Connect with us

Today News

لاہور: تیز رفتاری کے باعث کار حادثہ، لڑکی جاں بحق

Published

on



والٹن روڈ سی بی ڈی فلائی اوور کے قریب تیز رفتار کار بے قابو ہونے کے باعث سڑک پر لگے جنگلے سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ایک لڑکی موقع پر دم توڑ گئیں جبکہ دیگر 3 لڑکیاں زخمی ہوگئیں۔

پولیس کے مطابق سی بی ڈی حادثے میں جاں بحق لڑکی کی شناخت مونا کے نام سے ہوئی ہے اور زخمیوں میں علیشبا، سجل اور فاطمہ شامل ہیں اور زخمی لڑکیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ریسکیو 1122 نے  بتایا کہ حادثے میں تین شدید زخمی لڑکیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں ایک خاتون موقع پر دم توڑ گئی، جن کی لاش کو بھی لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے کہا کہ زخمیوں کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے جبکہ واقعے کی وجوہات اور محرکات کا تعین کیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

معرکہ حق و باطل پھر بپا ہے !

Published

on


سوچتا ہوں وہ زماں اور مکاں کتنے شرمندہ ہوئے ہوں گے کہ جس زماں میں نواسہ رسول ‘ جگر گوشہ بتول کوجس مکاں یعنی کربل کی تپتی ریت پر اپنے پورے خانوداہ کے ساتھ شہید کر دیاگیا ہو گا’ چاروں جانب یزیدی لشکر اور مدمقابل صرف ایک حسین ابن علی ‘ اس ظلم و بربریت پر زمین پھٹ گئی ہو گی’ آسماں گریہ کرتا رہ گیا ہو گا’ پوری انسانیت تڑپ اٹھی ہو گی ‘ اور اس دردناک واقعہ سے قبل دور نبوی میں ہادی برحق’ سرکار دو عالم ‘ سرور کائنات ‘ فخر موجودات’ ختم الرسل’ خاتم النبین ‘ سیدنا احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ نے اپنی آل اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رفاقت میں جن غزوات میں حصہ لیا ہو گا ‘ آنحضرتﷺ ‘ اہل بیت اور صحابہ کرام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا’ کفار مکہ ‘ منافقین ‘ مشرکین اور یہود و نصاریٰ نے آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب محترم و مکرم کو کیا کیا اذیتیں دی ہوں گی لیکن پھر بھی آپ کی استقامت ‘ استقلال صبرو قناعت’ برداشت اور دین مبین اسلام کے لیے آپ ﷺ کی لازوال قربانیاں پورے عزم و ولولہ کے ساتھ جاری رہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتنی اذیتیں پہنچائیں اور نبی مکرم محمد عربی کے لیے بھی کئی گھناؤنی سازشوں کے جال پھیلائے مگر انھیں ہر معرکہ میں شکست فاش ہوئی۔ جب بھی کبھی دین مبین اسلام کے خلاف کہیں بھی کوئی سازش یا مہم جوئی ہوئی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام دشمنوں کو اپنے فضل و کرم سے تباہ و برباد کر دیا’ مسلمانوں کی شاندار فتح کے لیے آسمانوں سے فرشتے قطار اندر قطار زمین پر اتارے گئے ‘ باطل مٹ گیا حق کوہمیشہ فتح نصیب ہوئی کیونکہ

حق و باطل کے معرکہ میں سدا

فتح بالیقین ہیں ہم لوگ

پھر ہم قدیم سے جدید دور میں آگئے ‘ ہمیں اسلام سجا سجایا مل گیا’ جنھوں نے دشمناں دیں کے ہاتھوں پتھر کھائے’ صعوبتیں جھیلیں’ قربانیاں دیں’ جنھیں تپتی ریت پر لٹایا گیا ‘ جن پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے وہ رتبہ شہادت پا کر بہشت بریں میں جا بسے اور ہمیں ایک درس عظیم دے گئے کہ شجاعت و دلیری تمہاری میراث ہے ‘ دشمن کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ’ شہادت تمہاری معراج ہے ‘ یہود و نصاریٰ تمہارے ہر گز ہرگز دوست نہیں ہو سکتے یہ اللہ کریم کا حتمی فیصلہ اور اعلان ہے مگر بدقسمتی سے ہم نے نہ صرف یہود و نصاریٰ سے دوستی کر لی بلکہ یہود و نصاریٰ کی مقروض قوم ٹھہری چنانچہ انھوں نے ملت اسلامیہ کو جیسا چاہا استعمال کرنا شروع کر دیا اور باؤلے کتے کی طرح ہم پر بھونکنے لگے۔

تاریخ نے آج پھر ایک کروٹ لی ہے ‘ چاروں طرف طاغوتی طاقتیں اکٹھی ہوکر اسلام کے متوالوں کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں’ مسلم امہ خاموش تماشائی بنی ان کی گھناؤنی سازشوں کے جال میں پھنسی نظر آرہی ہیں’ صرف ایک ایران سر پہ کفن باندھے میدان عمل میں نکل پڑا ہے ‘ دین مبین کی رکھوالی اور اسے سرفراز و سربلند رکھنے کے لیے لازوال قربانیاں دے رہا ہے ‘ اس کا عزم اورولولہ دیدنی ہے ‘ اپنے عظیم رہنما قائد ملت اسلامیہ آیت اللہ خامنہ ای کی عظیم قربانی دے کر بھی حوصلے نہیں ہارے ‘ یہود و نصاریٰ کوایسا سبق سکھا دیا کہ اس کی ہزارنسلیں یہ سبق نہیں بھولیں گی’ جنگ اپنے عروج پر ہے ‘ جہاں اللہ کی مدد شامل ہو جائے وہاں دنیاوی طاقتیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں مگر ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ فلسطین کی مقدس سرزمیں لہولہو ہوتی رہی’ معصوم بچوں کے لاشے اٹھتے رہے ‘ ماؤں کی آہ و فغاں’ بوڑھوں کا صبر ‘ بہنوں کے سہاگ اجڑتے رہے ‘ بیٹیاں گریہ کرتی رہ گئیں اور ہم

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا!

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

کشمیر جلتا رہا’ بچوں کو نیزوں پر اچھالا جاتا رہا ‘ ہم خاموش تماشائی بنے رہے ۔مگر ہم ایسے گھمبیر اور سنگین حالات میں اپنے وطن عزیز پاکستان کے عوام’ حکومت اور سب سے بڑھ کر اپنی پاک مسلح افواج کو داد تحسین پیش کرتے ہیں کہ جو ابتلا کی اس گھڑی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں’ قوم کا ہر فرد بلاتفریقی سنی و شیعہ سب ایک ہو چکے ہیں اور ناموس اسلام کی خاطر صہیونی طاقتوں کو جذبہ ایمانی کے تحت للکاررہے ہیں کہ اب طاغوتی طاقتیں مٹ کرہی رہیں گی’ اسلام کا بو ل بالا ہو گا ‘ کل تک جو دشمنوں کی ناپاک چالوں میں پھنس چکے تھے آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ

میرا امام ابھی کربلا نہیں پہنچا

میں حر ہوں اورابھی لشکر یزید میں ہوں

اسرائیل اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ‘ ایران کو اللہ کریم نے اس پر غلبہ عطا کر دیا ہے’ اسلام کے دشمنوں کی رو سیاہی ‘ تباہی اوربربادی لکھ دی گئی ہے ‘ مسلم امہ کا اتحاد’ یگانگت اور یکجہتی ابھر کر سامنے آنیوالی ہے ‘ آج پھر الگ سے اسلامی دنیا بنانے کی اشد ضرورت ہے اپنی الگ اسلامی سلامتی کونسل ‘ اپنی علیحدہ معیشت’ اپنی الگ اسلامی سوچ اور فکر ‘ اپنا عالمی اسلامی بینک’ عالمی اسلامی عدالت ‘ اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ‘ جرات اور استقلال یہ ہے وقت کا اہم ترین تقاضا۔قارئین کرام! اب مزید ظلم نہیںسہا جاسکتا ‘ ظالم کے ہاتھ روکنے ہوں گے ‘ سرزمین فلسطین سے معصوم بچوں کی چیخ و پکار اب نہیں سنی جاتی’ لہو میں تر بتر لاشیں نہیں اٹھائی جاسکتیں’ اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور مسلم امہ سلامت تا قیامت رہیں اسلام کو غلبہ حاصل ہو’ اللہ کریم ہمیں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے سچی محبت کی توفیق عطا فرمائے ‘ کالم تمام کرتے ہوئے عرض ہے کہ

معرکہ حق و باطل پھر بپا ہے

اک طرف ہیں جان نثاران حسین ابن علی

دوسری جانب یہودی اور منافق قافلے !

یاد رکھو کل بھی فتح کربلا والوں کی تھی

آج بھی فتح حسین ابن علی والوں کی ہے





Source link

Continue Reading

Today News

مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی سیاست

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بعض اہم اہداف خصوصاً بجلی پیدا کرنے کے مراکز ابھی تک نشانہ نہیں بنائے گئے لیکن ضرورت پڑی تو انھیں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔ایران جنگ خاتمے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہوسکتا ہے تاہم یہ رواں ہفتے ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت طویل جنگ نہیں چاہتی۔روسی صدر پیوٹن نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور ثالثی کی پیش کش کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے نہایت حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات، ایران کی جانب سے جوابی انتباہات اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے اس تنازع کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا بحران بن سکتا ہے جس کے اثرات عالمی نظام، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے مرتب کریں گے۔

 آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسی گزرگاہ کا ذکر سامنے آتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب جنگی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بعد ازاں صورتحال میں معمولی بہتری آنے پر قیمتیں کم ہو کر تقریباً 90 ڈالر تک آ گئیں، لیکن اس اتار چڑھاؤ نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگ یا کشیدگی عالمی معیشت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

 امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ایرانی تیل کے ذخائر پر حملے نہ کرنے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیلی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانا مستقبل میں توانائی کی سیاست کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا یہ نہیں چاہتا کہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے تیل کے وسائل مکمل طور پر تباہ ہو جائیں کیونکہ مستقبل میں یہی وسائل خطے میں توانائی کے توازن اور عالمی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس لیے واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جنگ کی شدت کو اس حد تک نہ بڑھنے دیا جائے جہاں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔دوسری طرف امریکی بحریہ کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار بھی اس خطے میں موجود خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے امریکی نیوی سے درخواست کی تھی کہ انھیں اس حساس راستے سے گزرنے کے لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے لیکن امریکی حکام نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور اس وقت اس طرح کی سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال نے عالمی تجارت اور شپنگ انڈسٹری میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اگر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران پر حالیہ فضائی حملوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف عسکری اور اسٹرٹیجک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ ایران بھی جوابی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس صورتحال میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ تصادم کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کی جانب سے اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ طویل جنگ نہیں چاہتی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسی دوران سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے ایرانی قیادت سے رابطہ کر کے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ روس اس خطے میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات بھی ہیں۔ اس لیے اگر روس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ اس بحران کے حل کے لیے کوئی سفارتی راستہ نکل آئے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کا موقف بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ایران کے عوام اور قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انھوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت ایران کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ پاکستان کا یہ موقف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے جس میں وہ خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور علاقائی امن کے فروغ کی کوشش کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال دراصل عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تصادم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ امریکا خطے میں اپنی اسٹرٹیجک برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے جب کہ ایران خود کو خطے میں ایک اہم اور خودمختار طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ ان تمام مفادات کے ٹکراؤ نے اس خطے کو مسلسل کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑے گا۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی مختلف اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

ایسے حالات میں عالمی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران کو حل کر سکتا ہے،اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت شروع ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف اس جنگ کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت موقف میں کچھ لچک پیدا کریں اور مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی قابلِ قبول حل تلاش کریں۔

آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں۔ موجودہ بحران دراصل ایک آزمائش ہے، نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی، اگر اس مرحلے پر دانشمندی، صبر اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن جائے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کی سیاست غالب رہی تو اس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں ٹریفک حادثات، رواں سال کے 70 روز میں 206 جاں بحق، ہیوی گاڑیوں سے 67 افراد ابدی نیند سوگئے

Published

on



شہر میں ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا حادثات تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ، شہر میں رواں سال کے دوران ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق رواں سال 2026 کے ابتدائی 70 روز میں جاں بحق ہونے والے 206 افراد میں سے 147 مرد، 29 خواتین، 21 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں جبکہ 2080 شہری زخمی بھی ہوئے۔

اس دورانیے میں کراچی شہر میں ہیوی گاڑیوں کے جان لیوا خونی حادثات میں 67 افراد زندگی سے محروم ہوگئے، جن میں سب سے زیادہ 35 حادثات ٹرالر کی ٹکر سے پیش آئے،

ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کے مطابق رواں سال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات میں 1633 مرد ، 336 خواتین ، 81 بچے اور 30 بچیاں زخمی ہوئیں۔

ترجمان کے مطابق رواں سال کے 70 روز میں شہر میں ہیوی گاڑیوں سے ہونے والے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 67 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں سب سے زیادہ 35 جان لیوا حادثات ٹرالر سے پیش آئے۔

واٹر ٹینکر سے 14 افراد، مزدا کی ٹکر سے 7 افراد ، بس کی ٹکر سے بھی 7 افراد جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 4 افراد جاں بحق ہوئے۔

شہر میں ہیوی گاڑیوں سے بڑھتے ہوئے جان لیوا خونی حادثات پر شہریوں میں بھی شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ضلع وسطی کے علاقے عائشہ منزل فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹرالر نے جواں عمر موٹرسائیکل بھائیوں کو کچل کر موت کی ابدی نیند سلادیا۔ متوفین کی شناخت عاطف اور تابش کے ناموں سے ہوئی، دونوں بھائی عید کی خریداری کیلیے گئے تھے۔



Source link

Continue Reading

Trending