Today News
لبنان: اقوامِ متحدہ امن مشن کے دو اہلکار ہلاک
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے مزید دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
یونائیٹڈ نیشن انٹیرم فورس اِن لبنان (یونیفل) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ پیر کے روز جنوبی لبنانی گاؤں بنی حیان کے قریب ’نامعلوم نوعیت کے دھماکے نے ان کی گاڑی کو تباہ کر دیا‘، جس کے نتیجے میں دو امن اہلکار ہلاک ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ کے اس مشن کے مطابق ایک تیسرا اہلکار شدید زخمی ہوا جبکہ چوتھا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا۔
یونیفل کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امن کے لیے کام کرتے ہوئے کسی کی بھی جان نہیں جانی چاہیے۔
یہ اعلان اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب یونیفل نے بتایا تھا کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان کے گاؤں عادشیت القُصیر کے قریب ایک الگ واقعے میں یونیفل کی پوزیشن پر ایک گولہ گر کر پھٹا جس کے نتیجے میں ایک امن اہلکار ہلاک ہو گیا۔
مشن کا کہنا ہے کہ اس گولے کے اصل ماخذ کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
Source link
Today News
افغانستان، دہشت گردی اور عالمی ضمیر
تاریخ اقوام عالم شاہد ہے کہ جب کوئی ملک اپنی انتظامی اور سفارتی حکمت عملی کھو بیٹھتا ہے تو اس کا بین الاقوامی تشخص دنیا کے سامنے سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد 2818 محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی ایک بار پھر گونجتی ہوئی صدا ہے۔
ایک ایسی صدا جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل دہرائی جا رہی ہے، مگر جس کا عملی اثر اب تک محدود ہی دکھائی دیتا ہے۔ 1999 میں منظور ہونے والی قرارداد 1267 سے لے کر آج تک، افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کی نوعیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا مسئلہ صرف جغرافیہ کا ہے، یا پھر حکمرانی، نظریات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ امتزاج نے اس بحران کو مستقل شکل دے دی ہے؟
1999 کی قرارداد 1267 میں طالبان حکومت کو القاعدہ جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینے پر واضح طور پر موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری نے ایک متفقہ مؤقف اپنایا کہ افغان سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عزم کمزور پڑتا گیا، یا یوں کہیے کہ زمینی حقائق اس عزم کے برعکس ثابت ہوتے رہے۔ آج 2026 میں، قرارداد 2818 اسی خدشے کو نئے الفاظ میں دہرا رہی ہے کہ داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ بدستور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں۔
یہ تسلسل کسی ایک واقعے یا پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک گہرے اور مستقل مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ افغانستان، اپنی جغرافیائی حیثیت، تاریخی تناظر اور سیاسی عدم استحکام کے باعث طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم عنصر وہاں کی داخلی حکمرانی کا بحران ہے۔ طالبان کی واپسی کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہ عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمے دار ریاستی کردار ادا کریں گے، لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 2818 دراصل اسی مایوسی کا اظہار ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ، تربیت گاہ یا معاونت کے مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ مختلف عسکریت پسند گروہ نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق وہ اپنی آپریشنل صلاحیت بھی بڑھا رہے ہیں۔
یہ امر نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ طالبان قیادت اس تمام تر صورتحال میں ذمے داری قبول کرنے کے بجائے ایک دفاعی اور بعض اوقات جارحانہ بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو بیرونی مداخلت یا جارحیت قرار دینا، اور ساتھ ہی شہری نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ افغانستان کی داخلی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو حکمرانی کا بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت پر عائد پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ طالبان حکومت اب بھی ایک جامع اور شمولیتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ عوامل طالبان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے وعدوں پر شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔
در حقیقت افغانستان کا مسئلہ محض دہشت گردی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت بحران ہے جس میں سیکیورٹی، حکمرانی، انسانی حقوق اور علاقائی سیاست سب شامل ہیں۔ قرارداد 2818 اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ دنیا اب بھی افغانستان کو ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے نہ کہ ایک مستحکم اور ذمے دار ریاست کے طور پر، تاہم یہ تاثر تبدیل کیے بغیر نہ تو افغانستان عالمی برادری کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
اب یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ عالمی برادری کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف قراردادیں منظور کرنا کافی ہے یا پھر ایک مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ محض بیانات اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع اپروچ درکار ہے جس میں سفارتی دباؤ، اقتصادی مراعات، اور علاقائی تعاون سب شامل ہوں۔ ساتھ ہی، افغانستان کے اندر ایک ایسا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کرے۔
پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ سرحد پار دہشت گردی، مہاجرین کا مسئلہ، اور علاقائی استحکام جیسے عوامل براہِ راست پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی پالیسیوں میں توازن، حقیقت پسندی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ ایک طرف سیکیورٹی خدشات کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے، تو دوسری طرف سفارتی سطح پر افغانستان کے ساتھ رابطے کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرارداد 2818 ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلاتی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔ یہ ایک جاری بحران ہے، جو وقتاً فوقتاً نئی شکلوں میں سامنے آتا رہے گا اگر اس کے بنیادی اسباب کو دور نہ کیا گیا۔ طالبان حکومت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی،موقع اس لیے کہ وہ عالمی برادری کا اعتماد بحال کر سکتی ہے، اور امتحان اس لیے کہ اگر وہ اس بار بھی ناکام رہی تو افغانستان ایک بار پھر تنہائی، عدم استحکام اور بداعتمادی کے دائرے میں قید ہو جائے گا۔اب دنیا بدل چکی ہے، مگر افغانستان کے حوالے سے خدشات اب بھی وہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرائے گی، یا پھر کوئی نیا راستہ تلاش کیا جائے گا؟
Today News
سونے کے انڈے دینے والی چڑیا
بائیں شائیں تو ہوتی رہیں گی یہ کشمیر یہ یک جہتی، یہ اسرائیل یہ امریکا بھی چلتے رہیں گے۔یہ بانی، یہ وژن، یہ سیاست ،یہ جمہوریت، یہ وزیر مشیر معاون اور ان کی پیاری خوشخبریاں بھی رہیں گی اور ان پر ہماری دانائی دانشوری کے طومار بھی ایسے چلتے رہیں گے۔
تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جاکر دل وجاں اور
آج چلیے تھوڑی بہت قصہ کہانی کرلیتے ہیں۔ ایک بڑی اچھی سی پیاری سی راج دلاری سی کہانی یاد آرہی ہے لیکن کہانی تو کہانی ہوتی ہے کہانی میں تاریخ یا مقام وغیرہ نہیں ڈھونڈے جاتے۔اس میں بادشاہ ہوتے ہیں شہزادے شہزادیاں ہوتی ہیں دیو پریاں بھی ہوتی ہیں، جادوگر اور ساحر بھی ہوتے ہیں لیکن مقامات اور زمانے نہیں ہوتے کہ یہ کب ہوا تھا کہاں ہوا تھا،مثلاً ایک زمانے سے ہم پرستان کی کہانیاں سنتے ہیں لیکن یہ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ پرستان کہاں ہے، کس طرف ہے، وہاں کیسے آیا جاتا ہے، علی بابا کہاں تھا وہ چالیس چوروں کا غار کہاں تھا اور وہ اس کا کوڈ’’کھل جا سم سم‘‘ کیوں تھا اور اس میں یہ اتنی تاثیر اور حساسیت کیسے تھی۔پھر وہ چالیس چور کیا ہوا ان کا غار کیا ہوا، ٹھیک ہے بعض لوگ بعض کہانیوں میں پوچھ لیتے ہیں کہ گل نے صنوبر کے ساتھ کیا کیا تھا اور صنوبر نے گل کے ساتھ کیا کیا لیکن پھر بھی کہانی کہانی ہوتی ہے۔مطلب یہ کہ آپ کو آم کھانے سے غرض ہونا چاہیے پیڑ گننے سے نہیں۔کہانی سننے والوں کو یہ کہنے کی تو اجازت ہوتی ہے کہ’’پھرکیا ہوا‘‘ لیکن یہ اجازت ہر گز نہیں کہ کیوں ہوا،کیسے ہوا اور کہاں ہوا، کب ہوا کیسے یہ غصب ہوا۔
اب ہم جو کہانی سنانا چاہ رہے ہیں۔اس میں ایک تھی چڑیا۔اب یہ پوچھنا آپ کا کام نہیں کہ وہ چڑیا کہاں تھی۔تو ایک تھی چڑیا جو سونے کے انڈے دیتی تھی اب اگر سننے والا یہ پوچھنا شروع کردے۔کہ کیوں؟ آخر وہ سونے کے انڈے کیوں دیتی تھی کیا اس کے اندر سونے کی کان تھی یا کوئی سنار بیٹھا تھا جو سونے کے انڈے بناتا تھا۔یا یہ کہ وہ انڈے کتنے کتنے گرام یا تولے کے ہوتے تھے یا اس وقت بازار میں سونے کا بھاؤ کیا تھا۔بس اتنا آپ کے لیے کافی ہے کہ وہ جو چڑیا تھی وہ سونے کے انڈے دیتی تھی عام انڈے نہیں۔ظاہر ہے کہ جب وہ سونے کے انڈے دیتی تھی تو شکاری بھی اس کے پیچھے لگے ہوں گے جیسے لیلا کے پیچھے لگے ہوتے تھے اور اس بیچاری کو گانا چڑا تھا کہ
لیلیٰ میں لیلیٰ ایسی ہوں لیلیٰ
ہر کوئی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا
تو بہت سے شکاری اس چڑیا کے پیچھے لگے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ اس چڑیا کو پکڑ کر اپنے پنجرے والی مُنیا میں بندکردیں۔یعنی اسے قفس میں اسیر کرکے اس کے انڈے حاصل کریں۔لیکن ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں۔
اب اپنے ہاں لیجیے کتنے ہیں جو اس ’’مینڈیٹ‘‘ نام کی چڑیا کو شکار کرنے نکلتے ہیں اور اسے پکڑنے اور اپنے پنجرے کا اسیر کرکے اس کے انڈوں کے املیٹ۔خاگینہ اور برمی کھانا چاہتے ہیں یا ٹوکریوں میں جمع کرکے بچنا چاہتے ہیں لیکن
ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر
مے ہے اسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
ہاں تو اس سونے کے انڈے دینے والی چڑیا کے بھی بہت سارے شکاری تھے لیکن بازی صرف ایک شکاری لے گیا کہ اس نے چڑیا کو شکار کرنے کی بجائے خود کو اس کا شکار بنایا یا ایسا پوز کیا ایک شکاری سب پر حاوی نکلا۔اس نے چڑیا اور اس کی ماں کو یقین دلایا کہ میں تو صرف چڑیا کی چہچہاہٹ کا عاشق ہوں اس کے انڈوں کا نہیں۔چڑیا بے شک اپنے ہی پنجرے میں رہے اور انڈے دیا کرے، میں اس کے انڈوں کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں، صرف اس کے ساتھ اس کے پنجرے میں بیٹھا رہوں گا۔اسے دیکھتا رہوں گا اور پیاری پیاری میٹھی میٹھی سریلی چہچہاہٹ سنتا رہوں گا، بس
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑجائے
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
اس کا یہ پینترہ کامیاب ہوا اور اسے چڑیا کی قربت ہم نشینی ہم نفسی بلکہ ہم قفسی میسر آگئی، ایک شکاری سب پر حاوی ہوگیا۔لیکن یہ بات نہ چڑیا کو معلوم تھی نہ کسی اور کو بلکہ شکاریوں کو بھی نہیں جو اسے اپنے چند خاص نجومیوں سے حاصل ہوئی تھی کہ چڑیا صرف سونے کے انڈے نہیں دیتی بلکہ اس میں ایک اور گُن بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی اس کا‘‘سر‘‘ کھائے تو وہ بادشاہ بنے گا۔اب چڑیا تو اس کے دسترس میں تھی لیکن اگر ایسے ہی پکڑکر ذبح کرتا اور اس کا سر بھون کر یا پکا کر کھاتا تو الزام اس پر آتا۔یعنی وہ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ نہ سیخ جلے نہ کباب۔چنانچہ اس نے چند شکاریوں کو گانٹھ لیا اور ان کو یہ جھانسہ دیا کہ تم کو اس کے انڈے دے دوں گا۔
شکاری راضی ہوگئے ان میں بڑے گھاگ شکاری اور نہایت ہی ماہر نشانہ باز تھے، اس لیے انھوں نے بڑی دور سے کسی خفیہ مقام سے ایسا ٹھیک ٹھیک نشانہ لگاکر’’تیر‘‘مارا کہ مہا بھارت کے ارجن اور درون اچاریہ بھی حیران رہ گئے ہوں گے۔ ارجن مہابھارت کا ایک پانڈو تھا اور اسے اس کے استاد درون اچاریہ نے بلا کا ماہر تیرانداز بنایا تھا۔ بیچ میں یہ کہانی آگئی ہے تو اسے بھی سن لیجیے۔جب مشہور و معروف خاتون شہزادی درویدی کا سوئمبر ہورہا تھا تو اس سوئمبر کی شرط یہ تھی کہ نیچے تیل کی کڑاھی میں دیکھ کر اوپر ایک گھومتی ہوئی مچھلی کی آنکھ میں تیر مارا جائے اور ارجن نے یہ کردکھایا یہاں بھی۔ایسے ہی ایک ماہر تیرانداز نے سونے کی چڑیا کو تیرماردیا۔ہاہا کار مچی، بہت شور شرابا ہوا، بہت سارے ماہرین نے تیرانداز کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن تیرانداز کا پتہ نہیں چلا۔ یہاں وہاں کچھ زندہ مردہ لوگوں کے نام لیے گئے لیکن پتہ نہیں چلا۔چنانچہ چڑیا کے ہم نشین شکاری نے آنسو بہابہا کر نہایت دکھ کے ساتھ اس کا سربھون کرکھالیا۔اب اگر آگے بھی پوچھیں گے کہ پھر کیا ہوا۔تو آپ سے بڑا سٹوپڈ اور کوئی نہیں۔ وہی ہوا جو شکاری نے چاہا۔اور کیا؟
تلاش منزل جاناں تو اک بہانہ تھا
تمام عمر ’’میں‘‘اپنی طرف’’روانہ‘‘ تھا
Today News
اسرائیل کے سیاہ فام یہودی
یہ درست ہے کہ اسرائیل آئینی طور پر خالص یہودی ریاست ( جیوش ہوم لینڈ ) بتائی جاتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی انیس فیصد عرب آبادی سے درجہِ دوم کا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں سے درجہ سوم اور چہارم کا سلوک سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مگر اسی اسرائیلی آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ملک ان تمام یہودیوں کی محفوظ آماجگاہ ہے جو دنیا میں کہیں بھی آباد ہیں۔وہ جب چاہیں اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں۔انھیں اسرائیل میں اترتے ہی بلا امتیازِ رنگ و نسل و خطہ مساوی سماجی و قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔ کیا واقعی یہ سچ بھی ہے ؟
اسرائیل میں دو طرح کے یہودی آباد ہیں۔ایک وہ جو روس ، مشرقی و مغربی یورپ اور شمالی امریکا سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے۔انھیں اشکنازی یہودی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ جنھوں نے افریقہ ، عرب اور بھارت و پاکستان و وسطی ایشیا سمیت غیر مغربی دنیا سے ہجرت کی۔انھیں سفاری یہودی کہا جاتا ہے۔
اسرائیل کے قیام سے پہلے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک پرجوش نوجوان رہنما زیوو جیبوٹنسکی نے یہودی مراجعت کے نظریے کے تحت ارگون نامی مسلح آباد کار گروہ کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اسرائیل کے قیام سے آٹھ برس قبل اگست انیس سو چالیس میں جیبوٹنسکی کا انتقال ہو گیا۔مگر ان کا شمار اسرائیلی ریاست کے ’’ فاؤنڈنگ فادرز ‘‘ میں ہوتا ہے۔
جیبوٹنسکی ان تمام رہنماؤں کا نظریاتی گرو سمجھا جاتا ہے جنھوں نے بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی بن گوریان کی لیبر پارٹی کیبرعکس صیہونیت ، الٹرا نیشنل ازم اور انتہائی دائیں بازو کے خیالات سے لبریز لیخود جماعت کی بنیاد رکھی۔ اس انتہا پسند مذہبی قوم پرستی نے مینہم بیگن ، ایتزاک شمیر اور نیتن یاہو جیسے رہنما پیدا کیے۔مگر یہ امر محض حسنِ اتفاق نہیں ہے کہ اسرائیل میں آج تک کوئی بھی غیر اشکنازی وزیرِ اعظم نہ بن سکا ۔
جیبوٹنسکی نے نوے برس پہلے کہا تھا کہ ’’ خدا کا شکر ہے کہ تہذیبِ مشرق سے ہم یہودیوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ہمارے بہت سے ناخواندہ بھائی ( عرب ، ایشیائی و افریقی یہودی ) صدیوں پرانے فرسودہ رسوم و رواج کو مشرقیت کا نام دیتے ہیں مگر ہمیں ان کا قبلہ درست کرنا پڑے گا۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم انھیں ابھی سے اچھی تعلیم بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی نام نہاد مشرقی دقیانوسی سے نجات پا کر اچھے شہری بن سکیں ( یورپی یہودیوں کی طرح )۔
ہم بہت پہلے کسی مضمون میں صراحت کر چکے ہیں کہ صیہونیت کے نظریے نے روس ، مشرقی و مغربی یورپ میں آباد اشکنازیوں کے ہاں جنم لیا۔اس نظریہ کو دستاویزی شکل دینے والے تھیوڈور ہرزل کا تعلق ہنگری سے تھا اور اس کی صدارت میں سوئس شہر باسل میں اگست اٹھارہ سو ستانوے میں منعقد ہونے والی پہلی صیہونی کانگریس کے دو سو مندوبین میں غالب اکثریت اشکنازیوں کی تھی۔یعنی ابتدائی زمانے سے ہی صیہونیت کا غیر یورپی دنیا میں آباد یہودیوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
مشرق میں آباد یہودیوں کے برعکس یورپی یہودی نہ صرف دولت مند تھے بلکہ اس دولت کے سبب ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی یورپ کے ہر دربار اور حکومت میں تھا۔بینکاری نظام پر ان کی گرفت کے سبب ہر یورپی حکومت ان کی مقروض یا احسان مند تھی۔حتی کہ سترہ سو چھہتر میں جب ریاستہائے متحدہ امریکا کا جنم ہوا تو اس کی معاشی رگوں میں بھی یہودی قرضہ گردش کر رہا تھا۔ اس بارے میں بھی ہم سابقہ مضامین میں تفصیلی روشنی ڈال چکے ہیں۔
یورپ میں نازی ہالوکاسٹ سے متاثر ہونے والے یہودی بھی اشکنازی تھے۔چنانچہ اسرائیل میں روزِ اول سے ہی اشکنازیوں نے اپنی مظلومیت اور صیہونی نظریے کے پھیلاؤ میں سرگرم حصہ لینے کی بنیاد پر جس مملکت کی بنیاد رکھی وہاں نسلی تفریق کی غیر اعلانیہ پالیسی پر سنجیدگی سے عمل ہونا باعثِ حیرت نہ تھا۔
برسوں بعد ڈی کلاسیفائی ہونے والی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے سفاری یہودیوں کے ہزاروں بچے ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے مشنری جذبے کے تحت پیدائش کے فوراً بعد اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے چرا کر متمول اسرائیلی و بیرونِ ملک مقیم اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیے گئے۔اس منصوبے کا سب سے بڑا نشانہ یمنی نژاد یہودی بنے۔
مئی انیس سو اڑتالیس تا انیس سو چون کے دوران چار برس سے کم عمر کا ہر آٹھواں یمنی بچہ غائب کر کے اسے لاولد یا ضرورت مند اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔
ایتھوپیائی یہودی اپنی شناخت ’’ بیتا اسرائیل ‘‘ گروہ کے طور پر کرتے ہیں مگر ایتھوپیا میں یہودی کمیونٹی کو مقامی امہاری زبان میں فلاشا کے توہین آمیز نام سے پکارا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے آوارہ گرد۔
انیس سو ستر کی دہائی میں ہزاروں فلاشاز کو سوڈان کے راستے اسمگل کر کے اسرائیل پہنچایا گیا۔اس وقت اگرچہ فلاشا اسرائیل کی یہودی آبادی کا دو فیصد ہیں مگر ان میں سے نصف خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ان کے محلے خستہ حال ہیں۔ نئی نسل منشیات کے استعمال ، متشدد رویے اور اسکول سے بکثرت اخراج کے سبب پہچانی جاتی ہیں۔انھیں ادنی درجے کی ملازمتوں یا فوج کے نچلے رینکس میں بھرتی کے لیے ہی موزوں سمجھا جاتا ہے۔فلاشا یہودیوں میں ڈیپریشن اور خود کشی کا تناسب کسی بھی دیگر اسرائیلی یہودی کمیونٹی سے زیادہ ہے۔
ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی خاتون ایکٹوسٹ عورت یارس کے بقول ’’ ہمارا خون فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تو ٹھیک ہے مگر کسی اور کام کے لیے نہیں ‘‘۔
انیس سو نوے کی دہائی میں متعدد اسرائیلی اسپتالوں نے ایچ آئی وی کے خدشے کے پیشِ نظر افریقی یہودیوں کی جانب سے خون کے عطیات ضایع کر دیے۔دو ہزار بارہ میں تل ابیب میں سیاہ فام یہودیوں کا احتجاجی مظاہرہ طاقت استعمال کرکے منتشر کیا گیا۔دو ہزار پندرہ میں دو پولیس والوں نے ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی فوجی کو نسلی گالیاں دیتے ہوئے زدوکوب کیا۔اس واقعہ کی وڈیو نے آگ لگا دی اور ہزاروں سفاری یہودیوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔دو ہزار انیس میں بھی ایسا ہی ایک مظاہرہ ہوا۔مگر صیہونیت چونکہ ایک نسل پرست یورپی نظریہ ہے لہذا اشکنازی یہودیوں کی برتری ریاستِ اسرائیل کا بنیادی نصب العین ہے۔
سوچئے اگر رنگ و نسل کی بنیاد پر اپنے ہم مذہبوں سے یہ سلوک ہے تو عربوں اور دیگر سے نفرت کا کیا عالم ہو گا ؟ نفرت بربریت کی شکل میں یہی صیہونیت پورے خطے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper