہے مگر ہر دو چار مہینے بعد کسی نہ کسی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو کبھی بھی احتساب کا عمل منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ گزشتہ سال لیاری میں ایک عمارت گری تھی۔ حکومت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کچھ افسروں کی گرفتاری کا فیصلہ کیا۔ یہ افسر چند دن جیل میں مہمان رہے۔ ناقص چالان کی بناء پر باعزت بری کر دیے گئے۔ گل پلازہ کے حادثے کے بعد ٹریفک کے ناقص انتظامات پر ڈی آئی جی ٹریفک کو معطل کر دیا گیا مگر وہ پھر بحال ہوگئے۔ سندھ میں قانون کی عملداری کا اندازہ ایک انگریزی اخبار میں کراچی میں زمینوں پر قبضے کے بارے میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں تحریر ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ایک سابق رکن کی مرضی کے بغیر ضلع غربی میں کسی پولیس افسر کا تقرر نہیں ہوسکتا۔

 کراچی میں سیوریج کا نظام اور کوڑے کے ٹیلوں کا معاملہ امریکا کے اخبارات تک پہنچ گیا۔ واٹر بورڈ کے پاس سیوریج کی لائنوں کی تبدیلی کے لیے اگست کے مہینے میں فنڈز نہیں ہوتے۔ حکومت نے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے ایک کارپوریشن بنائی۔ اپنے چند افسروں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا مگر شہر کا کون سا علاقہ ہے جہاں کوڑے کے ڈھیر نہ ہوں اور سڑک پر گندا پانی نہ بہہ رہا ہو۔ جب بارش ہوتی ہے تو شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے۔

اس گندگی کی بناء پر ایک طرف کتوں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور کراچی شہر میں سیکڑوں افراد ہر سال کتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سندھ سیکریٹریٹ میں شام کو رونق زیادہ ہوتی ہے، جو سرکاری ملازمین عمرہ، حج اور زیارتوں پر جاتا ہے اسے این او سی کے لیے ’’ ہدیہ‘‘ دینا پڑتا ہے۔ جو ملازم ریٹائر ہوجائے اور جو ملازم انتقال کرجائے تو اس کے لواحقین کو پنشن کی فائل مکمل کرنے کے لیے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کی حکومت میں اندرون سندھ کی پسماندگی کی بناء پر ملازمتوں اور پروفیشنل کالجوں میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ اب ہر شہر میں یونیورسٹی قائم ہے۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگیا ہے تو کوٹہ سسٹم کا جواز فراہم کرنا ضروری ہے۔ تھرپارکر سندھ کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اسی طرح ایک یا دو اضلاع میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔

اس بات کی تحقیقاتی ہونی چاہیے کہ گزشتہ 18 برسوں میں ان اضلاع کی ترقی پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے کیا نتائج نکلے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے جب ایک ملاقات میں یہ سوال کیا گیا کہ کراچی میں روٹی کیوں مہنگی ہے تو انھوں نے کہا کہ سندھ کے افسروں میں کام کرنے کی اہلیت نہیں مگر یہ بیوروکریسی تو سب کوٹہ سسٹم کے تحت آئی ہے۔ بدترین طرزِ حکومت کا کیا جواز ہے؟ عجیب بات ہے کہ صدر ملک کے آئینی صدر ہیں مگر وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ ایوانِ صدر میں بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر کانفرنس کرتے ہیں۔ تمام گورنر اپنی جماعتوں کی سیاست کرتے ہیں۔

 صدر اور گورنر صاحبان کو اپنی جماعت کی سیاست کے بجائے آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ شہری مسائل کا حل دنیا کے جدید شہریوں کی طرح نچلی سطح کے اختیار تک کی کارپوریشن کے قیام میں ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہو اور پورا کراچی اس کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ صوبائی وزراء کہتے ہیں کہ کراچی میں چھوٹا مسئلہ بڑا بن جاتا ہے۔ پہلے آمر ایوب خان کو بھی یہی شکایت تھی۔ سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری سے یہ سازش ناکام نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جائیداد کے تنازعے پر روزہ دار حاملہ بہن سوتیلے بھائی کے ہاتھوں قتل

Published

on



مریدکے:

حسن پارک پرانا نارنگ روڈ کے علاقے میں حاملہ خاتون کے مبینہ قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں مقتولہ کے سوتیلے بھائی کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کے شوہر قاسم نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی بیوی کو مکان کے تنازعے پر سوتیلے بھائی اور اس کے ساتھیوں نے گلا دبا کر قتل کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقتولہ چار ماہ کی حاملہ تھی جس کے باعث یہ دوہرے قتل کی واردات ہے۔

خاندان کے مطابق ملزم واقعے کے بعد مقتولہ کے طلائی کانٹے اور تقریباً ڈھائی لاکھ روپے نقدی بھی لے گیا۔

مقتولہ کی والدہ اقرا قاسم کا کہنا ہے کہ بیٹی کو سوتیلے بھائی اور اس کے ساتھیوں نے قتل کیا جبکہ وقوعہ کے وقت مقتولہ کا چار سالہ بھتیجا گھر میں موجود تھا۔

پولیس نے شوہر کی مدعیت میں دو نامزد اور دو نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ورثا نے اسپتال میں ملزمان کی فوری گرفتاری کے مطالبے پر احتجاج بھی کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

عوام کا ناقابل برداشت صبر

Published

on


حکومت نے پہلے سوئی گیس کے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز مسلط کیے تھے اور اس زیادتی کو کوئی روکنے والا نہیں تھا اور گیس صارفین فکسڈ چارجز مہنگی گیس کے باوجود برداشت کرنے پر مجبور تھے جس سے حکومت نے اندازہ لگا لیا کہ عوام پٹرولیم لیوی اورگیس فکسڈ چارجز برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں تو ٹیکسوں تلے صارفین مزید بوجھ بھی برداشت کر لیں گے۔ حکومت ہر الزام خود پر نہیں لیتی۔

 اس لیے اس نے پٹرولیم کی الگ وزارت اور توانائی کی الگ الگ وزارتیں بنا رکھی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کی ذمے داری سیاسی وزرائے خزانہ نے لی ہوئی تھی، اس لیے (ن) لیگی حکومت کے وزرائے خزانہ ہر پندرہ روز بعد ٹی وی پر نرخ بڑھانے کا اعلان کیا کرتے تھے اور متعلقہ وزیر خاموش رہا کرتے تھے اور عوام کی طرف سے برائیاں حکومت کو ملتی تھیں۔

اب ایک غیر سیاسی وزیر خزانہ ہیں جو سینیٹر ہیں اور انھوں نے کبھی الیکشن نہیں لڑا ۔ سابق وزیر مفتاح اسمٰعیل نے مجبوراً کراچی سے اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی پر مجبوری میں الیکشن لڑا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔ مفتاح اسمٰعیل اب سیاسی ہو گئے ہیں اور (ن) لیگی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بنائی گئی سیاسی پارٹی میں جنرل سیکریٹری کے طور پر (ن) لیگی حکومت پر تنقید میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی کام ان کے نئے قائد کا ہے اور دونوں کو جو برائیاں (ن) لیگی حکومت میں پہلے نظر نہیں آئی تھیں، اب آ رہی ہیں اور عوام کے لیے آواز اٹھانے لگے ہیں۔

عوام سے تعلق نہ رکھنے والے وزرائے خزانہ کا ایف بی آر کی بجائے صرف عوام پر بس چلتا ہے اس لیے وہ عام لوگوں اور باقاعدگی سے ٹیکس کٹوانے پر مجبور تنخواہ دار ملازموں پر بوجھ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں احتجاج نہیں کرتے جس سے انھیں شے ملتی ہے اس لیے اب گیس کے بعد بجلی صارفین کو بھی پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ میں تقسیم کرکے ان پر بھی فکسڈ چارجز مسلط کر دیے گئے ہیں اور سوئی گیس میں نئے مالی سال میں فکسڈ چارجز بھی بڑھائے تھے اور ماہانہ 6 سو کو ایک ہزار اور ایک ہزار کو ڈیڑھ ہزار فکسڈ چارجز مسلط کر دیے تھے جب کہ گیس اور بجلی پر اصل قیمت کے علاوہ متعدد ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جب کہ بجلی و گیس پہلے ہی بہت مہنگی ہے اور پٹرول کو مہنگے سے مہنگا کرنے کے لیے لیوی بڑھا دی جاتی ہے تاکہ عوام کو عالمی سطح پر کم ہونے والی قیمتوں کا بھی ریلیف نہ مل سکے جو عوام کا حق ہے مگر نہیں ملتا۔

نیپرا نے وزارت توانائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں گھریلو صارفین پر مختلف فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عوام جو مہنگی بجلی سے پہلے ہی پریشان تھے، اب مزید پریشان کرنے کے لیے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ماہانہ سو یونٹ پر دو سو روپے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والوں پر تین سو روپے فکسڈ چارجز اور تین سو سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں کو سہولت دی گئی جو متوسط طبقہ ہی استعمال کرتا ہے۔

نیپرا نے تین سو ایک سے چار سو یونٹ تک بجلی 1.53 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے پانچ روپے سستی کرنے کی منظوری دی ہے۔ پہلے ایک سو یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز نہیں تھے اور بجلی کا نرخ بھی کچھ کم تھا اور نہایت ہی غریب صارفین بڑی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے تھے۔ سردیوں میں تو ان کا استعمال کم ہو جاتا تھا مگر گرمیوں میں پنکھوں کی وجہ سے سو یونٹ میں گزارا نہیں ہوتا اور ان کے یونٹ بڑھ جاتے ہیں۔

ہر حکومت ہر سال بجٹ میں ٹیکس ہی نہیں بڑھاتی بلکہ نئے ٹیکس بھی مسلط کرتی ہے اور سال کے دوران وعدے کر کے بھی ضمنی بجٹ کے ذریعے ٹیکس بڑھا دیتی ہے کیونکہ ایوان صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ اور ہاؤس کے اخراجات کے لیے بجٹ بڑھانا پڑتا ہے جب کہ اپنوں کو نوازنے کے لیے بھی نئے عہدے تخلیق کرکے حکومت اخراجات تو بڑھاتی ہے مگر عوام کو سہولت کبھی نہیں دیتی۔ شاید ہر حکومت عوام کو ریلیف دینے کو گناہ سمجھتی ہے اسی لیے کوئی بھی ریلیف نہیں دیتی اور عوام پر اتنے زیادہ ٹیکسوں سے بھی حکومت مطمئن نہیں ہوتی، اس لیے ہر 15 دن بعد پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس مہنگی کرتی رہتی ہے اور یہ آزماتی ہے کہ عوام مزید کتنا حکومتی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس طرح عوام کے صبر و برداشت کا مسلسل امتحان لیا جاتا ہے کیونکہ عوام بھی مجبور ہیں۔

غیر ملکی قرضے عوام کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے لیے گئے قرضے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مسلسل لیے جا رہے ہیں اور قرضے دینے والے اپنی کڑی شرائط پر قرضے دیتے رہتے ہیں انھیں کوئی سروکار نہیں کہ یہ قرضے عوام کو ریلیف دینے پر خرچ ہونے کی بجائے حکومت کہیں اور خرچ کرکے عوام کو مقروض پر مقروض کر رہی ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری کو حکومت عالمی مسئلہ قرار دیتی ہے جب کہ حکومت کو پتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک عوام سے ٹیکس لے کر عوام کو بے شمار سہولیات اور رعایت بھی دیتے ہیں مگر ہماری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے پر یقین ہی نہیں رکھتیں بلکہ عوام کو نئے نئے ٹیکسوں میں جکڑنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ عوام سے ٹیکس حکومت اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی ہے اور ٹیکس دینا عوام کا فرض بنا دیا گیا ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ حکومت کے مسلسل جاری مظالم عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ عوام کے مسلسل صبر کا حکومت مزید امتحان نہ لے اور انھیں مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کرے کہ ان کی برداشت ختم ہو جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خیبر، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور اس کا کمسن بیٹا جاں بحق

Published

on



خیبر:

ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل سلطان خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور اس کا کمسن بیٹا جاں بحق ہو گئے۔

پولیس کے مطابق سپاہی سفیر خان کو گزشتہ شام اپنے حجرے کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے باعث وہ اپنے 7 سالہ بیٹے محمد طلحہ سمیت شدید زخمی ہو گئے۔

دونوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سپاہی سفیر خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ اس کا کمسن بیٹا محمد طلحہ بھی دورانِ علاج جاں بحق ہو گیا۔

حکام کے مطابق حملہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل پیش آیا تھا اور واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے تھانہ لنڈی کوتل میں نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending