Connect with us

Today News

غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں

Published

on


برطانیہ اور یورپ میں صنعتی انقلاب کے ساتھ معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں ہونی شروع ہوگئیں۔ پہلی دفعہ متوسط اور مزدور طبقہ وجود میں آیا۔ کسانوں نے اپنے آبائی پیشہ ، چھوڑ کر شہروں کا رخ کیا۔ نئے شہر آباد ہوئے اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ سیاسی جماعتیں قائم ہوئیں۔ مزدور اور کسان تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دانشوروں کے ایسے گروہ معاشرے میں نظر آنے لگے جو فرد کی آزادی اور ریاست کی تنظیم نو کے بارے میں نئے خیالات پیش کرتے تھے۔ اخبارات نے عام آدمی کے مسائل کو اہمیت دینی شروع کی۔

اس صورتحال کے منطقی نتیجے میں برطانیہ میں بادشاہ اور چرچ کا کردار زیرِ بحث آنے لگا۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ، بادشاہ اور چرچ کے درمیان تصادم ہوا۔ متوسط اور مزدور طبقہ کی سیاسی جماعتوں اور آزادی کا پرچار کرنے والے دانشوروں نے اس لڑائی میں پارلیمنٹ کی حمایت کی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں بادشاہ کے اختیارات میگنا کارٹا معاہدے کے ذریعے محدود ہوئے۔ چرچ کی ریاست کے امور میں مداخلت ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ نے Bill of Right کی منظوری دی۔ اسی طرح ریاست کی تنظیم نو کا آغاز ہوا۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں عوام کی ریاست پر بالادستی قائم ہونا شروع ہوئی۔ خواتین کی انجمنوں نے ووٹ دینے کے حق کے لیے ایک تاریخی جدوجہد کی۔ مزدور تنظیمیں کارل مارکس کے سوشل ازم کے نظریے کی علم بردار بن گئیں۔ اسی دوران سول سوسائٹی مستحکم ہونا شروع ہوئی۔ سول سوسائٹی کی تعریف یوں کی گئی :

“Civil society is like the backbone of a democracy, yaar! It’s the glue that holds the system together, making sure the government stays accountable to the people.In Pakistan, civil society plays a crucial role in:- Promoting transparency and accountability- Advocating for human rights and social justice- Providing a platform for marginalized voices- Encouraging civic engagement and participation.”

برطانیہ اور یورپی ممالک میں سول سوسائٹی جمہوری نظام کے استحکام میں بنیادی ستون بن کر سامنے آئی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے انسانی حقوق کے تحفظ، آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے لیے ماحول کو سازگار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سول سوسائٹی کی کوششوں سے غلامی کا ادارہ ختم ہوا۔ معاشرے کے پسماندہ طبقات، مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے مردوں کے برابر حقوق کے لیے سول سوسائٹی نے رائے عامہ ہموار کی۔ ریاست کے نظام کو شفاف انداز میں چلانے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام کے جاننے کے حق (Right to know) کو تسلیم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بنیادی کردار ادا کیا۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سول سوسائٹی کے ایجنڈا کو اپنایا، یوں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پسماندہ طبقات کی بہبود اور بنیادی شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔ بھارت میں سیکولر جمہوریت کے استحکام، مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ۔یہی وجہ تھی کہ بھارت کی تاریخ کے اہم موضوع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان اپنے قیام کے فوری بعد امریکا کا اتحادی بن گیا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونا شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں سیاسی کلچر کمزور ہوا اور سیاسی جماعتیں عوام سے دور ہونے لگیں۔ اگرچہ وکلاء ،صحافیوں، دانشوروں اور ادیبوں کی تنظیموں نے سیاسی عمل کے خاتمے پر ایک احتجاج شروع کیا مگر فوری طور پر اس احتجاج کے اثرات سامنے نہیں آئے، البتہ جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے سیاسی عمل کو پیچھے دھکیل دیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سول سوسائٹی کا ادارہ جو پہلے ہی کمزور تھا مزید کمزور ہوگیا۔ وکلاء کی تنظیموں نے اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود بنیادی شہری حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ صحافیوں کی نمایندہ تنظیم پی ایف یو جے نے آزادئ صحافت کو درپیش مسائل کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پسماندہ طبقات کی آوازوں کو شدید جھٹکا لگا۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ مزدور تحریک مشکلات کا شکار ہوگئی۔ فری مارکیٹ کے نظریے کے تحت استحصال کے نئے طریقے راج ہوگئے۔ مذہبی انتہاپسندی کے طوفان نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی۔ اس دوران پاکستان میں سول سوسائٹی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے طاقتور آواز بن کر سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دوراب پٹیل ، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو سپریم کورٹ میں غیر قانونی قرار دینے کے لیے متحرک وکیل عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں سول سوسائٹی میں نیا کردار ابھر کر سامنے آیا۔

انسانی حقوق کمیشن نے مزدوروں کے حقوق ، بائنڈڈ لیبر کے خاتمے اور پسند کی شادی جیسے اہم مسائل پر مختلف نوعیت کی تحقیق کی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے عدالتوں میں لڑائیاں لڑیں۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی ریاست کے تمام ستونوں پر بالادستی، آئین میں کی گئی غیر جمہوری ترامیم کے خاتمہ ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور شہریوں کے جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے ایچ آر سی پی نے تاریخی مہمیں چلائیں۔ اسی طرح خواتین، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور ان طبقات کے حقوق کے لیے قانون سازی کے لیے ایچ آر سی پی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے انتہائی بنیادی کردار ادا کیا۔

انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن وغیرہ کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان رہنماؤں کو عالمی اعزازات دیے گئے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں جب چوہدری نثار وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کے دور میں غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف ایک نہ نظر آنے والا آپریشن شروع ہوا۔ ان کے دور میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی روک تھام کی ٹاسک فورس (Financial Action Task Force – FATF) نے انتہاپسند مذہبی تنظیموں پر جو پابندیاں عائد کیں، ان پابندیوں کا اطلاق انسانی حقوق اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں پر بھی کیا گیا، یوں یہ ڈیولپمنٹ سیکٹر سکڑنے لگا۔ جب بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر تنقید ہوئی تو حالات کچھ بہتر ہوئے۔

گزشتہ حکومت کے دور اقتدار میں حالات مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ ایچ آر سی پی نے گزشتہ دنوں Regulation or Restriction کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ این جی اوز (N.G.Os) کو ہر صورت حکومت پاکستان کے Economic Affairs Division سے ایم او یو (مفاہمی یادداشت) پر دستخط کرنا ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع کی سطح پر نئی این جی او کے رجسٹریشن کے لیے این او سی کا حصول لازمی کردیا گیا۔ اس طرح Provincial Charities Commission سے رجسٹریشن کو لازمی کردیا گیا۔

اب کسی این جی او کے بینک اکاؤنٹ سیل کرنے سے لے کر اس کے دفتر کو سیل کرنے کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکاء نے متفقہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا کہ یہ پابندیاں مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں تنظیموں پر حملہ کے مترادف ہیں۔ اس سیمینار میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ذیشان نے کہا کہ این جی او پر اس طرح کی پابندیوں سے صرف مظلوم طبقات ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ جمہوری نظام بھی متاثر ہوگا۔ ایک اور دانشور نسیم انتھونی کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے معاشرے کی دانش وارانہ روایت کمزور ہوجائے گی۔

ایک وکیل ثاقب جیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پالیسی کو جو انسانی حقوق کے چارٹر کے خلاف ہے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک رہنما نیلم حسن کا یہ موقف تھا کہ ہر صورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک اور سماجی کارکن بشرہ خالق نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اس کے طریقہ کار سے جنوبی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز  براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد کو اقوام متحدہ نے بھی سراہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی موقع ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں نئی حکمت عملی پر غور کریں۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئرمین راجہ اشرف نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بنیادی حقوق کو ایک منصوبے کے تحت واپس لیا جارہا ہے۔ اس سیمینار کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے سویلین اسپیس کم کررہی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرداں این جی اوز کو جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے۔ ان تنظیموں نے انسانی حقوق کی پاسداری کرکے ایک طرف عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کیا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ ابھر کر سامنے آیا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا جمہوری تشخص متاثر ہوگا ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکی دفاعی بجٹ1.5 ٹریلین ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز، سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

Published

on



امریکا کا دفاعی بجٹ 1.5 کھرب ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ  سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان ہے، دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری کے لیے کانگریس سے درخواست کر دی ہے، جو جدید تاریخ میں فوجی اخراجات کی بلند ترین سطح ہو سکتی ہے۔

 وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے بجٹ منصوبے میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے، ان کٹوتیوں کا ہدف صحت، تعلیم، رہائش اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے امدادی منصوبے ہیں۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر جاری تنازعات، خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، چاہے اس کے لیے فلاحی پروگرامز میں کمی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ تاہم اس مجوزہ بجٹ پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف وفاقی قرضے میں مزید اضافہ کرے گا بلکہ عوامی فلاح کے اہم شعبے بھی متاثر ہوں گے۔

 ادھر وائٹ ہاؤس نے داخلی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد کمی کی تجویز دی ہے، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے، اساتذہ کی تربیت، طبی تحقیق، صاف توانائی اور ٹیکس فراڈ کے خاتمے جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ بعض پروگرامز، جو اقلیتی برادریوں اور کمزور طبقات کی مدد کرتے ہیں، مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔

بجٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے تحت محکمہ انصاف کے لیے 40 ارب ڈالر سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ بجٹ بغیر بڑی تبدیلیوں کے منظور ہو جاتا ہے تو آئندہ دہائی میں امریکی قرضے میں کھربوں ڈالر کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تقریباً 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

 یاد رہے کہ امریکی آئین کے تحت بجٹ کی حتمی منظوری کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور صدر کی تجویز کو قانون بنانے کے لیے قانون سازوں کی منظوری درکار ہوگی۔



Source link

Continue Reading

Today News

چلتی مسافر کوچ میں لوٹ مار، تین مسافر زخمی، ملزمان نقدی اور موبائل فونز لے کر فرار

Published

on



اسلام کوٹ سے حیدرآباد آنے والی ایک مسافر کوچ میں مسلح افراد نے دورانِ سفر لوٹ مار کی، جس کے دوران تین مسافر زخمی بھی ہو گئے۔ واردات کا واقعہ حیدرآباد-میرپورخاص روڈ پر پیش آیا۔

پولیس کے مطابق سات ملزمان میرپورخاص سے مسافروں کے بھیس میں کوچ میں سوار ہوئے اور جیسے ہی کوچ ٹنڈوالہیار کے علاقے کیہری شاخ کے قریب پہنچی تو انہوں نے اسلحہ نکال کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے کوچ میں موجود مسافروں سے کئی لاکھ روپے نقدی اور مختلف اقسام کے موبائل فون لوٹ لیے۔

پولیس کے مطابق لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں ملزمان ٹنڈوجام کے قریب باغ بی بی فاطمہ کے مقام پر کوچ رکوا کر فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد متاثرہ مسافر جب تھانہ راہوکی کی حدود میں پہنچے تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایچ او تھانہ راہوکی سب انسپیکٹر نورشہباز رند کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد سے ابتدائی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔

آئی جی سندھ نے ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے، پٹرولنگ اور سرچ آپریشن تیز کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی راستوں پر پولیس پکٹنگ اور چیکنگ مزید مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی سے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید

Published

on



وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دے دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ذرائع، خصوصاً سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے امن و مذاکرات کے فروغ کے لیے مبینہ اقدامات کو سرکاری ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے، تاہم یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ذرائع سے منسوب تمام ایسے بیانات غلط ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

ترجمان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جمعہ کو وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جس میں ایسے معاملات کو شامل کیا گیا جن پر نہ بات ہوئی اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا گیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی حساس صورتحال کے پیش نظر ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور درست و مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری بیانات اور میڈیا ریڈ آؤٹس پر انحصار کریں۔

ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، اس لیے ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending