Connect with us

Today News

 فکرِ انصاری – ایکسپریس اردو

Published

on


  ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے انتقال کی خبر بادی النظر میں ایک اور علمی شخصیت کے رخصت ہونے کی اطلاع معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے عہد کی ایک ایسی فکری تنہائی کا آغاز ہے جس کا ادراک شاید ہمیں ابھی پوری طرح نہیں ہو سکا۔ کچھ لوگ اپنے زمانے میں بولتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموش ہو کر بھی بولتے رہتے ہیں۔اُن کی آواز کی بازگشت کبھی نہیں تھمتی۔ڈاکٹر انصاری اسی قبیل سے تھے۔ ان کی زندگی ایک مسلسل مکالمہ تھی اور ان کی رحلت اس مکالمے کا اختتام نہیں بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ وہ اس عہد زوال میں ”اسلامی مابعد الطبیعیات“ کے اس قلعے کے مکین تھے جس پر پہرا دینا بڑے بڑوں کے بس کی بات نہ تھی۔

ہمارا عہد الفاظ کے سحر اور اصطلاحات کے طلسم میں مبتلا ہے۔ ”آزادی، ترقی، انسانی حقوق، جمہوریت“ یہ سب الفاظ ہمارے شعور کا اس طرح حصہ بن چکے ہیں کہ ہم ان پر سوال اٹھانا بھی فکری گستاخی اور ذہنی پسماندگی سمجھتے ہیں، مگر ڈاکٹر انصاری کی پوری فکری جدوجہد انہی ”مقدس گائے“  نما الفاظ کے جادو کو توڑنے کی ایک نہایت سنجیدہ اور ہمہ گیر کوشش تھی۔ وہ ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ الفاظ کبھی”ویلیو نیوٹرل“ نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے ایک پورا تصورِ کائنات، ایک مخصوص تصورِ انسان اور ایک خاموش مگر طاقتور مابعد الطبیعیاتی نظام کارفرما ہوتا ہے، وہ عمر بھر اس استعماری بیانیے کی ”ڈی کنسٹرکشن“ کرتے رہے جس نے ہمیں اپنی ہی اصل سے بے گانہ کر دیا تھا۔

مغربی فکر میں ”لبرٹی“ یا آزادی کا جو تصور جان لاک اور ژاں ژاک،روسو سے ہوتا ہوا جدید دنیا تک پہنچتا ہے، وہ بہ ظاہر انسان کو ہر قسم کے استبداد اور جبر سے آزاد کرتا ہے، مگر ڈاکٹر انصاری کے نزدیک یہ آزادی دراصل ایک مہیب اور نئے جبر کی بنیاد رکھتی ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ جب انسان کو ”خود مختار“تسلیم کر لیا جاتا ہے تو وہ کسی بالاتر سچائی یا وحی کا پابند نہیں رہتا۔ یوں خیر و شر کی تمیز سماجی معاہدوں کی محتاج ہو کر تحلیل ہو جاتی ہے، اور انسان اپنی جبلتوں اور خواہشات  ہی کو معیارِ حق بنا لیتا ہے۔ یہیں سے آزادی ایک اخلاقی قدر کے بجائے ایک نفسیاتی اشتہا بن جاتی ہے،اور انسان، جو بہ ظاہر خدا کی بندگی سے آزاد ہوا تھا، لاشعوری طور پر اپنی ہی انا اور خواہشات کا اسیر ہو کر ا نھیں خدا بنا بیٹھتاہے۔ ڈاکٹر صاحب اسے ”نفس کی حاکمیت“ قرار دیتے تھے جو جدید لبرل ازم کا اصل چہرہ ہے۔

