Today News
قومی کھیل کو تباہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، فیڈریشن سے متعلق اہم انکشافات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ کی رکن سیدہ شہلا رضا اور ہاکی کے مایہ ناز اولمپئینز نے قومی کھیل ہاکی کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قومی کھیل کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر کے خلاف شفاف انداز میں تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور قومی خزانے کی لوٹ مار کرنے والے ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
مقررین نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفادات کو اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا بھرپور احتساب کیا جائے،سچے اور حقیقی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر قومی ہاکی فیڈریشن کے فوری انتخابات کرائے جائیں، راست اقدامات کی صورت میں پاکستان عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔
پریس کانفرنس میں شہلا رضا، اولمپینز سمیع اللہ خان، کلیم اللہ خان، حنیف خان، ناصر علی، ایاز محمود، وسیم فیروز، افتخار سید ،پی ایچ ایف کے سابق سیکریٹری حیدر حسین اور دیگر شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، کھلاڑیوں کے ناموں پر ویزے حاصل کرنے والوں کی سرکوبی کی جائے، مردوں کی ہاکی ٹیموں میں خواتین کو ساتھ لے جانے والے افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کا خزانہ لوٹنے والوں کابلا امتیاز احتساب ضروری ہے،ایسے عناصر کو سیاسی دباؤ کی بنیاد پر استثنیٰ ملنا قوم کے ساتھ مذاق ہوگا۔
شہلا رضا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی کھیل ہاکی کے معاملات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے نااہل عہدے داران پاکستان ہاکی فیڈریشن کو برطرف کیا اور پاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا میں ہونے والی شدید بد انتظامی اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کی جانے والی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے والے پی ایچ ایف کے نام نہاد عہدے داران کو گھروں کو بھیج دیا۔
انہوں نے کہا کہ پرو لیگ کے لیے خطیر رقم دینے کے باوجود پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے بدترین انتظامات کرنے پر برطرف فیڈریشن ذمہ دار ہے، فیڈریشن سے مفادات کے لیے چمٹے عناصر نے ہمیشہ فنڈز کی کمی کا رونا رویا اور اسی اڑ میں فائدے اٹھاتے رہے لیکن اس مرتبہ بیچ چوراہے میں یہ ہنڈیا پھوٹ گئی، اس تباہی کی ذمہ دار طارق بگٹی اور رانا مجاہد ہیں۔
شہلا رضا نے کہا کہ طارق مسوری نے صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انتظامی بے ضابطگیوں کے ریکارڈ توڑ دیے،بدقسمتی سے پاکستان میں کھیلوں کی تنظیموں کی مافیاز کو سیاسی اشرباد حاصل رہی ہے، ساوتھ ایشین گیمز میں حق رائے دہی استعمال کرنے والے حیدر حسین کی جگہ بدعنوانی میں ملوث رانا مجاہد کو سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف تسلیم کرلیا گیا۔
’’ طارق مسوری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ملنے والے ٹاسک کے مطابق فیڈریشن کے انتخابات نہ کرائے، خود اقتدار سے چمٹے رہے اور مالی ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کی بجائے ملوث عناصر کے ساتھ مل کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا‘‘۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی طرح پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کردار بھی مشکوک نظر آتا ہے، مبینہ طور پر ایف ائی ایچ کے صدر طیب اکرام بھی ان سازشوں کا حصہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) یاسر پیرزادہ نے وزیراعظم پاکستان کے احکامات کو نظر انداز کیا، شہباز سینیئر سندھ بینک سکینڈل میں پی ایچ ایف کے خفیہ اکاؤنٹ کو چلاتے رہے۔
’’حالیہ دورہ آسٹریلیا میں ان کو بطور سپیشل آبزرور بنا کر بھیجا گیا،حکومت پاکستان کھیلوں کے لیے کے لیے زہر قاتل عناصر کے خلاف تحقیقات کرائے جامع تحقیقات کرائے اور ذمہ داران کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ قومی کھیل کو مافیا سے پاک کر کے میرٹ، شفافیت اور احتساب کی بنیاد پر آگے بڑھایا جاسکے‘‘۔
اُن کا مزید کہان تھا کہ اب وقت اگیا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کو سدھارا جائے ورنہ پاکستان میں ہاکی کا نام وہ نشان تک نہیں رہے گا۔
Source link
Today News
اپنا گریباں چاک – ایکسپریس اردو
ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت کمال تحریر ہے۔ کتاب کی پیشانی پرا ن کی جاذب نظر تصویر موجود ہے۔ جس سے محترم جاوید اقبال کی دانائی ‘ روشنی میں چھن کر سامنے آ رہی ہے۔ ’’اپنا گریباں چاک‘‘ صرف ایک نسخہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا فسانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شرف کئی مرتبہ رہا۔ وہ سال میں ایک یا دو برس ‘ ایڈمنسٹریو اسٹاف کالج ‘ لیکچر دینے آتے تھے۔
ان کے الفاظ میں بھی دلیل اور تاریخ کی رم جھم بھرپور طور پر محسوس ہوتی تھی۔ علامہ اقبال کا فرزند ہونا تو خیرایک محترم بات ہے ۔ مگر اس کے علاوہ‘ جاوید اقبال بذات خود علم کا ایک بھر پور خزانہ تھے۔ قانون‘ تاریخ‘ فلسفہ اور سماجی رویوں سے لبالب فیض یاب انسان ۔ طالب علم کا منصب تو نہیں ہے کہ فرزند اقبال کی تحریر پر کچھ لکھ سکے۔ مگر چنداقتباسات پیش کرنے سے پہلے یہ ضرور عرض کروں گا کہ اس کتاب کو پڑھنے سے آپ کے ذہن کی متعدد گرہیں کھل جائیں گی۔ بہت سی فکری پگڈنڈیاں‘ سیدھے رستہ میں تبدیل ہو جائیں گی۔
دوسرا خط: میںنے تقریباً سات برس کی عمر میں اپنے والد کو پہلا خط لکھا تھا جب انھیں انگلستان سے گراموفون باجا لانے کی فرمائش کی تھی۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد انھیں دوسرا خط تحریر کر رہا ہوں۔ اس مرتبہ وہ اگلے جہان میں ہیں اور مجھے اپنے قومی تشخص اور ’’اسلامی‘‘ریاست کے بارے میں ان سے رہبری لینا مقصود ہے۔
والد مکرم۔ السلام علیکم!
نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے میں آپ کی اجازت کے ساتھ چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی تھی اس میں مولانا مدنی کا موقف تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں‘ لہٰذا برصغیر کے مسلمانوں کی قومیت تو ہندی ہے البتہ ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’قوم‘‘ اور ’’ملت‘‘ کے ایک ہی معانی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلک اشتراک ایمان سے بنی ہے۔ اس اعتبار سے اسلام ہی مسلمانوں کی ’’قومیت ‘‘ ہے اور ’’وطنیت‘‘ بھی۔
خودکلامی: میں نماز کے بعد دعا رسماً مانگتا ہوں۔ آئین قدرت سے ہٹ کر دعا کی قبولیت کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ میرے مرنے کے بعد دنیا یونہی قائم رہے گی‘ میں قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔ کائنات میں قیامتیں آتی رہتی ہیں۔ ہر لحظہ کوئی نہ کوئی کہکشاں مٹ جاتی ہے‘ ستاروں کے جھرمٹ فنا ہو جاتے ہیں‘ سورج بجھ جاتے ہیں یا نظام ہائے شمسی معدوم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کن فیکون کا عمل بھی جاری ہے۔
قید مقام سے گزر: آخری بات جس پر میںنے زور دیا وہ ’’خالص اور ناخالص طرز حیات‘‘ کا مسئلہ تھا۔ یعنی زندگی بسر کرنے کا کونسا طریقہ ’’خالص‘‘ ہے‘ جسے اپنا لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور جو حقیقی معنوں میں آپ کی خوشی و اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔ خدا نے روح انسان میں پھونک رکھی ہے۔ اس لیے ہر انسان کے اندر اتنی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں کہ اگر وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی پا لے تو اس کی دنیا بدل سکتی ہے۔ لہٰذا ’’انسان خالص‘‘ وہی ہے جو اپنے جوہر کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ وہ صفات جنھیں اپنا لینے سے امکان ہے کہ ہم اپنے آپ کو ڈھونڈ سکیں‘ دراصل عشق‘ آزادی ‘ جرأت‘ بلندی مقاصد کی تحصیل کے لیے جستجو اور فقر ہیں۔
انہی صفات کی بدولت انسان کی اپنی ذات کی گرہ کھلتی ہے اور وہ تخلیقی‘ اختراعی اور ایجادی کار ہائے نمایاں انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر ’’شر‘‘ کی جو قوت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ’’جمود‘‘ ہے۔ جمود ہی کے سبب نام نہاد خوبیاں مثلاً خاکساری ‘ عجز و انکساری‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ خوف‘ بزدلی‘ بدعنوانی‘ بھکاری کی طرح سوال کرنا اور نقالی پیدا ہوتی ہیں جو بالآخر انسان کی مستقل غلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کا فرمان ہے: تمہارا سب سے اچھا دوست تمہارا دشمن ہے جو تمہیں ہمیشہ چوکس اور بیداری کی کیفیت میں رکھتا ہے کیونکہ اگر تمہاری زندگی سے مقابلے یا دوسرے سے سبقت لے جانے کا عنصر نکال دیا جائے تو انجام بے حسی یا موت ہے۔ اس نقطہ نگاہ کے مطابق ظاہر ہے زندگی گزارنے کا ’’خالص‘‘ طریقہ یہی ہے کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح خاک پر رینگتے رہنے کے بجائے انسان اپنے وجود کے سرچشمے سے کچھ بلند کر کے دکھائے۔
اے روح اقبال! جس طرح آپ اپنے آپ کو قائداعظم کا سپاہی سمجھتے تھے اسی طرح قائداعظم نے آپ کو اپنا ’’ دوست‘‘ اور ’’رہبر‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان سے متعلق جس طرح قائداعظم کے بارہ بنیادی اصول میں نے ان کی تقاریر اور بیانات سے اخذ کیے ہیں اسی طرح آپ کو برصغیر میں اسلامی ریاست کے قیام کا خیال جس وجہ سے آیا‘ یا آپ کے دل میں اس خیال کی پرورش جیسے ہوئی‘ آپ کی تحریروں کی روشنی میں اس کی تفصیل بیان کی جا سکتی ہے۔
اس بات پر تو غالباً سب متفق ہیں کہ نظریہ پاکستان کا مطلب برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک ایسی وفاقی ریاست وجود میں لانا تھا جو جمہوری‘ اسلامی اور فلاحی ہونے کے ساتھ ’’جدید‘‘ بھی ہو۔ مگر اے روح اقبال! برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی زندگی میں ’’قدیم‘‘ انداز فکر کب ختم ہوتا ہے اور ’’جدید‘‘ کب شروع ہوتا ہے؟ کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہماری اجتماعی سوچ میں جدیدیت کی ابتداء دراصل سر سید احمد خان کے افکار سے ہوتی ہے‘ اگرچہ شاہ ولی اللہ کے بعض نظریات اس ضرورت کی جانب اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں؟ سرسید کے علاوہ کیا حالی ‘ شبلی‘ آپ اور قائداعظم کے نظریات کو اسی طرح جدیدیین میں شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے سید جمال الدین افغانی اور ان کے ترکی‘ مصری یا ایرانی ہمعصر مفکرین کو کیا جاتا ہے؟
نظریہ سے انحراف:قائداعظم کے نزدیک پارلیمانی وفاقی جمہوری طرز حکومت کا قیام‘ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ‘ شہریوں میں عدم امتیاز کی بنیاد پر مساوات‘ معاشی انصاف کی فراہمی اور قانون کی حاکمیت اسلام ہی کے اصول تھے مگر ان کی آنکھیںبند ہونے کے ساتھ ان نظریات سے انحراف کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ 1949میں ’’قرار داد مقاصد‘‘ کے ذریعے ان اصولوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان کا دستور بنانے میں کئی برس لگ گئے۔ خدا خدا کر کے جب دستور بنا بھی تو تھوڑے عرصے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا۔
سیاستدانوں پر بیورو کریسی غالب آئی اور بیورو کریسی پر دوسری بالا دست قوتیں‘ ملک میں مارشل لا ء لگا دیا گیا۔ پھر مارشل لاؤں کے دور شروع ہوئے جن کا تسلسل بھٹو کی جمہوری حکومت سے ٹوٹا‘ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان دو لخت ہوگیا۔ اس کا ذمے دار کون تھا؟ بھٹو یا مجیب الرحمن یا جنرل یحییٰ خان یا اندرا گاندھی؟ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے دار دراصل ہم میں راوداری کی عدم موجودگی تھی۔ ہم ’’جمہوریت جمہوریت‘‘ کے نعرے تو بلند کرتے رہے لیکن جمہوری کلچر پیدا نہ کر سکے۔
نتیجہ یہ کہ جس جمہوریت کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا تھا‘ اسی جمہوریت نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ بھٹو جاتے جاتے ہمیں اسلام کے نام پر چند مزید ایسے تحفے ’’عطا‘‘ کر گئے جن سے قائداعظم کی ’’جدید لبرل اسلامی فلاحی جمہوریت‘‘ کے تصور کو نقصان پہنچا۔ رجعت پسند مذہبی عناصر‘ جن کے ’’جن‘‘ کو قائداعظم کی بلند قامت شخصیت نے بوتل میں بند کر رکھا تھا‘ رہائی اور زبان مل گئی اور بچے کچھے پاکستان میں علاقہ پرستی‘ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تعصبات نے فروغ پانا شروع کر دیا۔ بات یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنی نام نہاد نظریاتی اسلام کی اصطلاحیں مثلاً ’’جدید‘‘ ’’لبرل‘‘ ’’اسلامی‘‘ ’’فلاحی‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کی صحیح طور پر تشریح نہیں کر پائے۔ ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم ’’جویو‘‘ ہیں گر درحقیقت ہم عاشق ’’قویم‘‘ ہی کے ہیں۔
اسی طرح بظاہر ہم ’’لبرل‘‘ بھی بنتے ہیں‘ لیکن اندر سے ہمارے دل قدامت پسندی ‘ تقلید اور فرقہ وارانہ تعصب کی دلدل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا محال ہے۔ دراصل ہم نہ تو جدید ہیں‘ نہ لبرل‘ نہ جمہوریت نواز‘ نہ فلاح پسند‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہم صحیح معنوں میں اسلام کے پیروکار بھی نہیں۔ شاید اسی سبب پاکستانی اسلام ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کا باعث نہیں بن سکا۔ ہم ’’ملت مسلمین‘‘ کہلانے کے مستحق نہیں۔ ہم تو محض فرقوں‘ قومیتوں اور قبیلوں پر مشتمل’’ہجوم مسلمین ‘‘ ہیں۔
اس سے آگے کچھ بھی لکھنا میرے بس کی بات نہیں!
Today News
t20 wolrdcup2026 pak india match history create
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 15 فروری کو کولمبو کے آر پریما داسا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے کے بعد جہاں سب سے زیادہ انتظار کیا جا رہا تھا، جس نے حسب توقع کئی ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سرکاری ڈیجیٹل اور براڈکاسٹ پارٹنر جیو اسٹار نے اعلان کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے میچ نے ان کے پلیٹ فارم پر ریچ اور ناظرین کی تعداد کے حوالے سے تاریخ رقم کردی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس میچ نے ریکارڈ 163 ملین کی غیرمعمولی ڈیجیٹل ریچ حاصل کی، جو ٹی20 طرز کرکٹ میں کسی بھی آئی سی سی ایونٹ کے کسی میچ میں سب سے زیادہ ریچ ہے جس نے بارباڈوس میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ 2024 کے فائنل کی ویورشپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی 61 رنز کی فتح نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹی20 ورلڈ کپ 2024 کےپاک-بھارت میچ کے مقابلے میں ریچ میں بھی 56 فیصد اضافہ یقینی بنایا۔
اسی طرح موبائل پر اس میچ نے کسی بھی آئی سی سی ٹی20 ایونٹ کے لیگ مرحلے میں سب سے زیادہ ریچ حاصل کی، جو ٹی20 ورلڈ کپ 2024 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے آخری میچ کے مقابلے میں 1.2 گنا زیادہ تھی۔
CRAZE OF PAKISTAN TEAM IN INDIA. 🤯
T20 World Cup 2026 – JioHotstar Viewership Rankings (Based on average views per match).
1) IND – 1200M (300M avg)
2) PAK – 627M (156.28M avg)
3) USA – 417M (104.2M avg)
4) NED – 347M (86.8M avg)
5) NAM – 327M (81.8M avg)
6) SA – 228M (57M… pic.twitter.com/hvNJ8rvCtA— Salman. (@TsMeSalman) February 20, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حریف ٹیموں کے درمیان اس میچ کوشائقین کی بڑی تعداد نے جیوہاٹ اسٹارکے ذریعے دیکھا اور سی ٹی وی پر بھی ناظرین کی تعداد 2024 میں ہونے والے بھارت-پاکستان میچ کے مقابلے میں2.4 گنا زیادہ رہی۔
مزید بتایا گیا کہ میچ نے مجموعی طور پر 20 ارب منٹس کا شان دار واچ ٹائم حاصل کیا، جس کے نتیجے میں پچھلے ایڈیشن کے میچ کے مقابلے میں ویورشپ میں 42 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جیو اسٹار کے سیلز ہیڈ اسپورٹس انوپ گووندن نے کہا کہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاک-بھارت میچ سے قبل کی تیاری اور میچ میں ایک بڑے مقابلے کے تمام عناصر موجود تھے، ریکارڈ توڑ ریچ اور ویورشپ اس بات کی عکاسی ہے کہ دنیا بھر کے شائقین مختلف پلیٹ فارمز پر اس ٹورنامنٹ کے ساتھ کس پیمانے پر جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ اب تک دنیا بھر کے شائقین کو سنسنی خیز لمحات فراہم کر چکا ہے اور پاک-بھارت میچ پر ملنے والا ردعمل ایک شان دار ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کی بنیاد ہے۔
Today News
ٹرمپ کی تعریفیں – ایکسپریس اردو
غزہ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دئے ہیں۔ انھوں نے دونوں کی خوب جم کر تعریف کی ہے اور دونوں شخصیات کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
امریکا کی دوستی اور امریکی صدر کی پسندیدگی عالمی سفارتکاری میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ اسی طرح امریکا جس کے ساتھ ہے دنیا اس کے ساتھ ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم دونوں کے لیے امریکی صدر کی پسندیدگی پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں اہمیت کو مہر لگاتی ہے۔
ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کوئی پہلی دفعہ اس طرح تعریف نہیں کی ہے، وہ مسلسل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی جہازوں کو گرانے کی توثیق بھی کرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ بند کروانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کو ان کے دونوں موقف پسند ہیں۔ پاکستان جنگ بند کروانے اور سیز فائر کا کریڈٹ ٹرمپ کو دیتا ہے بلکہ پاکستان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت ایٹمی جنگ رکوائی، اس لیے ہم اس جنگ کو رکوانے پر ٹرمپ کو نوبل پرائز کی نامزدگی کی بھی حمائت کر چکے ہیں۔
بھارت کا موقف ہے کہ اس نے امریکی دباؤ میں جنگ بندی نہیں کی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ اس نے پاکستان کی د رخواست پر جنگ بندی کی ہے۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکا کی مداخلت پر جنگ بندی کی گئی۔ اس لیے اس وقت ٹرمپ کا اور پاکستان کا موقف ایک ہے، صرف بھارتی جہازوں کی تباہی کے اعداد و شمار میں فرق ہے۔ ٹرمپ ہر بار جہازوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہیں تب ہی تحریک انصاف اور بالخصوص اوور سیز تحریک انصاف میں غم اور صدمہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پہلے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال بھی دی جاتی تھی۔ لیکن اب شاید سب تھک گئے ہیں۔اس بار کوئی باقاعدہ احتجاج کی کال بھی نہیں دی گئی۔ ایک وقت تھا کہ تحریک انصاف کے امریکی دوست امریکا کو اپنی میراث سمجھتے تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے امریکی تعلقات کی طاقت سے پاکستان میں اپنی من مانی کر سکتے ہیں۔ بالخصوص تحریک انصاف کے دوست اس زعم میں مبتلا تھے کہ چند کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس پاکستان کا منظر نامہ بدل سکتے ہیں۔ ایک امریکی کانگریس کا ٹوئٹ پاکستان کے طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس لیے کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹ پر بہت توجہ دی جا رہی تھی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ امریکی کانگریس کے ار کان نے تحریک انصاف جوائن کرلی ہے۔ انھیں عمران خان کی رہائی کے لیے ٹوئٹ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب محسن نقوی امریکا گئے تو وہ جس کانگریس رکن سے ملے اس نے ملاقات کے بعد عمران خان کی رہائی کا ٹوئٹ کر دیا۔ تحریک انصاف کے دوست امریکی کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس کو ایسے دوبارہ شئیر کرتے تھے کہ جیسے بہت مقدس چیز ہے۔ اس لیے آج ٹرمپ فیلڈ مارشل اور شہبازشریف کی تعریف کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کی شکست بھی ہے۔ انھیں امریکا میں لابنگ کے میدان میں بری شکست ہوئی ہے۔ وہ امریکا کے سر پر بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی کوشش میں تھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔
بھارت بھی پریشان ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ سال بھارت نے امریکا کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت پریشان رکھا ہے۔ ہمیں بھارت کی سفارتی کامیابیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن آج واضح ہو رہا ہے کہ اس سب کی بنیاد امریکا کی خوشنودی تھی۔
امریکی صدور بھارت کے لمبے لبے دورے کرتے تھے جس سے بھارت کا عالمی سفارتکاری میں ایک بڑا امیج بن جاتا تھا۔ پاکستان کے خلاف امریکا سے بیانات آتے تھے۔ ڈو مور کا مطالبہ رہتا تھا۔ بھارت ہر وقت پاکستان کو سایڈ لائن کرنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ لیکن آج وقت بدل گیا ہے۔ وہی امریکا اب پاکستان کے گن گا رہا ہے۔ جو مشکلات پہلے پاکستان کو درپیش تھیں ، وہی مشکلات اب بھارت کو درپیش ہیں۔
ٹرمپ کے بیانات مودی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بھارت میں ان پر دباؤ ہے کہ وہ ٹرمپ کو جواب دیں۔ لیکن ٹرمپ کے مسلسل گفتگو کا آج تک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مودی نے خاموشی کی پالیسی بنائی ہوئی ہے، وہ ٹرمپ کو جواب نہیں دے رہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارت ٹریڈ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ امریکا نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔بھارت ٹریڈ ڈیل اور ٹیرف ڈیل کے دباؤ میں تھا۔ اب وہ ٹیرف ڈیل ہو گئی ہے لیکن بھارت ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ اگر بھارت جیسا ملک اپنے مالی مفادات کے لیے امریکی دباؤ میں ہے۔ تو آپ اندازہ لگائیں پاکستان کے بھی کس قدر امریکا سے مالی مفادات ہونگے۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims