Today News
فلاحی خیراتی ادارے اور عطیات
رمضان المبارک رحمتوں کا مہینہ ہے، یہ عبادات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ہر مسلمان زکوۃ اور فطرے کی مد میں ایک مخصوص رقم خیرات کرتا ہے۔ ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں یہ فیاضی کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔
ہر سال اربوں،کھربوں روپے اس مد میں دیے جاتے ہیں۔ ترقیات اور معاشیات کے ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ یہ اربوں روپے کی رقم زندگی کے مختلف شعبوں میں فلاحی کام کرنے والے اداروں کو دی جائے تو اس کے معیشت پر مثبت اثرات ہوںگے اور غربت کی سطح کم ہونے لگے گی۔ ملک میں بہت سے ادارے ان عطیات سے زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ ان میں صحت، تعلیم اور ٹیکنیکل تعلیم وغیرہ کے شعبوں میں کام کرنے والے ادارے شامل ہیں۔
صحت کے شعبے میں سب سے بڑا نام ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کا ہے۔ ان کا قائم کردہ ادارہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ S.I.U.T سرکاری شعبے میں کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے سول اسپتال میں گردے کے امراض کے علاج کے لیے 10 بستروں کے وارڈ سے خدمت خلق کا کام شروع کیا۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی ابتدائی تربیت بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن D.S.F سے ہوئی تھی اور اپنے آدرش کے لیے ایک سال تک کراچی سینٹرل جیل کی کھولیوں میں انھوں نے دن رات گزارے۔
نجی شعبہ نے ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے خوابوں کو عملی شکل دینے کے لیے بھرپور مدد کی۔ یہی وجہ ہے کہ سول اسپتال کے تیسری منزل سے شروع ہونے والا وارڈ پہلے ادارہ بنا اور پھر پہلے سول اسپتال کراچی کی اطراف کی کئی عمارتوں تک پھیل گیا۔ سندھ کے مختلف شہروں میں اس کے سیٹلائٹ سینٹر قائم ہوئے جو اب اسپتالوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ اب ایس آئی یو ٹی ٹرسٹ بن گیا ہے اورگزشتہ سال شاہراہ فیصل پر ایک بڑے ہوٹل کو ڈائیلاسز سینٹر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس ملک میں عوام کی بے لوث خدمات کا استعارہ عبدالستار ایدھی ہیں جنھوں نے مفت میں ایمبولینس سروس شروع کی۔
انھوں نے قدرتی آفات، انسانی غلطیوں سے تباہی کے نتیجے میں زخمیوں کی مدد کرنے اور مسخ شدہ لاشوں کو دفن کرنے اور امدادی کاموں میں بغیر کسی امتیازکے ہر فرد کی مدد کرنے کی ایسی مثال قائم کی جس کی دنیا بھر میں مثال دی جاتی ہے۔ عبدالستار ایدھی کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی نئے وژن کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ سال لیاری میں اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولتوں کے ساتھ کئی منزلہ اسپتال تعمیر کیا۔ اس اسپتال میں خواتین کے تمام امراض کے علاوہ دیگر امراض کا بھی مفت علاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان اور ان کے خاندان نے انسانی خدمات کے لیے نئے معیار قائم کیے ہیں۔ ان کے والد تحریک آزادی کے مجاہد تھے۔ انھوں نے پاکستان آنے کے بعد اپنی اہلیہ کو میڈیکل کی تعلیم دلائی۔ ان کے تمام بیٹوں اور بیٹیوں نے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی۔ وہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے منسلک رہے۔ انھوں نے سول اسپتال میں Anesthesia I.C.U قائم کیا۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان اور ان کے بھائی ڈاکٹر شیرشاہ سید پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے متحرک رہنماؤں میں شامل ہیں۔
ان کے دور میں کراچی کے پی ایم اے ہاؤس کو طلبہ، مزدوروں، خواتین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے لیے کھول دیا گیا۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان اور ان کے اہل خانہ نے کراچی کے علاقے ملیر میں ملیر یونیورسٹی قائم کی۔ اس یونیورسٹی میں کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ کوہی گوٹھ میں خواتین اور بچوں کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال قائم کیا۔ اس اسپتال میں کیش کاؤنٹر نہیں ہے۔ کوہی گوٹھ اسپتال میں گائنی میں F.C.P.Sاور M.C.P.S کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ ہوتی ہے۔ یہاں نرسوں کی تربیت کا ایک معیاری ٹریننگ اسکول ہے۔ اندرون سندھ کے علاوہ بنگلہ دیش کی طالبات کو بھی نرسنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔
آنکھوں کے علاج کے معروف سرجن ڈاکٹر پروفیسر محمد صالح میمن کا تعلق سندھ کے ضلع کنڈیارو سے ہے۔ ڈاکٹر صالح میمن کا خاندان ہندوستان کی آزادی کے عظیم مجاہد مولانا عبید اللہ سندھی کا پیروکار ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے ہندوستان کی آزادی کے لیے ریشمی رومال تحریک شروع کی تھی۔ ڈاکٹر صالح میمن اور ان کے بھائی حافظ صدیق میمن نے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ حافظ صدیق میمن سندھ کے حقوق کے لیے ہونے والی ہر تحریک میں شامل رہے۔ ڈاکٹر صالح میمن نے صحت کے شعبے کو ترجیح دی۔ انھوں نے 1962میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ 1968 میں کالج آف سرجری ایڈن برگ سے ایف آر سی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر صالح میمن نے جناح اسپتال کے آنکھوں کے علاج کے وارڈ میں طویل عرصے خدمات انجام دیں۔ ان کے دور میں اس وارڈ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ مشینری نصب کی گئی۔
ڈاکٹر صالح میمن نے 1999 میں الابراہیم آئی اسپتال کی بنیاد رکھی۔ یہ اسپتال سب سے پہلے کراچی کے دیہی علاقہ اولڈ تھانہ ولیج گڈاپ میں قائم کیا گیا۔ کراچی کے دیہی علاقے صحت کے شعبے میں بہت پسماندہ ہیں۔ الابراہیم اسپتال میں بلا قیمت آنکھوں کے تمام امراض کا مفت علاج ہوتا ہے۔ سندھ کے پسماندہ علاقوں و شہروں سکھر، شکارپور،کنڈیارو، ماتلی، حیدرآباد اور گلشن حدید کے علاوہ بلوچستان کے پسماندہ شہروں خاران اور نصیر آباد میں جدید سہولتوں کے ساتھ آنکھوں کے اسپتال قائم ہیں۔ اس کے علاوہ پڑوسی ممالک میں بھی اسی طرح کی سہولتوں کے قیام پر توجہ دی گئی۔ الابراہیم ٹرسٹ اسپتال کا ہدف ہر شخص کو اس کے گھر کے قریب آنکھوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے ۔ الابراہیم اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے 2025ء میں بلوچستان کے شہر خاران میں اسپتال کی عمارت کی تعمیر کی گئی۔ بلوچستان کی حکومت نے اس پروجیکٹ کے لیے مالیاتی مدد کی۔ اسی طرح گلشن حدید کے اسپتال میں توسیع کی گئی اور حیدرآباد میں اسپتال کی تعمیر مکمل ہوئی۔ الابراہیم ٹرسٹ کے ڈائریکٹر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس سال تھرپارکر کے شہر کنری میں اسپتال تعمیر کیا جائے گا۔
خاران کے اسپتال کی عمارت کی تزئین و مرمت کا کام مکمل کیا جائے گا اور کنڈیارو اور ماتلی میں قائم اسپتالوں میں شوگر کے مرض سے متاثرین کے لیے جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ الابراہیم اسپتال کے لیے سونیری بینک ملیر برانچ میں زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ ایم سی بی ملیر سٹی برانچ میں عطیات اور زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ اس مقدس مہینے میںہر شخص کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فیاضی سے اس ملک میں غربت ختم ہوسکتی ہے اور بیماریوں کی شرح کم ہوسکتی ہے مگر یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب زکوۃ، خیرات، فطرہ اور دیگر عطیات دینے والے مخیر حضرات شفاف اور معتبر اداروں کو امداد دیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ہی فیاضی کی رقم سے اس ملک کے معاشی مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
Today News
خرابات فرنگ۔عجائبات فرنگ – ایکسپریس اردو
مصنف نے تو کتاب کا نام ’’خرابات فرنگ‘‘ رکھا ہے لیکن ہم نے اپنی طرف سے تھوڑا سا اضافہ کرکے اسے ’’عجائبات فرنگ‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ ہم نے ان میں خرابات فرنگ دیکھے ہیں اور بے اختیار جی چاہا کہ کاش ہم بھی وہاں موجود ہوتے ، ہم بھی چپ رہتے اور ہم بھی ہنس دیتے یا ڈاکٹر وحیدالرحمن ہوتے، ریٹائرڈ بریگیڈئر ہی سہی۔لیکن ہر مدعی کے واسطے داروسن کہاں۔یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا، یہ تھی ہماری قسمت۔نہ ہے اور نہ ہوسکے گی کہ ہمارا نصیبہ کسی نالائق پرائمری پاس بچے نے کوئلے سے لکھا ہے، پکی پٹوار سیاہی سے نہیں۔یہ درست ہے کہ اس کتاب میں ’’خرابات فرنگ‘‘ بھی بہت ہیں لیکن عجائبات بھی کم نہیں ہیں جن کے لیے ہم ترستے رہے ہیں، ترس رہے ہیں اور ترستے رہیں گے۔کچھ اور مت سوچیے بریگیڈئر صاحب اچھے خاصے پارسا تارسا آدمی ہیں۔اس لیے وہ باتیں اس میں نہیں ہیں جو عام طور پر سفرناموں اور سیاہ ناموں میں ہوتی ہیں۔وہ ایئرہوسٹس بھی اس میں نہیں ہیں جو صرف سفرنامہ لکھنے والوں کے انتظار میں ایئرہوسٹسیں بنی ہوتی ہیں کہ آئے گا، آنے والا۔
سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا
دلہن بنا کے مجھے اپنے گھر لے جانا
یا ہوٹلوں کی وہ ویٹرس جو اپنے اس ’’سیاہ‘‘ کو دیکھ کر یوں ریشہ خطمی ہوجاتی ہیں کہ جیسے زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو دیکھاہو۔اور وہ بہت ساری جو صرف خود سپردگی پہنے ہوئے ہوتی ہیں حالانکہ ’’سیاہ صاحب ‘‘کی وہ تصویر جو کتاب میں چھپی ہوتی ہے اور فوٹوگرافی کی ناکامی کا بولتا ثبوت ہوتی ہے، دیکھ کر ایسا لگتا ہے جسے کسی نے کئی ریچھوں، بندروں اور گوریلوں کو مکس کرکے اور ان کا جوہرنکال کر آدمی کی شکل دی ہو۔اس کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ ’’ویسا‘‘ بہت کچھ ہے کہ جسے پڑھ کر انسان خجل ہوکر خود سے پوچنے لگے کہ ہمارے سدھرنے میں اور کتنے سال یا صدیاں لگیں گی۔یا یوں محسوس کرتا ہے جیسے ہم ابھی تک وحشت کے دور میں جی رہے ہوں۔وہاں کی حکومت، وہاں کا نظام،حقوق و فرائض کا توازن۔وہ اخلاق جن سے ہم یکسر محروم ہیں، پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی ایسے جنگل کے باسی ہیں جس میں درندے ہی درنرے دندناتے پھر رہے ہوں یا کسی جنگ میں نہتے پھنس گئے ہوں۔جہاں کہیں کچھ خرابات کا ذکر آیا بھی ہے تو اس سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہیں یا ہیں، وہ چھپاتے نہیں۔دراصل خرابات فرنگ میں ایک خرابی یہ ہے کہ وہاں’’پردے‘‘ کا رواج نہیں ہے۔اس لیے سب کچھ بے پردہ کرتے ہیں اور ہم چونکہ پردے کے بہت پابند ہیں، اس لیے سب کچھ پردے میں کرتے ہیں، صرف خواتین ہی نہیں مرد بھی پردہ کرتے ہیں، صرف کباڑیوں کے ہاں خالی بوتلوں سے تھوڑا بہت اندازہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ’’پردہ‘‘ کبھی کبھی اتنا سخت ہوجاتا ہیکہ لوگوں کو پوچھنا پڑتا ہے، نیچے کیا ہے یا پیچھے کیا ہے۔ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ پردے کے اتنے سخت تھے کہ لوگ ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کے گھر کے برتن سخت پردے میں رہتے ہیں، مجال ہے کہ اس کے گھر کی ’’پتیلی‘‘ بھی کسی غیر کے سامنے آئے۔یہ صرف پردے کا فرق ہے ورنہ وہ فارسی میں کسی نے کہا ہے کہ
ہر کہ دانا کند نادان
بعد از خرابی بسیار
مطلب جو وہاں ہوتا ہے وہ یہاں بھی ہوتا ہے۔ پردے سے یاد آیا ایک مرتبہ ایک نامانوس شہر گئے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ایک جگہ ہم نے کچھ لوگوں کو گول دائرے میں بیٹھے دیکھا کہ کچھ کررہے ہیں۔لیکن کندھوں تک ایک پردے میں گھس کر۔ تجسس ہوا کہ صرف سر اور چہرہ چھپا کر یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں یا بٹیر وغیرہ لڑا رہے ،جھانکا تو وہ لوگ چنے کھارہے تھے۔ اب اس سے زیادہ پردے کی پابندی کیا ہوگی۔ خرابا فرنگ صرف کتاب ہی نہیں آئینہ بھی ہے بلکہ آئینہ جہاں نماں کہیے کہ اس میں صرف فرنگ کا ذکر نہیں بلکہ ان کے رنگوں کا بھی ذکر ہے۔ یوں ہم اسے ظاہر کا نہیں باطن کا سفرنامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ رحمان بابا نے کہا ہے کہ
نہ دزایہ چرتہ اوزم نہ سفر کڑم
بے سفرہ مے غوسیگی لار د عمر
ترجمہ۔میں نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہوں نہ سفر کرتا ہوں لیکن سفر کیے بغیر بیٹھے بیٹھے عمر کا سفر طے ہورہا ہے۔ سفر طرح طرح کے ہوتے ہیں لٹو بھی سفر کرتا ہے لیکن اپنی جگہ سے ذرا بھی ہلے بغیر۔یا وہ بھی سفر ہوتا ہے جیسے عثمان ہارون کرتے تھے۔
سراپا پر سراپائے خودم از بے خودی قربان
زگرد مرکز خود صورت پرکار می رقصم
ترجمہ۔میرا وجود بے خودی میں خود اپنے وجود پر قربان ہورہا ہے کہ میں پرکار کی طرح اپنے مرکز کے گرد گھومتا ہوں۔ میں قلم فاونڈیشن کے علامہ عبدالستار عاصم کا ممنون ہوں کہ اکثر ایسی خاصے کی چیزیں بھجوادیتے ہیں۔ورنہ ہم تو کنویں کے مینڈک بن کر رہ جاتے، پتہ ہی نہ چلتا کہ دنیا کتنے’’ ڈانگ ‘‘ ہوگئی ہے جیسا کہ رحمان بابا نے کہا ہے ورنہ ہم تو بیٹھے بٹھائے اپنا سفر کررہے ہیں۔اب جناب وحیدالرحمن کی یہ کتاب لے لجیے اس میں انھوں نے ہمیں جتنے جہانوں کی سیر کرائی ہے، اتنی سیر ہم زرکثیر صرف کرکے بھی نہ کرپاتے
ایک گھونٹ میں نے پی
اور سیر دنیا کی
دیکھو میں کرکے آگیا
Today News
دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی
دبئی:
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قونصل خانہ دبئی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔
تاہم دبئی میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
دبئی میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ فضائی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
Today News
پارلیمنٹ کے ان کیمرا اجلاس کے لیے مولانا فضل الرحمن متحرک ہو گئے
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی لیڈران کے ان کیمرہ اجلاس کے معاملے پر سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی سے رابطہ کر کے انہیں اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اس سلسلے میں محمود خان اچکزائی سے تین مرتبہ رابطہ کیا۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بیرسٹر گوہر علی خان سے بھی رابطہ کیا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔
اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) آج ہونے والے ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ سینیٹر مولانا عطاء الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضٰی بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition