Today News
فلسفی سے فیلڈ کمانڈر تک، شہید علی لاریجانی، ایران ایک بڑے دماغ سے محروم ہو گیا
ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری 67 سالہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، اسی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہوئے۔
علی لاریجانی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جا رہا تھا۔
وہ نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے بلکہ جنگی حالات میں سیاسی و عسکری حکمت عملی کے مرکزی کردار بھی بن چکے تھے۔
3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کے اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
شہید علی لاریجانی نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے امانوئل کانٹ جیسے مغربی فلسفی پر تحقیق کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ وزیر ثقافت، سرکاری ٹی وی کے سربراہ اور پھر طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔
2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا جس سے وہ ایک معتدل اور عملی سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔
تاہم حالیہ جنگی حالات نے ان کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات انتہائی سخت ہو گئے تھے، اور وہ کھل کر مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آئے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکی افواج کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق لاریجانی تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سیاسی قیادت، عسکری حکمت عملی اور سفارتی رابطوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔
Today News
امارات کا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کیلیے امریکی کاوشوں میں شامل ہونے پر غور
متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں ہونے والی عالمی اقدام میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک آن لائن تقریب کے دوران دیا جو امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں کسی بین الاقوامی بحری اقدام کا آغاز کیا جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات اس میں شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔
انور قرقاش نے مزید بتایا کہ کسی بھی سطح پر اس وقت متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ جہاں سے عالمی تیل منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔خلیج کے بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک اسی بحری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور یہاں سے گزرنے والے غیرملکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جس پر صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کیخلاف امریکی جنگ میں کام آئیں تاہم کسی ملک نے آمادگی ظاہر نہیں کی۔
Today News
پٹرولیم مصنوعات کا بڑھتا قومی بوجھ
پٹرولیم مصنوعات کی مہنگی قیمتوں کے بوجھ تلے عوام پر وفاقی حکومت نے یہ مہربانی کی اور عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کے مخالف سیاسی حلقے حکومت کی مسلسل مذمت کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے فاضل ذخیرے کی موجودگی کے دعوے کیے تھے اور اس پر پہلے دس روپے پھر 55 روپے لیٹر اضافہ ناجائز طور کیا۔
کیونکہ پرانے نرخوں پر موجود پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اضافے کا جواز پرانے مال پر نہیں بلکہ مہنگے مال کے منگوانے پر بنتا ہے اور حکومت نے لیوی میں بھی 20 روپے اضافہ کر کے خود اپنی آمدنی بڑھائی ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جہاں کھپت پاکستان سے کہیں زیادہ مگر پٹرولیم مصنوعات سستی ہیں۔
ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد ضرورت سے بہت زیادہ اور مہنگی گاڑیاں بھی سرکاری محکموں میں ضرورت سے زیادہ ہیں اور وفاقی اور صوبائی تمام حکومتیں ہر محکمے میں نہ صرف غیر ضروری گاڑیاں فراہم کرتی آئی ہیں بلکہ سیاسی حکومتیں اپنے مفاد کے لیے بیورو کریسی کو مہنگی گاڑیاں خرید کر نواز چکی ہیں جن پر سرکاری پٹرول بے انتہا استعمال ہوتا آ رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے وفاقی محکموں کے پاس جتنی سرکاری گاڑیاں ہیں ، یورپ کے کئی چھوٹے ملک ایسی ہوں گے، جن کے پورے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں نہیں ہوں گی حالانکہ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے ۔
سیلانی ٹرسٹ کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے حکومت وقت کا شکریہ ادا کیا ہے اور متوقع توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والے گھرانوں کے لیے پٹرول کوٹہ نافذ کرنے اورکار سواروں پر دفتری اوقات میں اکیلے سفر پر پابندی کی تجویز دی ہے۔
انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزرا اور ماہرین معاشیات کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تجاویز کا جائزہ لیں اور پاکستان کو مزید مقروض ہونے سے بچائیں۔
انھوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ ان حالات میں بہتر قدم ہے کیونکہ 55 روپے لیٹر حالیہ اضافے نے پہلے ہی غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور مہنگا پٹرول اسی تناسب سے غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے ۔
حکومت اشرافیہ کے لیے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرے خواہ وہ سرکاری افسران ہوں یا تاجر و صنعت کار خاص طور پر زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والوں کے پٹرول کوٹے کو محدود کیا جائے اور سرکاری محکموں میں دستیاب ڈیٹا کی مدد سے ملک میں کوٹہ سسٹم بنایا اور فوری نافذ کیا جائے۔
ملک کے ایک بڑے فلاحی ادارے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ جو عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہا ہے کہ چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے جو مشورہ دیا ہے وہ ایک بہترین اور بروقت مشورہ ہے۔
مگر یقین ہے کہ حکومت اس پر عمل کرے گی اور نہ وزیروں کی فوج اور سرکاری ماہرین معیشت ان تجاویز کی حمایت کریں گے کیونکہ مولانا کی تجویز سے حکومت، وزیر مشیر اور اعلیٰ سرکاری افسران خود متاثر ہوں گے اور یہ سب کبھی نہیں چاہیں گے کہ انھیں ملنے والے سرکاری مفادات متاثر ہوں۔
بلکہ وہ تو یہ چاہیں گے کہ ان کی سرکاری مراعات میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے مزید اضافے کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے جو پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے سرکاری بوجھ کو برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کا ہر فیصلہ مانیں گے۔
حکومت اور اس کے سیاسی و سرکاری حکام جانتے ہیں کہ غریب عوام مہنگائی کا بوجھ مجبوری میں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرکاری احکامات ماننے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ عشروں سے نام نہاد جمہوری حکومتوں کے فیصلے تسلیم کرتے آ رہے ہیں اور یہ وہی سویلین حکومتیں ہیں جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ عوام نے خود منتخب کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے جن پر روزانہ لاکھوں لیٹر پٹرول استعمال ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں پٹرول غیر سرکاری طور پر ضایع کیا جا رہا ہے۔
سرکاری گاڑیاں وزیر و مشیر اور سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، دوست اور بچے تک استعمال کرتے ہیں مگر انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سرکاری پٹرول کی پرچیاں رشوت کے طور پر بھی دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔
حکومتی ذمے دار اور سرکاری افسران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول پر عیاشی اور غیر سرکاری استعمال کرتے ہیں جس کا بوجھ ملک کے عوام قومی بوجھ سمجھ کر برداشت کر رہے ہیں اور حکومتوں نے پٹرولیم مصنوعات کو بجلی و گیس کی طرح اپنی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
وزیر اعظم نے کٹوتیوں کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دو ماہ کے لیے ہے جب کہ سب سے زیادہ ضرورت سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور سرکاری پٹرول بچانے کی ہے جس پر عمل سے ہی عوام پر پڑتا ہوا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
Today News
پرعزم – ایکسپریس اردو
جی خوش ہوگیا ایک خصوصی کا بیان پڑھ کر کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لیے ’’پرعزم‘‘ ہے، اگرچہ ہمارے اپنے لیے اس میں کوئی خوش خبری نہیں ہے کیوں کہ جس طرح تمام عمر ’’غریب‘‘ ہونے کے لیے ترستے رہے ہیں اورغربت کی سعادت کبھی نہ پاسکے۔
اسی طرح صحافی ہونے کے لیے بھی زندگی بھرترستے رہے ہیں لیکن صحافی ہونے کا مقام بلند بھی نہیں پاسکے ہیں، اس لیے دونوں سعادتوں کے لیے دل پر پتھر بلکہ چٹان رکھ چکے ہیں کہ
شفا اپنی قسمت میں تھی ہی نہیں
کہ مقدور بھر تو دوا کرچکے
بات اگر انصاف کی ہوتی اورتحریک کی نہ ہوتی تو میرٹ اورسینارٹی کی بنیاد پردونوں سعادتیں ہمیں مل جاناچاہیے تھیں لیکن کچھ تو کیا؟ کسی کچھ کے کچھ بھی نہ بن پائے، اس لیے صبر کو وظیفہ کرچکے ہیں۔ ویسے اس کے سوا ہم اورکربھی کیا سکتے ہیں ۔
اس عشق کی تلافی مکافات دیکھنا
رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے
دراصل اس میں تھوڑی سی کنفیوژن ہے، ہمارے اورآپ کی سوچ کے درمیان ۔ شاید آپ اسے عام غربت اورصحافت سمجھ رہے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔
ہم سرکاری طورپر رجسٹرڈ اورغربت کی بات کر رہے ہیں ورنہ وہ تو کسی اندھے ،گونگے اورلولے لنگڑے کو پتہ ہے کہ عوام بھی اورساتھ ہی کالانعام بھی ہیں۔
خیر چھوڑئیے! یہ رونا دھونا تو ہمارا روز کاکام ہے، بات ’’پرعزم‘‘ کی کررہے ہیں جو صوبائی حکومت صحافیوں کے بارے میں ہوچکی ہے۔
یہ خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اپنی برادری والوں کا تو کچھ بھلا ہوجائے گا، وہ بھلے ہی ہمیں اپنا نہ سمجھیں، ہم تو ان کو اپنا سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی سہی ۔ کم زوربلکہ نہ ہونے کے برابر سہی اپنی برادری سے تعلق تو ہے یا رہا ہے
گو واں نہیں یہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
تشویش اگر ہے تو وہ اس لفظ ’’پرعزم‘‘ سے ہے، یہ ان الفاظ میں جو بیانوں کے بیانوں کا جزو اعظم ہوتے ہیں جیسے پہلی ترجیح ، جنگی بنیادوں پر، ترجیحی بنیادوں پر ، سنجیدگی کے ساتھ ، میرٹ کی بنیادپر ، بانی کے وژن کے مطابق۔ ایک نیا اضافہ ہے ’’پرعزم‘‘ ۔کیاخوبصورت للچانے والا اورمنہ میں پانی بھر لانے والا لفظ’’پرعزم‘‘ ہے۔
اگرچہ اس کے ساتھ تھوڑا ڈاؤٹ بھی ہے بلکہ اب یہ ڈاؤٹ بڑا بھی ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ہردوسرے سرکاری بیان میں کوئی نہ کوئی تو کسی نہ کسی طرح ’’پرعزم‘‘ ہوتا ہے اوروزیراعلیٰ اور ان کے وزیر تو ’’سینئر پرعزم‘‘ ٹھہرے ۔
سارے وزیر کسی نہ کسی کام کے لیے’’ پرعزم‘‘ اورسارے کے سارے مشیران کرام اورمعاونین عظام بھی ’’پرعزم‘‘ بلکہ بیانان کے تسلسل کو پرعزم اعظم ہوچکے ہیں اورمنتخب نمائندے۔
تو۔۔ ’’پر‘‘کو انگریزی میں فل کہتے ہیں جس میں پر سے زیادہ شدت سے اکثر لوگ اتنے ’’فل اورپر‘‘ہوجاتے ہیں کہ چورن اورسانس کے لیے بھی جگہ نہیں رہتی۔
ایک ’’بزرگ‘‘ کاتاریخی واقعہ ہے کہ اب اس ’’پر اورفل‘‘ ہونے کی وجہ سے وہ ’’گزرگ ‘‘بھی ہوگئے تھے، دراصل ان بزرگ کے اندر میٹر نہیں تھا ، شاید زیادہ بوجھ یارف استعمال سے ڈیڈ ہوچکا تھا چنانچہ جب وہ کسی چہلم یا برسی کی ’’وارادات‘‘ پر جاتے تھے اورایک شاگرد کو خصوصی طورپر ساتھ لے جاتے تھے تاکہ انہیں بروقت سرخ جھنڈی دکھا کر فل اسٹاپ کااشارہ دے دیں ۔
اب ان کی بدقسمتی یاعوام کی خوش قسمتی سے ایک مرتبہ وہ ایک بہت مرغن چرغن واردات پر گئے تو وہاں انتظام یہ تھا کہ خصوصیوں کے لیے الگ اورعوامیوں کے لیے الگ الگ انتظام تھا اوروہ شاگرد یا میٹر اس سے جدا ہوگیا۔
بزرگ دسترخوان پر بیٹھ گئے تو دستر خوان کے لوازمات اورشمولات دیکھ کر سب کچھ بھول گئے اورمیدان کارزار میں اتر گئے ، حملے پر حملے، فتوحات پر فتوحات اورمال غنیمت پر مال غنیمت ، چرتے چلے گئے ، بڑھتے چلے گئے، ٹھونستے چلے گئے۔
وہ شاگرد اپنا کام ختم کرکے استاد کی خبر لینے آئے تو باقی سارے لوگ اٹھ چکے تھے، صرف استاد اکیلے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اس نے بلایا چلایا لیکن استاد نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔
پانی لاکر منہ سے برتن لگایا تو بھی کچھ نہ ہوا ، اس نے جیب سے چورن کی شیشی نکالی جو اسی ہنگامی حالات کے لیے جیب میں رکھتا تھا، چورن کھلانا چاہا، تب اتنے میں کچھ اورلوگ بھی آگئے، جن میں استاد جی کو جاننے والا ایک بزرگوار بھی تھا، اس نے شاگرد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فضول ہے برخوردار، میں اسے جانتا ہوں، چورن تو کیا اس نے سانس کے لیے بھی جگہ نہیں چھوڑی ہوگی، اس لیے ’’پھر‘‘ ہوچکے ہیں۔
یہی ہوتا ہے ہمیشہ زیادہ ’’پر‘‘ ہونے کے کا کہ سانس کی ’’ھ‘‘ بھی ’’پر‘‘ میں داخل ہوکر اسے ’’پھر‘‘ بنا دیتی ہے، اس لیے ہمارا ان ’’پرعزموں‘‘ کو بھی مشورہ ہے کہ ذراسنھبل کے پر عزم ہوجائیے گا کہ’’ پر‘‘ اور ’’پھر‘‘ میں صرف دوچشمی (ھ) کافرق ہے یا ایک آہ کا ۔
کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا
یہ ایک آہ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو
ہمیں ان پرعزم جنابان عالی کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے، جب وہ کہتے ہیں کہ پرعزم تو پرعزم ہی ہوں گے لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ کوئی آخری بار تو نہیں، سلسلہ اب بھی پہلی ترجیحات کا ، ترحیجی بنیادوں کا، جنگی بنیادوں پر تعمیر کا ، اسپرٹ آف میرٹ ، کام اور بانی کے وژن کا بھی پرعزم ہونے کا ہے۔ کیاپتہ آگے کچھ اورنہ نکل آئے ۔
یہاںپر ایک چھوٹی سی تشویش نے دم ہلانا شروع کردی ہے۔ نانی کی آنکھ کو خدا صحیح سلامت رکھے، کچھ تشویشناک چیزیں آرہی ہیں ورنہ پھر ’’وژن‘‘ کاکیابنے گا ، خدا ہر بری نظر سے بچائے بلکہ اچھی نظروں سے بھی۔ بہرحال ہمارا اورتو کچھ نہیں ہے، بس صرف دعا ہے اوروہ ہم دیتے رہیں گے ، بانی کو بھی، وژن کو بھی اورپراعظموں کو بھی ۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business