Connect with us

Today News

عوام کے لیے یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام کیوں نہیں

Published

on


بلدیاتی نظام کی اہمیت اور الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ڈھانچہ بنانا ہوگا اور اگر سنجیدہ حلقے عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں یکساں بلدیاتی نظام لانا ہوگا، کیونکہ ہر سیاسی حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے سے گھبراتی ہے۔ پنجاب کے مجوزہ بلدیاتی ایکٹ 2025 میں خواتین کی نشستیں کم کردی گئی ہیں، خواتین کو 33 فی صد نمایندگی دینے اور نوجوانوں کی بھی نشستیں بڑھائے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

 ملک میں آج کل صوبوں کی تعداد بڑھانے، ملک میں آئین کے تحت مقامی حکومتوں کے قیام اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو وفاقی کنٹرول میں دینے کے مطالبات ہو رہے ہیں۔ فریقین کا اپنا اپنا موقف ہے کہ آئین کے تحت ایسا ہو سکتا ہے جب کہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ آئین میں کسی شہرکو وفاقی کنٹرول میں دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔گزشتہ سال لاہورکے سابق سٹی ناظم نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دی تھی کہ ملک کی آبادی پچیس کروڑ تک ہوگئی ہے اور ملک کے موجودہ چار صوبے ناکافی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے پریشانی کا سامنا ہے اور انھیں طویل سفرکر کے اپنے اپنے صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے جہاں انھیں رش اور سرکاری کام زیادہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ دفاترکے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔

دور دراز کے وہ رہنے والے جن کے کراچی، لاہور، پشاور اورکوئٹہ میں اپنے عزیز و اقارب نہیں انھیں وہاں ہوٹلوں میں بھی ٹھہرنا پڑتا ہے اور مہنگائی کے دور میں صوبائی دارالحکومت جانا آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے جس سے ان کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور وقت بھی لگتا ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والے دیگر ممالک کی بھی مثال دیتے ہیں جہاں پاکستان سے آبادی کم ہونے کے باوجود صوبوں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے پاکستان میں بھی صوبوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے تاکہ عوام کو سہولت ہو اور ان کی پریشانیاں کم ہو سکیں۔

نئے صوبوں کے قیام کی حمایت و مخالفت میں ملک بھر میں بیان بازی اور مطالبات ہو رہے ہیں اور پنجاب، سندھ اور کے پی کی حکومتیں نئے صوبوں کی مخالف ہیں کیونکہ کے پی میں ہزارہ صوبے، پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبے اورکراچی میں شہری و دیہی آبادی کی بنیاد پر صوبے کے مطالبے ہو رہے ہیں اور اکثر بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی مخالف ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی زبانی حمایت کرتی رہی ہیں، پی ٹی آئی نے بھی اسی بہانے 2018 میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرکے ووٹ لیے تھے، مگر تینوں بڑی جماعتوں نے عملی طورکچھ نہیں کیا مگر مطالبے اب بھی جاری ہیں۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت میں بھی ملک میں 16 صوبے یعنی ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی باتیں شروع ہوئی تھیں اور وزیر اعظم بننے سے قبل بے نظیر بھٹو نے بھی سکھر میں ضلعی گورنروں کی بات کی تھی۔

جماعت اسلامی بھی ایک قومی جماعت ہے مگر عوام نے کبھی جماعت کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کامیابی کے لیے ووٹ نہیں دیے مگر جماعت کو 2002 میں مجلس عمل میں شمولیت کے باعث صوبہ سرحد میں کچھ وزارتیں ملی تھیں اور وزیر اعلیٰ جے یو آئی کا تھا۔ جماعت اسلامی کو کراچی سے چند نشستیں ضرور ملیں اور ایم کیو ایم بننے سے قبل دو بار کراچی میں ان کا میئر رہا، بعد میں اس کا سٹی ناظم بھی منتخب ہوا مگر اب کراچی میں جماعت کے پاس سندھ اسمبلی کی ایک نشست اور نو ٹاؤنز کی سربراہی ملی ہوئی ہے مگر اس کے موجودہ امیر، پی پی حکومت کی چال کی وجہ سے میئر نہیں بن سکے تھے اور پی پی اپنا میئر پہلی بار لانے میں کامیاب رہی تھی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اور ایم کیو ایم ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کی حامی ہیں جب کہ پیپلز پارٹی ایسا نہیں چاہتی۔ ایم کیو ایم، (ن) لیگ کی حکومت میں اتحادی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم میں اس کا بااختیار مقامی حکومتوں کا مطالبہ منظورکرایا جائے جس کا وزیراعظم نے وعدہ بھی کیا ہے مگر تین بڑی پارٹیاں جن کی وفاق میں حکومتیں رہی ہیں ایسا نہیں چاہتیں کہ ملک میں یکساں اور بااختیار حکومتیں آئین کے ذریعے بنائی جا سکیں۔

تینوں بڑی پارٹیاں اپنی مرضی کا محکوم اور چھوٹی پارٹیاں ملک میں یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی جس میں تینوں بڑی پارٹیوں کی نمایندگی ہے نے بلدیاتی ترمیمی بل پھر موخرکردیا ہے اور وزیر اعظم اس سلسلے میں ایم کیو ایم کو مسلسل آسرے پر رکھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) جو کمزور بلدیاتی انتخابات بھی پنجاب اور اسلام آباد میں کرانے سے گریزاں ہے وہ ملک کو یکساں اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا فیصلہ آئینی ترمیم کے ذریعے کبھی نہیں ہونے دے گی اور پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی بھی بااختیار اور ملک میں یکساں بلدیاتی نظام کی سخت مخالف ہیں اور ارکان اسمبلی بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ ہر سال ملنے والے ترقیاتی فنڈز سے محروم ہو جائیں اور ان کی کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے یہ فنڈ ان کی مرضی کی بجائے مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہوں یہ انھیں کبھی قبول نہیں ہوں گے۔

وفاق اور صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ڈھانچہ ارکان اسمبلی نے بنانا ہے جو وہ کبھی نہیں بنائیں گے اور ملک میں بااختیار اور یکساں بلدیاتی نظام چاہتے ہی نہیں اور صوبائی حکومتیں بھی اس کی مخالف ہیں اسی لیے وہ اپنی اسمبلی سے اکثریت کے باعث مرضی کا کمزور بے اختیار بلدیاتی نظام منظورکراتی ہیں۔ ہر صوبے میں وزیر اعلیٰ کے بعد وزیر بلدیات نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے وہ جب دورے پر جاتا ہے تو علاقہ سجایا جاتا ہے، خیر مقدمی بینرز لگتے ہیں اور اس کا وزیر اعلیٰ جیسا استقبال ہوتا ہے، جو دوسرے وزیروں کو میسر نہیں۔ عوام کا بنیادی مسائل کے حل کے لیے بڑا واسطہ بلدیاتی اداروں سے پڑتا ہے۔

ملک کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام جنرل پرویز نے دیا تھا اور باقاعدگی سے بلدیاتی الیکشن غیر سول حکومتوں میں ہوئے جو عوام کی بھی ضرورت تھے جب کہ سیاسی حکومتوں کا کوئی ایسا اچھا ریکارڈ ہے نہ ہوگا اور کمزور بلدیاتی سسٹم سیاسی حکومتیں کبھی مضبوط نہیں بنائیں گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

غلط العام نام اورالفاظ (دوسرا اور آخری حصہ)

Published

on


زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے ، فصل کا انتظار کرنا پڑتا ہے اوروہیں پر مستقل رہائش بھی اختیار کرنا پڑتی، بستیاں بسانا پڑتی ہیں ۔ جب کہ جانور پالوں کو اپنا اوراپنے جانوروں کا پیٹ بھرنے کے لیے کبھی یہاں کبھی وہاں کوچ اورگردش کی مجبوری ہوتی ہے۔

ایک جگہ جانوروں کی خوراک ختم ہوتی ہے یا موسم سخت ہوجاتا ہے تو دوسری جگہ خانہ بدوشی کی حالت میں رہنا پڑتا ہے اور ہندوستان یا ایشیا کے مختلف مقامات پر جو لوگ ہمیں تاریخ میں سرگرم نظر آتے ہیں، وہ سارے کے سارے خانہ بدوش ، مویشی پال یا گلہ بان اساک یا تورانی یاکشتری تھے ، آریا نہیں تھے لیکن آریا کیوں مشہور ہوئے، اس کی بھی ایک وجہ تھی ۔ ہم اپنی بات کو صرف ہندوستان تک محدود رکھیں گے کیوں کہ یہاں کے نوشتے تسلسل میں ہیں ۔

یہاں جو لوگ آئے اساک ہونے کے باوجود کیوں آریا کہلائے، وہ اپنے ساتھ ’’رگ وید‘‘ کے بجھن لائے تھے جب کہ ایراینوں کا نوشتہ اوویستا تھا ، دونوں سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ رگ وید خانہ بدوشوں کا نوشتہ ہے جس میں بارش کے دیوتا ’’اندر‘‘ کی مدح سرائیاں ہیں جب کہ اوویستا میں سب کچھ زراعت سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں ساری مدح سرائیاں آہورمزدا (سورج) کی ہوئی ہیں لیکن جب یہ اساک خانہ بدوش اور مویشی پال لوگ ہند جیسی سرسبز اورمالامال سرزمین پہنچے تو یہیں کے ہوگئے، خوشحال اورفارغ البال ہوگئے۔یہ باتیں جب ایران، آج کے افغانستان کے آریاؤں کومعلوم ہوئیں تو وہاں سے بھی آہورمزدا کے پرستار آنا شروع ہوگئے ، میں نے پیچھے پروفیسر محمد مجیب کی کتاب کاحوالہ دیا ہے، اس میں انھوںنے لکھا ہے کہ ہند کے برھمن دراصل ایران کے مذہبی لوگ تھے ۔

واضح رہے کہ ہم جب ہند کی بات کرتے ہیں تو پرانے ہند کی بات کرتے ہیں جس میں ہمارے یہ پاکستان کاخطہ بھی شامل تھا اورہندوکش کا علاقہ بھی ، مجموعی طورپر چاردانگ عالم میں سو نے کی چڑیا کی شہرت رکھتا تھا ، اوویستائی مندرجات میں اسے ستہ سندو یا ھیتہ ھندو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہا گیا ہے جس میں گنگا اورجمنا کے دودریا بھی شامل تھے ، یہ ایرانی مہکی اورمہرجب ایران سے چلے تو مجموعی طورپر ’’پارسو‘‘ تھے کیوں کہ اس زمانے کے مطابق ان کا جنگی ہتھیار ’’پرسو‘‘عین کلہاڑا تھا ۔ہندی مذہبی نوشتوں میں پرسورام کابہت ذکر ہے جو وشنو کااوتار تھا، ذات کابرھمن تھا اوراس نے سارے کشتریوں کو مارڈالاتھا ، پرسو کوئی فرد نہیں بلکہ وہ آریائی گروہ تھا جو کشتریوں کے تلوار کے مقابل کلہاڑا لے کر اٹھے تھے۔

یہ لفظ پارسو، پارس، پارسا بھی بہت دوردور تک گیا ہے ،انھی کی وجہ سے ایران کا نام پارس، فارس ہوگیا اورزبان بھی پارسا گرد اورپرسی پولس نامی شہربھی ان سے موسوم ہوئے تھے جب کہ موجودہ پشاورکا نام بھی پہلے پرس پور تھا کیوں کہ ایران سے چل کر یہ پہلے اس خطے میں پہنچے تھے اوربرھمن بن گئے تھے چنانچہ لفظ پارسا ، پارسائی اب بھی مذہبی اورعبادت گزار لوگوں کو کہاجاتا ہے ۔

ان پارسو یا برھمنوں کے آنے سے پہلے یہاں کھشتریوں نے جو نظام یامعاشرہ قائم کیاتھا، وہ صرف تین ذاتوں کھشتری (حکمران) ویش (کمانے والوں) اور شودروں( غلاموں) پر مشتمل تھا۔برھمنوں کایہ چوتھا طبقہ اس میں نہیں تھا، اورہاںیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ان کی آمد یک دم اورکسی ایک وقت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ڈھائی ہزارسال قبل مسیح سے شروع ہوکر ایک ہزار قبل مسیح تک جاری رہی تھی ، جتھے آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے بلکہ یہ سلسلہ ابھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے تک بھی جاری تھا ، کوچی پاوندے خانہ بدوش آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے۔

پارسو اورکھشتریوں میں پہلے تو جنگ وجدل، کش مکش اورماراماری ہوتی رہی، پھر دونوں میں وہ سمجھوتہ ہوگیا جو دنیاکے ہرخطے میں ہوتا رہا ہے ، تلوار اورقلم ، کتاب وتخت ، مندراورمحل کا تاج اورچوٹی کاسمجھوتہ اوربرھمنوں کو چوتھا گوٹ تسلیم کیاگیا ، یہ پارسو آریا ، مہگی اورمہر لوگ چونکہ مدنی تھے اور پڑھت اورلکھت کے لیے متمدن ماحول چاہیے ہوتا ہے، اس لیے پڑھے لکھے تھے جب کہ کھشتری خانہ بدوش تھے اورخانہ بدوشی میں لکھت پڑھت کا نہ موقع ملتا ہے نہ ماحول ۔ وہ صرف جنگجو اورتلوار کے دھنی تھے چنانچہ برھمنوں نے ان کو بڑے کمال سے آریا بناکر اپنی پہچان سے محروم کردیا اوروہ برھمنوں کے دیے ہوئے صفاتی ناموں اورنام کی صفات میں خوش ہوگئے اورآریا نام سے خود کو موسوم کرلیا۔

اس بات کا ثبوت کہ ہند میں آنے والے اولین لوگ اساک کشتری تھے آریا نہیں تھے، یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ لوگ اس گندھارا نام کے خطے میں داخل ہوئے تھے، اس لیے ان نوشتوں میں یہاں کے بہت سارے نام مذکورہیں ،راجہ گندھار ، گندھاری، امب، امبی، بنوں ، بھرت ،ککی ، پشکلاوتی، سواستو، سوست ،سورگ وغیرہ ، خاص طورپر امبی کاراجہ ، اورسب سے زیادہ ’’اودیانہ‘‘ جو سوات کا پرانا نام ہے جسے لے کر برھمنوں نے ہندوستان میں اودھ اورایودھیا پرچسپاؒں کر دیا، امب آج بھی ’’امبیلہ‘‘ کے نام سے مشہور اورموجود ہے، یہی وہی ریاست تھی جس کا راجہ، راجہ پورس کے خلاف سکندرسے مل گیا تھا ، یہ پاکستان کے بعد بھی ایک عرصے تک ریاست رہی تھی ، ایوب خان کے زمانے میں جب اس کاآخری حکمران کیپٹن اسد ایک ہوائی حادثہ میں مرگیا تو ریاست بھی ختم ہوگئی۔

 ٹیکسلا اوربرہان کے درمیان موٹروے پر ایک انٹرچینج ہے ’’برھمہ یا پتر‘‘ ظاہر ہے کہ یہ علاقہ بھی اسی نام سے موسوم ہوگا اور یہ بھی عام بات ہے کہ (ھ) اور(ح) آپس میں بدلتے ہیں جیسے ہور سے خورشد، اوریہ نام بھی اصل میں برھمن باختر ہوسکتے ہیں اورجن پرسو لوگوں کا اس نے ذکر کیا ہے وہ بلخ وباختر کے مہگی اورمہر تھے ، یہ اس خطے میں آنے یا رہنے بسنے کا دوسرا ثبوت ہے ۔کل ملا کر بات یہ بنی کہ آریا ایک غلط العام نام ہے اورہند میں آنے والے وہ خانہ بدوش مویشی پال قبائل آریا نہیں بلکہ آریاؤں کے دشمن تھے، آریا وہ لوگ تھے جو قدیم دور کے فارس یا پارس کے مختلف علاقوں سے سرزمین ہند میں آئے تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان خونریز مقابلہ جاری، 2 اہلکار زخمی

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں ایک بار پھر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی شاہ لطیف ٹاؤن میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر شاہ لطیف ٹاؤن کے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ دہشتگردوں نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ شروع کردی۔

سی ٹی ڈی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق ملزمان کی فائرنگ کی زد میں آکر نشاندہی کے لیے لائے گئے تین گرفتار دہشتگرد بھی زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے منتقل کیا جارہا ہے۔

علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنی جارہی ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے قریبی گلیوں کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشتگردوں کو گرفتار یا غیر مؤثر نہیں بنا دیا جاتا۔





Source link

Continue Reading

Today News

انڈین فلم انڈسٹری کیسے بدل رہی ہے

Published

on


پدم بھوشن ، گولڈن گلوب ، گرامی ایوارڈز اور آسکر انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان سے کون واقف نہیں۔انھوں نے ہندی اور غیر ہندی فلموں میں شاندار موسیقی دی ، کامیاب ترین بین الاقوامی کنسرٹس کیے ، آزادی کی گولڈن جوبلی پر وندے ماترم کی ایسی نئی دھن تخلیق کی جو اب بھارت کا غیر رسمی قومی ترانہ ہے۔رحمان نے چند ہفتے پہلے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گذشتہ آٹھ برس سے انھیں بالی وڈ میں رفتہ رفتہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اب زیادہ تر فیصلے غیر تخلیقی لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور ممکن ہے کہ کام ملنے میں کمی کا سبب مذہبی تعصب بھی ہو۔

اس انٹرویو کے بعد فرقہ پرست ہندو تنظیمیں اے آر رحمان کے پیچھے پڑ گئیں اور وشوا ہندو پریشد ( وی ایچ پی ) نے ان سے ’’ بھارت کی توہین ‘‘ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔سوشل میڈیا رحمان مخالف پوسٹوں سے بھر گیا۔ رحمان کو ایک وضاحتی پوسٹ لگانا پڑ گئی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔

بالی وڈ میں ایک عرصے تک پاکستانیوں کو بطور ولن دکھایا جاتا رہا۔ چند برس سے بھارتی مسلمانوں نے ولنز کی جگہ لے لی ہے۔وہ زمانے لد گئے جب بالی وڈ میں ہر شخص ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے کام اور ہنر کے سبب پہچانا جاتا تھا۔آج آپ اپنے فلمی کیریر میں کیسا بھی دیش بھگت کردار نبھا لیں۔کوئی سا بھی ملی نغمہ کمپوز کر لیں۔ آپ کا تعلق اکثریتی ہجوم سے نہیں تو آپ کے ایک ایک جملے اور حرکت کو خوردبین تلے رکھا جائے گا اور جہاں بھی قدم ذرا لڑکھڑائے ، طعنوں اور طنز کی بارش ہونے لگے گی اور کوئی بھی آپ کو چھتری پیش نہیں کرے گا۔

مجھے یاد ہے کہ جب دلیپ کمار صاحب نے انیس سو بانوے کے ممبئی فسادات کے بعد بے گھر مسلمانوں کے لیے سنیل دت اور اے کے ہنگل کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کیا تو شیو سینا کے لونڈے دلیپ صاحب کے گھر کے باہر روزانہ جمع ہو کر ان کے خلاف نعرے لگاتے اور پاکستان جانے کا مشورہ دیتے۔

معروف لکھاری اور ’’ فسطائیت کی جانب بھارت کا سفر ‘‘ نامی کتاب کے مصنف دیبشش رائے چوہدری کے بقول آج دھرنے یا جلوس کی ضرورت ہی نہیں۔آن لائن ٹرولنگ کا ہتھیار رفتہ رفتہ سماجی سطح پر نفرت کو نارمل بنانے کے لیے کافی ہے اور پھر یہی بلند آہنگ نفرتی آوازیں ریاستی بیانیہ بن جاتی ہیں۔

بیانئیے کی اس جنگ میں فلم بہت موثر ہتھیار ہے ۔ جیسے سرد جنگ کے دور میں انیس سو پچاس سے اسی کی دہائی تک امریکی اسٹیبلشمنٹ نے نام نہاد آزاد دنیا کے حق میں امریکی بیانئے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہالی وڈ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ہالی وڈ میں ’’کیمونسٹ خیالات رکھنے والے گمراہ تخلیق کاروں ‘‘ کی صفائی کی گئی یا بقول شخصے شدید دباؤ اور بائیکاٹ کے زریعے ان کا سافٹ وئر اپ ڈیٹ کیا گیا۔جو نہیں جھکے بلیک لسٹ ہو گئے اور کام ملنا بند ہو گیا۔

بالی وڈ کا شمار دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریز میں ہوتا ہے۔اس پر نظریاتی طور پر قابو پانا بیانئے کی آدھی جنگ جیتنے کے برابر ہے۔دو ہزار بائیس میں بالی وڈ نے کشمیر فائل اور اگلے برس کیرالہ اسٹوری ریلیز کی۔ان فلموں میں ثابت کیا گیا کہ بھارتی مسلمان دھشت گرد اور ملک کے لیے سنگین اندرونی خطرہ ہیں۔بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی سرکاروں نے ان فلموں پر تفریحی ٹیکس معاف کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ فلم بینوں کو سینما ہال تک لایا جا سکے۔ پھر بھی دونوں فلموں کو اوسط کمرشل کامیابی ہی مل سکی۔

اے آر رحمان نے فلم چھاوا کا بھی میوزک کمپوز کیا۔اس فلم میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کو ایک ہندو دشمن ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا گیا۔مگر رحمان صاحب نے انٹرویو میں قبول کیا کہ ایسی فلمیں سماجی ہم آہنگی کے لیے نیک شگون نہیں۔

سرکردہ فلمی نقاد اور اسکرین رائٹر راجہ سین کہتے ہیں کہ ان سے ایک بڑے فلم ساز نے اپنی آنے والی فلم کے ہیرو کا مسلمان نام بدل کے ہندو نام رکھنے کا مطالبہ کیا حالانکہ یہ تبدیلی کہانی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

انیس سو اسی کی دہائی تک کسی بھی ہندی فلم میں زیادہ تر مسلمان کرداروں کو بھائی ، دوست ، شاعر اور گلوکار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اب جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں مسلمان کرداروں کو سخت گیر ، رجعت پسند ، متشدد یا دھشت گرد دکھایا جاتا ہے۔شاہ رخ ، سلمان ، سیف اور عامر جیسے چوٹی کے اداکاروں کی مقبولیت سے لگتا ہے گویا بالی وڈ آج بھی اپنے پیشہ ورانہ رویوں میں روشن خیال اور سیکولر ہے۔مگر یہ ظاہری تصویر ہے۔

جب عامر خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آج ملک کی جو فضا ہے اس میں میری بیوی کو ڈر لگتا ہے یا جب عامر کی دو ہزار چودہ میں ریلیز ہونے والی فلم پی کے میں مذہبی سوالات اٹھائے گئے یا لال سنگھ چڈھا میں عدم رواداری پر بات کی گئی تو سوشل میڈیا پر بائیکاٹ عامر خان ٹرینڈ شروع ہوگیا ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ ان کی اہلیہ ہندو کیوں ہیں۔کیا یہ لو جہاد تو نہیں۔سوال کرنے والے بھول گئے کہ عامر خان کا تعلق گاندھی اور نہرو کے ساتھی مولانا ابوالکلام آزاد کے خاندان سے ہے۔

دو ہزار پندرہ میں شاہ رخ خان کا بھی گھیراؤ ہوا کہ انھوں نے ایک انٹرویو میں یہ کیوں کہا کہ آس پاس کی فضا میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے۔آج کل بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں جب شاہ رخ خان کی پریمیر لیگ ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے ایک بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان سے کنٹریکٹ سائن کیا تو ’’ شاہ رخ حان غدار ہے ’’ کی ٹرولنگ شروع ہو گئی۔چنانچہ بنگلہ دیشی کھلاڑی کا کنٹریکٹ معطل ہو گیا۔

جب سے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بہانے کسی بھی ہدائت کار یا اداکار کے ڈیجیٹل یا فزیکل گھیراؤ کا فیشن شروع ہوا ہے۔بالی وڈ میں تخلیقی آزادی کی روح سہم گئی ہے۔زیادہ تر لوگ پھونک پھونک کر اور سامنے والے کے تیور دیکھ کر بات کرتے ہیں۔

کئی فلموں کے لیے اداکاروں کا انتخاب اس بنیاد پر ہوتا رہا کہ ان کی شکل کسی گروہ کو بری تو نہیں لگے گی۔ایسی کہانی جس میں اقلیت کو ہدف بنایا گیا ہو ایک محفوظ منافع بخش سرمایہ کاری بنتی جا رہی ہے اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کسی بھی کاروبار یا صنعت کا حتمی مقاضد منافع کمانا ہے۔اکثریتی بیانیہ بھلے سرمایہ کار کو کتنا بھی ناگوار گذرے مگر اپنی آزاد سوچ اور اصولوں کو تو پیسے کے لیے بلی پر چڑھانا ہی پڑتا ہے۔گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Trending