Connect with us

Today News

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری

Published

on


وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری کر دی جس کے مطابق 96فیصد اسکولوں میں پختہ عمارتیں، 92 فیصد میں بیت الخلا اور 82 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔

غذائی قلت سے بچوں کے قد اور وزن میں کمی جیسے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ پرائمری ، مکمل کرنے والی لڑکیوں کی شرح 75فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی، ہر سال لڑکیوں کی تعلیم میں سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بتدریج بہتری آرہی ہے ۔

جمعرات کو پی آئی ای میں گرلز ایجوکیشن سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 2023/24 کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔یہ رپورٹ پی آئی ای ،ملالہ فنڈ ،پی اے جی ای اور وفاقی وزارت تعلیم کے اشتراک سے تیار کی گئی۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجہیہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز سینیٹر فوزیہ،ڈجی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا،شراکتداروں کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے رپورٹ کے نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سرکاری سکولوں میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ ہماری پالیسی سازی کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہوں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا، بلکہ پورا خطہ مل کر آگے بڑھتا ہے۔

ہمیں بھی اعداد و شمار کے بعد اب عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ دنیا نے انہی کے ذریعے کامیاب پالیسیاں مرتب کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم سے ‘ڈراپ آؤٹ’ ہونے کا راستہ ہم صرف اپنے رویوں کو تبدیل اور اپنے دماغوں کو وسیع کر کے ہی روک سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 14 کروڑ نوجوان ہیں،ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس یوتھ کو بوجھ سمجھ رہے ہیں یا انہیں مواقع فراہم کر کے اپنا اثاثہ بنا رہے ہیں۔ہمیں جہالت کے خلاف جہاد اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگا۔

ریاست جس بچی کے ہاتھ میں ڈگری یا ہنر تھما دیتی ہے، اس کا حق ہے کہ اسے آگے بڑھنے دیا جائے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو گھریلو ذمہ داریاں ضرور دیں ، لیکن انہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھنے کی اجازت بھی دینی چاہیے۔ ہنرمند خواتین کو گھروں تک محدود رکھنا انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔

وفاقی وزیر نے اختتام پر کہا کہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں اور حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ اس رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایک ایکشن پلان ترتیب دینا ہے ، اس میں سامنے آنے والی کامیابیاں اور چیلنجز دونوں ہمارے لئے ایک نئی راہ متعین کریں گے۔

ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے کہا کہ پاکستان کی بیٹیاں تعلیمی میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ اگر لڑکیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ہر شعبے میں لڑکوں سے بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ ہمارا مقصد اعداد و شمار کے زریعے ان خلیجوں کو نشاندہی کرنا ہے جو ہماری بچیوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں تا کہ پالیسی سازی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں اپنی فوقیت ثابت کر دی ہے۔

نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (NAT) 2023 کے مطابق، لڑکیوں نے انگریزی، اردو ، سندھی اور ریاضی میں لڑکوں سے بہتر اسکور حاصل کیے۔ آٹھویں جماعت میں بھی وہ سائنس اور ریاضی میں آگے رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے فی ہزار بچوں اور سکولوں کا تناسب کم ریکارڈ ہوا ہے ۔

تعلیمی اداروں میں معذروں کے سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ23 فیصد سکولوں میں ریمپ (Ramps) موجود ہیں تاہم کم تعلیمی ادارے ہیں جس میں خصوصی تدریسی مواد یا امدادی آلات دستیاب ہیں۔ رپورٹ میں بتا یا گیا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں 23 فیصد اساتذہ بنیاد تربیت یافتہ ہیں ۔ 19فیصد اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیمی بجٹ کا حصہ 13فیصد سے کم ہو کر 11فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی فنڈز کا 94فیصد صرف تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی تعداد مردوں کے برابر آ رہی ہے، لیکن روزگار میں ان کی شرکت صرف 24فیصد ہے، جو کہ ایک بڑا انسانی سرمایہ کا ضیاع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب بھی ملک میں مجموعی طور پر 2.62 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے 1.34 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اگرچہ لڑکیوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، لیکن نظام کی کمزوریاں ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکیاں باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں منزل تک پہنچانے کے لیے حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی جدید تربیت اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی ہوگی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لاہور میں دہشت گردی کا خطرہ، تھریٹ الرٹ جاری

Published

on



محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر تھریٹ الرٹ جاری کردیا۔

محکمہ داخلہ کی جانب جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ فتنۃ الخوارج کا کمانڈر تین خودکش بمباروں سمیت لاہور پہنچ گیا۔

تھریٹ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘مصدقہ ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ فتنۃ الخوارج کا کمانڈر آصف عمر نے 25 فروری سے 3 مارچ 2026 کے دوران لاہور میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنصیبات پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے’۔

محکمہ داخلہ نے آگاہ کیا ہے کہ ‘مذکورہ کمانڈر 3 خودکش بمباروں کے ہمراہ وادی تیراہ کے راستے لاہور پہنچ چکا ہے، جنہیں افغانستان کے علاقے پکتیکا میں تربیت دی گئی ہے’۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ‘لاہور سے تعلق رکھنے والے 3 سے 4 مقامی سہولت کار اس تشکیل کی معاونت کر رہے ہیں اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ عناصر نے اہداف کی ریکی مکمل کرلی ہے اور خودکش جیکٹس، اسلحہ، بارودری مواد اور ایک رکشہ بھی حاصل کرلیا ہے’۔

تھریٹ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بارود سے بھری گاڑی VBIED کے طور پر استعمال کیا جائے گا’۔

محکمہ داخلہ نے مزید بتایا ہے کہ ‘ہدایت کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے کسی بھی ناخوش گوار واقعے سےبچنے کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات اور چیکنگ کی اشد ضرورت ہے’۔



Source link

Continue Reading

Today News

سپرایٹ مرحلہ، بھارت کا ریکارڈ اسکور، زمبابوے کو 72 رنز سے شکست

Published

on



بھارت نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپرایٹ مرحلے کے اہم میچ میں شان دار بیٹنگ اور بولنگ کے ذریعے زمبابوے کو باآسانی 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے امکانات بحال کر دیے۔

چنائی میں میزبان بھارت اور زمبابوے کے درمیان کھیلے گئے سپرایٹ کے گروپ ون کے اہم میچ میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کا دفاعی چمپیئن نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایونٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ترتیب دیا۔

بھارت کی جانب سے سنجوسیمسن اور ابھیشک شرما نے 48 رنز کا جارحانہ آغاز کیا تاہم موزاربانی نے سیمسن کو میچ کے چوتھے اوور میں آؤٹ کیا تاہم انہوں نے صرف 15 گیندوں پر 24 رنز بنا لیے تھے۔

نوجوان بیٹر ابھیشک شرما نے فارم میں واپسی کی اور دوسری وکٹ کے لیے ایشان کشن کے ہمراہ ٹیم کا اسکور 120 تک پہنچایا، ایشان کے 38 رنز آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے کپتان سوریا کمار یادیو کے ساتھ بھی 30 رنز کی شراکت کی، اس دوران نصف سنچری بھی مکمل کی۔

بھارت کا اسکور 150 رنز پر پہنچا تھا تو ابھیشک شرما کی 55 رنز کی اننگز کا خاتمہ ہوا، ان کی اننگز میں 4 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے، سوریا کمار یادیو 172 کے اسکور پر 33 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔

ہارڈک پانڈیا اور تلک ورما نے 86 رنز کی بڑی شراکت کے دوران بھارت کو رواں ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مجموعے تک پہنچایا، جس میں پانڈیا کی نصف سنچری اور تلک ورما کے 44 رنز شامل تھے۔

بھارت نے مقررہ 20 اوورز میں زمبابوے کو جیت کے لیے 257 رنز کا ایک مشکل ہدف دے دیا، زمبابوے کی جانب سے کوئی بولر نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوا۔

زمبابوے نے ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں قدرے سست آغاز کیا، برائن بینیٹ اور تیڈیوانشے مارومانی نے 44 رنز بنائے جبکہ آکشر پٹیل نے مارومانی کو 20 رنز کے انفرادی اسکور پر آؤٹ کردیا، جس کے بعد ڈیون مائر صرف 6 رنز کا اضافہ کرپائے۔

کپتان سکندر رضا نے زمبابوے کی جیت کی امیدیں بحال رکھنے کی بھرپور کوشش کی لیکن 21 گیندوں پر دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 31 رنز ہی بناپائے اور جب آؤٹ ہوئے تو ٹیم کا اسکور 17 ویں اوور میں 144 رنز تھا۔

برائن بینیٹ نے 59 گیندوں کا سامنا کرکے 8 چوکوں اور 6 چھکوں کی مدد سے آؤٹ ہوئے بغیر 97 رنز کی اننگز کھیلی لیکن ٹیم کو جیت دلانے میں ناکام ہوئے، زمبابوے نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 184 رنز بنائے۔

ارشدیپ سنگھ نے بھارت کے لیے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں اور یوں بھارت سیمی فائنل کی دوڑ میں خود کو شامل رکھنے میں کامیاب ہوا اور زمبابوے کو باآسانی 72 رنز سے شکست دے دی۔

بھارت کے ہارڈک پانڈیا کو آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت کو سپرایٹ کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اگلا میچ یکم مارچ کو ویسٹ انڈیز سے ہوگا جس میں سیمی فائنل تک رسائی کرنے والی ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ ون میں جنوبی افریقہ ابتدائی دونوں میچز میں کامیابی حاصل کرکے 4 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، ویسٹ انڈیز دو میں سے ایک میچ میں فتح اور بہترین رن ریٹ کے ساتھ دو پوائنٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر ہے، اسی طرح بھارتی ٹیم نے منفی رن ریٹ کے ساتھ دو پوائنٹ حاصل کر لیے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

حکومت کو مزید بیرونی قرضے نہ لینے کا مشورہ

Published

on



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور ڈویژن نے سفارش کی ہے کہ نئے بیرونی قرضے لینے سے گریز کیا جائے اور مالی نظم و ضبط، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی مفاد کا تحفظ اور عوام پر قرضوں کے بوجھ میں کمی ممکن ہو سکے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بیرونی فنڈنگ کے انتظامات، ورلڈ بینک کے قرضوں اور ان کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے متعلقہ محکموں کی جانب سے مکمل معلومات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں جامع ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کی جانب سے حاصل کیے گئے 20 کروڑ ڈالر کے قرض کا معاملہ زیر بحث آیا۔ پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی نے 2012 میں نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے لیے قرض حاصل کیا تھا تاہم اسے استعمال نہیں کیا گیا اور بالآخر 2014 میں منسوخ کر دیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کمپنی خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ قرض حاصل کرنے کے بعد اسے استعمال نہ کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے بھی معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا منصوبے کی مکمل تفصیلات قرض دہندہ ادارے کو فراہم کی گئی تھیں اور مقامی سطح کے منصوبہ جاتی حصوں پر کام نہ کرنے کی وجوہات کیا تھیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس غفلت پر کمپنی پر ہرجانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایس ایس جی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر اور اعلیٰ انتظامیہ کو مکمل دستاویزات کے ساتھ طلب کیا جائے، جن میں منصوبے کی تازہ پیش رفت، تعیناتیوں کی تفصیل اور منصوبے سے وابستہ افسران کی فہرست شامل ہو۔

سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن نے قرض کی منسوخی کو باعثِ شرمندگی قرار دیا۔

تعلیم کے شعبے کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں بتایا گیا کہ کووڈ-19 کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے حاصل کیے گئے 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قرض کا بھی جائزہ لیا گیا جو ASPIRE پروگرام (ایکشنز ٹو اسٹرنتھن پرفارمنس فار اِنکلیوسیو ریسپانسیو ایجوکیشن) کے تحت حاصل کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ قرض وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے حاصل کیا اور وبا کے دوران آن لائن تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف اضلاع کو معاونت فراہم کی گئی۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اجلاس میں سیکریٹری تعلیم کی عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایڈیشنل یا جوائنٹ سیکریٹری سطح کا افسر لازمی شریک ہو۔

انہوں نے وزارت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ای اے ڈی کو ہدایت کی کہ وزارتِ تعلیم کو غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل پر خط لکھا جائے اور متنبہ کیا کہ ایسے رویے سے مستقبل میں بیرونی قرضوں کے حصول پر اثر پڑ سکتا ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے کے تحت سندھ میں 200 اضافی کلاس رومز تعمیر کیے گئے، 120 اسکولوں کو ڈیجیٹل کلاس روم سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ 106 اسکولوں کو سولرائز کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا کی عدم نمائندگی کا بھی نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری کو اظہارِ برہمی کا خط لکھنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور پراجیکٹ ڈائریکٹرز شرکت یقینی بنائیں اور اب تک کے اخراجات، تعمیر شدہ کلاس رومز کی تصاویر اور فرنیچر کی خریداری کی تفصیلات پیش کی جائیں۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ نئے بیرونی قرضے لینے سے گریز کیا جائے اور مالی نظم و ضبط، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی مفاد کا تحفظ اور عوام پر قرضوں کے بوجھ میں کمی ممکن ہو سکے۔



Source link

Continue Reading

Trending