Today News
عوامی اعتماد سے محروم قانون سازی
قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں کورم کا مسئلہ ہر دور میں رہا ہے اور اپوزیشن کی کورم پورا نہ ہونے کی نشان دہی ہر اجلاس موخر اور ملتوی ہونا معمول رہا ہے۔
کورم اگر حکومت کی ضرورت پر پورا ہو جائے تو دوبارہ شروع ہو جاتا ہے اور حکومت جلد بازی کر کے مرضی کی قانون سازی کر لیتی ہے اور ایسے ہر موقع پر اپوزیشن کورم کی نشان دہی کر کے بائیکاٹ کر جاتی ہے، کئی بار کورم پورا نہ ہونے کے باوجود اجلاس جاری رہتا ہے، حزب اقتدار اپنا مقصد ہر حال میں حاصل کر لیتی ہے اور اپوزیشن کے بائیکاٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
اپریل 2022 میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف آئین کے مطابق اپوزیشن نے متحد ہو کر تحریک اعتماد پیش کی تھی جس کی کامیابی یقینی تھی اور اس وقت کے وزیر اعظم بڑھکیں مارتے رہے کہ اپوزیشن تحریک اعتماد پیش کرکے دکھائے جو ناکام رہے گی مگر جب تحریک عدم اعتماد پیش ہوگئی تو وزیر اعظم گھبرا گئے مگر انھوں نے اقتدار کے زور پر سرکاری مشنری استعمال کر کے تحریک اعتماد سے بچنے کی کوشش کی تھی اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی مدد مانگی تھی مگر انھوں نے مداخلت سے معذرت کر لی تھی جس کے بعد وہی جنرل قمر جاوید باجوہ جن کو پی ٹی آئی کے وزیر اعظم قوم کا باپ قرار دیتے تھے، ان کی مدد نہ ملنے پر مایوس ہو کر انھوں نے قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کے اسپیکر اسد قیصر کو اپنے پاس بلا کر ہدایات دیں جس پر وہ راضی نہیں ہوئے یا غیر آئینی کام کرنے کی ہمت نہیں کر سکے تھے جس کے بعد منصوبے کے تحت ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں اجلاس شروع کرایا گیا جس میں خود وزیر اعظم بھی موجود تھے جن کے کہنے پر نئے بنائے گئے وزیر قانون فواد چوہدری نے وزیر اعظم کو بچانے کے لیے ایک تقریر کی تھی جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے غیر قانونی رولنگ دے کر تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا اور اپنے ہی صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑ دینے کی سمری بھجوائی جس پر صدر نے فوری عمل کرکے قومی اسمبلی ہی توڑ دی تھی۔
بطورمحترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی ، اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار نہیں دیا تھا بلکہ قومی اسمبلی میں تحریک کا مقابلہ کرکے تحریک ناکام بنوا دی تھی کیونکہ اپوزیشن کے پاس ارکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد نہیں تھی جو وزیر اعظم کا آئینی اختیار تھا اور انھوں نے اپنی اکثریت ثابت کر کے اپنی حکومت بچا لی تھی لیکن پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کی طرح قومی اسمبلی کا اجلاس غیر قانونی قرار نہیں دلوایا تھا۔ قومی اسمبلی توڑنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے کر قومی اسمبلی توڑنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی تھی مگر پی ڈی ایم حکومت نے وزیر اعظم کو آئینی طور ہٹائے جانے کے بعد مزید کارروائی نہیں کی تھی اور قومی اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی تھی۔
قومی اسمبلی ہر دور کے حکمرانوں نے اپنی مرضی سے استعمال کی اور دو فوجی حکمرانوں نے قومی اسمبلی کے ذریعے اپنے اپنے فوجی اقدامات کو آئینی تحفظ دلوایا تاکہ ان کے خلاف بعد میں کوئی قانونی کارروائی نہ ہو اور دونوں بار قومی اسمبلی نے فوجی اقدامات کی توثیق کی۔ 1973 کے آئین میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے کورم کے لیے ارکان کی تعداد بہت کم رکھی ہے جب کہ اصولی طور پر نصف سے زیادہ ارکان کا کورم ہونا چاہیے۔ ہر حکومت پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں یہ معمولی کورم بھی پورا نہیں کرا سکتیں کیونکہ اجلاسوں میں شرکت ارکان کی عدم دلچسپی ہے ، وہ اپنے اپنے واجبات تو ایک دن کا نہیں چھوڑتے پورے وصول کرتے ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ بجٹ اجلاسوں میں بھی نہیں آتے بلکہ منت سماجت کرکے ارکان کو بلوا کر بجٹ پاس کرانا پڑتا ہے۔ یہ ارکان پارلیمان کا حال ہے جو اکثر غیر حاضر رہنا مگر مراعات مکمل وصول کرنا اپنا اصول بنا چکے ہیں اور صرف مفادات حاصل کرتے ہیں۔ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں مختلف کمیٹیاں ہوتی ہیں جنھیں حکومت خود اہمیت نہیں دیتی نہ اکثر وہاں بلز بھیجے جاتے ہیں۔ متعلقہ وزرا بھی کمیٹی اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے اور حکومتیں عوامی اعتماد سے محروم قانون سازی کراتی رہتی ہیں۔ حالانکہ ہر رکن منتخب ہو کر یہاں آتا ہے، اجلاس میں لازمی حاضر ہونا اس کی آئینی ڈیوٹی ہوتی ہے۔
Today News
طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ تباہ
اسلام آباد:
ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔
The Afghan Taliban regime initiated unprovoked firing along the Pakistan-Afghanistan Border in Torkham & Tirah sub-sectors.
Pakistan’s security forces responded immediately & effectively, silencing the Taliban aggression.
Any further provocation will be responded to…
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) February 24, 2026
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔
Today News
ملتان شہر میں پولیس کا بڑا سرچ آپریشن، سیکڑوں افراد کی چیکنگ، 8 افراد گرفتار
کراچی:
ملتان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں 28 سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران 1,845 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 8 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق سرچ آپریشنز امام بارگاہ شاہ گردیز، شاہ شمس دربار، پولیس لائنز، کچہری ایریا، محلہ امیر آباد، پی ٹی سی ٹریننگ کالج، محلہ سوُتری، مسجد علمدار چوک، عزیز ہوٹل، ریلوے چوک اور گجر کھڈا سمیت حساس اور گنجان آباد علاقوں میں کیے گئے، جہاں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے جامع چیکنگ کی گئی۔
کارروائیوں کے دوران پولیس نے 215 گھروں، 16 مدارس، 15 حساس تنصیبات، 14 ہوٹلز اور 15 افغان بستیوں کی تلاشی لی، جبکہ 35 کرایہ داروں کی تصدیق بھی کی گئی۔
اس کے علاوہ 1,490 افراد کی ای پی پی چیکنگ کر کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے نتیجے میں 8 مقدمات درج کیے گئے جن میں ایک رہائشی ایکٹ، ایک ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور 6 مقدمات شراب برآمدگی کے تحت شامل ہیں۔
اہم کارروائی کے دوران تھانہ کپ کی حدود سے ایک ٹارگٹ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 90 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی بیخ کنی اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایسے سرچ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔
Today News
معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق
پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔
اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔
اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔
یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔
اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch