Today News
لاہور ہائی کورٹ کا سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائیوں سے متعلق اہم فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انکوائری کے ابتدائی مرحلے میں عدالتی مداخلت قبل از وقت تصور ہوتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ پرانے شوکاز نوٹس واپس لے کر نئی انکوائری شروع کرنا قانون کے مطابق ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ڈی نو انکوائری کو ایک ہی جرم پر دو بار سزا یعنی ڈبل جیوپرڈی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید کہا گیا کہ درخواست گزار پہلے نوٹسز کی واپسی کا فائدہ اٹھا کر بعد میں اسی عمل کو چیلنج نہیں کر سکتے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
Today News
جنگ کا ایندھن! – ایکسپریس اردو
نیویارک پوسٹ نے، اٹھارہ مارچ 2026ء، کو ایک حیرت انگیز تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر موجود ہے، کوئی بھی اسے پڑھ سکتا ہے۔ یہ تجزیہ ہر فہمیدہ انسان کو غور وفکر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی جنگ، خانہ جنگی یا بدحالی کا شکار، حقیقت میں کون لوگ ہوتے ہیں۔ حکمران طبقات اور ان کی اولادیں، ہر ملک میں محفوظ بلکہ خوش وخرم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دور ابتلا آ جائے، تو اپنے پیاروں کو فوراً شورش زدہ علاقے سے نکال کر امریکا، آسٹریلیا، یوکے اور دیگر مغربی پرسکون ممالک میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طبقے کو اشرافیہ کہنا، تو اس لفظ کی توہین معلوم پڑتی ہے۔
یہ قومی وسائل، عہدے، رعب ودبدبہ اور مال و دولت پر جائز اور ناجائز طریقے سے قابض ہونے والا ٹولا ہوتا ہے جو اپنے اپنے ملک کے حساب سے اپنا حلیہ اور بیانیہ ترتیب دینے میں ماہر ہوتا ہے۔ بلکہ ان کی مہارت پر ہر ایک کو آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں بھی یہی معاملہ ہے۔ طاقت کے محور پر قابض طبقے کی اولادیں مغربی ممالک میں پرسکون زندگی گزارتی نظر آتی ہیں۔ مرتا ہمیشہ غریب اور متوسط درجہ کا انسان ہی ہے۔ کبھی حب الوطنی کے نام پر، اور کبھی عقیدے کی سربلندی کے لیے۔ اس نکتہ پر میں بعد میں، گزارشات پیش کرتا ہوں۔ فی الحال نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کی طرف لوٹتا ہوں۔
ہاں، یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایرانی حکومت نے بھی اس رپورٹ کی نفی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی رجیم سے متعلق چار ہزار سے پانچ ہزار افراد امریکا سمیت مغربی ممالک میںقیام پذیر ہیں۔ یہ لوگ مغرب میں آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے اپنے ملک میں اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر، اداریہ یا کالم نہیں دیکھا۔ یہاں تو ایرانی رجیم کی ’’امریکا دشمن پالیسی‘‘ کی دھوم ہے۔ ہم اس قدر جذباتی لوگ ہیں کہ اپنا اپنا سچ گھڑ لیتے ہیں اور اپنی رائے بدلنے پر رضامند نہیں ہوتے۔
چلیے، اب نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں۔ علی لاریجانی شہید ہوچکے ہیں، وہ ایرانی رجیم کے اہم ترین رکن تھے ۔ انھوں نے اپنے ملک کے لبرل طبقہ کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی تھی۔ لیکن المیہ دیکھیں کہ ان کی صاحب زادی فاطمہ آردیشر لاریجانی، ڈاکٹر ہیں اور Emory University، جو Atlanta میں واقع ہے، وہاں پریکٹس کرتی رہی ہیں۔بلا آخر انھیں کچھ عرصے قبل اس عہدے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ امریکا میں اس پر احتجاج ہوا کہ ایسی رجیم جو امریکا کی مخالف ہے، اس رجیم کے اعلیٰ عہدیدار کی صاحبزادی امریکا میں کیسے مقیم ہے۔ ابھی حال ہی میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی کی امریکا میںرہنے کی خبر آئی ہے کہ انھیں امریکا بدر کردیا جائے گا۔
سوال یہ بھی ہے اگر امریکا واقعی ’’شیطانِ بزرگ‘‘ ہے تو تعلیم اور اچھے مستقبل کے لیے، اولاد کا امریکا جانا، کیا غیرمناسب نہیں ہے؟ آج ایران میں عام ایرانی کس حال میں ہے؟اب آگے کیا لکھوں۔ لوگ ناراض نہ ہو جائیں۔ ذرا آگے چلیے۔ سابقہ ایرانی صدر، محمد خاتمی کی صاحبزادی بھی امریکا میں ہیں، خاتمی، 1997ء سے لے کر 2005ء تک ایران کے صدر رہے۔ صدر بننے سے پہلے، پورے دس برس، حکومتی وزیر رہے۔ آج بیاسی برس کے ہیں اور تہران میں موجود ہیں۔ ان کی صاحبزادی نیویارک کے ایک یونین کالج میں ریاضی کی پروفیسر ہیں۔ ایک محترم اور ایران کے بہت قد آور عالم ہیں، ان کی بیٹی University of Illinois میں پروفیسر ہیں۔ ان کے شعبہ کا نام Department of Nuclear, Plasma and Radiological Engineering۔
میرا ایک سوال ہے۔ اگر آپ کو اپنے نظریات پر اعتماد ہے اور آپ امریکا کو دنیا میںظالم اور شیطان گردانتے ہیں تو اولادوں اور رشتہ داروں کے لیے امریکا ہی کیوں! کیا کسی بھی پسماندہ یا ترقی پذیر ملک کا عام باشندہ اپنی اولاد کو دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں جائز طریقے سے منتقل کر سکتا ہے۔ نہیں صاحب! عام شہریوں کو ترقی یافتہ ملکوں میں جانے کے لیے ماں کا زیور فروخت کرنا پڑتا ہے یا زندگی ہتھیلی پر رکھ کر سمندر کی لہروں پر سوار ہونا پڑتا ہے۔ مگر جب حکمرانوں کی اپنی آل اولاد کے مستقبل کی بات آتی ہے تو پھر امریکا اور یورپ سے بہتر کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اب اس ذہنی اور فکری رویے کو کیا نام دیا جائے؟ یہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
اس پر میں مزید کیا عرض کروں؟ عرض کرنے کا مقصد بہت سادہ ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک ملک کا نہیں ہے ، مسلمان ممالک کے تمام حکمران طبقے، اپنی اولاد اور دولت کو امریکا اور مغربی یورپ میں ایک بہتر طرز زندگی کے لیے منتقل کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کا بھی یہی حال ہے۔ کسی ایک بڑے یا چھوٹے سیاست دان یا سرکاری اہلکار کا نام فرما دیجیے جنھیں موقع ملا اور انھوں نے اپنی اولاد کو مغربی ممالک میں نہ بھجوا دیا ہو۔ کم ازکم مجھے تو اردگرد کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ مگر ہمارے ملک میں ایک ذہنی دیانت داری ضرور موجود ہے۔ یہاں کوئی چھپاتا نہیں ہے کہ اس کے اہل وعیال امریکا یا لندن میں ہیں۔ ہاں، ریٹائرمنٹ تک یہ سچ ضرور راز میں رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس، سرکاری ملازمت کے دورانیہ میں، کسی بھی مغربی ملک کی شہریت ہے۔ دراصل ایک حددرجہ کڑوا سچ یہ ہے کہ تنازعات، جنگوں، خانہ جنگیوں اور خونی جھگڑوں میں مرنے کے لیے عام آدمی کی اولاد کو بطور چارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی شہادت پر رسمی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ مگر ذرا تحقیق فرما لیجیے، ان میں کوئی بھی کسی حکمران یا طاقت ور انسان کا بچہ نہیں ہوتا۔ ان کے گھر سے کبھی جنازے نہیں اٹھتے۔ بیروزگاری اتنی کڑی ہے کہ غریب انسان کے بچوں کے لیے رزق خاک ہونا عام سی بات ہے۔
کسی بھی ادارے میں معمولی نوکری سے خیر سہولتیں ضرور حاصل ہو جاتی ہیں مگر موت کی روزانہ دستک، سنائی ضرور دیتی ہے۔ اور معاشی مجبوری کی بدولت، اس خون ریز نظام سے نکلا بھی نہیں جاتا۔ اور پھر اچانک کوئی انجان بم، دھماکہ یا گولی، زندگی کی ڈور توڑ دیتی ہے۔ پر، حضور! مارا صرف غریب یا متوسط طبقے کا فرد ہی جاتا ہے۔ یہ انھی کا مقدر ہے۔ دولت مند یا اقتدار سے چمٹے ہوئے لوگ تو اپنی اولادوں کو مغربی ممالک میں منتقل کر چکے ہوتے ہیں۔ ہاں ہر سانحہ پر آب دیدہ ہو کر بیان بازی کا شعبدہ ضرور دکھاتے ہیں۔
تقریباً ہر مسلم ملک کی اشرافیہ اپنے اہل خانہ کو امریکا اور مغربی یورپ میں رکھتی ہو، تو ہمیں اپنے حکمرانوں سے گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں! مرنے کے لیے تو مسکین عوام حاضر ہیں۔
Today News
جنگ کے منفی اثرات – ایکسپریس اردو
خطے کے کچھ ممالک نے امریکا سے مل کر آبنائے ہرمز بطور طاقت کھلوانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی ایران کے خلاف خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کسی بھی مسلم ملک کا ہمدرد نہیں بلکہ وہ اپنی چال بازیوں سے مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کا خواہشمند ہے ، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے دونوں نے مل کر ایران پر حملے کیے اور ایران کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امریکا، ایران سے بہت دور جب کہ اسرائیل ایران کے قریب ہے جو ایران کی رینج میں ہے۔
اس لیے ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کیے اور اسرائیل کو زبردست مالی نقصان پہنچایا اور امریکا کو بھی جواب دیا اور خطے میں واقع امریکی اڈوں اور ممکنہ اہداف پر حملے کیے اور وہاں بھی زبردست نقصان پہنچایا جس میں کچھ جانی نقصان بھی ہوا مگر یہ جانی نقصان مقامی عرب باشندوں کا کم اور وہاں موجود ایشیائی باشندوں کا زیادہ ہوا جو وہاں حصول روزگار کے لیے رہ رہے تھے، جن میں کچھ پاکستانی بھی شامل تھے ۔
ایک عشرے قبل راقم کو دبئی میں ملازمت کرنے والے ایک بھارتی ہندو نے بتایا تھا کہ یو اے ای میں عربوں سے زیادہ بڑی تعداد بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے عوام کی ہے مگریو اے ای میں غیر ممالک سے آنے والے غیر مسلم ٹیکنالوجی میں زیادہ ماہر اور زیادہ دولت مند ہوتے ہیں اس لیے ان کو وہاں عزت بھی زیادہ دی جاتی ہے۔ کیوں کہ وہ باہر سے ڈالر اور دیگر یورپین کرنسی لے کر آتے ہیں جو وہ وہاں سیر وتفریح پر خرچ کرتے ہیں اور واپسی میں شاپنگ بھی کرتے ہیں جس سے وہاں کاروبار کو فروغ ملتا ہے ،دبئی نے غیر ملکیوں کی سہولیات کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور تفریح کے متعدد خوبصورت مقامات بنا رکھے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ دبئی آتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم دبئی کی بہت بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے ۔
دبئی سیاحوں کے لیے انھیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرتا ہے اور دبئی کو سیاحت کا اہم مرکز بنا چکا ہے۔راقم کو متعدد بار دبئی جانے کا موقع ملا اور یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ بھارت و بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی مہارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے ہیں ۔ دبئی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے دوران بنگلہ دیش سے آنے والوں کو پاکستانیوں کے مقابلے میں جلد فارغ کیا گیا ۔ پاکستانیوں کی یو اے ای میں اہمیت کم ہونے کے ذمے دار پاکستان کے حکمران رہے ہیں جن کی امارات میں ذاتی جائیدادیں اور کاروبار ہیں اور حکومت سے فارغ ہونے کے بعد پاکستانی سیاست دان دبئی میں رہتے آئے ہیں اور یہ ہی اقتدار میں رہ کر یو ترقی یافتہ ملکوں سے امداد و قرضے مانگ مانگ کر پاکستان کی بے عزتی کے ذمے دار ہیں کیونکہ بھکاریوں اور مقروضوں کی کہیں عزت نہیں ہوتی بلکہ ان کی توہین کی جاتی ہے۔
پاکستان امیر عرب ملکوں کا مقروض ہے جب کہ یو اے ای کی بھارت سے قربت بڑھ رہی ہے۔ یو اے ای نے بھارت سے دفاعی معاہدے بھی کیے۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کئی ملکوں کو پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر پر بھی تحفظات ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ گوادر کی ترقی سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا اور دنیا کو تجارت کے لیے نئی بندرگاہ میسر آجائے گی۔ بعض ملکوں کو یہ بھی خطرہ ہے کہ گوادر ان کی بندرگاہوں کی جگہ نہ لے لے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گوادرکبھی دنیا میں کسی کی جگہ اس لیے نہیں لے سکتا کہ پاکستان کا مقصد گوادر بندرگاہ کی ترقی ہے مگر گوادر میں دیگر ملکوں جیسی سہولیات ،امن اور روزگار کا تصور بھی ممکن نہیں ۔یو اے ای بھارت کو ترجیح اور اہمیت دیتا ہے کیونکہ بھارت یو اے ای کا محتاج ہے۔
یو اے ای کے حکمران اپنی چھٹیاں گزارنے اور موسمی شکار کے لیے پاکستان ضلع رحیم یارخان کے علاقے میں نجی طور پر آتے ہیں، یہ ان کا نجی دورہ ہوتا ہے سرکاری نہیں ۔ یو اے ای کے حکمران پاکستان کے سرکاری دورے بھی کم کرتے ہیں جب کہ پاکستانی حکمران آئے دن یو اے ای جاتے رہتے ہیں۔حالیہ ایران جنگ سے دبئی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور جو لوگ دبئی جانے کو اعزاز سمجھتے تھے‘ وہ بھی اس وقت پریشان ہیں۔ یواے ای کی کوشش ہے کہ ہرمز بندرگاہ کھول دی جائے کیونکہ اس سے اس کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ یو اے ای ایران جیسی دفاعی صلاحیت کا ملک نہیں وہ کاروباری اور سیر و تفریح کا ملک ہے ۔
Today News
ملکی دولت چند ہاتھوں تک محدود، معاشی نظام کی تشکیل نو ناگزیر
اسلام آباد:
پاکستان میں جاری معاشی بحث عموماً شرح سود، مالی خسارے، ٹیکس نظام اور قرضوں کے گرد گھومتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور ساختی نوعیت کا ہے۔
ایک ایسی معیشت جو بنیادی طور پر قرض اور یقینی منافع پر قائم ہو، نہ صرف دولت کو چند ہاتھوں تک محدود کر دیتی ہے اور طویل مدتی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل فریم ورک موجود ہے جو اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے اور جس میں استحصالی قرضوں کی حوصلہ شکنی، رسک شیئرنگ کی حوصلہ افزائی، مشکلات کا شکار قرض داروں کیلیے نرمی اور مالی معاملات میں شفافیت پر زور دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق دولت میں اضافہ صرف پیداواری سرگرمیوں کے ذریعے ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی نظام میں زیادہ تر بوجھ قرض لینے والوں پر ہوتا ہے جبکہ قرض دینے والے محفوظ رہتے ہیں، معاشی سست روی کی صورت میں کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کو حقیقی پیداواری سرگرمیوں سے جوڑنا ضروری ہے، جب سرمایہ بغیر کسی عملی شراکت کے منافع پیدا کرتا ہے تو معیشت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس، شراکت داری پر مبنی سرمایہ کاری کاروبار کو فروغ دیتی اور معیشت کو مستحکم بناتی ہے، سخت قرض کی شرائط اکثر دیوالیہ پن اور بے روزگاری کا باعث بنتی ہیں، جبکہ ری اسٹرکچرنگ اور مہلت دینے جیسے اقدامات معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شفافیت، دستاویزی معیشت اور مضبوط قانونی نظام سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان کو درپیش چیلنجز میں بلند عوامی قرضہ، کم سرمایہ کاری، کمزور صنعتی ترقی اور دولت کا ارتکاز شامل ہیں، پاکستان کو قرض پر مبنی نظام سے نکل کر ایک شفاف، منصفانہ اور شراکت داری پر مبنی معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash