Connect with us

Today News

عوام کا ناقابل برداشت صبر

Published

on


حکومت نے پہلے سوئی گیس کے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز مسلط کیے تھے اور اس زیادتی کو کوئی روکنے والا نہیں تھا اور گیس صارفین فکسڈ چارجز مہنگی گیس کے باوجود برداشت کرنے پر مجبور تھے جس سے حکومت نے اندازہ لگا لیا کہ عوام پٹرولیم لیوی اورگیس فکسڈ چارجز برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں تو ٹیکسوں تلے صارفین مزید بوجھ بھی برداشت کر لیں گے۔ حکومت ہر الزام خود پر نہیں لیتی۔

 اس لیے اس نے پٹرولیم کی الگ وزارت اور توانائی کی الگ الگ وزارتیں بنا رکھی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کی ذمے داری سیاسی وزرائے خزانہ نے لی ہوئی تھی، اس لیے (ن) لیگی حکومت کے وزرائے خزانہ ہر پندرہ روز بعد ٹی وی پر نرخ بڑھانے کا اعلان کیا کرتے تھے اور متعلقہ وزیر خاموش رہا کرتے تھے اور عوام کی طرف سے برائیاں حکومت کو ملتی تھیں۔

اب ایک غیر سیاسی وزیر خزانہ ہیں جو سینیٹر ہیں اور انھوں نے کبھی الیکشن نہیں لڑا ۔ سابق وزیر مفتاح اسمٰعیل نے مجبوراً کراچی سے اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی پر مجبوری میں الیکشن لڑا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔ مفتاح اسمٰعیل اب سیاسی ہو گئے ہیں اور (ن) لیگی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بنائی گئی سیاسی پارٹی میں جنرل سیکریٹری کے طور پر (ن) لیگی حکومت پر تنقید میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی کام ان کے نئے قائد کا ہے اور دونوں کو جو برائیاں (ن) لیگی حکومت میں پہلے نظر نہیں آئی تھیں، اب آ رہی ہیں اور عوام کے لیے آواز اٹھانے لگے ہیں۔

عوام سے تعلق نہ رکھنے والے وزرائے خزانہ کا ایف بی آر کی بجائے صرف عوام پر بس چلتا ہے اس لیے وہ عام لوگوں اور باقاعدگی سے ٹیکس کٹوانے پر مجبور تنخواہ دار ملازموں پر بوجھ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں احتجاج نہیں کرتے جس سے انھیں شے ملتی ہے اس لیے اب گیس کے بعد بجلی صارفین کو بھی پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ میں تقسیم کرکے ان پر بھی فکسڈ چارجز مسلط کر دیے گئے ہیں اور سوئی گیس میں نئے مالی سال میں فکسڈ چارجز بھی بڑھائے تھے اور ماہانہ 6 سو کو ایک ہزار اور ایک ہزار کو ڈیڑھ ہزار فکسڈ چارجز مسلط کر دیے تھے جب کہ گیس اور بجلی پر اصل قیمت کے علاوہ متعدد ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جب کہ بجلی و گیس پہلے ہی بہت مہنگی ہے اور پٹرول کو مہنگے سے مہنگا کرنے کے لیے لیوی بڑھا دی جاتی ہے تاکہ عوام کو عالمی سطح پر کم ہونے والی قیمتوں کا بھی ریلیف نہ مل سکے جو عوام کا حق ہے مگر نہیں ملتا۔

نیپرا نے وزارت توانائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں گھریلو صارفین پر مختلف فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عوام جو مہنگی بجلی سے پہلے ہی پریشان تھے، اب مزید پریشان کرنے کے لیے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ماہانہ سو یونٹ پر دو سو روپے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والوں پر تین سو روپے فکسڈ چارجز اور تین سو سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں کو سہولت دی گئی جو متوسط طبقہ ہی استعمال کرتا ہے۔

نیپرا نے تین سو ایک سے چار سو یونٹ تک بجلی 1.53 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے پانچ روپے سستی کرنے کی منظوری دی ہے۔ پہلے ایک سو یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز نہیں تھے اور بجلی کا نرخ بھی کچھ کم تھا اور نہایت ہی غریب صارفین بڑی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے تھے۔ سردیوں میں تو ان کا استعمال کم ہو جاتا تھا مگر گرمیوں میں پنکھوں کی وجہ سے سو یونٹ میں گزارا نہیں ہوتا اور ان کے یونٹ بڑھ جاتے ہیں۔

ہر حکومت ہر سال بجٹ میں ٹیکس ہی نہیں بڑھاتی بلکہ نئے ٹیکس بھی مسلط کرتی ہے اور سال کے دوران وعدے کر کے بھی ضمنی بجٹ کے ذریعے ٹیکس بڑھا دیتی ہے کیونکہ ایوان صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ اور ہاؤس کے اخراجات کے لیے بجٹ بڑھانا پڑتا ہے جب کہ اپنوں کو نوازنے کے لیے بھی نئے عہدے تخلیق کرکے حکومت اخراجات تو بڑھاتی ہے مگر عوام کو سہولت کبھی نہیں دیتی۔ شاید ہر حکومت عوام کو ریلیف دینے کو گناہ سمجھتی ہے اسی لیے کوئی بھی ریلیف نہیں دیتی اور عوام پر اتنے زیادہ ٹیکسوں سے بھی حکومت مطمئن نہیں ہوتی، اس لیے ہر 15 دن بعد پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس مہنگی کرتی رہتی ہے اور یہ آزماتی ہے کہ عوام مزید کتنا حکومتی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس طرح عوام کے صبر و برداشت کا مسلسل امتحان لیا جاتا ہے کیونکہ عوام بھی مجبور ہیں۔

غیر ملکی قرضے عوام کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے لیے گئے قرضے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مسلسل لیے جا رہے ہیں اور قرضے دینے والے اپنی کڑی شرائط پر قرضے دیتے رہتے ہیں انھیں کوئی سروکار نہیں کہ یہ قرضے عوام کو ریلیف دینے پر خرچ ہونے کی بجائے حکومت کہیں اور خرچ کرکے عوام کو مقروض پر مقروض کر رہی ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری کو حکومت عالمی مسئلہ قرار دیتی ہے جب کہ حکومت کو پتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک عوام سے ٹیکس لے کر عوام کو بے شمار سہولیات اور رعایت بھی دیتے ہیں مگر ہماری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے پر یقین ہی نہیں رکھتیں بلکہ عوام کو نئے نئے ٹیکسوں میں جکڑنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ عوام سے ٹیکس حکومت اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی ہے اور ٹیکس دینا عوام کا فرض بنا دیا گیا ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ حکومت کے مسلسل جاری مظالم عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ عوام کے مسلسل صبر کا حکومت مزید امتحان نہ لے اور انھیں مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کرے کہ ان کی برداشت ختم ہو جائے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، پولیس مقابلوں میں دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ برآمد

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلوں کے دوران دو ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق بغدادی تھانے کی حدود میں لیاری عیدو لائن گلی نمبر ایک میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

ملزم کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت ساجد علی عرف عاطف کے نام سے ہوئی۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔

دوسری کارروائی میں گلبہار پولیس نے حاجی مرید گوٹھ لیاری ایکسپریس وے کے قریب مبینہ مقابلے کے بعد ایک اور زخمی ڈاکو کو گرفتار کیا۔

زخمی ملزم کو علاج کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جس کی شناخت عامر ایوب کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزم سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹی20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل تک رسائی کیلیے پاکستانی ٹیم کو کیا کرنا ہوگا؟

Published

on



آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل مگر ناممکن نہیں رہی۔

اہم میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے اور اب اسے سیمی فائنل میں رسائی کے لیے نہ صرف اپنی کامیابی بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔

مسلسل دو شکست کے بعد سری لنکن ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی اور ساتھ ہی  پاکستان کا سیمی فائنل میں پہنچنا مزید مشکل ہوگیا۔ نیوزی لینڈ ٹیم گروپ میں آخری میچ جمعہ کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گی جبکہ پاکستان اپنا آخری میچ ہفتے کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔  سری لنکا کے خلاف فتح کے بعد نیوزی لینڈ کا رن ریٹ پلس3.05 ہوگیا جبکہ پاکستان کا رن ریٹ مائنس 0.46 ہے۔

پوائنٹس ٹیبل پر محدود پوائنٹس اور منفی نیٹ رن ریٹ نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ پاکستان کو اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو بڑے مارجن سے شکست دینا ہوگی تاکہ رن ریٹ بہتر کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو شکست دے دی تو پاکستانی ٹیم سری لنکا کے میچ سے قبل ہی سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوجائے گی، تاہم کرکٹ میں غیر متوقع نتائج کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے اور قومی ٹیم اب ہر اوور میں بھرپور کارکردگی دکھانے کیلئے پُرعزم ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

رحیم یار خان، کچہ آپریشن میں بڑی پیشرفت، خطرناک ڈاکو نے ساتھی سمیت سرنڈر کر دیا

Published

on



رحیم یار خان:

پنجاب کے کچے کے علاقے میں جاری بڑے آپریشن کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں خطرناک ڈاکو تنویر اندھڑ نے اپنے ساتھی ظفری جھبیل کے ہمراہ قانون کے سامنے سرنڈر کر دیا۔

ڈی پی او عرفان سمو کے مطابق تنویر اندھڑ کچے کا موسٹ وانٹڈ اور اندھڑ گینگ کا سرغنہ تھا، جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔

پولیس نے سرنڈر کے بعد ڈاکوؤں سے بھاری ہتھیار بھی برآمد کر لیے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تنویر اندھڑ سکھر ملتان موٹر وے حملہ کیس سمیت 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور 13 شہریوں کے قتل کا مرکزی ملزم تھا، جبکہ اس کے خلاف قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی سمیت سنگین نوعیت کے 45 مقدمات درج تھے۔

ڈی پی او کے مطابق سرنڈر کرنے والے دوسرے ملزم ظفری جھبیل کے خلاف بھی سنگین نوعیت کے 38 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔

پولیس کے مطابق کچہ آپریشن کے دوران اب تک 229 ڈاکو سرنڈر کر چکے ہیں، سرنڈر کرنے والوں میں 17 انتہائی مطلوب ڈاکو شامل ہیں جن کے سروں کی مجموعی قیمت 12 کروڑ روپے سے زائد تھی۔

آپریشن میں 69 ڈاکو ہلاک اور 97 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جبکہ مقابلوں میں 52 پولیس اہلکار شہید بھی ہوئے۔

ڈی پی او عرفان سمو نے بتایا کہ سرنڈر کرنے والے ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending