Today News
غزہ امن بورڈ اجلاس – ایکسپریس اردو
اسرائیلی جارحیت و بربریت کا نشانہ بننے والے غزہ میں امن کے قیام اور بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سربراہی میں جو امن بورڈ قائم کیا ہے،گزشتہ ہفتے اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ بورڈ کے بانی اراکین میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر و دیگر 26 ممالک شامل ہیں۔ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ انھوں نے غزہ کی صورت حال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے حماس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے حماس جلد ہتھیار پھینک دے گی۔
انھوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے 7 ارب ڈالر کا پیکیج دیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ امدادی پیکیج کا ہر ڈالر غزہ کی ترقی و خوشحالی اور امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا، غزہ اب دہشت گردی اور انتہا پسندی کا گڑھ نہیں رہے گا۔ صدر ٹرمپ کے بقول بورڈ کے رکن ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس فورس بھیجیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ امن بورڈ اقوام متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ یو این درست طریقے سے کام کرے۔ گویا صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے ضامن ادارے اقوام متحدہ کے کردار کو بھی نہ صرف مشکوک بنا دیا بلکہ اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کی سربراہی میں کام کرنے والا امن بورڈ اقوام متحدہ سے بھی ایک درجہ اوپرکا ادارہ ہے، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں مبصرین و تجزیہ نگار اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امن بورڈ کے قیام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے خفیہ عزائم اور بورڈ کے اغراض و مقاصد پر بحث کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو کی پاور رکھنے والے بڑے ممالک چین، روس، فرانس اور برطانیہ سمیت مغرب و یورپ کے بیشتر ممالک صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل نہیں ہیں جس سے اس کی کمزور حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ دس دن میں امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرے، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے امریکا ایران میں مخصوص شخصیات کو نشانہ بنا سکتا ہے اور رجیم چینج بھی کروا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود امریکا کے ساتھ مذاکرات اور جوہری معاہدہ کے لیے تیار ہیں۔
ایک طرف تو صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں قیام امن کے علمبردار ہیں، انھوں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، دوسری طرف وہ ایران کے خلاف جنگ کا اعلانیہ اظہار کر کے مشرق وسطیٰ کے امن کو تباہ کرنے کے در پے ہیں جو ان کی دو عملی پالیسی کا مظہر ہے اور اس امر کا عکاس بھی کہ ان کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے۔ بجا کہ انھوں نے جنگیں رکوائیں جن کا وہ بار بار اظہار کرتے ہیں۔ غزہ بورڈ اجلاس کے خطاب کے دوران بھی انھوں نے برملا اپنے موقف کو دہراتے ہوئے پاک بھارت جنگ رکوانے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکی بھی کھل کر تعریف کی۔ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں کہ وہ میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ بار بار جو تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، گویا وہ اپنا اخلاقی دباؤ بڑھا کر پاکستان کو اس بات پر آمادہ کرنے کے خواہاں ہیں کہ وہ غزہ کے لیے عالمی استحکام فورس میں اپنی فوج بھیجنے پر آمادہ ہو جائے دوسرے یہ کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جو بھی عزائم اور پلان ہیں، اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا نہ کرے بلکہ ان کا عملی حصہ بن جائے۔ بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے، فلسطینیوں کی دوسرے ممالک میں منتقلی اور غزہ کو عالمی تفریحی پارک بنانے اور ایران میں رجیم چینج منصوبے کی حمایت پر آمادہ ہو جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے امن بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ موقف کو صاف الفاظ میں دہرایا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔
آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لیے ناگزیر اور فلسطینیوں کا حق ہے۔ انھوں نے بجا طور پر یہ مطالبہ کیا کہ دیرپا امن کے لیے غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم نے تنازعات کے حل اور بروقت مداخلت کرکے پاک بھارت جنگ رکوانے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔ غزہ امن بورڈ سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ سردست تو اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا یہ بیان مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔
Today News
چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
خدیجہ چھ بچوں کی ماں ہے، بڑی بیٹی پندرہ سال کی ہے، جو اس کے ساتھ ہی کام پر آتی ہے اور گھروں میں جھاڑو پونچھا کرتی ہے، برتن دھوتی ہے، دونوں ماں بیٹیاں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتی ہیں، مختلف گھروں سے انھیں کھانا وغیرہ مل جاتا ہے جو وہ شام کو لے کر گھر جاتی ہیں۔ خدیجہ کا دوسرے نمبرکا بیٹا ایک موٹر مکینک کے پاس کام کرتا ہے، اس کا شوہر نشئی ہے۔
تینوں افراد کل ملا کر پینتالیس ہزار کما لیتے ہیں، شوہر خدیجہ سے مار پیٹ کر رقم نشے کے لیے چھین لیتا ہے، برسوں سے کام نہیں کرتا، بس بچے پیدا کیے ہیں یا بیوی کو مارتا ہے، دس ہزار گھر کا کرایہ چلا جاتا ہے، گیس بجلی کے بل الگ ہیں، خدیجہ روز ہی پٹتی ہے لیکن شوہر سے طلاق نہیں لیتی کہ برادری والے کیا کہیں گے۔ میں نے ایک بار اس سے کہا کہ وہ پولیس سے نشئی شوہر کی شکایت کر دے اور یہ بتائے کہ وہ اس کو مارتا پیٹتا ہے تو یہ سن کر خدیجہ رو پڑی اور بولی کہ ’’ باجی! میں یہ نہیں کر سکتی کیونکہ برادری میں ہر تیسرا آدمی نشئی ہے۔‘‘ خدیجہ اور اس کے بچے مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن غربت ان کا مقدر ہے،کمانے والے تین اور کھانے والے آٹھ۔ اگر گھروں سے کھانا نہ ملے تو ان کو فاقہ کرنا پڑے، مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔
کریم، چالیس سال کا ہے، چار بچے ہیں، کل چھ افراد ہیں اور کمانے والا ایک۔ گھر کرائے کا ہے، کریم بولٹن مارکیٹ پر ایک دکان پرکام کرتا ہے، جہاں سے اسے پندرہ سو روپے روزانہ ملتے ہیں، گھر میں نہ بستر ہیں نہ ہی بیڈ، ننگے فرش پر ایک پلاسٹک بچھا ہے، اس پر ایک پتلا سا گدا، تمام افراد اسی پر سوتے ہیں۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے کریم کو چھٹی کرنی پڑ جائے تو تنخواہ نہیں ملتی، کسی اور وجہ سے اگر وہ ملازمت پر نہ پہنچ سکے تب بھی تنخواہ نہیں ملتی۔ گھر کا کرایہ اور گیس بجلی کے بل دے کر کھانے کو اتنا نہیں بچتا کہ پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو، کریم آدھے پیٹ کھانا کھاتا ہے تاکہ بچے بھوکے نہ رہیں۔ مہنگائی نے جینا عذاب کر دیا ہے، بنیادی چیزیں مہنگی ہیں، کہاں سے خریدیں؟ آٹا، چاول، دال، سبزی، کوکنگ آئل، لہسن ادرک، دھنیا، مرچیں، ہلدی، پیاز یہ سب بنیادی چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہر گھر میں ہوتی ہے، کم آمدنی والے کہاں سے خریدیں اور کہاں سے کھائیں؟
دانش صاحب ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، گھر میں بیوی کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں، پنشن میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ ان کا گھر اپنا ہے لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کے بھی چھکے چھڑا دیے ہیں، ہر چیز مہنگی، گوشت، چکن، مچھلی اور مٹن ہر شے مہنگی ہو گئی ہے۔ ہر مارکیٹ میں قیمتیں مختلف، دکاندار سے کہو کہ پچھلی دکان والا تو آلو بخارا تین سو ساٹھ روپے کا ڈھائی سو گرام دے رہا ہے اور آپ چار سو روپے کا دے رہے ہیں تو وہ منہ پھاڑ کر کہتا ہے ’’ تو وہیں سے لے لیں، میں تو اتنے میں ہی بیچوں گا۔‘‘
اسی طرح ڈرائی فروٹ کی قیمتیں ہر دکان پر الگ الگ ہیں، کوئی چیک کرنے والا نہیں۔ گوشت، سبزی اور دیگر اشیا کے نرخ ہر دکان پر الگ الگ ہیں، وہ زمانے کیا ہوئے جب فوڈ انسپکٹر مارکیٹ میں اشیا کے نرخ چیک کرنے آیا کرتے تھے اور مقررکردہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے چالان بھی کرتے تھے لیکن اب سب کچھ ختم ہوگیا ہے ۔ بانی پی ٹی آئی جب اقتدار میں آئے تو ہر روز وہ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ (ن) لیگ اور پی پی کے لوگ جو دولت باہر لے گئے ہیں وہ لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائیں گے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، البتہ ان کی عادتوں نے انھیں جیل پہنچا دیا، ان پر اور ان کی اہلیہ پر تحائف خرد برد کرنے کے جرم میں وہ پابجولاں ہوگئے۔
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مہنگائی کا جن کئی برسوں سے بوتل سے باہر ہے۔ ملک کا خدا ہی حافظ ہے، کسی کو بھی اس ملک سے محبت نہیں۔ ہر طرف لوٹ مار ہے، حکمرانوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، سیاستدانوں، ایم پی ایز، ایم این ایز، مقتدر طبقے اور امیروں کے لیے زندگی ایک سنہرا خواب ہے اور باقی لوگوں کے لیے ایک بھیانک سپنا ہے۔
اس ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔ جب اقتدار میں رہ کر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں تو ان سے نہ کوئی پوچھنے والا نہ روکنے والا، اور جب وہ اپوزیشن میں آتے ہیں تو حکومت پہ تنقید کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں میوزیکل چیئر کا یہ کھیل آخر کب تک کھیلا جائے گا؟ ایک سیاستدان نے سیاسی بیان دیا ہے کہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بلاول ہوں گے، یعنی میوزیکل چیئر تبدیل ہونے والی ہے۔ طے کر دیا گیا ہے کہ کب اور کون اگلی بار وزیر اعظم بنے گا۔ ساتھ میں امریکا کی آشیر واد بھی ضروری ہے۔ موجودہ منظرنامہ دیکھ لیجیے، زرداری صاحب مقتدرہ کی عنایت سے صدر بن گئے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے، لیکن پیکا ایکٹ نہ ہوتا، صحافیوں اور کالم نگاروں کی زبان بندی نہ ہوتی تو آپ دیکھتے کہ کیسے کیسے اداریے لکھے جاتے اور کیسے کیسے کالم لکھے جاتے۔ عام آدمی کو نہ حکومت سے دلچسپی ہے نہ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ سے سروکار، انھیں تو دو وقت کی روٹی درکار ہے۔
حکومت نے مہنگائی اس لیے بڑھا دی ہے کہ عام آدمی اپنے روز و شب میں الجھ کر رہ جائے، دنیا بھر میں انقلاب ہمیشہ متوسط طبقہ لے کر آتا ہے کیونکہ اس کے پاس عقل اور سمجھ دونوں ہوتی ہیں، وہ تعلیم یافتہ بھی ہوتا ہے، اس لیے غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ غریب اپنی روزی روٹی کے چکر سے نہیں نکل سکتا اور امیر طبقہ اپنی عیاشیوں میں مگن رہتا ہے لیکن پیکا ایکٹ نے سب کی زبانیں کاٹ دی ہیں، سوچ پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔
گزشتہ پانچ سال سے مہنگائی اس شدت سے بڑھی ہے کہ غریب اب مرنے کو ترجیح دینے لگا ہے، حکمرانوں کو کوئی یہ سبق دے کہ اگر آپ کو من مانی کرنی ہے، لوٹ کھسوٹ کرنی ہے، چور بازاری کرنی ہے، مال بنانا ہے، ایک فیکٹری سے کئی فیکٹریاں بنانی ہیں، لندن میں فلیٹ خریدنے ہیں، سرے محل خریدنا ہے، دانت کے درد کا علاج لندن میں کرانا ہے، نزلہ زکام کا علاج امریکا اورکینیڈا میں کروانا ہے، قومی خزانہ خالی کرکے اپنے خزانے بھرنے ہیں، لوٹ مارکرنی ہے، تو ضرور کیجیے۔ صرف مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیجیے اور پھر ساری زندگی عیاشی کیجیے۔
مزدور مر رہا ہے، روزانہ اجرت پرکام کرنے والا مصیبت کا شکار ہے، ملک میں ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جب سیدھی طرح گھی نہ نکلتا ہو تو انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم کے پیچھے یہی ٹیڑھی انگلیاں ہیں۔ مہنگائی کا جن چیختا چنگھاڑتا، شور مچاتا اور دھاڑتا ہوا آ چکا ہے اور انسانوں کو جیتے جی مار رہا ہے۔ مہنگائی کی یہ آگ کسی دشمن نے نہیں بلکہ حکومت نے خود لگائی ہے۔ ریاستی بے حسی نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، یہ سارے ارکان اسمبلی جنھیں شاید ڈیسک بجانے کے بھی بھرپور پیسے ملتے ہیں۔ یہ بجٹ تقاریر کے دوران شور و غوغا بہت کرتے ہیں، لیکن عوام کے لیے ان کے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ سب اپنے مفادات کا کھیل ہے، حکمرانوں کی بے حسی، مفاد پرستی اور ناعاقبت اندیشی سے عوام پر مسلط کی گئی مہنگائی پورے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس سماج میں صرف، ڈاکٹر، قصائی اور سیاستدان عیش کر رہے ہیں، معاشرے کا دو فی صد طبقہ ہر طرح کے عیش و عشرت کا حق دار ہے، بقیہ اٹھانوے فی صد کی مہنگائی کی تلوار سے نسل کشی کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان نے تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی لاکھوں میں فیس نے ذہین طلبا پر تعلیم کا شعبہ بھی بند کر دیا ہے۔ ماں باپ روکھی سوکھی کھا کر بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں، پرائیویٹ اسکول والے بھی الٹی چھری سے والدین کو ذبح کر رہے ہیں۔ کسی کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ غریب کا بچہ اسکول نہیں جاتا بلکہ کسی موٹر مکینک کے ہاں ’’چھوٹا‘‘ بن جاتا ہے جو استاد کو پانا اٹھا کردیتا ہے۔ سرکاری اسپتال قصائی گھر بن گئے ہیں، غریب آدمی علاج بھی نہیں کروا سکتا۔ سرکاری اسپتالوں میں رشوت اور سفارش کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔ یہ حکمران اگر صرف مہنگائی کم کروا دیں تو بے شک عیش کریں، انھیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔ کاش! ہمارے نام نہاد حکمران جن کے پاس اربوں روپیہ مال دولت، سونا، ہیرے جواہرات ہیں، اس لیے ان سے کوئی امید رکھنا حماقت ہے۔ شاید کبھی قدرت کو رحم آ جائے اور کوئی سچا اور کھرا حکمران پاکستان کو بھی میسر آ جائے لیکن جن لوگوں نے قائد اعظم پہ رحم نہیں کیا وہ ایمان دار حاکم کو کیسے برداشت کریں گے۔
Today News
قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد:
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور وطن عزیز کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
افغان جارحیت کے خلاف جاری آپریشن ضرب للحق کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ افواج پاکستان کا عزم ہے کہ ملک کے امن اور تحفظ پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دی جائے گی، جبکہ افواج کسی بھی جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلیٰ تربیت اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی سے لیس ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق افواج پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو فروغ دیا ہے لیکن ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے متحد ہے۔
Today News
آپریشن ضرب للحق میں پاک فضائیہ کے دشمن پر کاری وار جاری
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ضرب للحق کے دوران پاک فضائیہ نے دشمن کے خلاف مؤثر فضائی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے افغان طالبان رجیم کی اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ فضائی حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ پکتیا میں ہونے والی کارروائی میں ایک کور ہیڈ کوارٹر کو بھی مؤثر فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Tech2 weeks ago
Pakistan Approves Bill to Fast-Track Internet and Mobile Network Expansion