Connect with us

Today News

لاہور، 19 کروڑ کی ڈکیتی کے ملزمان سے پولیس مقابلہ، مرکزی ملزم ہلاک، 3 فرار

Published

on



لاہور:

شہر کے علاقے گجومتہ میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلے کے دوران 19 کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث ایک ڈاکو ہلاک جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت زازے پٹھان کے نام سے ہوئی ہے جو ایک روز قبل ڈیفنس کے علاقے میں 19 کروڑ روپے کی بڑی ڈکیتی کی واردات میں ملوث تھا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سوار ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کے تین ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کی گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ایک کیفے میں واردات کے بعد فرار ہوئے تھے۔ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گاڑی کا نمبر ٹریس کیا گیا جس کے بعد کاہنہ پولیس نے گجومتہ کے قریب گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

اس دوران ایس ایچ او کاہنہ عامر شہزاد اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ ملزمان کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

 

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

 

پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو کی لاش مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان دوراہے پر! – ایکسپریس اردو

Published

on


تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگیں انسانیت کے حق میں کبھی اچھی ثابت نہیں ہوئیں بلکہ ہر جنگ کے بعد تباہی و بربادی کی نئی داستان رقم ہوتی ہے۔ شکست و فتح سے قطع نظر جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ نت نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں۔

دنیا کے طاقت ور حکمرانوں نے اپنی انا کی تسکین اور تکبر و گھمنڈ کے نشے میں چور ہو کر اپنے سے کمزور ملکوںو ریاستوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور اپنا تسلط قائم کرنے اور انھیں اپنا دست نگر بنانے کے لیے مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے اور خون کی ہولی کھیلنے سے دریغ نہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر زمین پر جو قیامت صغریٰ برپا کی جاپانی قوم کئی دہائیوں تک اس کے مضر اثرات سے باہر نہ آ سکی۔ نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن امریکا پر کمزور ملکوں کو تسخیر کرنے کا جنون آج بھی سوار ہے، ویت نام، سیریا، افغانستان، عراق، لیبیا، شام کے بعد اب ایران اس کے نشانے پر ہے۔ بدقسمتی سے امریکا پر صدر ٹرمپ جیسے شخص کی حکمرانی ہے جس کے قول و فعل میں اتنے تضادات ہیں کہ اعتماد و اعتبار کرنا آسان نہیں۔ اس پہ مستزاد ٹرمپ کے مشیران ووزرا ہیں جو انھیں بہکانے اور اکسانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایران پر حملے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ انھیں ان کے مشیروں اور وزیروں نے بتایا کہ ایران امریکا پر حملے میں پہل کر سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ایران پر ہم نے حملہ کیا۔ جنگ کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے آڈیو بیان میں دو ٹوک اور صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے ہر اس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ میں شہید ہوا ہے۔ ایرانی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا۔ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رہے گی انھوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں بصورت دیگر ان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں کیوں کہ میں ان کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں۔

امریکا اور ایران ہر دو جانب سے قیادت کے سخت گیر بیانات اور غیر لچکدار رویے کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت اور تباہ کاریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، امریکا نے ایران پر شدید ترین حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ اور B-2 طیارے حملے کے لیے روانہ کر دیے ہیں، مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ ایران میں اپنے مطلوبہ اہداف جلد حاصل نہ کرسکے اور ایران کی مزاحمت تادیر جاری رہی، جس کے امکانات بعیداز قیاس نہیں، تو وہ اپنی فتح کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے محدود پیمانے پر ایران پر ایٹمی حملہ بھی کر سکتے ہیں جو تباہی و بربادی کی یقینا ایک نئی خون آشام داستان رقم کرے گا، ٹرمپ نے پانچ ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دنیا بھر کے رہنما صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جی 7 گروپ نے امریکا سے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور چین اگرچہ سفارتی سطح پر جنگ رکوانے کے لیے اپنی غیر مرئی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسرائیل و امریکا کی ہٹ دھرمی کے باعث چین و روس کی کاوشیں ثمر آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے صدر ٹرمپ روس سے یوکرین کے خلاف جنگ رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پیوٹن نے ٹرمپ کو مثبت جواب نہیں دیا۔ غالباً اسی باعث روس ایران امریکا جنگ رکوانے میں موثر کردار ادا نہیں کر پا رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی پوزیشن بھی خاصی نازک ہے۔

اگرچہ پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی بھرپور مذمت کی ہے تاہم حکومتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ سے براہ راست ایسا کوئی مطالبہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ سفارتی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال کی شدت کو کم کرنے کے لیے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اس جنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

چوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند ماہ قبل ایک سیکیورٹی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں۔ سعودی عرب میں بھی قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ بقول مجتبیٰ خامنہ ای مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں موجود فوجی اڈے بند کیے جانے تک حملے جاری رہیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ وہ حملے روکنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ سعودی عرب ایرانی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ناامیدی کو ذہن سے نکال دیجیے!

Published

on


رابرٹ بریٹ (Robert Barrat) 1957 میں لندن میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے گہرے پانیوں میں زندگی گزارنے کا شوق تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ نیلگوں سمندر اور اس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد‘ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کی بحریہ میں ملازمت کرے گا۔ حکومتی اداروں سے رابطہ کرنے کے بعد‘ پتہ چلا کہ برطانوی نیوی میں آنے کے لیے کڑے امتحان کی ضرورت ہے۔

اب کالج جا رہا تھا۔ پیریڈ ختم ہونے کے بعد گراؤنڈ میں چلا جاتا اور بہت سخت کوش ورزش کرتا۔ ساتھ ساتھ جم بھی کرنا شروع ہو گیا۔ چند ماہ بعد ‘ ایسے لگتا تھا کہ اس کا جسم فولاد کا بنا ہوا تھا۔ چھ فٹ سے زیادہ قد اور ایک کسرتی باڈی ۔خیر ‘ بحریہ میں جانے کا امتحان دے ڈالا۔ جو اس نے آسانی سے پاس کر لیا۔ اب اسے برطانوی نیوی میں نوکری مل گئی۔ زندگی کا خواب مکمل ہو گیا۔ تعیناتی‘ ایک جنگی جہاز پر ہوئی۔ جو تقریباً چار ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ جب واپس بندرگاہ پر آیا تو رابرٹ اپنے سینئر افسر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بالکل چھٹیاں نہیں کرنا چاہتا۔ اسے جتنی بھی جلدی ہو‘ فوراً کسی دوسرے جنگی جہاز پر دوبارہ سمندر میں بھیج دیا جائے۔ سینئر افسر حیران رہ گیا۔ کیونکہ ایسا ہوتا نہیں تھا۔ جو بھی افسر ‘ چار پانچ ماہ ‘ مسلسل بحری بیڑے کا حصہ رہتا تھا۔ اسے دو ہفتہ کے لیے چھٹیاں دی جاتی تھیں۔ اس رویے کے برعکس رابرٹ ضد کر رہا ہے کہ اسے فوراً سے پیشتر ‘ دوبارہ پانی میں بھیج دیا جائے۔ حکم دیا کہ ڈاکٹر اس کا ذہنی توازن دیکھیں۔ بحریہ کے ڈاکٹرز نے بڑی محنت سے اس کا نفسیاتی معائنہ کیا۔ لکھ کر دیا کہ رابرٹ بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی زندگی میں سب سے بڑا عشق گہرے پانیوں میں نوکری کرنا ہے۔

سینئر افسر نے رپورٹ پڑھی ۔ اسے ‘ ایک ایسے جنگی جہاز میں تعینات کر دیا جو کافی مدت کے لیے ایک مہم پر جا رہا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ رابرٹ ‘ اپنے شوق کی بدولت پوری برطانوی بحریہ میں بہترین افسروں کی فہرست میں آ گیا۔ دو بلکہ ڈھائی دہائیاں گزر گئیں۔ ایک دن رابرٹ عرشے پر آرام سے پیدل چل رہا تھا کہ ایک بھاری مشین کا ٹکڑا حادثاتی طور پر اس پر آن گرا‘ اس کی بائیں ٹانگ کچلی گئی۔ درد کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو ایک اسپتال میں تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے‘ ایک نزدیکی برطانوی اسپتال میں لایا گیا تھا۔ جیسے ہی ہوش میں آیا تو ایک تجربہ کار سرجن‘ ملنے کے لیے آیا۔ بتانے لگا کہ اس نے پوری کوشش کی ہے ۔ مگر اب اس کی ٹانگ کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ہڈی‘ اتنی بری طرح کچلی جا چکی ہے کہ اس کا جڑنا ناممکن ہے۔

اب ایک ہی حل ہے کہ اس کی ٹانگ کو کاٹ دیا جا ئے۔ رابرٹ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔معلوم تھا کہ اس کی بقیہ زندگی ایک اپاہج کے طور پر گزرے گی کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ اس کی بائیں ٹانگ کاٹ دی گئی ۔ ایک ماہ اسپتال گزارنے کے بعد‘ جب واپس اپنے گھر آیا تو بیساکھی کے سہارے چل رہا تھا۔ چارماہ گزر گئے۔ رابرٹ واپس سرجن کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بیساکھیوں کا سہارا لینا بہت معیوب لگتا ہے۔ اسے مصنوعی ٹانگ لگا دی جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ اسپتال میں مصنوعی اعضا کے ڈیپارٹمنٹ نے اس کے لیے بہت اچھی‘ مصنوعی ٹانگ بنا دی۔ رابرٹ اس کے بعد‘ بیساکھیوں کے بغیر چلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑا سا لنگڑاتا ضرور تھا ۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہ پڑتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔

مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ رابرٹ عزم و ہمت کا ایک پہاڑ تھا۔ ایک دن ‘ اپنے گھر کے نزدیک ایک گراؤنڈ میں گیا۔ وہاں کے کوچ سے ملا۔ اسے تمام صورت حال بتائی اور کہا کہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ دوڑنا چاہتا ہے۔ کوچ پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اسے‘ ایک معذور آدمی کی تربیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ مگر صرف اتنا اندازہ تھا کہ معذور لوگوں کو دوڑنے کی تربیت دینے کے لیے ایک پورا محکمہ موجود ہے۔ رابرٹ کو وہاں بھیج دیا گیا۔ جب منتظمین نے رابرٹ کی ہمت دیکھی تو ایک کہنہ مشق کوچ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جس نے رابرٹ کی ٹریننگ شروع کر دی۔ ایک سال بعد‘ کوچ اور رابرٹ کی ریاضت رنگ لے آئی اور وہ بڑی آسانی سے گراؤنڈ میں بھاگنا شروع ہو گیا۔ اس کی رفتار بھی بہت تیز تھی ۔ 1988 میں سوئل (Seoul) میں پیرا اولمپکس تھیں۔

کوچ نے رابرٹ کو کہا کہ وہ پیرا اولمپکس کی تیاری شروع کر دے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ رابرٹ کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ مگر ایک ٹانگ کے ساتھ‘ میں کیسے دوسروں کا مقابلہ کروں گا؟ کوچ نے اسے ہمت دلائی۔ اس کی ٹریننگ مزید سخت کر ڈالی۔ پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے‘ اب رابرٹ مکمل طور پر تیار تھا۔ تیز رفتار دوڑ دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ معذور ہے۔ اس نے اپنے لیے ‘ سو میٹر کی دوڑ منتخب کی جو کہ حددرجہ دشوار تھی۔ جب اپنے مخصوص اسپورٹس میں دوڑ لگائی‘ تو لوگ رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ساتھ ساتھ رابرٹ نے سو میٹر کی وہ دوڑ بھی لگائی جس میں چار ایتھلیٹ ‘ ٹیم بنا کر دوڑتے ہیں۔ دونوں ریسوں میں کامیاب ٹھہرا۔اسے کانسی کے تمغے سے نوازا گیا۔ اب رابرٹ ہر مقابلہ میں حصہ لیتا تھا۔

بار سیلونا میں 1992 کی پیرا اولمپکس میں بھی حصہ لیا۔ اس میں بھی اسے امتیازی تمغہ سے نوازا گیا۔ دس برس کے عرصہ میں رابرٹ نے یورپ اور اپنے ملک یعنی یو کے ، کے ہر مقابلہ میں حصہ لیا۔ مختلف مقابلوں میں گولڈ میڈل تک لیتا رہا۔ بارسلونا کی پیرا اولمپکس کے بعدریٹائر ہو گیا اور ایک بینک میں ملازمت کر لی۔ اس کا جذبہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی توانا رہا۔ تین مختلف رگبی ٹیمز کا کھلاڑی بن گیا۔ ساتھ ساتھ قومی سطح پر معذور لوگوں کو اسپورٹس سکھانے کا کوچ بن گیا۔ آج کل ‘ لندن کی والی بال ٹیم سے بھی منسلک ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ برف پر اسکیٹنگ کرنے کا بھی شوقین ہے۔ رابرٹ آج بھی ایک بھرپور اور آسودہ حال زندگی گزار رہا ہے۔

سوچ رہے ہوں گے کہ ایک معذور آدمی کی سچی کہانی سنانے کا کیا مقصد ہے؟ جناب یہ حقائق آپ کی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی طرح‘ نامکمل ہوتا ہے۔ کوئی ذہنی آزمائش میں مبتلا ہے۔ تو ایک خاص اقلیت ‘ جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ جسمانی طور پر نامکمل ہونا تو نظر آتا جاتا ہے۔ مگر ذہنی طور پر مسائل دوسروں کو بہت کم ہی معلوم پڑتے ہیں۔ تمام انسانوں کی بات نہیں کر رہا۔ مگر ایک محدود تعداد‘ کسی نہ کسی سقم کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں ‘ جہاں بے بس لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دوسرے انسان اکثر ایک منفی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ وہاں‘ سب سے بڑا مسئلہ ‘ امید کا ختم ہو جانا ہے۔

ان گنت نوجوان پوچھتے پھرتے ہیں کہ ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہمارے تو مسائل ہی بہت گھمبیر ہیں؟ یہ رویہ ذہنی ہو یا جسمانی ۔ دراصل یہی رویہ آپ کاسب سے بڑا دشمن ہے۔ اور کامیابی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے ‘ ناامیدی سب سے پتھریلی رکاوٹ ہے۔ جس نے آپ کی صلاحیت کو مقید کر رکھا ہے۔ مسائل جو کچھ بھی ہوں ۔ اگر آپ میں آگے بڑھنے کا عزم ہے تو یقین فرمائیے کوئی بھی دنیاوی طاقت راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بہت سے نوجوان یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کاروبار کرنے کے لیے کوئی سرمایہ بھی نہیں ہے۔

یقین فرمائیے اگر آپ ہمت دکھائیں تو یہ کمی بھی دور ہو جاتی ہے۔تھوڑا عرصہ پہلے‘ کووڈ کی بلا نے پورے پاکستان کو بند کر رکھا تھا۔ ہمارا ملک ہی کیا ‘ پوری دنیا ہی جمود کا شکار تھی۔ لاہور میں ایک سولہ سترہ سال کے نوجوان نے اپنے ہاتھ سے برگر بنانے شروع کر دیے۔ لاہوری ذائقہ کے مطابق بنے ہوئے یہ برگر‘ پہلے مقامی آرڈر پر بناتا رہا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ‘ اس نے آن لائن آرڈر لینے شروع کر دیے۔ صرف تین برس میں اس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ آج لاہور ہی میں اس کے تین ریسٹورینٹ ہیں۔ جو صرف برگر بنا کر بیچتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گھر کے نزدیک ہے۔ وہاں ‘ گاڑیوں اور لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ انتظار تقریباً تیس منٹ تک کا ہے۔ لوگ بڑے آرام سے انتظار کرتے ہیں۔یہ کامیابی بالکل سامنے کی بات ہے۔

دراصل رابرٹ نے ایک چیز ثابت کی ہے کہ ناامیدی ‘ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مسلسل محنت کرتے جائیں تو ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

شب قدر کے فضائل و اعمال

Published

on


’’امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک معتبر اور نیک عالم سے یہ بات سنی کہ رسول اﷲ ﷺ کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائی گئیں جتنا اﷲ کو منظور تھا تو آپؐ نے اپنی امت کے لوگوں کی عمروں کو کم سمجھا اور یہ خیال کیا کہ میری امت کے لوگ (اتنی سی عمر میں) ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ (موطا امام مالک)

ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ ایک ہزار مہینے تک اﷲ کے راستے میں جہاد کرتا رہا۔ صحابہ کرامؓ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا (ہماری عمریں تو اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں) اس پر اﷲ تعالیٰ نے شب قدر عطا فرمائی جو ایک ہزار مہینوں سے افضل اور مرتبہ میں بڑھی ہوئی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشع علیہم السلام، ان چار حضرات کا ذکر فرمایا کہ یہ حضرات اسّی اسّی سال اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہے۔ اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی اس پر صحابہ کرامؓ کو تعجب اور رشک ہُوا، اﷲ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور شب قدر کا عظیم الشان تحفہ عطا فرمایا اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۂ قدر سنائی جس کا ترجمہ یہ ہے:

’’بے شک! ہم نے قرآن مجید کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں، (وہ رات سراپا) سلام ہے وہ رات (انھی برکتوں کے ساتھ) طلوعِ فجر تک رہتی ہے۔‘‘ (بیان القرآن)

گویا اﷲ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرما دی کہ ہمارے نزدیک عمر کی کمی زیادتی کوئی معنی نہیں رکھتی میں اپنی قدرت سے ایک ہی رات کے دامن کو اتنا وسیع کر سکتا ہوں کہ اس کے مقابلے میں ہزار مہینے بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔

حق تعالیٰ نے امت محمدیہ ﷺ پر کتنا بڑا انعام فرمایا یہ سرکار دو عالم ﷺ کی غلامی کا صدقہ ہے۔

اس سورہ کا نام سورۂ قدر ہے اس میں شب قدر کی چار خصوصیات ذکر کی گئی ہیں۔

نزول قرآن۔ نزول ملائکہ۔ ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت۔ صبح صادق تک خیر و برکت امن و سلامتی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر میں جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ اترتے ہیں (یعنی زمین پر) اور ہر اس شخص کے لیے جو (اس رات میں) کھڑے یا بیٹھے اﷲ کا ذکر کر رہا ہو اور عبادت میں مشغول ہو، دعائے رحمت کرتے ہیں۔ اور تفسیر خازن میں یہ بھی ہے کہ ایسے آدمی کے لیے جو اس رات میں مصروفِ عبادت ہو سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ شب قدر کی بڑی فضیلت ہے اسی وجہ سے اس کو تلاش کرنے کے لیے آنحضرت  ﷺ نے پہلے دس دنوں کا اعتکاف فرمایا پھر درمیان کے دس دنوں کا اعتکاف فرمایا پھر آپ ﷺ نے اعتکاف کی جگہ میں سے اپنا سر باہر نکال کر فرمایا میں نے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا اس کے بعد مجھے شب قدر عطا کی گئی اور بتلایا گیا کہ وہ (شب قدر)  آخری عشرے میں ہے۔

ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے شب قدر میں قیام کیا ایمان اور طلب ثواب کے لیے‘ بخش دیے جاتے ہیں اس کے گزشتہ گناہ۔‘‘

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہؓ کو شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں میں دکھائی گئی۔ اس پر رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ تمہارے خواب آخری سات دنوں پر متفق ہوگئے، پس جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔

حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو میں اس میں کیا دعا پڑھوں ؟  آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ، مفہوم:

’’یااﷲ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی چاہنے والے کو پسند کرتا ہے، مجھے بھی معاف فرما دے۔‘‘

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں تھے تو میں نے آپ ﷺ کے پاس جاکر کان لگایا تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھ رہے تھے، مفہوم:

’’یااﷲ! میں تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں تیری سزا سے، اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں تیرے غصہ سے، اور پناہ چاہتا ہوں تیری سختیوں سے، یااﷲ! میں آپ کی تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، آپ کی ذات ایسی بلند و بالا ہے جیسے آپ نے بیان کی۔‘‘

صبح کو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے جب حضور ﷺ سے ان کلمات کی تصدیق چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم خود بھی یاد کر لو اور دوسروں کو بھی یاد کرا دو، یہ کلمے مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے سکھائے ہیں اور فرمایا ہے کہ میں سجدے میں انھیں بار بار پڑھا کروں۔





Source link

Continue Reading

Trending