Connect with us

Today News

قومی فٹبال ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار

Published

on



پاکستان فٹبال ٹیم کے کھلاڑی محب اللہ اور وقار نے میانمار کے خلاف شیڈول اہم میچ سے قبل بھرپور خوداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم پہلے سے کہیں زیادہ بہتر تیاری اور ہم آہنگی کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیم کی تیاری ماضی کے مقابلے میں زیادہ جامع اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور امید ہے کہ ٹیم شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح حاصل کرے گی۔

دوسری جانب محب اللہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ماضی کے مقابلے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ٹیم میں پائی جانے والی اس امید کی بڑی وجہ وہ تربیتی کیمپ ہے جس میں کھیل کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ محب اللہ نے ٹیم کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کھلاڑیوں نے کوچنگ اسٹاف کے وضع کردہ پلان پر مثبت ردعمل دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیاری بہت اچھے انداز میں جاری ہے اور تمام لڑکے بہترین رسپانس دے رہے ہیں جو کیمپ کے اندر ایک پرعزم ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حال ہی میں مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلے گئے میچز نے ٹیم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

 محب اللہ کے مطابق مسلسل تجربے اور کھیل کے میدان میں گزارے گئے وقت نے کھلاڑیوں کے درمیان تال میل اور سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کیمپ کے ساتھ ہم میں بہتری آرہی ہے، ہمیں کھیل کا اچھا تجربہ مل رہا ہےاور ٹیم میانمار کے خلاف اپنے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تبدیلی میں ہیڈ کوچ شہزاد انور سولانو کا کردار مرکزی رہا ہے۔ وقار نے کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم میں پیشہ ورانہ مہارت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا ایک متوازن امتزاج پیدا کیا ہے۔

وقار نے بتایا کہ وہ ہمیں ایک دوستانہ اور پرسکون ماحول دے رہے ہیں اور ہمیں کھیل سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوچ کا مقامی ٹیلنٹ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ ٹیم میں نئی توانائی لے آیا ہے اور مقامی مقابلوں سے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے اس موقع کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے۔

وقار نے تربیتی معیار کو بھی سراہا۔ ان کے بقول مشقوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کے تادیبی نظم و نسق اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ فٹنس کے حوالے سے ٹرینر رایان عباسی کے کردار کو سراہتے ہوئے وقار نے سکواڈ کی موجودہ حالت کو شاندار قرار دیا۔ کئی سینئر اور غیر ملکی (اوورسیز) کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود محب اللہ نے اسکواڈ کی کیمسٹری پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑی پہلے بھی ساتھ کھیل چکے ہیں جس سے ٹیم میں تسلسل برقرار ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے بھی سسٹم کے ساتھ جلد ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ محب اللہ نے شائقین کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ فٹ بال شائقین کے جوش و خروش کا کھیل ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم میدان میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔

وقار نے شام اور افغانستان جیسی مسابقتی ٹیموں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا اور اس امید ظاہر کی کہ اس بار ہماری تیاری مزید بہتر ہے اور ہم یہ میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

تہرن یونیورسٹی پر حملہ، ایران کا خطے میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

Published

on



پاسداران انقلاب نے خطے میں قائم امریکی یونیورسٹیوں سے اساتذہ، طلبہ اور عوام کو دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جامعات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں اسرائیل اور امریکا سے منسلک یونیورسٹیاں ایران کے لیے جائز اہداف بن گئی ہیں۔

ایرانی سرکاری خبرایجنسی نے رپورٹ میں بتایا کہ پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ امریکی اور صہیونی افواج نے تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بمباری کر کے ایک بار پھر ایرانی جامعات کو نشانہ بنایا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس کے نادان حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب سے قابض حکومت کی تمام یونیورسٹیاں اور مغربی ایشیا میں امریکی جامعات ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گی، جب تک کہ تباہ کی گئیں ایرانی جامعات کے بدلے میں دو یونیورسٹیوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ ہم خطے میں موجود امریکی جامعات کے تمام عملے، اساتذہ اور طلبہ، نیز قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے مذکورہ جامعات سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔

مزید بتایا گیا کہ اگر امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس مرحلے میں اس کی علاقائی جامعات جوابی کارروائی کا نشانہ نہ بنیں تو اسے پیر 30 مارچ کو تہران کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک یونیورسٹیوں پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے باضابطہ بیان جاری کرنا ہوگا۔

پاسداران انقلاب نے امریکی حکومت سے کہا کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ اس کے بعد بھی اس کی جامعات کو نشانہ نہ بنایا جائے تو اسے اپنی وحشی اتحادی افواج کو یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز پر حملوں سے روکنا ہوگا بصورت دیگر یہ دھمکی برقرار رہے گی اور اس پر عمل کیا جائے گا۔

امریکا اور اسرائیل نے اصفہان یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا، ترجمان وزارت خارجہ

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی سائنٹفک اور ثقافتی بنیادیں تباہ کرنا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے جان بوجھ اصفہان اور تہران میں جامعات کو نشانہ بنایا ہے، اصفہان یونیورسٹی اور تہران کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی امریکی جارحیت کا تازہ نشانہ بننے والی جامعات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے اصل مقاصد آشکار ہو رہے ہیں جو ایران کی سائنسی اور ثقافتی روایت کو منظم انداز میں نشانہ بنانا ہے، جس کے لیے جامعات، ریسرچ سینٹرز، تاریخی مقامات اور نامور سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور فوری خطرے کا بیانیہ دراصل محض ایک بہانہ تھا اور ایسی گھڑی ہوئی کہانیوں کا مقصد اپنے اصل عزائم کو چھپانا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو

Published

on


لکھنے کا پہلے شوق تھا، پھر گزشتہ تیرہ برس بلکہ پندرہ سال سے قلم کاری عادت سی بن چکی ہے۔ سات دنوں میں دو کالم رقم کرنا معمولی لگتا ہے تاہم کچھ عرصے سے کہانیاں اور افسانے لکھنے کی طرف مائل ہو چکا ہوں۔ لکھنے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ دیوار میں چنے ہوئے کرداروں پر مزید سیاہی انڈیلی جائے۔ اور گھڑسواروں کی تعریف ہو۔ گمان ہے کہ شائد‘ ملک بنایا ہی شاہ سواروں نے تھا۔ مگر شائد اپنے لیے۔ جس کو وہ پاکیزہ اور دودھ کا دھلا کہیں‘ وہ فرشتہ ۔ جس سے ناراض ہوں، وہ شیاطین کی صف میں شامل ۔ تو جناب ‘ہمارے ملک میں تو سارے حکمران فرشتہ صفت ہی چلے آرہے ہیں لیکن اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے  ابلیسی کام بھی کرگزرتے ہیں۔ جب تجوری بھر جاتی ہے‘ تو پھر معصوم اور فرشتہ نظر آنے لگتے ہیں یا کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اب خود بتایئے کہ میرے جیسا انسان جو کسی بھی وقت دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، اس کا اپنی اسٹڈی تک محدود ہونا کتنا سہل ہو گا؟ پینتیس برس کی سرکاری نوکری بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ کسی سیاسی جماعت کا کارندہ نہیں بنا جو حد درجہ آسان سا کام تھا۔ آج اس سے بھی زیادہ سہل تر ، بہر حال چھوڑیئے ، اس قصہ کو۔ پندرہ برس پہلے کا واقعہ ہے۔ ملک کے ایک جید کالم نگار سے بڑی چاہ سے ملنے گیا۔ اردو پر گرفت تو ان کی آج بھی مستند ہے۔ کوئی آدھا گھنٹہ یا شاید پینتالیس منٹ گفتگو رہی۔ گمان تھا کہ کچھ لفظی موتی‘ عطا فرمائیں گے، طالب علم کے علم میں اضافہ ہو گا۔ کمال محبت سے پیش آئے۔ مگر آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر ایک سینئر ’’گھڑ سوار‘‘ کو بذریعہ اسٹاف تلاش کرتے نظر آئے۔ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔

میرے سامنے بالآخر ان صاحب سے بات بھی ہوئی۔ تو مضمون یہی تھا کہ چند اہم باتیں کرنی ہیں۔ باہم بیٹھنا ضروری ہے۔اندازہ تو یہی تھا کہ دانائی کے چند ہیرے‘ میری جھولی میں بھی ڈال دیں گے۔ مگر نوبت ہی نہیں آ سکی۔ معلوم پڑا کہ اپنی تحریروں میں خوبصوت الفاظ استعمال کرنے کے سوا ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی ضرورتیں‘ وہی طرز تفاخر اور وہی دوسرے کو جزوی طور پر مرعوب کرنے کی ادنیٰ سی کوشش۔ یقین فرمائیے کہ جب ان سے مل کر واپس دفتر آیا تو طبیعت بوجھل تھی۔ مگر سوال تو یہ بھی ذہن کے پردہ پر ابھرتا ہے کہ جناب کس کے در پر حکمت کے لیے جایا جائے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یوں بھی سوچتا ہوں کہ کیوں جاؤں؟ بہر حال یہ ایک فکری کشکمش ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ البتہ ایک اصول تو طے کر چکا ہوں۔ جس کی تحریر پسند ہو، اس سے کبھی نہیں ملتا ۔ اگر کوئی ملاقات کی صورت بنتی ہوئی نظر آئے ‘ تو فوراً کنارہ کشی کر لیتا ہوں۔

اس لیے کہ کہیں اس کرم فرما کا بنا ہوا تصوراتی بت اسے ملنے کے بعد پاش پاش نہ ہو جائے۔ لہٰذا ملنا بے سود ہے۔ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر عقل و خرد کے اصل جوہریوں کے سامنے زانوائے ادب طے کرنا‘ باعث افتخار سمجھتا ہوں۔ ان کی کھوج میں لگا رہتا ہوں۔ ویسے وہاں بھی اصل آدمی تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ایک شہری بزرگ کا چرچہ سنا کہ دین کی علمی دولت سے مالا مال ہیں، کاروبار بھی فرماتے ہیں یعنی دین اور دنیا میں توازن قائم رکھا ہوا ہے۔ کوئی دس بارہ برس پہلے کا واقعہ ہے بلکہ حادثہ ہے۔ ان کے گھر پر پہنچا تو بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ لوگ ہی لوگ‘ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے‘ میں بھی انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ ایک نوجوان آیا اس نے دریافت کیا کہ آپ حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں۔

مثبت جواب پر ‘ اس کارندے نے ایک ٹوکن میرے ہاتھ میں دے ڈالا کہ آپ کی باری کوئی دو گھنٹے بعد آئے گی۔ جب ٹوکن نمبر پکارا جائے تو آپ بزرگ کے کمرے میں چلے جایئے گا۔ ہاں، پانچ منٹ سے زیادہ رہنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اگلا ٹوکن والا بھی انتظار کر رہا ہوگا۔ دماغ میں آیا کہ کیا خدا سے نسبت رکھنے والے بندے‘ ٹوکن دے کر ملتے ہیں؟ کیا رب کے دربار میں رسائی ٹوکن کے ذریعے ہو گی؟دین سے نسبت رکھنے والے بزرگ تو کسی بھی تکلف اور تردد سے پرہیز کرتے ہیں۔ طبیعت اس قدر ابتر ہو گئی کہ ٹوکن واپس کر کے گھر چلا آیا۔آج تک اس شخص کے پاس نہیں گیا۔ معلوم پڑا کہ پورے ملک میں وہ ایک برگزیدہ ہستی مانے جاتے ہیں۔ البتہ میرا دل نہیں مانتا کہ خدا کے ولی ‘ بذریعہ ٹوکن دستیاب ہوتے ہیں۔

کاروبار تو خیر کرتا ہی ہوں جوحد درجہ ایمانداری سے سرانجام دیتا ہوں۔ ریٹائرمنٹ سے تھوڑا سا پہلے شروع کیا تھا۔ خیر اب تو کافی کچھ سیکھ چکا ہوں۔ دن میں صرف پانچ گھنٹے اپنے نجی دفتر میں بیٹھتا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔ دن اور رات کا بیشتر حصہ‘ اپنی اسٹڈی میں گزارتا ہوں۔ ایک قدیم سا وائی فائی کا اسپیکر موجود ہے، یوٹیوب کو اس سے منسلک کرنا بڑے بیٹے نے سکھایا تھا۔ کے ایل سہگل‘ بیگم اختر فیض آبادی کو سنتا ہوں اور سردھنتا ہوں۔ کبھی کبھی مہدی حسن کی غزلیں بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ ’’دختر رز‘‘ سے مکمل دوری ہے۔ حواس میں رہ کر موسیقی سننے کا لطف ہی کوئی اور ہے۔ ہاں‘ قوالیاں سن کر مزہ آتا ہے۔ خصوصاً غلام فرید صابری قوال کی۔ یہ دونوں بھائی بھی قوالوں کے سپہ سالار ہیں۔ آواز تو خیر کمال ہے ہی‘ مگر اس کے اندر‘ فارسی کی آمیزش بھی قیامت خیز ہے۔ گھر میں ایک ایسا کمرہ۔ جس میں آپ تنہا بیٹھ سکتے ہیں‘حد درجہ ضروری ہے۔ کیونکہ آپ کا اصل گھر وہی بن جاتا ہے اور اسی میں دل لگتا ہے۔ ذاتی اسٹڈی میں کتابیں ہی کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔

کبھی لگتا ہے ساری پڑھ چکا ہوں۔ مگر اکثر اوقات ایسے معلوم پڑتا ہے کہ یہ نسخے کیا‘ زندگی میں ایک حرف تک نہیں پڑھ پایا۔ ویسے ایک بات عرض کرنا ضروری ہے۔ جب ملک ملک ‘ سیاحت کا شوق غالب تھا تو غیر ممالک سے ڈیکوریشن پیس لایا کرتا تھا۔ اکثر تو ضایع ہو گئے۔ مگر آج بھی اسٹڈی روم میں بہت سے آراستہ ہیں۔ خصوصاً کینیا اور ساؤتھ افریقہ سے لائے گئے، مصنوعی چہر ے اور شتر مرغ کے رنگین انڈے۔ افریقہ میں ایک نایاب آرٹ ہے، وہ شتر مرغ کے انڈے پر تصاویر دنیا کے نقشے اور قدیم جنگلوں کے ماحول کو اس عرق ریزی سے پینٹ کرتے ہیں کہ انڈا‘ ایک علمی سوغات بن جاتا ہے۔

یہ حسن‘ افریقہ میں گلیوں گلیوں بکھرا ہوا ہے۔ اس طرح کا فن ‘ باقی دنیا میں ناپید ہے۔ ہاں‘ ایک سگار بکس بھی ہے جس میں اچھے کیوبن سگار موجود ہیں۔ کبھی کبھی جب سوچ کا ہالہ بہت بڑھ جائے تو سگار کے کش لگانا اچھا لگتا ہے ۔ سگار کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اسے پورا پیے بغیر بجھا سکتے ہیں۔ اور اس لیے‘ہر سگار ایک خاص پیکنگ میں آتا ہے۔ آپ جب اکتا جائیں تو اسے بجھا کر اسی کے خول میں ڈال دیجیے۔ تازہ بھی رہے گا اور دوبارہ استعمال کے قابل بھی۔

 اب ایک تمنا یا خواہش ہے بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لاہور ہی کے کسی مضافاتی علاقے میں تھوڑی سی زمین لے کر وہاں رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے پرندے پالنا چاہتا ہوں‘ جنھیں پنجرے میں نہ رکھنا پڑے۔ پرندے کو قید میں رکھنا‘ خلاف قدرت معلوم پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں سے عشق ہے۔ دل چاہتا ہے کہ نئے حاصل شدہ قطعہ پر ‘ پودے لگاؤں جو پھولوں سے بھرے رہیں۔ درخت ہوں جن پر اجنبی پرندے ‘ بغیر کسی خوف کے گھونسلے بنانے اور بے خطر رہنا شروع کر دیں۔ دنیا کی بہترین موسیقی‘ پرندوں کی چہچاہٹ ہے ۔ خصوصاً صبح اور شام کے وقت تو یہ قدرت کی جانب سے موسیقی کا رنگیں سیلاب ہے جو انسان کو بھگوئے بغیر نہال کر ڈالتا ہے۔

اس جگہ پر ایک کمرہ بھی بنواؤں گا ۔ جہاں ‘ اپنی اسٹڈی سے چند اشیاء منتقل کروں گا۔ پھر شام کو اندھیرے ا ور روشنی کے باہمی ملاپ کے وقت‘ سہگل اور بیگم اختر کی غزلیں سنوں گا۔ یہ میرا خواب ہے۔ جسے بہت جلد ‘ تکمیل کے مرحلہ سے گزاروں گا۔ ویسے اپنے آپ سے کبھی کبھی سوال ضرور کرتا ہوں کہ یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں ہے۔ شاید ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے ‘ معلوم ہی نہ پڑا کہ کب کافی وقت گزر گیا۔ بالوں میں سفیدی چھا گئی۔

پر بالوں کی اس برف نے بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔ انسان دنیا میںاکیلا ہی آتا ہے اور واقعی ‘ تنہا ہی واپس چلاجاتا ہے۔ کہاں پرواز کر ڈالتا ہے‘ کس عالم میں ایستادہ ہوتا ہے۔ یہ راز آج تک کوئی بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا۔ ویسے اس سنجیدہ سوال کا کوئی بھی جواب تلاش نہیں کرنا چاہے۔ کیونکہ اپنی اپنی دانست میں جو بھی انسان‘ جو کچھ بھی سمجھتا ہے‘ وہ اس کے لیے درست ہے اور جو نکتہ اس کے لیے محترم ہے ‘ اس پر ہم کیوں بحث کریں؟ویسے مجھے تو اب کچھ بھی غلط معلوم نہیں دکھتا۔ دنیا‘ کائنات ‘سماج‘ انسانوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ بھی معلوم کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ہو سکتا ہے سب دکھاوا ہو۔خواب ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ سب کچھ ہی سچ ہو؟





Source link

Continue Reading

Today News

تکبر کا نتیجہ خواری – ایکسپریس اردو

Published

on


تکبر کا شکار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یو ٹرن لینے اور گیڈر بھبکیوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا اور خود جنگ شروع کرکے یا کرا کر پھر خود ہی جنگ بند کرانے کا از خود ریکارڈ بناکر عالمی شہریت کا حامل نوبل پرائز کا خواب دیکھنے والے سپرپاور کے دعویدار ملک امریکا کے صدر کا پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ چاہتے کیا ہیں اور کرنا کیا ہے؟ شاید انھیں خود بھی نہیں پتا مگر ان کے تبدیل ہونے والے فیصلے دنیا کو حیران ضرور کردیتے ہیں شاید وہ شر میں خیر کی توقع کی بجائے خیر میں سے شر نکال لیتے ہیں۔

انھوں نے شر کی بجائے خیر کے لیے ایران سے مذاکرات شروع کرائے مگر جب انھیں لگا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوجائیں انھوں نے خیر کا انتظار کیے بغیر ایران پر حملہ کرکے شر انگیزی کی اور کئی دن جنگ جاری رکھ کر ایران کو 48گھنٹے کا نوٹس دیا اور نوٹس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی خود اپنی شروع کردہ جنگ میں پانچ دنوں کا وقفہ کرلیا۔

دنیا اور امریکی خود حیران ہیں کہ جنگ کی بجائے مفاہمت کے لیے ایران سے مذاکرات کرانے والے امریکی صدر کو ہوا کیا تھا کہ اپنے تکبر پر ناز کرتے ہوئے انھوں نے مذاکرات چھوڑ کر ایران پر حملہ کرادیا اور تکبر کا شکار گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم کے سازشی ذہن کو پڑھے اور دیکھے بغیر اسرائیل کے کہنے پر دونوں نے ایران پر یہ سوچ کر حملہ کیا کہ چار عشروں سے عالمی پابندیوں کا شکار کمزور ملک ایران گھنٹوں میں ہتھیار ڈال دے گا اور پھر اسرائیل محفوظ اور امریکا وینزویلا کی طرح ایران کے آئل کا بھی مالک بن کر آئل کی بھی سپر پاور بن کر اپنی مرضی سے دنیا بھر میں آئل فروخت کرنے کا ٹھیکیدار بن جائے گا۔امریکی صدر کے تکبر نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ امریکا دنیا میں جو چاہے کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ چاہے تو رات کی تاریکی میں وینزویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کراکر امریکا لاکر قید کرا دے یا دنیا پر مرضی سے ٹیرف مسلط کردے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اسرائیلی وزیراعظم بھی امریکی صدر کی طرح تکبر اور رعونیت میں مبتلا ہوکر خواب دیکھ رہا تھا کہ وہ اور امریکا دونوں مل کر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے اور ایرانی عوام بھی وینزویلا کے عوام کی طرح اپنے صدر کے اغوا پر خاموش رہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس لیے اسرائیل اور امریکا نے پہلے مرحلے میں ایران کے مذہبی پیشوا اور سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جو دھمکیوں کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر بیٹھے اور نہ انھوں نے کسی محفوظ بنکر میں پناہ لی بلکہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات پر غیر محفوظ جگہ پر شہادت کے منتظر رہے اور اپنی خواہش کے مطابق شہادت سے ہمکنار ہوئے جس کا ایرانی عوام پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے باہمی اختلاف بھلاکر متحد ہوگئے اور بمباری کے خوف سے چھپنے کی بجائے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور اپنے سپریم لیڈر سے محبت و عقیدت کے لیے ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

امریکا کی توقع کے برعکس اپنے دیگر رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی ایرانی متحد، پرعزم اور دلیر ثابت ہوئے اور ان کے ملک نے تقریباً ایک ماہ کی جنگ میں ہتھیار ڈالے نہ امریکی خواہش پوری ہونے دی بلکہ اسرائیلی حملوں کا وہ جواب دیا کہ جس کی دنیا کو توقع نہیں تھی۔ ایران نے 48گھنٹوں کی دھمکی دی نہ پانچ روز کے لیے جنگ روکی مگر اسرائیل اور امریکی اہداف پر اپنے حملے جاری رکھ کر دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا۔

اسرائیل فلسطین اور لبنان کو تباہ کرنے کے بعد ایران کو چند گھنٹوں کی مار سمجھ رہا تھا اور تکبر کے مارے اسرائیلی شیطان نے ایران کے ساتھ لبنان پر حملہ کرکے لبنان کے بعض علاقے مکمل تباہ کردیے اور پہلی بار ایران کی بمباری سے اپنے بعض شہر اور دس ہزار املاک بھی تباہ کرا بیٹھا کیونکہ اس سے قبل اسرائیل کو کہیں سے اپنے حملوں کا خوفناک جواب نہیں ملا تھا۔ امریکا واقعی سپر پاور ہے اور اسرائیل امریکا کا بغل بچہ ہے جو امریکا کی گود میں بیٹھ کر خود کو بھی سپرپاور سمجھ بیٹھا تھا جو اب اتنا مجبور ہوگیا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے گھروں میں چھپ کر محفوظ ہونے کا کہہ رہا ہے۔

امریکا ایران سے بہت دور اور محفوظ تو ہے مگر اس نے خلیجی ممالک میں لیے گئے اپنے اڈوں پر ایرانی حملوں میں قابل ذکر جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے اور اس کا تکبر بھی خاک میں ملا اور اسے اپنی شروع کی گئی جنگ خود روکنا پڑی جب کہ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ روکنے کے لیے ایران کو یہ کہنا پڑا کہ جنگ ایران کی مرضی سے ختم ہوگی، امریکا کی مرضی جنگ نہیں رکوا سکتی۔

امریکا اور اسرائیل کو اپنی جنگی طاقت اور صلاحیتوں پر بڑا ناز اور اس کے حکمرانوں کو تکبر تھا مگر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ کے بقول اب ایران سے جنگ میں امریکا اور اسرائیل فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ یہ اگر حقیقت ہے تو امریکا اور اسرائیلی حکمرانوں کے بے پناہ تکبر نے امریکا و اسرائیل کو یہ دن دکھا دیے ہیں جس میں امریکا تو تباہی سے محفوظ رہا مگر اسرائیل خود تباہ ہوا مگر امریکا نے خلیجی ممالک کو بھی مکمل تباہ کرانے کی سازش کی جو دونوں کی خواہش تھی۔





Source link

Continue Reading

Trending