Today News
فطرت انسان اور فن اختلاف
رب دو جہاں نے کائنات میں لاتعداد اشیا بنائی ہیں ۔ نظر نہ آنے والے بیکٹیریا وائرس سے لے کر تا حد نگاہ وسعت لیے آسمان تک ہر شے قدرت کی بے مثال کاریگری کی گواہ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء میں تنوع دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
صدیوں سے انسان کھوج میں لگا ہے اور قدرت کے نت نئے شاہکار متواتر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ پھر چاہے کھوج کی سمت افق کی بلندیاں ہوں یا سمندروں کی گہرائیاں، زمین کا حدود اربعہ ہو یا پہاڑوں کے اسرار۔
اور کھوج کا دائرہ کار اگر کرہ ارض سے بڑھ کر فضاؤں تک چلا جائے تو بلیک ہول (Black hole) جیسی اختراع حضرت انسان کے لیے کائنات کے اسرار و رموز کا احاطہ کرنا ناممکن بنا دیتی ہیں۔
جاندار ہو یا بے جان اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو ایک علامتی خاصیت بخشی۔ کوئی چیز خوبصورتی کا استعارہ ہے تو کوئی طاقت کا۔ کوئی کمزوری کی علامت ہے تو کوئی شے سب سے بڑھ کر کار آمد۔
اسی تناظر میں انسان کا بحیثیت ابداع جائزہ لیا جائے تو یہ سپیشی(Specie) بیک وقت کئی متاثر کن خصوصیات کی حامل ہے۔ مالک دو جہان نے اپنی اس تخلیق کو دنیا میں بحیثیت نائب چنا اور آج وہ دنیا پر حکمرانی کرتا نظر آتا ہے۔
تاہم وہ خاص ودیعت الٰہی جس کی وجہ سے انسان دیگر تمام مخلوق سے ممتاز ہے وہ ’’سوچ کا اختیار، شعور یا آزاد مشیت‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جینیاتی ساخت و ترکیب (Genotype) سے لے کر ظاہری خصائص (Phenotype) تک ہر انسان کو دوسرے سے الگ بنایا۔
انسان کو شعور دے کر اس شعور کے مطابق عمل سر انجام دینے کا ایک محدود مدت کے لیے محدود اختیار تفویض کیا اور دیگر اوصاف کی طرح اس خاصیت میں بھی ہر بشر کو انفرادیت بخشی۔
مقام افسوس یہ ہے کہ انسان درج بالا نعمتوں کا استعمال انتشار پھیلانے اور بے سکونی و تنگی پیدا کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ معاشرتی نظام کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی گھر کی بات کی جائے تو اس کے افراد کے مابین بھی سوچ اور نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے یہاں تک کہ محض دو افراد کو بھی پرکھا جائے تو ان کا بھی ایک دوسرے کی ہر بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں۔
معاشرتی سطح پر عموماً کسی بھی نوعیت کے بحث و مباحثے میں اس حقیقت کو مطلقاً پس پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے تحت ہر فرد اپنی رائے رکھتا ہے۔
جب اختلاف میں اخلاقیات کو بلائے طاق رکھ دیا جاتا ہے تو گویا انسانی ذات میں ان اوصاف کی نفی کی جاتی ہے کیونکہ بصورت دیگر حقیقت تسلیم کر لینے پر دوسروں کی رائے کا احترام نہ کرنے یا اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے والے شدت پسند عمل کا کوئی جواز نہیں بچتا۔
اللہ پاک نے انسان کی فطرت جھگڑالو بیان کی ہے۔ سورہ الکہف کی آیت نمبر 54 میں فرمایا گیا ہے۔ اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
اسی طرح اللہ پاک کا حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں نائب بنا کر بھیجنے کا فیصلہ جان کر فرشتوں نے بھی اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ تو زمین میں فساد برپا کرے گا۔ سورہ بقرہ آیت نمبر 30 ہے:
’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟‘‘
حضرت ہابیل کے قتل سے شروع ہونے والا پراگندگی اور ظلم و ناانصافی کا سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ انسان ناشکری کی انتہا کرتے رب کی بہترین عطا یعنی اپنی صوابدید پر کام کرنے کی صلاحیت کا استعمال اپنی جدل کرنے والی فطرت کی تسکین کے لیے کر رہا ہے۔
اگر اختلاف رائے سیاست سے متعلقہ ہو تو معاملہ مزید گمبھیر ہو جاتا ہے۔ صورتحال کو بدتر پاکستانی عوام کی دل پسند سیاست دانوں کو سیاہ یا سفید دیکھنے کی عادت بناتی ہے جب کہ اس وقت اکثریت سرمئی ہے۔
عوام کے سیاسی نظریات میں حقائق سے زیادہ جذبات کا عمل دخل ہوتا ہے. وہ چرب زبان سیاست دانوں کے کھوکھلے لفظوں اور بناوٹی لہجوں سے متاثر ہو کر عقلی طور پر قائل ہونے سے زیادہ جذباتی وابستگی بنا لیتے ہیں۔
اس کی وجہ بھلے عوام کی سادہ لوحی، کم علمی یا سوچ کی ناپختگی ہو لیکن کسی کو سو فیصد غلطیوں سے مبرّا سمجھنے والا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ اور اس سے زیادہ خطرناک اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف دوسروں کی رائے سننے کی برداشت نہ رکھنا ہے۔
اندھی عقیدت میں لوگ نہ اپنی منتخب کردہ پارٹی کی غلطیاں دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپوزیشن کی اچھائیاں۔ حضرت انسان کی ذات کا ایک اہم پہلو اس کی تغیر کی دلدادہ ذات ہے۔
انسان سدا ایک سا نہیں رہتا۔ حالات و واقعات اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ باہر کسی خاطرخواہ تبدیلی کے بغیر بھی انسان کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔
سائنس انسان کی اس خصوصیت کی مداح ہے اور ہر لحظہ بدلتی کائنات میں انسان کی بقا کا سہرا اسی جبلت کے سر سجاتی ہے۔ لیکن لوگ شخصیت پرستی میں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ بدلاؤ انسان کا خاصہ ہے۔
عین ممکن ہے جس لیڈر کے ایک اچھے عمل کی بنا پر اسے سراہا جاتا ہو وقت رہتے اس نے اپنی اس اچھائی کو کھو دیا ہو۔ ہر لمحہ بدلتی عالمی صورتحال اب بے یقینی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
گزرتا وقت چہروں سے نقاب اتارتے کسی کا مکروہ چہرہ عیاں کر رہا ہے تو یہی وقت کسی کو بے گناہ ثابت کر رہا ہے۔ سماج میں بہتری لانے کے لیے سماجی اکائیوں کا اس صورتحال میں اپنی ’’آئیڈیل‘‘ شخصیات کے نت نئے چہروں کو پہچاننا اور قبول کرنا ضروری ہے۔
Today News
امریکا، اسرائیل، ایران جنگ: عالمی نظام اور پاکستان
امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ اپنی تباہ کاریوں کے ساتھ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی۔ رعونت اور کروفر کے ساتھ روزانہ بیان ہوتا ہے کہ اب تک اتنے ہزار ٹارگٹ بمباری ہو چکی۔
اب کوئی خاص ٹارگٹس بچے نہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے مزاحمت نے جارح حکومتوں سمیت دنیاکو بھی حیران کر دیا ہے۔
امریکی اڈوں کے میزبان ممالک پر ایران کی جوابی کارروائیوں نے انرجی مارکیٹ اور ان ممالک کی اقتصادی ترقی کے ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل نے دوسری جانب بیروت کو غزہ 2 بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔
امریکا کو واحد پشیمانی یا رکاوٹ عالمی انرجی مارکیٹ کی سپلائی چین تہ و بالا ہونے سے ہوئی کہ امریکی شہریوں کو تیل کی قیمتوں نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔
فنانشل مارکیٹوں کے اضطراب نے امریکا کو پریشان ضرور کیا ہے لیکن اب تک بدقسمتی سے دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں نمایاں نہیں ہیں۔
جنگ میں ایران تو تباہی کا شکار ہوا ہے لیکن عالمی نظام بھی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ رول بیسڈ ورلڈ کا ڈھانچہ بھی لڑکھڑا رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کی ترجیحات، ان کی اوڑھی ہوئی انسانی حقوق، عالمی قوانین کی اوڑھنی اور عالمی اداروں کی تقدیس کے سالہاسال کے بھاشن بھی بارود کی نذر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تاریخی شعور کے مطابق عالمی سیاست کے مضبوط نظر آنے والے ڈھانچے اکثر بڑے بحرانوں کے دوران اپنی کمزوریاں دکھا دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بھی یہی منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ صرف علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی جیوپولیٹیکل نظام کی عیاریوں اور منافقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔
توانائی کی سپلائی چین سے لے کر عالمی مالیاتی منڈیوں تک ہر سطح پر بے یقینی ہے اور اس کا اثر پاکستان جیسے ممالک تک براہِ راست ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کا مرکز ہے۔
عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً بیس ملین بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی مائع گیس بھی اسی راستے سے ایشیا اور یورپ تک جاتی ہے۔ کشیدگی بڑھنے پر عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں میں اضطراب اور بے یقینی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ تیل مہنگا اور ترسیل مشکل ہو رہی ہے۔
عالمی معیشت جہاں پہلے ہی بلند شرح سود اور سست روی کا شکار ہے، وہاں بڑھتی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انرجی بحران سے امریکا بھی محفوظ نہیں۔
گیسولین کی قیمت چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، بنیادی خوراک کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ چکی ہیں، یوں امریکی شہریوں کے روزمرہ اخراجات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
یورپ کا سیاسی اور سیکیورٹی معاملہ پیچیدہ ہے۔ وہ جنگ میں شامل نہیں، مگر امریکا کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے مکمل غیرجانبدار بھی نہیں۔
روس، یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران سے پہلے ہی دوچار ہے اور اب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے مزید غیریقینی پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے اعداد وشمار کے مطابق یورپی یونین کے گیس ذخائر گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے کم ہیں، اس لیے توانائی کی قیمتیں یورپ میں بھی بلند ہیں۔
اس پس منظر میں معروف فرانسیسی ماہر معاشیات Thomas Piketty نے معروف اخبار Le Monde کے اپنے حالیہ مضمون میں عالمی نظام کی موجودہ کمزوریوں پر روشنی ڈالی۔
پکیٹی، جو اپنی کتاب Capital in the Twenty First Century کے ذریعے عالمی معاشی عدم مساوات پر بحث لے کر آئے، کہتے ہیں کہ یورپ کو محض تماشائی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی اقتصادی اور سیاسی قوت کو منظم کرنا ہوگا تاکہ عالمی نظام میں متوازن کردار ادا کر سکے۔
پکیٹی کے مطابق موجودہ بحران کسی ایک حکومت کی پالیسی تک محدود نہیں۔ یہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
بڑی طاقتیں جب داخلی دباؤ اور سیاسی تقسیم اور انتشار کا شکار ہوں، تو اکثر بیرونی محاذوں پر طاقت کا اظہار کرتی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لمحات میں عالمی توازن میں نئی ترتیب بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اثرات یکساں نہیں۔ China اور India سمیت ایشیا کی بڑی معیشتیں وقتی طور پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کی بے یقینی سے متاثر ضرور ہوئی ہیں مگر خاموشی سے اپنی صنعتی و تجارتی ترقی پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔
عالمی اقتصادی نمو کا دوتہائی حصہ اب ایشیا سے آ رہا ہے۔ اگر امریکا طویل عرصے تک جنگوں میں الجھا رہا، تو عالمی توازن غیرمحسوس انداز میں ایشیا کے حق میں مزید تیزی سے جھکے گا۔
جدید معیشت کی اصل قوت صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی حکمت عملی ہے اور اس کے لیے پائیدار امن ضروری ہے جس کا اصل فائدہ ایشیائی ممالک اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات کئی جہتوں میں ہیں۔ توانائی کی ضروریات کا تقریباً ستر فیصد حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ ملک پہلے ہی بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی توازن کے مسائل سے دوچار ہے۔
مزید برآں پاکستان ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی توازن سنبھالنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں جن میں پینتیس فیصد یورپی یونین اور اٹھارہ فیصد امریکا کو جاتی ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر خلیجی ممالک سے تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان عالمی اقتصادی جال میں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ ممالک کے ساتھ تعلقات بہت قریبی بھی ہیں اور ضرورتوں کے ساتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ یوں خطے میں طویل کشیدگی توانائی، سفارت اور تجارت تینوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف جنگ نہیں بلکہ عالمی نظام کے نئے مرحلے کی علامت ہے۔ توانائی کی منڈیوں کی بے چینی، مالیاتی غیریقینی اور بڑی طاقتوں کی عسکری کشمکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو سیاسی، علاقائی اور معاشی توازن کر برقرار رکھنا لازمی ہے جو عملاً اتنا آسان نہیں۔ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ کسی بھی تنازع میں الجھنے سے بچا جا سکے۔
اندرونی سطح پر بھی ضروری ہے کہ سیاسی استحکام، بہتر گورننس، اقتصادی استحکام اور سرحدوں پر امن و سکون ہو۔
ان اقدامات سے پاکستان نہ صرف مزید محفوظ ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، فعال اور متوازن عالمی کھلاڑی کے طور پر اپنا وجود منوانے اور کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
Today News
ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں
جب بھی اس ملک میں کوئی نیا غلغلہ ہوتا ہے، کوئی نیا ’’گینگ‘‘ غالب آتا ہے، کوئی نیا ’’دادا‘‘ نئے ہتھیاروں سے لیس ہوکر آتا ہے اور اس کی برکت سے ہمارے گاؤں، محلے میں نئے نئے ’’کامیاب‘‘ سامنے آتے ہیں تو ہماری بھی شامت آجاتی ہے۔
ہماری آل اولاد، اس ’’کامیاب‘‘ کا نام لے اس کی تیز رفتار ترقی کا ذکر شروع کرتے ہیں، روڈ پتی سے کروڑ پتی ہوگیا، چھابڑی فروشی سے عمارت فروشی، سڑک فروشی، ملازمت فروشی پر آگیا ہے، سائیکل کی جگہ لینڈ کروزر میں پھرتا ہے۔
جھونپڑی سے لگژری بنگلے میں منتقل ہو گیا۔ پھر بات کو ایک خوبصورت بلکہ بدصورت موڑ دے کر اور تشبیب سے گریز کرکے، طعنوں کے پانی میں ’’تعریف‘‘ کے جوتے بگھو کر مارے جاتے ہیں۔
چھوڑو بے ایمان آدمی ہے، اگر ہمارے والد ایسے ہوتے تو ہم بھی آج’’ یہ یہ‘‘ ہوتے لیکن ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں، ہمارے’’ بابا‘‘ خودار، ایماندار ہیں۔ دولت کی جگہ ’’عزت‘‘ کو ترجیح دیتے ہیں ورنہ ہمارے ’’بابا ‘‘کیا نہیں کرسکتے تھے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔
فلاں وہ تو کرپٹ آدمی ہے، چاپلوس ہے، مطلبی، موقع پرست ہے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔ ہمارے بابا کسی کی خوشامد نہیں کرتے، کسی کے آگے جھکتے نہیں، جھولی نہیں پھیلاتے ورنہ کیا کیا نہیں کرسکتے تھے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔
ٹھیک ہے انھوں نے، کرپٹ لوگوں کی طرح پیسہ نہیں کمایا ہے لیکن عزت کمائی ہے، نام کمایا ہے، مقام کمایا ہے۔ ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں۔
یہ تعریف میں لپٹے ہوئے الفاظ تما جوتے ہمیں کافی دیر تک مارے جاتے ہیں، جب بھی ایسا کوئی انقلاب آتا ہے، نئے انقلابیوں کو ساتھ لے کر بلکہ ملک پر ’’چھوڑکر‘‘ تو ہماری یہ درگت بنتی ہے۔
قائد عوام فخر ایشیا کے دور میں بھی ایسا ہوتا رہا، مردحق ضیاالحق کے دور میں بھی ہوتا رہا، جنرل مشرف کے دور میں بھی ہوا ،پھر چاروں صوبوں کی زنجیر، سب پر بھاری اور قرض اتارو ملک سنوارو میں بھی اور اب بانی اور وژن کے بابرکت زمانے میں بھی جاری ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ ہماری ناکامیوں میں ہماری اپنی بزدلی، نالائقی اور نااہلی کا ہاتھ ہے۔ لیکن اس میں کچھ بلکہ بہت’’شائبہ خوبی تقدیر‘‘ بھی ہمارے ساتھ برابر کی شریک رہا ہے۔
جب بھی ہم نے کسی’’بام‘‘ پر کمند ڈالنے کی کوشش کی توجب دو چار ہاتھ رہ گئے ، کہیں نہ کہیں سے کوئی درانتی آکر کمند کاٹ دیتی ہے اور ہم دھڑام سے وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں کا ہمارا خمیر ہے۔ بہت کوششیں کیں، کمندیں ڈالیں لیکن بام تک نہیں پہنچ پائے۔
تو امبر کی آنکھ کا تارا میرے چھوٹے ہاتھ
سجن میں بھول گئی یہ بات
بے شک ہمارے ہاتھ چھوٹے تھے اور ہم یہ بھولتے بھی نہیں تھے لیکن کبھی چاند ستارے مانگے بھی نہیں تھے اور کسی چھوٹے سے ستارے پر بھی قانع ہوجاتے لیکن…ویسے تو ’’لب بام‘‘کمند ٹوٹنے کے واقعات بہت ہیں لیکن
درد میں ڈوبے ہوئے نغمے ہزاروں ہیں مگر
ساز دل ٹوٹ گیا ہو تو سنائیں کیسے
بانگ حرم میں ہم سب ایڈیٹر سے چیف ایڈیٹر بننے والے تھے کہ یحییٰ خان خان نے کلہاڑا چلایا اور ہمارے اخبار کو بند کردیا۔ کچھ دوستوں کی مدد سے ریڈیو پاکستان پشاور پہنچے۔
وہاں بھی کچے سے پکے اسٹاف آرٹسٹ ہونے والے تھے کہ مولانا کوثر نیازی نے تلوار چلائی اور ہم پر بین لگ گیا۔ پشاور میں پی ٹی وی سینٹر کھلا تو اسکرپٹ پروڈیوسرکا پوسٹ ہمارے سامنے تقریباً پلیٹ میں سجا تھا لیکن نتیجہ نکلا تو ایک ایسے آدمی کا تقرر ہوا تھا جسے شعروادب کے ہیجے بھی نہیں آتے تھے البتہ مھکن بازی میں یدطولیٰ رکھتا تھا، اس کا یدطولیٹاپ تک پہنچ گیا تھا۔
ہماری ایک غزل سپرہٹ ہوئی، ریڈیو، ٹی وی اور فنکاروں میں بیسٹ سیلر بن گئی تو ایک فلمساز نے اسے اپنی پشتو فلم میں شامل کرلیا۔ کچھ لوگوں کے بہکاوے میں آکر ہم نے اسے عدالتی نوٹس بھجوایا، ایک وکیل کے ذریعے دس ہزار سکہ رائج دے کر۔
اس طرف سے جرگے شروع ہوگئے۔ آخر اس غزل کے گائیک خیال محمدکی درخواست پر راضی ہوگئے، کہا صرف وکیل والے دس ہزار دے دیں۔
لیکن ابھی خیال محمد نے اس کے پاس یہ خوش خبری پہنچائی بھی نہیں تھی کہ اس کے ہارٹ اٹیک میں انتقال پرملال اور وفات حسرت کی خبر آگئی۔
یہ کمند بھی ٹوٹ گئی۔ ٹی وی پر ہمارا ایک مقبول مزاحیہ پروگرام چل رہا تھا، ایک سہ ماہی کے لیے منظور ہوا تھا لیکن لوگوں کی پسندیدگی کی وجہ سے اڑھائی سال تک چلا۔ پروگرام کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ سیکریٹریٹ میں ایک ڈپٹی سیکریٹری سے ملو۔
ہم ڈرتے ڈرتے پہنچے کیونکہ اس پروگرام میں ہم سرکاری محکموں کو بھی نشانہ بناتے تھے لیکن وہاں جاکر پتہ چلا کہ گورنر فضل حق ہمارے پروگرام کے فین اور بلاناغہ دیکھنے والے ہیں اور انھوں نے ہدایت کی ہے کہ ہمارا نام سول ایوارڈ کے لیے بھیجا جائے۔
اسی وقت بائیو ڈیٹا گھسیٹ کر دے دیا اور’’امید‘‘ سے ہوگئے لیکن جب ایوارڈز کا اعلان ہوا توا س میں ہمارا نام نہیں تھا، امید کا مس کیرح ہوگیا، پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارا نام فائنل ہوچکا تھا، پرائڈ آف پرفارمنس کے لیے لیکن آخری وقت یعنی عین لب بام ایک اور نے یہ درانتی چلائی کہ یہ شخص افغانستان آتا جاتا رہتا ہے، مجاہدین کا طوطی بولتا تھا، اس وقت صدر ضیاالحق تھا اور ایوارڈ صدر کے ہاتھوں دلوایا جاتا تھا۔
اب تہیہ کرلیا کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اب نہ امید سے ہوں گے نہ کسی بام کی ہوس پالیں گے، جب ہم زمین کے باسی ہیں تو خوامخوا اچھلنے سے کیا فائدہ؟ کافی عرصہ بعد اچانک ہمارے نام تمغہ امتیاز کا اعلان ہوگیا حالانکہ ہم نے کوئی درخواست، کوئی بائیوڈیٹا نہیں بھیجا تھا۔
یکن پتہ چلایا کہ یہ کام ہمارے دوست راج ولی شاہ خٹک ڈائریکٹر پشتو اکیڈیمی نے کیا تھا جب منہ میں دانت نہیں رہے تھے تو دانے لے کر کیا کرتے لہذا رد کردیا اور ’’صابرین شاکرین‘‘ میں ہوگئے کہ اگلے جہان میں اس جہان کے محروموں کے لیے بہت سارے ایوارڈز کا وعدہ ہے ۔
ویسے رد کرکے اچھا کیا، کیونکہ ہم قسمت کے ایسے ’’دھنی‘‘ ہیں کہ، بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے لیے کوئی خاص ایوارڈ شاید کمال فن یا اس طرح کا کوئی نام تھا فائنل ہوگیا تھا لیکن پھر ایک مجبوراور مفلوج ادیب کو ترجیحی بنیادوں پر دے دیا گیا۔
ایک اور سلسلہ کتابوں کا ہے، جب کوئی ہمارا فین پیش کش کرتا ہے کہ غیرمطبوعہ کتاب ہمیں دو، ہم چھپوادیتے ہیں تو اس بیچارے کو یا تو ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے یا کینسر یا گردے فیل ہوجاتے ہیں یعنی یہ جا وہ جا۔ چنانچہ اس طرف سے بھی صبر کرلیا ہے، خوامخوا اپنے دوستوں کی جاں لینے سے کیا فائدہ۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں، ویسے ہیں۔
Today News
اسپین کا مثبت موقف – ایکسپریس اردو
عالمی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر سفارتی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک وسیع سیاسی پیغام بھی رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یورپی ملک اسپین نے ایسا ہی ایک قدم اٹھایا ہے جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔
اسپین نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو باضابطہ طور پر واپس بلا لیا ہے اور اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خصوصاً غزہ کی صورتحال اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک کا اپنے سفیرکو واپس بلانا سفارتی زبان میں تعلقات کی سنگینی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو صرف ایک معمولی سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسپین کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ دراصل اچانک نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں سے جاری سفارتی کشیدگی موجود تھی۔ گزشتہ برس جب غزہ میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور انسانی بحران مزید سنگین ہوتا گیا تو اسپین کی حکومت نے اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متعدد مواقع پر کہا کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے بیانات نے نہ صرف یورپ میں بلکہ اسرائیل کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسپین یورپ کے ان ممالک میں شامل رہا ہے جو فلسطینی مسئلے کے حوالے سے نسبتاً واضح مؤقف رکھتے ہیں۔
گزشتہ برس اسپین نے باقاعدہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں تھا بلکہ اس نے یورپی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات میں واضح سرد مہری پیدا ہو گئی تھی۔
اسرائیل نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر ذمے دارانہ قرار دیا جب کہ اسپین نے اسے انصاف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق قدم قرار دیا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ نے اس تنازع کو مزید گہرا کردیا۔ جب 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تو اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے بارہا اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسپین کی حکومت بھی ان ممالک میں شامل تھی جنھوں نے کھل کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اس مسئلے کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کئی بار اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن اس کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ۔ حالیہ مہینوں میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور خطے میں جنگ کے امکانات کی باتیں ہونے لگیں تو اسپین نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ کسی بھی نئی جنگ کے حق میں نہیں۔
اسپین کی حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے اور اگر ایک اور بڑی جنگ شروع ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں اسپین نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی اڈوں کو کسی ایسے حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا جو ایران کے خلاف ہو۔
یہ موقف دراصل اسپین کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ اقدام صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ یورپی سیاست کے اندر بھی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یورپ کے اندر اس وقت دو مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ مضبوط اتحاد برقرار رکھنے کے حامی ہیں جب کہ کچھ ممالک اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرکے ایک الگ راستہ اختیار کیا ہے۔
یہ اختلافات یورپین یونین کے اندر بھی نظر آ رہے ہیں۔ یورپی یونین ایک مشترکہ خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش ضرورکرتی ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک مختلف حکمت عملی اختیارکر رہے ہیں۔
اسپین کے سفیرکی واپسی کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات مزید کمزور ہوگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے بھی اس سے پہلے اسپین کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔
اس طرح دونوں ممالک کے درمیان سفارتی نمائندگی پہلے ہی کم سطح پر آ چکی تھی اور اب اسپین کے حالیہ اقدام نے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال میں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس طرح کے سفارتی اقدامات واقعی کسی بڑے سیاسی حل کی طرف لے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات عالمی دباؤ پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ایک کے بعد ایک ممالک کسی پالیسی پر اعتراض اٹھاتے ہیں تو اس سے بین الاقوامی سطح پر بحث شروع ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں پالیسیوں میں تبدیلی بھی آئے۔
دوسری جانب بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ سفیروں کو واپس بلانے جیسے اقدامات سے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن اسپین کی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا مقصد تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام دینا ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے اسپین نے دراصل یہ ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون اس کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔ اگرچہ عالمی سیاست میں اکثر ممالک اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب اخلاقی مؤقف اختیار کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے مہینے عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ غزہ میں جاری بحران اور عالمی طاقتوں کی مختلف حکمت عملی اس خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔
ایسے ماحول میں اسپین جیسے ممالک کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوششیں ایک نئے سیاسی رجحان کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید یورپی ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات پر غورکریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر عالمی موقف میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اسپین کے اس اقدام کے فوری نتائج کیا نکلیں گے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس فیصلے نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے۔
یہ بحث اس بات کے گرد گھوم رہی ہے کہ کیا عالمی برادری انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو واقعی اہمیت دیتی ہے یا پھر یہ اصول صرف بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔
اسپین کے اس فیصلے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ کیا اور یورپی ممالک بھی آنے والے دنوں میں ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اسپین نے ایک بڑا مثبت قدم اٹھایا ہے اور وہ کام کیا ہے جو تاریخ یاد رکھے گی۔
جب ظلم ہورہا ہو تب آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے، اس سے ہی ایک قوم کے کردارکی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport