Connect with us

Today News

فوری معاہدہ کرو ورنہ سب کچھ مٹ جائے گا، ٹرمپ کی ایران کو پھر وارننگ

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے نہایت سخت اور جارحانہ موقف اپناتے ہوئے ایک بار پھر تہران کو دوٹوک پیغام دے دیا ہے کہ فوری معاہدہ نہ کیا گیا تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں تہران اور کرج کو ملانے والے ایک اہم پل کی تباہی دکھائی گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ پل مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اب دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہا۔

اپنے بیان میں انہوں نے ایرانی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی ترقی اور استحکام کا موقع موجود ہے، مگر یہ موقع تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تہران نے فوری طور پر کسی معاہدے کی طرف پیش رفت نہ کی تو وہ اپنے باقی ماندہ وسائل اور طاقت بھی کھو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کا اس نوعیت کی ویڈیو جاری کرنا اور اسے ایران کی مجموعی صورتحال سے جوڑنا غیر معمولی اقدام ہے، جس سے عالمی سفارتی حلقوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

متشدد افغان طالبان سے پاکستان کی کیسے نبھے؟

Published

on


’’افغانستان بطورِ ہمسایہ ملک چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے ۔اِس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں ۔‘‘یہ الفاظ افغان طالبان رجیم کے عبوری وزیر خارجہ،مولوی امیر خان متقی، کے ہیں ۔ اگلے روز یہ الفاظ موصوف نے اُس وقت کہے جب وہ قطری وزیر خارجہ (عبداللہ بن زاید النہیان) سے فون پر بات چیت کررہے تھے ۔

امیر خان متقی کے مذکورہ بیان کے دو روز بعد ( یکم اپریل2026 کو)خبر آئی ہے کہ چین کے شمال مغرب میں واقع (اور پاکستان سے متصل) چین کے مشہور صوبے( سنکیانگ) کے مشہور شہر ’’ارومچی‘‘ میں ، چین کی ثالثی میں، پاک افغان مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی جونیئر لیول کے ہیںکہ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری نے اِس میں شرکت کی ہے۔اِن مذاکرات کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے ، مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے افغان دہشت گردوں کے خلاف جس ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کو جاری کر رکھا ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی تاآنکہ اپنے متعینہ مقاصد و اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں ۔

افغانستان پر مسلّط طالبان رجیم اور اس کے مولوی متقی خان ایسے کئی وزیر پچھلے پانچ برسوں کے دوران ایسے کئی وعدے کئی بار کر چکے ہیں ، مگر ہر بار وعدہ کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ یوں پاکستان اور پاکستانی عوام اُن کے کسی وعدے اور عہد پر اب یقین نہیں کرتے ۔پاکستان افغان طالبان رجیم اور اس کے جملہ کارندوں پر اندھا اعتماد و اعتبار کرکے کئی بار ڈسا جا چکا ہے ۔

افغان طالبان اسقدر بد عہد واقع ہُوئے ہیں کہ دوست اسلامی ممالک ( سعودی عرب ، قطر ، ترکیہ) سے پاکستان میں دہشت گردیاں نہ کرنے بارے کیے گئے وعدوں سے بھی مکر گئے ۔ تنگ آکر پاکستان نے اُن افغان دہشت گردوں کے خلاف (افغانستان میں گھس کر) ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغازکیا ہے جنہیں کابل و قندھار کی افغان طالبان قیادت کی جانب سے ہر قسم کی اشیرواد بھی حاصل تھی ۔

افغان دہشت گرد طالبان اور طالبان کارندوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں اب تک 600 سے زائد افغان دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بسنے والے دہشت گرد افغان طالبان اَب ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے خوف سے تتر بتر ہوکر اور پاکستانی سرحد کے نزدیکی علاقوں سے فرار ہو کر افغانستان کے دُور دراز علاقوں میں جا بسے ہیں ۔ اُن کی چیخیں تا آسمان سنائی دے رہی ہیں۔پاکستان نے عید الفطر سے قبل چار پانچ روز کے لیے افغان دہشت گردوں کے خلاف حملوں میں وقفہ بھی کیا تھا۔ مگر اب یہ وقفہ ختم ہو کر ایک بار پھر بحال ہو چکا ہے ۔طالبان اب صلح کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں اور توبہ تائب بھی ہو رہے ہیں ، مگر اُن پر پاکستانی اتھارٹیز یقین کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں ۔

افغان طالبان کی کہہ مکرنیاں ، بے وفائیاں اور عہد شکنیاں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ آج دُنیا بھر میں کوئی ان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بھارت کی انگلیوں پر ناچنے والے مقتدر طالبان کی خونی دہشت گردیوں کی لپیٹ میں عام افغان شہری بھی آ چکے ہیں۔ جفا جُو اور دغا باز افغان طالبان نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کسی سے نبھا نہیں کیا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ مدتوں قبل خواجہ میر درد نے یہ شعر طالبان ہی کے لیے کہا تھا: نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز/ گلا تب ہو اگر تُو نے کسی سے بھی نبھائی ہو۔

ارُومچی میں تازہ مذاکرات سے قبل خبر آئی تھی کہ ایک جوائنٹ پاک ، افغان امن جرگہ 31مارچ  2026 کو پشاور میں منعقد ہوگا تاکہ دونوں ممالک میں مکالمے ، امن اور استحکام کی فضا ہموار کی جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکریٹری ( ارباب شہزاد خان) اور ’’قومی اصلاحی تحریک‘‘ کے سربراہ (حاجی سہراب علی خان) اِس جرگے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے تھے ۔ مگر یہ جرگہ بھی بے ثمر ہی ثابت ہُوا ۔اِس کی ناکامی میں بھی افغان دہشت گرد طالبان کی دغا بازیوں کا ہاتھ تھا ۔

جس تاریخ کو اِس جرگے نے بیٹھنا تھا، اُسی کے آس پاس مقتدر افغان طالبان نے معروف افغان صوبے ’’خوست‘‘ کے کئی شہروں میں پاکستان کے خلاف مسلح ریلیاں نکالیں۔ اِن ریلیوں میں پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔ افغان طالبان نے زبردستی اپنے میڈیا پر اِن ریلیوں کی ویڈیوز بھی چلائیں تاکہ پاکستان کے خلاف افغان ذہن مسموم کیے جا سکیں۔ ریلیوں میں یہ بھی نعرے لگوائے گئے : ’’ہم پاکستان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں۔‘‘ افغان میڈیا نے مگر اِن ریلیوں کی حقیقت کا یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ ’’افغان طالبان حکومت نے زبردستی اور جبر یہ طور پر افغان نوجوانوں کو پاکستان مخالف اِن ریلیوں میں شریک کیا تھا۔‘‘

دہشت گرد افغان طالبان بارے، حالیہ ایام میں،افغانستان کے لیے متعین رُوسی ایلچی ( ضمیر کابولوف)نے ایک عجب اقرارو اعتراف کیا ہے۔ 28مارچ 2026ء کو ضمیر کابولوف نے رُوسی خبر رساں ادارے (RIA Novosti)سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا: ’’ پاک افغان تعلقات اِس لیے بھی درست نہج پر نہیں آ رہے کیونکہ طالبان کے افغانستان میں کئی دہشتگرد اور شدت پسند گروہ اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔‘‘مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ افغان سر زمین پر بروئے کار متنوع دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان کی سرپرستی اور اعانت بھی حاصل ہے ۔

یہ سرپرستی ہی درحقیقت افغانستان سے پاکستان پر آئے روز حملوں کا سبب بنا کرتی تھی ۔ پاکستان نے مگر جب سے افغان دہشت گردوں کے خلاف’’آپریشن غضب للحق‘‘ کی شکل میں سخت ائر اسٹرائیکس کا آغاز کیا ہے ، افغان دہشت گردوں کی خونی کارروائیوں میں بڑی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے ۔ یوں ثابت ہُوا کہ لاتوں کے بھوت لاتوں ہی سے مانتے ہیں ۔

یکم اپریل 2026کو افغانستان کے لیے رُوسی صدر کے خصوصی ایلچی ، ضمیر کابولوف، نے افغانستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر بھی دی ہے ۔ موصوف نے کہا تھا: ’’رُوس کو چونکہ آجکل زراعت ، کنسٹرکشن ، ٹرانسپورٹ اورسروسز کے شعبوں میں مزدوروں کی سخت ضرورت ہے ، اس لیے رُوس سوچ رہا ہے کہ اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے افغان مزدُوروں کو رُوس لایا جائے۔ یوں افغان طالبان کے عوام کی کچھ مدد بھی ہو جائے گی۔‘‘ مگر اِس اعلان یا تجویز کی رُوسی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ مثال کے طور پر رُوس کی قومی اسمبلی (State Duma)کی کمیٹی برائے ریجنل پالیسی کے معروف رکن Mikhail  Matveyevنے کہا :’’ افغان لیبرکو رُوس میں لانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ افغانیوں کو بطورِ مزدُور رُوس درآمد کیا گیا تو یہ رُوسی سوسائٹی کے لیے سیکیورٹی رسک بن جائیں گے ۔‘‘

مذکورہ بالا الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ مقتدر افغان طالبان کے اقدامات اور حرکتوں نے اپنے عوام کو بھی دُنیا میں بے اعتبار بنا دیا ہے ۔ اگرچہ حالیہ کئی مثالیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ رُوس اور افغانستان میں تعلقات بڑھ رہے ہیں ( مثلاً رُوس میں افغان سفیر، مولوی گل حسن، کی تعیناتی)، مگر ساتھ ہی افغان طالبان نے پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کی وارداتوں کو فروغ دیا ہے ، اِس نے اِنہیں بے حد بدنام بھی کررکھا ہے ۔

پاکستان کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرنا اور بھارت سے پینگیں بڑھانا بھی افغان طالبان کی بے قدری اور بے اعتباری میں اضافے کا سبب بنا ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران افغان طالبان نے افغان بچیوں پر جس طرح تعلیم کے دروازے مقفّل کررکھے ہیں اور افغان خواتین کے لیے ہر قسم کی ملازمتیں بھی ممنوع قرار دے ڈالی ہیں ، یہ متشددانہ فیصلے بھی عالمی سطح پر افغان طالبان کے استرداد کا موجب بن رہے ہیں ۔

پچھلے ماہ کے دوران افغانستان کی سپریم کورٹ کے حکم سے کابل ، فاریاب، بلخ، ننگرہار اور ہرات کے صوبوں میں 46افراد کو کھلے عام38/38کوڑے مارے گئے۔ کوڑے کھانے والوں میں دس ، دس سال کے کمسن لڑکے بھی شامل تھے ۔ افغان طالبان نے خود تسلیم کیا ہے کہ 2025 میں افغانستان میں 6افراد کو سرِ عام پھانسیاں دی گئیں اور ملک بھر میں 1118 افراد کو کوڑے مارے گئے ۔ یوں تشدد پسند مقتدر افغان طالبان کی دُنیا سے نبھے تو کیسے نبھے؟؟





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، بارش کے پانی میں چھپے کرنٹ نے پولیس اہلکار کی جان لے لی

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک 7 میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں جوہر کمپلیکس میں جمع بارش کے پانی میں کرنٹ آنے سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جاں بحق اہلکار کی لاش فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کی گئی جہاں موت کی تصدیق کے بعد لاش کو سردخانے منتقل کر دیا گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکار وسیع اللہ ایک بیٹے کے باپ تھے اور ان کا آبائی تعلق روہڑی سے تھا۔

سسر عبدالوہاب نے بتایا کہ وہ جوہر کمپلیکس میں سسرال آئے ہوئے تھے اور واپسی کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کے اطراف میں بارش کا پانی جمع تھا جس میں کرنٹ ہونے کے باعث وسیع اللہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، کیبل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، پورا کمپاؤنڈ لپیٹ میں، فائر بریگیڈ کی جدوجہد جاری

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں واقع ایک کیبل فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ نے پورے کمپاؤنڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ پر اب تک تقریباً 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے تاہم کمپاؤنڈ کے 60 فیصد حصے میں ابھی بھی شعلے بھڑک رہے ہیں جس کے باعث صورتحال تاحال تشویشناک ہے۔

فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیاں موقع پر موجود ہیں اور آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم اسے جلد مکمل طور پر قابو میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں جبکہ کسی جانی نقصان کی فوری طور پر اطلاع نہیں ملی۔





Source link

Continue Reading

Trending