اسی طرح ”پروگریس“ (ترقی) کا وہ تصور، جسے ایمانوئل کانٹ نے عقلی بنیادیں فراہم کیں اور کارل مارکس نے تاریخی جدلیات کے قالب میں ڈھالا، ہمارے عہد کا ایک ایسا ”سیکولر ایمان“ بن چکا ہے جس پر شک کرنا بھی گویا جہالت کی علامت ہے۔ مگر ڈاکٹر انصاری اس خود ساختہ ایمان کے سب سے بڑے اور بے لچک ناقد تھے۔ وہ مادی ترقی کے ڈھول کا پول کھولتے ہوئے پوچھتے تھے کہ اگر تاریخ واقعی مسلسل بہتری اور ارتقاء کی طرف گامزن ہے تو انسان کا باطن پہلے سے زیادہ مضطرب، شکستہ اور تنہا کیوں ہے؟ اگر معاشی ترقی ایک عالمگیر حقیقت ہے تو انسانی رشتے اتنے نازک اور مفاد پرستانہ کیوں ہو گئے ہیں؟ اور اگر معلومات کے انبار میں اضافہ ہوا ہے تو وہ ”حکمت“ کہاں کھو گئی جو روح کو جلا بخشتی تھی؟ ان کے نزدیک یہ سارا بیانیہ دراصل ایک ایسے ”روبوٹک انسان“ کی تخلیق کرتا ہے جو باہر کی دنیا کو تو تسخیر کر لیتا ہے مگر اپنے وجود کے اندر عبرتناک شکست سے دوچار رہتا ہے۔

”ہیومن رائٹس“ یا حقوقِ انسانی کے بارے میں بھی ان کی رائے اسی قدر بنیادی اور انقلابی تھی۔ وہ اسے ایک آفاقی صداقت ماننے سے اس لیے انکار کرتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک حق کا منبع اگر خود انسان ہے تو پھر کائنات کے اربوں انسان اپنی اپنی ضرورت کے مطابق حق کی تعریف وضع کریں گے، جس کا نتیجہ سوائے فکری انارکی کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر حق کا منبع ”خدا“ نہیں ہے تو پھر وحی کے بغیر کوئی بھی حق مستقل بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔ یوں جدید دنیا کا یہ سب سے ”مقدس“ تصور بھی ایک ایسے خلا میں معلق نظر آتا ہے جہاں ضابطے تو موجود ہیں مگر ان کی کوئی اخلاقی جڑ موجود نہیں۔ یہ ایک ایسی شریعت ہے جس کا کوئی شارع نہیں، ایک ایسا قانون ہے جس کا کوئی ابدی ماخذ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب اسے مغربی سامراج کا وہ ہتھیار سمجھتے تھے جسے وہ دوسری تہذیبوں کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

جمہوریت کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا موقف ان کے اسی مربوط فکری تسلسل کا حصہ تھا، وہ اسے محض ایک سیاسی طریقہ کار نہیں بلکہ ایک خاص ”سیاسی مابعد الطبیعیات“ کا اظہار سمجھتے تھے، جہاں حاکمیت اعلیٰ عوام کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا اکثریت کی خواہش کو ”حق“ کا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر اکثریت ہی حق کا معیار بن جائے تو پھر تاریخ میں ہونے والے ہر منظم ظلم اور ہر اخلاقی انحراف کو بھی جمہوری جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر انصاری کے نزدیک اسلامی سیاست کا جوہر اس سے یکسر مختلف ہے، جہاں حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی ہے اور انسان اس زمین پر اس کا ”خلیفہ“ اور امانت دار ہے، نہ کہ خود مختار قانون ساز۔

سرمایہ دارانہ نظام پر ان کی تنقید ان کی پوری علمی زندگی کا حاصل اور عملی اظہار تھی۔ ان کے نزدیک سرمایہ داری محض ایک معاشی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اور جابرانہ ”طرزِ حیات“ ہے جو انسان کو اللہ کے ”عبد“ کے منصب سے گرا کر ایک ”مصرف کنندہ“ کی سطح پر لے آتا ہے۔ اس نظام میں انسان کی پہچان اس کے تقویٰ، علم یا کردار سے نہیں بلکہ اس کی قوتِ خرید ہوتی ہے۔ یہاں زندگی کا مقصد رضائے الٰہی یا تزکیہ نفس نہیں بلکہ ”زیادہ سے زیادہ حصولِ دولت“ بن جاتا ہے، یوں آزادی کا خوبصورت خواب دراصل ایک ایسی منڈی میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں ہر چیز، ہر جذبہ اور ہر رشتہ قابلِ فروخت ہے،حتیٰ کہ انسان کا ضمیر بھی۔

ڈاکٹر انصاری کی علمی عظمت اس بات میں مضمر نہیں تھی کہ انہوں نے ان تصورات پر محض روایتی تنقید کی، بلکہ کمال یہ تھا کہ انہوں نے یہ جراحی مغرب کی اپنی فکری روایت کے اندر رہتے ہوئے اور انہی کے منطقی اسلوب میں کی۔ وہ مغرب کو رد کرنے سے پہلے اسے اس کی جڑوں تک سمجھتے تھے اور یہی وہ علمی دیانت تھی جو انہیں محض ایک مبلغ نہیں بلکہ ایک ”فیلسوف“ بناتی ہے۔ ان کے ہاں جذباتی نعرہ بازی تھی نہ ہی سطحی انکار، بلکہ ایک ایسی گہری فکری بصیرت تھی جو قاری کو اپنے ہی قائم کردہ یقینات پر شک کرنے اور دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

آج ان کی رحلت کے بعد یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ان کی فکر محض کتابوں کے گرد آلود صفحات میں محفوظ ہو جائے گی یا یہ ایک ”زندہ روایت“ کی صورت اختیار کرے گی؟ اس کا جواب ہمیں ان کے ان شاگردوں اور رفقاء کے کام میں ملتا ہے جنہوں نے اس فکری چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ سید خالد جامعی نے جس جرات اور بے باکی کے ساتھ جدید تہذیب کے فکری تضادات کو بے نقاب کیا، وہ اسی انصاری روایت کا تسلسل ہے۔ علی محمد رضوی کی تحریروں میں وہی گہرائی اور تہذیبی شعور جھلکتا ہے جو استاد کی برسوں کی صحبت کا فیض ہے اور ڈاکٹر عبدالوہاب سوری نے جس علمی وقار اور فلسفیانہ سنجیدگی کے ساتھ اس روایت کو اکیڈمک دائروں اور جامعات میں زندہ رکھا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فکر اب ایک فرد سے نکل کر ایک مضبوط ”دبستان“ بن چکی ہے۔ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری اب ایک تاریخ ہیں، اور تاریخ سے وہی قومیں فیض پاتی ہیں جو اس سے سبق سیکھتی ہیں، محض نوحہ خوانی نہیں کرتیں





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستانی نوجوانوں کا مقدمہ – ایکسپریس اردو

Published

on


یہ ایک پاکستانی نوجوان کی کہانی ہے جو ایک چھوٹے سے علاقے سے تعلیم کے حصول کے لیے بڑے شہر کا رخ کرتا ہے۔اس کے والدین نے مشکل حالات میں اسے اعلی تعلیم کے لیے بڑے شہر بھیجا تھا۔اس نے ایم ایس سی فزکس کیا اور فوری طور پر روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اس نے ایم فل میں داخلہ لے لیا۔اب وہ پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش میں ہے ۔لیکن اس کے بقول نہ صرف اسے پچھلے چند برسوں میں کوئی معمول کا روزگار یا ملازمت مل سکی اور نہ اس کے ساتھ پڑھنے والے دیگر لوگ ملازمت حاصل کرسکے ہیں ۔اسی طرح وہ کہتا ہے کہ ہمارے یہ نوجوان ٹیوشن ، کرائے پر ٹیکسی یا موٹر سائیکل چلا کر اس بڑے شہر میں گزارہ کررہے ہیں ۔یہ کہانی اس نوجوان تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے شہروں سے بڑے خواب لے کرآنے والے ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اب یہ تعداد لڑکوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پڑھی لکھی لڑکیوں کی سطح پر عدم روزگار کا معاملہ کافی سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے ۔بقول شاعر:

تم نے تو محض بس خواب دیکھے ہیں

ہم نے تو ان کے عذاب دیکھے ہیں

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں 15-29 برس یا 15-24برس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اکثریتی نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے۔ اس وقت 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 241.1  میلن تھی جب کہ اب اس آبادی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ سالانہ کی بنیاد پر اس میں اضافہ ہورہا ہے۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق 67فیصدنو جوان ملک میں موجود ہیں جن کی عمریں 30برس سے ہم کم کہہ سکتے ہیں۔جب کہ 26فیصد نوجوان 15-29برس کے ہیں۔  نوجوانوں کی یہ بڑھتی ہوئی یہ آبادی اس وقت ریاست اور حکومت کے نظام کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس میں وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں جو اعلی تعلیم رکھتی ہیں اور ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو کم پڑھے لکھے یا ناخواندہ لڑکے اور لڑکیاں جو شہروں اور دیہی سطح پر رہتے ہیں ۔

ان کے لیے معاشی روزگار پیدا کرنا یا معاشی سطح پر سازگار حالات کا پیدا ہونا، نئے معاشی امکانات کا سامنے آنا، چھوٹی اور بڑی صنعتوں کا فروغ،چھوٹے کاروبار جیسے مواقع کا سامنے آنا ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت 2025ء کے مطابق 15-24 برس کے نوجوانوں میںبے روزگاری کی شرح 9.86 فیصد تک ہے جب کہ کچھ رپورٹس اس شرح کو 12.06 فیصد تک بتاتے ہیں۔ مجموعی بے روزگاری کی شرح 7.01فیصد تک بھی بتائی جاتی ہے اور اس وقت بے روزگار افراد کی تعداد 4.5ملین سے بڑھ کر 5.9ملین تو ہوگئی ہے۔ جب کہ ایک اور رپورٹ کے مطابق تعلیم ، تربیت اور روزگار نہ ہونے کی تعداد 15ملین تک ہے۔

اعلی تعلیم یافتہ افراد جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ان میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے ۔یعنی ہم عورتوں میں بے روزگاری کی شرح23.9فیصد تک دیکھ سکتے ہیں ۔بے روزگاری کی وجہ سے نئی نسل میں مختلف نوعیت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جن میں ملک چھوڑنے میں اضافہ، منشیات کے استعمال میں حد سے زیادہ اضافہ جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ، خود کشی کے رجحان میں اضافہ،سماجی تعلقات کی کمزوری،غیر یقینی صورتحال، مایوسی ،غصہ اور نفرت کا پیدا ہونا ،ذہنی دباؤ جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔یہ تعداد دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری اور بڑے علاقوں میں زیادہ ہے۔ ایک رپورٹس کے مطابق 18-31برس کے17ملین نوجوان منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔سماجی اور معاشی یا سیاسی ناانصافی کی وجہ سے بھی نئی نسل میں حکومت کے نظام پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔

ہم یہ بھول رہے ہیں کہ اگر ہمارے حکومتی نظام نے نئی نسل کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی اور ان کی ترجیحات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنا کر عملدرآمد کا موثر نظام نہ بنایا تو نئی نسل کی بڑی تعداد اس نظام کے خلاف ایک بڑے بم کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔یہ جو نئی نسل میں انتہا پسندی اور پرتشدد رجحانات بڑھ رہے ہیں اس کی وجہ سے بھی یہ سماج ایک مشکل سماج بنتا جارہا ہے۔ہم نئی نسل کے طرز عمل پر سخت تنقید تو کررہے ہیں مگران کو جو سیاسی ،سماجی اور معاشی مسائل درپیش ہیں ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی جس سے نئی نسل کا مقدمہ اور زیادہ کمزور ہونے کا سبب بن رہا ہے۔

آپ حکومت کی پالیسیوں پر نظر ڈالیں یا جو ترقیاتی منصوبے ملک میں بن رہے ہیں اس میں انفراسٹرکچر ترقی پر تو بہت توجہ دی جا رہی ہے ۔مگر اول، تو یہ ترقی بھی غیر منصفانہ ہے اور ترقی کا محور بڑے شہروں تک محدود ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت کے نظام میں انسانی ترقی اور بالخصوص محروم اور کمزور طبقات کے مسائل کے حل میں نہ تو کوئی توجہ دی جا رہی ہے اور نہ نئی نسل کی ترجیحات حکومت کی پالیسیوں سے جھلک رہی ہیں۔چھوٹے اور بڑے شہروں میں سیاسی، سماجی اور معاشی تفریق بڑھ رہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہماری ترقی کا دائرہ کار محدود افراد یا علاقوں تک محدود ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا کم پڑھی لکھی ،یا ناخواندہ یا لڑکے اور لڑکیاں ان کا پرسان حال کون بنے گا اور کون سا نظام ان کی سرپرستی کرے گا۔

حکومت کا نظام جو طاقت ور افراد کی حکمرانی ہی کے گرد گھومتا ہے اس میں سب سے زیادہ سیاسی اور معاشی استحصال اس کمزور لوئیر اورلوئر مڈل کلاس کا ہو رہا ہے اور ان پر زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر ہم ان کی زندگیوں میں پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔18ویں ترمیم کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب صوبائی اور مقامی حکومتوں کا نظام اپنی بہتر گورننس کے نظام کی بنیاد پر نئی نسل کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گا۔لیکن آج اگر ہم دیکھیں تو یہ نئی نسل عملاً 18ویں ترمیم کے ثمرات سے فایدہ نہیں اٹھا سکی ۔اصل بحران یہ ہے کہ ہمارے حکومتی نظام میں جو نئی نسل کے مسائل ہیں ان پر کوئی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔ یہ جو دور دراز علاقوں میں رہنے والی نئی نسل ہے اس کا المیہ اس لیے بھی بڑا ہے کہ ان کے اپنے علاقوں میں نہ تو وسائل ہیں اور نہ معاشی امکانات اور اسی بنیاد پر ان کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔لیکن بڑے شہروں میں بھی روزگار کے نام پر جو ان کا معاشی استحصال ہو رہا ہے اس پر بھی حکومت بے بس یا خاموش نظر آتی ہے۔

اگرچہ حکومت نے کئی ناموں کے ساتھ نئی نسل کی ترقی اور بالخصوص معاشی ترقی کے مختلف نوعیت کے پروگرام شروع کیے ہوئے ہیں اول ان میں سے بیشتر پروگراموں کی نوعیت خیراتی پروگراموں تک محدود ہے ۔ اگر ہم نے واقعی حکومت کی سطح پر نئی نسل کو بنیاد بنا کر شفافیت اور ترقی کے نظام کو لے کر آگے بڑھنا ہے تو سب سے پہلے اپنی موجودہ سیاسی،معاشی اور ترقیاتی حکمت عملی کو ایک بڑی مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ اس کی ایک شکل وسائل اور درست ترجیحات اور صلاحیت کی بنیاد پر نئی نسل کی سطح پر مالی سرمایہ کاری یعنی ان کے بجٹ میں بہت زیادہ اضافہ کرنا ہوگا۔

موجودہ حالات میں ہم جو وسائل وفاقی اور صوبائی سطح پر پرائمری تعلیم یا ہائر ایجوکیشن یا ٹیکنیکل ایجوکیشن پر خرچ کررہے ہیں اس سے اس نئی نسل کی ترقی ممکن نہیں۔اسی طرح جب تک نئے روزگار پیدا نہیں ہونگے تو نئی نسل کا معاشی مقدمہ کیسے ترقی کی طرف آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے مسئلہ کا حل نئی نسل کو گالی دینے یا ان سے نالاں ہونا نہیں بلکہ حکومتی نظام کو اپنی ترجیحات کو نئی نسل کی ترجیحات کیساتھ جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔یہ کام روائتی اور فرسودہ خیالات سے نہیں بلکہ جدید حکمرانی کے نظام اور تصورات کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے اور یہ ہی نئی نسل کے مفاد میں ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہری پور: شادی سے انکار پر فائرنگ سے خاتون قتل، ملزم کی خودکشی کی کوشش

Published

on



ہزارہ موٹر وے پر دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک شادی شدہ مرد نے خاتون کی جانب سے شادی سے انکار پر کار کے اندر فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا، بعد ازاں ملزم نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ کوٹ نجیب اللہ کی حدود میں پیش آیا، جہاں اسلام آباد سے ایبٹ آباد واپسی کے دوران گاڑی میں ملزم نے خاتون کو نشانہ بنایا۔ مقتولہ کی شناخت 25 سالہ انیلہ کے نام سے ہوئی ہے جو ایبٹ آباد کی رہائشی تھیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق مانسہرہ کے رہائشی ملزم شہزاد نے خاتون کے شادی سے انکار پر طیش میں آ کر کار کے اندر فائرنگ کی۔ واقعے کے وقت مقتولہ کی والدہ بھی گاڑی میں موجود تھیں تاہم وہ محفوظ رہیں۔ والدہ کے بیان کے مطابق ملزم نے انیلہ کو قریب سے گولیاں ماریں۔

واقعے کے بعد ملزم شہزاد نے اپنے گلے میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس اسپتال ریفر کر دیا گیا۔

موٹر وے پولیس نے مقتولہ کی لاش کو آر ایچ سی منتقل کر دیا جبکہ تھانہ کوٹ نجیب اللہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

دانشمندی بھی ضروری ہے – ایکسپریس اردو

Published

on


ایک ماہ کی جنگ میں ایران کا سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ایرانی حملوں میں خلیجی ریاستیں بھی اسرائیل سے زیادہ متاثر ہوئیں جب کہ اسرائیل کا بھی جانی سے زیادہ مالی نقصان ہوا جو وہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا جس کا ایران سے کوئی جھگڑا ہی نہیں تھا کا سب سے کم نقصان ہوا جو وہ اپنے وسائل سے پورا کرنے کی بجائے ان خلیجی ممالک کے ذریعے ہی پورا کرے گا جن کی حفاظت کے لیے وہ ان سے اربوں ڈالر وصول کرچکا ہے مگر اس نے جان بوجھ کر ان کی حفاظت نہیں کی اور انھیں ایرانی حملوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ امریکا ایران سے بہت دور واقع ہے جس کا نقصان ایران نے خلیجی ممالک میں ان امریکی اڈوں کو پہنچاکرلیا تو ہے مگر ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے بے شمار شہروں کو تباہ و برباد بھی کرالیا ہے اور ایران کے ہزاروں لوگوں کا جانی نقصان بھی ہوا ہے جو سب سے زیادہ ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ایران ہی سب سے زیادہ نقصان میں رہے گا۔

سپرپاور ہونے کے دعوے دار امریکا نے اسرائیلی شیطان کے کہنے پر ایران پر اس وقت حملے کیے جب کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور ایران کے مثبت روئیے کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی کا اسرائیل کو خوف تھا جس کی وجہ سے اسرائیل کے وزیراعظم نے امریکی صدر کو گمراہ کن رپورٹ کی بنیاد پر امریکا کو ایران پر اچانک حملوں کے لیے آمادہ کیا اور خود بھی ایران پر حملوں میں امریکا کے ساتھ شامل ہوگیا۔ امریکا نے سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا تاکہ ایران میں رجیم تبدیل ہوجائے، مگر اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانیوں نے امریکی صدر کی خواہش کے بالکل برعکس ردعمل دیا جس کی امریکا کو قطعی طور پر توقع نہیں تھی۔

ایران کے عوام نے اپنے اس سب سے بڑے نقصان پر اپنے ملک کی حفاظت کے لیے امریکی و اسرائیلی جارحیت کو اپنی غیرت پر حملہ سمجھا اور حملوں کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر حکومت کی حمایت میں نکل آئے اور ایرانی رجیم تبدیلی کا اپنے دشمنوں کا خواب خاک میں ملادیا اور کہیں رجیم تبدیلی کے حامی باہر نہیں نکلے اور انھوں نے متحد ہوکر اپنے سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں شرکت کرکے دنیا کو اور خاص کر امریکا و اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔امریکا اور اسرائیل نے ایرانی عوام کا رویہ دیکھ کر بھی حقائق کا ادراک نہیں کیا اور ایران کے مزید اہم رہنماؤں کو بھی شہید کردیا جب کہ ایرانی صدر جان بچانے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر نہیں بیٹھے بلکہ باہر آکر اپنے عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئے جنھیں اپنے درمیان دیکھ کر ایرانی عوام کا حوصلہ مزید بڑھا اور عوام اور ایرانی حکومت نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم میں کوئی اختلاف نہیں اور ہم سب ایک، متحد اور اپنے دشمنوں کے خلاف کھڑے ہیں ۔

امریکا کا اس کے اتحادی ممالک اور نیٹو تک نے ساتھ نہیں دیا۔ نہ برطانیہ نے اپنی فوج ایران بھیجی جس پر امریکی صدر سخت برہم ہوکر دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور دنیا اس سے پوچھ رہی ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جنگ کیوں شروع کی اور امریکا کے مقاصد کیا تھے جس کے جواب میں امریکی صدر مختلف اعلان پر مجبور ہوا مگر اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں بلکہ جھوٹے وعدے کررہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ اور اس کی جنگی صلاحیت ختم کردی اور رجیم چینج کے اپنے مقاصد بھی حاصل کر لیے ہیں جب کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد ہوچکے ۔ ایرانی صدر بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں تو رجیم کہاں تبدیل ہوئی ہے۔

ایک ماہ کی جنگ سے ایران پسپا ہوا نہ ہی جنگ بندی مان رہا ہے اور امریکی صدر خود بار بار عارضی جنگ بندی کا اعلان کررہے ہیں مگر ایران اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر مسلسل حملے کررہا ہے۔ امریکا یہ بھی واضح کررہا ہے کہ ہماری سعودیہ اور خلیج کے اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

ایران اپنا دفاع کرنے کے ساتھ اسرائیل کو منہ توڑ جواب بھی دے رہا ہے اور خلیج کے اپنے مسلم پڑوسیوں کو کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے امریکی فوج نکالیں اور وہ امریکی اڈے ختم کریں جہاں سے امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔اس جنگ میں ایران میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری و نجی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں جو ایران کا بڑا مالی نقصان ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک ایرانی حملوں پر سخت برہم ہیں اور اپنا دفاع کررہے ہیں مگر ایران پر جوابی حملے نا کرکے برد باری کا مظاہرہ کررہے ہیں جب کہ امریکا و اسرائیل چاہتا ہے کہ ایرانی حملوں سے متاثرہ ممالک جوابی حملہ کریں تاکہ مسلم ممالک آپس میں جنگ شروع کردیں۔

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں بہت بڑی تباہی پر اب ایران کو دانشمندی دکھانا چاہیے وہ اپنی طاقت تو دکھاچکا مگر موجودہ جنگ کا حل صرف مذاکرات ہیں جس پر اسلام آباد آنے والے وزرائے خارجہ نے بھی زور دیا ہے کہ جنگ کی مزید طوالت دانشمندی نہیں ہے۔ اب ایران مصالحت کے لیے مذاکرات پر راضی ہوجائے کیوں کہ ماضی میں ہندوستان کی ریاست میسور نے بھی جنگ کو ترجیحدی تھی جس سے ٹیپو سلطان کا مشہور اعلان کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے تو زندہ ہے اس کی ریاست میسور تباہ ہوکر ختم ہوچکی جس کا وجود بھی باقی نہیں۔ حالات بدل چکے اب جذبات نہیں دانشمندی سے فیصلوں کا وقت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending