Today News
فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار
اسلام آباد:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کے حوالے سے میڈیا میں جاری کی گئیں تصاویر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو افواج پاکستان کے Combat Dress میں دیکھا گیا جو انتہائی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
عمومی طور پر بیرون ملک دوروں کے دوران سپہ سالار Ceremonial لباس زیب تن کرتے ہیں لیکن اس ملاقات کے دوران سپہ سالار کا Combat Dress میں ہونا پاکستان کی اپنے دیرینہ برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار ہے۔
یہ اس عزم کا اعادہ ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ تعلقات اور دفاعی معاہدے کے تناظر میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گا، پاکستان تیار ہے۔
Today News
ایل این جی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ سے پاکستان زیادہ متاثر نہیں ہوگا، وزیر توانائی
اسلام آباد:
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ایل این جی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ سے پاکستان زیادہ متاثر نہیں ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان میں مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث ایل این جی کی عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات اب پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 74 فیصد بجلی مقامی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک اس شرح کو 96 فیصد سے بھی زیادہ تک پہنچایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر توانائی کے تیزی سے فروغ، جوہری توانائی، پن بجلی اور مقامی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں نے ملک کو توانائی کے معاملے میں زیادہ خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق اس وقت پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد حصہ ایل این جی پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر شام کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے اور گرڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بدترین صورتحال میں کئی ماہ تک ایل این جی کی فراہمی معطل بھی ہو جائے تو پاکستان میں گرمیوں کے دوران شام کے اوقات میں صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو سکتی ہے تاہم اس کا زیادہ اثر صنعت اور زراعت پر نہیں پڑے گا۔
اویس لغاری کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے زیادہ ہو چکی ہے کیونکہ ملک میں کوئلہ، ایل این جی اور جوہری توانائی کے کئی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ چھتوں پر سولر پینلز کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے دن کے اوقات میں گرڈ پر بوجھ کم ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا تقریباً 55 فیصد حصہ صاف توانائی کے ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک اسے 90 فیصد سے زیادہ تک بڑھایا جائے۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق پاکستان میں پن بجلی سالانہ تقریباً 40 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی پیدا کرتی ہے، جبکہ جوہری توانائی سے تقریباً 22 ٹیراواٹ گھنٹے اور مقامی کوئلے سے تقریباً 12 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں گھروں کی چھتوں پر سولر سسٹمز کی مجموعی صلاحیت 20 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث دن کے اوقات میں بجلی کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حکومت مستقبل میں توانائی کے منصوبوں میں مقامی اور صاف ذرائع پر مزید توجہ دے گی تاکہ توانائی کے شعبے میں بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔
Today News
امریکا نے عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی
امریکا نے عارضی طور پر دیگر ممالک کو پابندیوں کے تحت آنے والے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد جنگ کے دوران ’عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینا‘ ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ اجازت 11 اپریل تک برقرار رہے گی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’یہ محدود اور قلیل مدتی اقدام صرف اس تیل پر لاگو ہوتا ہے جو پہلے سے ترسیل کے مراحل میں ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی نمایاں مالی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں اور سٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی اضافہ ایک مختصر اور وقتی خلل ہے، جو طویل مدت میں ہمارے ملک اور معیشت کے لیے بڑے فائدے کا باعث بنے گا۔
Today News
جاپان کا آبنائے ہرمز میں اپنی افواج بھیجنے سے انکار
جاپان نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے اپنی افواج بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی وزیر اعظم سانائی تائیکاچی نے کہا کہ جاپان آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے اپنی افواج نہیں بھیجے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاپان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دے گا۔
جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے کوئی اقدام کیا بھی گیا تو وہ غیر جنگی اور محدود نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus