Connect with us

Today News

لاہور ہائیکورٹ: بیرون ملک نوکری کے نام پر کروڑوں روپے بٹورنے والے ملزم کی ضمانت خارج

Published

on



لاہور:

لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دے کر شہریوں سے ایک کروڑ 59 لاکھ روپے بٹورنے کے کیس میں ملزم علی رضا کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس وحید خان نے کیس کی سماعت کی، وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خرم عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم علی رضا نے تین افراد کو کینیڈا بھجوانے کے نام پر ایک کروڑ 59 لاکھ روپے وصول کیے، تاہم رقم لینے کے باوجود کسی کو بیرون ملک نہیں بھجوایا۔

وکیل کے مطابق ایسے افراد جو دنیا بھر میں پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں، کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آئی پی ایل میں ٹاس فکسنگ پر شائقین کرکٹ برہم

Published

on


مہذب اور شریف لوگوں کے کھیل کرکٹ کو سیاست اور کرپشن سے ناپاک کرنے والا بھارت تنقید کی زد میں آگیا۔

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ٹاس کے فیصلے کو لے کر مداحوں میں شدید غصہ دیکھنے کو ملا ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی شائقین نے یہ الزام لگایا ہے کہ کچھ ٹیموں کے ٹاس میں جان بوجھ کر ہیر پھیر ہو رہی ہے، جس سے میچز کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

حال ہی میں ممبئی انڈینز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے درمیان ٹاس کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں سکہ زمین پر گرتے وقت کیمرے کا رخ بدل دیا جاتا ہے اور اسے اسکرین پر نہیں دکھایا جاتا۔

کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹاس کا نتیجہ اکثر میچ کے ابتدائی پل میں ٹیموں کی حکمت عملی کو متاثر کرتا ہے، اور کسی بھی غیر شفاف عمل سے پوری لیگ کی ساکھ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

گزشتہ سیزنز میں بھی ٹاس کے نتیجے کو لے کر کئی تنازعات سامنے آئے تھے اور اس بار شائقین نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

آئی پی ایل کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹاس مکمل طور پر شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے اور کسی بھی غیر قانونی مداخلت کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ماہرین کرکٹ کے مطابق اگر ٹاس کے عمل میں کوئی بھی شکایت سامنے آتی ہے تو اس سے لیگ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، اور شائقین کا اعتماد کم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب فاف ڈوپلیسی کی بھی ایک پرانی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ پیٹ کمنز کو مبینہ طور پر ممبئی انڈینز کے خلاف ٹاس کے متنازع فیصلے سے متعلق بتاتے نظر آرہے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اچانک منسوخ

Published

on



صبح کی دھوپ ابھی پوری طرح پھیل بھی نہیں پائی تھی کہ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ایک بڑا دھچکا لگا۔ جعفر ایکسپریس وہ مشہور ٹرین جو بلوچستان کے صحراؤں سے گزرتے ہوئے پشاور تک لوگوں کے خواب، کاروبار اور رشتوں کو جوڑتی ہے، آج کی سروس مکمل طور پر منسوخ کر دی گئی۔

ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریک پر فوری مرمتی کام کی وجہ سے یہ ناگزیر فیصلہ کیا گیا، مگر مسافروں کے چہروں پر مایوسی اور غصے کی لکیریں صاف نظر آ رہی تھیں۔ اسی طرح، پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔

ٹرین میں سوار مسافر گھنٹوں انتظار میں بیٹھے رہے، کچھ تو اپنے گھر والوں کو فون کر کے بتا رہے تھے کہ ’’ابھی نہیں پہنچ سکتا، ٹرین رک گئی ہے۔‘‘

ریلوے حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ بندش صرف ایک دن کی ہے اور کل تک سروس بحال ہو جائے گی، مگر اس ایک دن نے ہی کئی خاندانوں کے منصوبے درہم برہم کر دیے۔ کوئٹہ اسٹیشن پر صبح سے ہی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ٹکٹ ہاتھ میں لیے مسافر کاؤنٹرز کے سامنے قطاروں میں کھڑے تھے۔

ایک بزرگ مسافر حاجی عبدالرحمان نے دل برداشتہ ہو کر کہا کہ بیٹا، میں اپنی بیٹی سے ملنے پشاور جا رہا تھا۔ تین مہینے بعد موقع ملا تھا، اب یہ ٹرین بھی نہیں چل رہی۔ ریلوے والے کہتے ہیں ٹریک کی مرمت ہے، مگر ہمارا کیا بنے گا؟

دوسری جانب نوجوان طالب علم علی حسن نے ایکسپریس کو بتایا کہ میں یونیورسٹی کے امتحان کے لیے پشاور جا رہا تھا۔ اب متبادل کیا کروں؟ بسوں میں بھی رش ہے اور کرایہ بھی ڈبل جبکہ بارشوں کی وجہ سے قومی شاہراہ بھی بند ہے۔ ریلوے حکام کو چاہیے تھا کہ پہلے سے اعلان کر کے متبادل کا بندوبست کرتے۔

دوسری جانب، جیکب آباد میں رک جانے والی ٹرین کے مسافروں کی پریشانی اور بھی زیادہ تھی۔ کچھ لوگ پلیٹ فارم پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے تو کچھ ٹرین کے اندر ہی سو گئے۔ ریلوے اسٹاف صرف اعلانات کر رہا تھا کہ مرمت جلد مکمل ہو جائے گی۔

مسافروں کے مطابق ریلوے مسلسل بحران کا شکار ہے اور یہ صرف جعفر ایکسپریس کا مسئلہ نہیں۔ کراچی جانے والی بولان میل اور چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرینوں کی سروسز پہلے ہی کئی دنوں سے بند پڑی ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسافر اب شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک کی خراب حالت، پرانی لائنز اور کبھی کبھار سیلاب کی وجہ سے ایسی مرمتیں بار بار ضروری ہو جاتی ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ مرمت کے دوران کوئی بڑا حادثہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے، مگر مسافروں کا سوال ہے کہ کیا ہر بار مرمت کے نام پر سروس بند کرنا ہی واحد حل ہے؟

کوئٹہ ڈویژن کے ریلوے حکام نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے، ٹریک کی مرمت ناگزیر تھی۔ تمام متاثرہ مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کر دی جائے گی اور کل صبح تک جعفر ایکسپریس معمول کے مطابق چلے گی تاہم مسافر اس پر مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف رقم واپس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا انہیں فوری متبادل ٹرانسپورٹ، بسوں کا بندوبست یا کم از کم شفاف معلومات چاہیے۔

ریلوے انتظامیہ نے رات بھر مرمت کا کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ریلوے ہیلپ لائن پر رابطہ کریں یا آن لائن پورٹل اور ایپلیکیشن ٹریک مائی ٹرین چیک کرتے رہیں۔

بلوچستان کے مسافر طویل عرصے سے ریلوے انفرا اسٹرکچر کی بہتری، نئی ٹرینوں اور بروقت سروس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج کی یہ منسوخی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر رہی ہے کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، ایسے اچانک فیصلے مسافروں کی زندگی کو متاثر کرتے رہیں گے۔



Source link

Continue Reading

Today News

گیس کی کمی؛ سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

Published

on


گیس کی کمی کے باعث ملک میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ذرائع کے  مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے۔

پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائے گی اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں ۔ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کے لیے کافی ہے، جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے۔

دوسری جانب ایس ایس جی سی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 گیس فیلڈز میں ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس غیر متوقع قلت کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending