Connect with us

Today News

لاہور:3 کروڑ روپے سے زائد فراڈ کیس میں ڈی ایس پی اظہر نوید خان کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

Published

on


کینٹ کچہری عدالت لاہور میں پولیس ڈی ایس پی اظہر نوید خان کے خلاف تین کروڑ روپے سے زائد فراڈ کیس میں پیشرفت ہوئی ہے۔ عدالت نے تفتیش کے لیے ملزم ڈی ایس پی اظہر نوید خان کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

عدالت نے ایک صفحے پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق ملزم کو ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف شہری حسام خان کی مدعیت میں تین کروڑ چالیس لاکھ روپے فراڈ کا مقدمہ تھانہ ڈیفنس بی میں درج ہے جبکہ تفتیشی حکام نے ملزم سے تفتیش اور خرد برد کی گئی رقم کی برآمدگی کے لیے دس دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملزم سے تفتیش مکمل کر کے اسے 18 مارچ کو دوبارہ پیش کیا جائے۔

اس دوران ملزم پولیس ڈی ایس پی اظہر نوید خان کو تھانے میں پروٹوکول دیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ڈکی بھائی سے رشوت لینے والے این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کو رہا کرنے کا حکم

Published

on



لاہور ہائیکورٹ نے ڈکی بھائی سے رشوت وصول کرنے اور اختیارت کا ناجائز استعمال کرنے والے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سابق ایڈیشنل ڈایکٹر این سی سی آئی اے چوہدری سرفرازکی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس عبہر گل خان نے کی۔

عدالت نے ضمانت کو منظور کرتے ہوئے چوہدری سرفراز کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ دیگر ملزمان کی ضمانتیں پہلے ہی ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد اختیارات کا ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزام میں این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت دیگر افراد کو معطل کر کے مقدمہ درج اور پھر گرفتار کیا گیا تھا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل: ویسٹ انڈیز کے اہم فاسٹ بولر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے

Published

on


ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے جاری پیغام کے مطابق الزاری جوزف کو آسٹریلیا کے اسپینسر جانسن کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپینسر جانسن نجی وجوہات کے سبب پی ایس ایل کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسپینسر جانسن کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب جمع کرا دیا

Published

on


سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق اگست 1979 میں کے ڈی اے نے گل پلازہ کا ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان جاری کیا تھا تاہم ادارے کے ریکارڈ روم میں اس کی اصل ابتدائی فائل دستیاب نہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر گل پلازہ میں کتنی منزلیں منظور کی گئیں اس بارے میں بھی ریکارڈ موجود نہیں۔

جواب کے مطابق 1998 میں نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلورز کی منظوری دی گئی تھی اور اسی سال پلان کے تحت 1043 دکانیں منظور کی گئیں۔

ایس بی سی اے نے بتایا کہ 2003 میں ایمنسٹی اسکیم 2001-2002 کے تحت گل پلازہ کی 1102 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا جبکہ اس سے قبل 1998 میں 115 سب اسٹینڈرڈ دکانوں کی اندرونی تقسیم کی منظوری بھی دی گئی تھی، جو بعد میں ریگولرائزیشن میں شامل ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ 2003 میں گل پلازہ کی 59 مزید دکانیں شامل کی گئیں جن میں 26 سب اسٹینڈرڈ تھیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کے راستوں سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ عمارت کی آخری انسپیکشن 22 فروری 2003 کو ریگولرائزیشن کے دوران کی گئی تھی۔ معائنے کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آئیں تاہم ایمنسٹی اسکیم کے تحت انہیں ریگولرائز کر دیا گیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق 1992 میں گل پلازہ کے خلاف شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا اور عمارت میں سیڑھیاں مختلف مقامات پر اور مسلسل کنفیگریشن میں تعمیر کی گئی تھیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں جبکہ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے۔

ایس بی سی اے کے مطابق تکمیل یا ریگولرائزیشن کے بعد عمارت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بلڈر اور سوسائٹی پر ہوتی ہے اور عمارت مکمل ہونے کے بعد ادارہ نگرانی نہیں کرتا، اسی لیے موجودہ دکانوں کی درست تعداد معلوم نہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending