Today News
قومی ہاکی ٹیم میں تقرریاں، اولمپئن سمیع اللہ چیف سلیکٹر مقرر
اسلام آباد: پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی مینز ہاکی ٹیم کے لیے اہم تقرریوں کا اعلان کر دیا اورسابق لیجنڈری کھلاڑی سمیع اللہ کو چیف سلیکٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق فیڈریشن کی پروفیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی کی سفارش پر تقرریاں کی گئیں، جس میں ماضی کے نامور اولمپئن حسن سردار اور اصلاح الدین صدیقی شامل ہیں۔
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد پاکستان میں ہاکی کے کھیل کو دوبارہ عروج پر لانا اور قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جس میں ٹیم کے نئے ڈھانچے کی تشکیل، کوچنگ اسٹاف کی تقرری اور باقاعدہ مقابلوں کا شیڈول ترتیب دینا شامل ہے۔
حکام کے مطابق کوچز، امپائرز اور آفیشلز کی فنی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ ملک بھر سے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر ہاکی کو فروغ دینے اور بین الادارہ جاتی مقابلوں کو دوبارہ فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ہائی پرفارمنس سینٹر قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ سمیع اللہ کی تقرری سے قومی ٹیم کو فائدہ ہوگا اور پاکستان ہاکی ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی پہچان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی۔
فیڈریشن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور ہاکی سے وابستہ افراد کے تعاون سے اس منصوبے کو کامیاب بنایا جائے گا۔
Source link
Today News
برکت رمضاں … مگر کہاں؟
ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔
پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔
چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔
اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔
پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔
اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔
برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔
جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔
اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…
ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔
Today News
افغانستان اور دہشت گردی – ایکسپریس اردو
وزیراعظم میاں شہباز شریف کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔قطر کئی اعتبار سے مشرق وسطیٰ ‘جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے امور میں اسٹریٹیجک نوعیت کے معاملات میں بھی شریک رہا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرصہ دراز تک افغان طالبان کا دفتر قائم رہا ہے اور دوحہ میں ہی افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میںدوحہ معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہی افغان طالبان کا کابل پر کنٹرول ہوا اور وہ افغانستان میں اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
گو ان امور میں پاکستان بھی شریک رہا ہے جب کہ دیگر ممالک کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے ‘یہ حقیقت ہے کہ یہ سارے معاملات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی طے ہوئے ہیں۔ قطر کے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور قطر نے دو طرفہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کی ہے جس میں دفاع اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اظہاراطمینان کیا اور دفاعی تعاون مزید مضبوط اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کااعادہ کیا۔ملاقات میں علاقائی امور بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ،عالمی قیادت اس صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ افغانستان دہشت گردی کا ایپی سینٹر بن چکا ہے ،افغانستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی آپریٹ کر رہے ہیں ‘قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں جب کہ جرائم پیشہ گینگز اور مافیاز بھی اس ملک میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جو گروہ برسراقتدارہے ‘ اس کے اقتدار کا سارا دارومدار ان دہشت گرد گروہوں کے مرہون منت ہے۔
یہ دہشت گرد گروہ سرمائے کا غیرقانونی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں جس کے ذریعے عالمی بلیک مارکیٹ سے جدید اسلحہ خریدا جاتا ہے ‘پٹرولیم مصنوعات بھی اسی پیسے سے خرید کر افغانستان منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے طالبان حکومت کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے ،اور گروہ کی نقل و حمل ممکن ہو رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ بھی اپنی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور تنخواہیں ‘اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذرائع سے کمائی گئی دولت سے پورا کرتے ہیں۔
ادھراگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میںشکردرہ روڈ پر فتنہ الخوارج کے پولیس موبائل پر بزدلانہ حملے میں ڈی ایس پی اور 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ دہشت گرد تسلسل سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں،دہشت گردوں نے سانحہ کرک کی طرز پرکوہاٹ میں بھی پولیس کی گاڑی کو آگ لگا کے ایک زخمی پولیس اہلکار کو زندہ جلا کے شہید کیا ۔دہشت گردی کی اس واردات میں پولیس کی زیرِ حراست ملزم بھی مارا گیا ، ڈی ایس پی لاچی اسد محمود اور ریڈر وہاب علی جھلس کر جب کہ ڈرائیور مدثر، اہلکار سید عامر عباس، سب انسپکٹر انار گل، اور راہگیر سمیع اللہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزم کو تفتیش کے لیے لے جا رہی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے علاوہ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ گرلز اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسکول کی عمارت مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ،ادھر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کو شہید کر دیا۔ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقوں بازار ذخہ خیل، وراغہ، مارو سر اور شاکوٹ میں ہو رہی ہیں ، دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان سطور کے لکھے جانے تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم بتایا جا رہا ہے کہ صورتحال کشیدہ اور سیکیورٹی فورسز الرٹ ہیں۔پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے طورخم اور تیراہ میں ’بلااشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔بی بی سی کے مطابق منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس فائرنگ کا فوری جواب دیا اور ’طالبان کی جارحیت‘ کو روک دیااورکسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
افغانستان کی اشتعال انگیزیاں نئی نہیں ہیں‘ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے ‘پاکستان کے لیے اس وقت بھارت اور افغانستان ایک ہیں اور متحد ہو کر انٹی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد طالبان حکومت اور دہشت گرد مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
افغانستان کی طالبان رجیم کی اعلانیہ جنگ کا مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکودہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مکمل عوامی تائید حاصل ہے۔ادھر میڈیا میں ذرائع پاک فورسزکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ایف سی قافلے پر حملہ آور جوانوں کو جلایا جانا،کوہاٹ میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔ پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔ انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 20ہزار سے23ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے تقریباً3ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں،افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، القاعدہ کے تربیتی مراکز غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔داعش خراسان، افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاؤ ہے۔رپورٹ میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی تیاری میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منشیات افغانستان سے بیرونِ ملک سب سے زیادہ اسمگل کی جا رہی ہیں۔ان دہشتگرد گروہوں کی وجہ سے افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال تاحال پیچیدہ ہے جو خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم کی مخالفت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔افغانستان کے ہمسائے ہی دہشت گردی سے تنگ نہیں ہیں بلکہ افغانستان کے عوام بھی دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے ڈیفیکٹو اقتدار سے تنگ ہیں۔ افغانستان میں بسنے والی مختلف قومیتیں‘لسانی اور ثقافتی اکائیاں ملک میں طالبانائزیشن کے سخت خلاف ہیں اور وہ افغان ملت کے تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔اس حوالے سے افغانستان میں جدوجہد بھی جاری ہے۔
Today News
کراچی، بس، واٹر ٹینکر اور تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے 4 شہری جاں بحق
شہر کے مختلف علاقوں میں بس، واٹر ٹینکر اور تیز رفتار گاڑیوں کی ٹکر سے ایک بچے سمیت 4 شہری جاں جاں بحق جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق بلدیہ 2 نمبر اگر بتی بنانے والی کمپنی کے قریب بس کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال پہنچائی جہاں متوفی کی شناخت 55 سالہ پٹھان تاج محمد کے نام سے کی گئی۔
حادثہ بس کی ٹکر سے پیش آیا جبکہ بس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ شارع فیصل پی اے ایف میوزم کے قریب تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار دم توڑ گیا، جن کی شناخت 48 سالہ نوشاد کے نام سے ہوئی۔
ادھر سچل کے علاقے اسکیم 33 سرسید چوک ہاشم آباد سوسائٹی کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
گلشن حدید سومار گوٹھ کے قریب ٹریفک حادثے میں والد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار کمسن بیٹا جاں بحق جبکہ کمسن بیٹی شدید زخمی ہوگئی۔
ایدھی حکام نے بتایا کہ گلشن حدید سومار گوٹھ کے قریب بس اور ٹرک میں تصادم کے دوران موٹر سائیکل زد میں آگئی جس کے نتیجے میں والد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار کمسن بیٹا جاں بحق جبکہ کمسن بیٹی شدید زخمی ہوگئیں۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے میں بچوں کے والد بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ جاں بحق بچے کی شناخت 3 سالہ عثمان جبکہ شدید زخمی ہونے والی 5 سالہ بچی کی شناخت مدیحہ کے نام سے ہوئی، جن کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
چھیپا کے مطابق بنارس عارف میڈیکل کمپلیکس کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہوگیا جنہیں فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جن کی شناخت 35 سالہ فیصل کے نام سے ہوئی۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch