Today News
لاہور؛ نر ہرن کے حملے میں دو کم عمر ہرن ہلاک
لاہور کے باغ جناح میں ایک نر ہرن کے حملے کے نتیجے میں دو کم عمر مادہ ہرن ہلاک ہوگئیں۔
واقعہ پارک کے ایک انکلوژر میں پیش آیا جہاں ہرن رکھے گئے تھے۔
حکام کے مطابق نر ہرن نے اچانک حملہ کرکے کم عمر مادہ ہرنوں کو زخمی کر دیا تھا، زخمی ہرنوں کو فوری طور پر علیحدہ کرکے ان کی مرہم پٹی کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طبی امداد فراہم کرنے کے باوجود دونوں مادہ ہرن جانبر نہ ہوسکیں اور دم توڑ گئیں۔
واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر باقی ہرنوں کو نر ہرن سے الگ کر دیا گیا ہے تاکہ مزید کسی نقصان سے بچا جا سکے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر باغ جناح جلیل احمد نے بتایا کہ ہرنوں کی موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
Source link
Today News
بے چارا سچ گیا پانی میں
کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
کیا کمال کی شے ہے یہ جھوٹ بھی۔بلکہ یوں کہیے کہ یہ وہ سکہ ہے جو ہر ملک،ہرشہر،ہربازار،ہر مارکیٹ اور ہر دکان میں چلتا ہے بلکہ یہ واحد سکہ ہے جو ہر دور ہر زمانے میں بھی چلتا ہے اور نہ کبھی پرانا ہوا ہے نہ کھوٹا ہوا ہے تاریخ میں بھی چلتا ہے اور جغرافیے میں بھی چلتا ہے، تاریخ اور جغرافیہ کا حدود اربعہ وجہ تسمیہ جنرل نالج، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں بھی رواں دواں ہے۔
دین ومذہب،صنعت وتجارت اور کھیتوں کھلیانوں میں بھی چلتا ہے، گلی کوچوں اور بالاخانوں، چوباروں میں چلتا ہے، چوروں ڈاکوؤں میں بھی چلتا ہے اور ان کے مخالفوں یعنی کوتوالوں، قاضیوں اور قوانین اور دساتیر میں بھی چلتا ہے صرف ڈالروں میں چلتا نہیں ہے بلکہ دوڑتا ہے اور سیاست میں تو ڈالر سے بھی زیادہ چلتا ہے جب کہ جمہوریت میں یہ صرف پیروں سے ہی نہیں چلتا بلکہ’’پروں‘‘ سے اڑتا ہے گوروں،کالوں زردوں میں سرخوں اور سبزوں میں مطلب جدھر دیکھیے جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا یہ ہی یہ ہے۔یکساں طور پر محوخرام رہتا ہے مطلب یہ کہ
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
اگر آپ ہمیں کوئی ایک ایسی جگہ بتائیں جہاں یہ مقبول عام سکہ نہ چلتا ہو تو ہم آپ کو’’کولمبس‘‘قرار دیں گے اور اس کے مقابل اس کا سوتیلہ بھائی سچ۔ آخ تھو ۔خود اس پر بھی اور اس منہ پر بھی۔جس سے یہ نکلے پشتو میں اسے ماں کی گالی کہا گیا ہے اور سچ کہا گیا ہے بلکہ ماں بہن کے علاوہ پوتی دادی بیوی، خالہ پھوپھی ،چچی ممانی کی بھی گالی ہے۔اب اگر آپ کسی کو گالی دیں گے تو کیا ’’سردار‘‘ خوش ہوگا شاباشی دے گا؟نہیں بلکہ لٹھ لے کر آپ کے پیچھے دوڑے گا ۔
اور جھوٹ
زباں پہ بارخدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لیے
اور بوسے کی قابل ہے بھی وہ زبان۔جس سے یہ امرت یہ آب حیات یہ شیروشکر اور یہ امرت دھارا نکلتا ہو اس میں یار جیسی خاصیت بھی ہے
ہر غنچہ کہ گل دگرے غنچہ نہ گردد
قرباں زلب یار گہے غنچہ گہے گل
ویسے تو بہت سارے علما و فضلا دانا دانشوروں اور سالکوں نے اس کی مدح سرائیاں کی ہیں قصیدے لکھے ہیں لیکن ایک صاحب نے اس کے بارے میں فرمایا ہے
کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے ؟ کیا ہے
تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ ضیا ہے،کیا ہے
نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے
تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے
اگر یہ اپنی صنف بدل لے اور مذکر سے مونث ہوجائے تو اسے حسینہ عالم،مس ورلڈ،مس یونیورس بلکہ مس کاسموس بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ویسے تو ہر ہر جگہ ہر ہر مقام پر اس کا بول بالا ہے لیکن سنا ہے کہ ایک مملکت ناپرساں عالی شان میں اس کی بہت چلن اور آؤ بھگت ہے بلکہ اس مملکت کا اصل حکمران کہیے تو بجا ہوگا کہ یہ وہاں کا آئین بھی ہے قانون بھی یہ ہے سماج بھی ہے رواج بھی اور سرتاج بھی ہے۔
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
اس مملکت میں اس کے ہزار رنگ ہزار روپ ہیں
تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے
سادگی ہے کہ چھچک ہے کہ حیا ہے کیا ہے
ہم نے ایک دانا دانشور سے پوچھا کہ مملکت ناپرسان عالی شان میں اس کثیر الفوائد کثیرالجہت اور کثیرالمقاصد اور کثیرالاستعمال نعمت کی اتنی زیادہ پذیرائی کی وجہ کیا ہے تو فرمایا کہ اس کی ایک الگ کہانی ہے۔کہ جب یہ مملکت وجود میں آئی جس میں ہر طرف ہر جگہ ہر مقام پر مواقع ہی مواقع تھے تو یہ مژدہ جاں فزا جھوٹ اور سچ نام کے دو سوتیلے بھائیوں نے بھی سنا جو ایک گاؤں میں رہتے تھے اور آپس میں دونوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اس نئی مملکت میں جاکر روزگار ڈھونڈا جائے چنانچہ چل پڑے۔چلتے چلتے راستے کے کنارے ایک تالاب دکھائی دیا تو جھوٹ نے سچ سے کہا بھائی کیوں نہ اس تالاب میں ڈوبکیاں لگاکر فریش ہوا جائے، سچ نے کہا ٹھیک ہے پھر دونوں نے ایک درخت کے نیچے کپڑے اتارے اور تالاب میں اتر گئے۔
دونوں نہانے لگے تیرنے لگے۔ڈبکیاں لگانے لگے اور مستیاں کرنے لگے، تھوڑی دیر بعد سچ نے دیکھا کہ جھوٹ دکھائی نہیں دے رہا ہے، اس نے پورے تالاب پر نظر دوڑائی لیکن جھوٹ دکھائی نہیں دیا، تشویش ہوئی کہ کہیں ڈوب تو نہیں گیا۔کافی انتظار کے بعد جب کنارے کی طرف دیکھا تو جھوٹ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے لیکن سچ کا لباس ندارد تھا پھر کافی دیر بعد اس کی سمجھ میں آگیا کہ جھوٹ اپنا ہاتھ کرگیا ہے وہ سچ کا لباس پہن کر بھاگ گیا ہے۔بیچارا سچ سن ہوکر رہ گیا کہ اگر جھوٹ کا لباس پہن کر جاؤں گا تو لوگ مجھے جھوٹ سمجھیں گے اور ایسے ہی ننگا لنگوٹ نکلوں گا تو لوگ دیوانہ سمجھ کر پتھر ماریں گے۔ دوسری طرف جھوٹ سچ کے لباس میں مملکت ناپرسان کی راج دھانی اکرام آباد پہنچ گیا تو اس کی زبردست پذیرائی کی گئی لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اہلاً و سھلاً و مرحبا۔تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو۔
اسے سرآنکھوں پر بٹھایا گیا اور جھوٹ مزے اڑانے لگا۔مسند پر بٹھادیا گیا اور سارے لوگوں نے اس کی بیعت کرلی خاص طور پر سیاست دانوں، پارٹیوں اور لیڈروں نے تو اسے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنالیا۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا بیچارا سچ کبھی تالاب سے نکل پائے گا یا پانی میں اس کی’’جل سمادھی‘‘ ہوجائے گی؟
Today News
قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت
آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزہ مشن کی آمد اب محض ایک سفارتی دورہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک امتحان کی گھڑی ہے کیونکہ اب چھ ماہ کی کارکردگی کا ایک ایک ہندسہ کٹہرے میں ہوگا۔ ہر وعدہ ترازو میں تولا جائے گا اور ہرکمزوری بے رحم سوالوں کے نرغے میں آ جائے گی،کیونکہ آئی ایم ایف ایک ایسے مہمان کی طرح آتا ہے جو دروازہ تو کھٹکھٹاتا ہے تو سلام نہیں جواب مانگے گا۔
ان کی آمد کا سن کر حکام اپنے معاشی کپڑوں کی سلوٹیں درست کرنے لگ جاتے ہیں۔ اپنی معاشی کمزوریوں کو زبان کے پھولوں میں چھپا لیتے ہیں۔ اپنے نہ پورے کیے گئے وعدوں کو گراف اور چارٹ میں سجا کر ایک ایسے ادارے کے سامنے رکھ دیتے ہیں جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’ معالج معیشت‘‘ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ معالج نے خوب علاج کیا، لیکن یورپ کی شکستہ معیشت کا۔ لیکن جب باری آئی پاکستان اور کئی ترقی پذیر افریقی ممالک کی تو پھر طریق علاج میں تبدیلی آ گئی۔
کئی افریقی ممالک نے تو جلد ہی ان کے ہاتھ سے اپنی نبض چھڑا لی تھی۔ اب طے کیا گیا ہے کہ مشن کی آمد 25 فروری کو ہوگی اور وہ پاکستان کی معیشت کی نبض کو ٹٹولیں گے۔آئی ایم ایف جب بھی آتا ہے تو صرف وفد نہیں آتا فیصلے آتے ہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو عوام کے مستقبل کی قیمت رکھی جاتی ہے، آئی ایم ایف سوال کرتا ہے تو جواب میں صرف وزیر نہیں بولتے مہنگائی بولتی ہے۔ بے روزگاری، چیخیں مارتی ہے، مزدور اپنا سر پیٹتا ہے جو مزدوری میں سے بہت کچھ بچا کر بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ وفد نے جولائی سے دسمبر تک کی کارکردگی کو دیکھنا ہی نہیں ٹٹولنا ہے، پرکھنا ہے۔
اگر وہ معیشت کو غور سے دیکھے تو معیشت کے چہرے کی جھریاں جو چھپی ہوئی ہیں اسے پھر بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ وہ چھ ماہ ہیں جن میں حکومتی تقریروں میں کامیابی کے پھول کھلے ہیں اور بازاروں میں قیمتوں کے کانٹے بڑھے وہ چھ ماہ جن میں فائلوں میں نظم و ضبط لکھا گیا اور عوام کی جیب میں بے بسی۔ پاکستان میں اعداد و شمار بھی کبھی کبھی باادب بن جاتے ہیں۔ وہ سچ بولتے ہیں مگر ایسے انداز میں کہ حکمران اس سے تعریف کشید کر لیتے ہیں اور عوام ان سے خوف۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پرائمری بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا۔ یہ اصلاح سننے میں ایسے ہے جیسے حکومت نے اپنے سارے اخراجات پورے کر لیے۔ کاغذ پر کامیابی ہی کامیابی ہے لیکن کاغذ کی دنیا اور گلی کی دنیا میں یہ فرق ہے کہ کاغذ میں خوشحالی کا گراف نمایاں ہوتے ہیں اور گلی کے بچوں کی بھوک پوشیدہ ہوتی ہے۔پرائمری سرپلس کا جشن مناتے وقت ایک سوال دب کر رہ جاتا ہے۔
یہ سرپلس کس قیمت پر آیا؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ سرپلس عوام کی سانسیں کم کر کے حاصل کیا گیا ہو۔ کہیں یہ سرپلس اسکول کی مرمت روک کر، اسپتالوں کی دوا کم کر کے، اور یہ بات حقیقت بھی ہے۔ ایک پنشنر کا کہنا ہے کہ اسپتال میں پہلے باقاعدگی سے انسولین، دیگر ادویات اور شوگر چیک کرنے کی اسٹرپس مل جایا کرتی تھیں، لیکن اب چھ، چھ ماہ دوا نہیں ملتی۔ کم از کم اسپتالوں کو مکمل فنڈ مہیا کیا جائے اور ادویات کے بارے میں چیکنگ کا درست نظام نافذکیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب ادویات کی کمی ہو جاتی ہے تو شاید سرپلس کی رپورٹ صحت سے کھیل کر بنائی گئی ہو۔
پھر وہ عدد سامنے آتا ہے کہ 329 ارب روپے کا ٹیکس شارٹ فال۔ یہ محض مالیاتی اصطلاح نہیں۔ یہ ایک چیخ ہے جو بجٹ کی میز کے نیچے دب گئی ہے۔ 329 ارب روپے وہ رقم ہے جو اگر ریاست کے خزانوں میں ہوتی تو ہزاروں نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ ان کو آئی ٹی کی تعلیم مفت فراہم کی جا سکتی تھی۔
سرکاری اسپتالوں میں انسولین، اسٹرپس، بی پی کی گولیوں اور دیگر ادویات پنشن لینے والوں کو دی جا سکتی تھی۔ٹیکس وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کی معیشت کا پرانا راز بار بار کھلتا ہے۔ ٹیکس انصاف سے نہیں وصول کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جن کے زیادہ ٹیکس بنتے ہوں ان کو ٹیکس کم ادا کرنے کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔ کچھ ان کا فائدہ کچھ ان کی جیب کا فائدہ۔ زیادہ تر ٹیکس دینے والا تنخواہ دار طبقہ ہوتا ہے۔ صارف ہوتا ہے جو ہر چیز خریدتے وقت پہلے ٹیکس ادا کرتا ہے اور جو اشرافیہ طاقتور اور مافیاز ہیں وہ خود کو ان سے ملا کر ٹیکس بچا لیتے ہیں۔ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت اپنی کیا صفائی پیش کرے گی؟
Today News
کابل میں طالبان وزارت دفاع کی عمارت کے اندر جھڑپوں کی اطلاعات
کابل:
افغان دارالحکومت کابل میں طالبان وزارت دفاع کی عمارت کے اندر مبینہ طور پر اندرونی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا ادارے آماج نیوز کے مطابق پاکستان کے آپریشن ضرب للحق میں جاری فضائی حملوں کے دوران وزارت دفاع کے احاطے میں فائرنگ اور کشیدگی کی صورتحال دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جھڑپوں کی وجوہات، ملوث گروپوں اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، جبکہ واقعہ کو ایک جاری اور ابھرتی صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مزید معلومات کے انتظار میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر