Today News
لینن، مارکس، میڈیا اور صہیونی اسرائیل!
لینن کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں چھاپے خانے اورکاغذ کے ذخیرے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں وہاں آزادی صحافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرمایہ داروں کو اپنے نظام کے حق میں پروپیگنڈے کی آزادی ہے۔ جہاں تک غریبوں، مزدوروں اورکسانوں کا تعلق ہے وہ اپنی آواز دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ چھاپے خانے ہیں، نہ کاغذ کے ذخیرے اور نہ اتنا پیسہ موجود ہے کہ یہ چیزیں سرمایہ داروں سے خرید سکیں۔
کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی، کارل مارکس کے یہ خیالات ’’ ذرائع ابلاغ کا مارکسی نظریہ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ دنیا میں سرمایہ داری کا نظام ایک ظالمانہ نظام ہے جس میں سرمایہ دار طبقہ، عام طبقے کا استحصال کرتا ہے اور میڈیا اس کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ کارل مارکس کا خیال ہے کہ سرمایہ دار اس قدر مضبوط ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف کچھ نہیں کرتا اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بلکہ وہ سرمایہ داروں کی فرماں برداری کرتا ہے۔
کارل مارکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کے مشتملات (contents) کو سرمایہ دار طبقہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، میڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں میڈیا سیاسی، معاشی اور معاشرتی مشتملات میں سرمایہ دارانہ طبقے کے زیر اثر ہے، چنانچہ میڈیا ایک ایسی سوچ کو بڑھاتا ہے جس سے استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ مارکس کے ان نظریات کے بعد جدیدی مارکسی (Neo-Marxist) نے بھی میڈیا پر تنقید کی اور میڈیا کے بعض پہلوؤں پر اور بھی سخت تنقید کی ہے۔ جدید مارکسی گروپ نے برطانیہ میں ٹریڈیونین کی عوام میں مقبولیت کم ہوجانے کی وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹریڈ یونین کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ میڈیا پر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی خبریں تھیں۔
اسی طرح Therodore adnono اور Max Horkheimer کے مطابق دنیا میں جو روشن خیالی پیدا ہونی تھی، اس کو ذرائع ابلاغ نے اپنی روش سے یک طرفہ بربریت میں بدل ڈالا۔ ان کے خیال کے مطابق ذرائع ابلاغ مخالفانہ رائے کو دبا دیتے ہیں، مارشل میکلو ہنی میڈیا کے کردار کے متعلق اپنی کتاب ’’انڈراسٹینڈنگ میڈیا، دی ایکسٹینشن آف مین‘‘ میں لکھتا ہے کہ آج کی دنیا میں لسانی اور سماجی جبریت سے بھی بڑا جبر یہ ٹیکنالوجی ہے، مزید آگے وہ لکھتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر جو خیالات اور طریقے ہائے وغیرہ نمایاں جگہ پالیتے وہی افراد اور معاشرے پر غلبہ بھی حاصل کر لیتے ہیں، یوں میڈیا جس نظر سے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لوگ اسی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔
یہ خیالات ماضی کی نامور شخصیتوں کے تھے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا کی آج کیا صورتحال ہے؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف میڈیا کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس کی بھی بات کی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موجودہ دورکا ’’ غزہ‘‘ اور اسرائیل ہے۔
غزہ میں جوکچھ ہورہا ہے۔ اس کی تمام تر خبریں میڈیا پر نہیں آرہی ہیں اور دنیا بھرکا ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ جس طرح اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی کی مذکورہ بالا شخصیات کے میڈیا کے بارے میں جو خیالات تھے، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ محض ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل نے سی این این، بی بی سی جیسے بڑے میڈیا اداروں کو بھی اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے، دنیا بھر کا میڈیا غزہ میں ہونے والے مظالم کی آدھی تصویر بھی پیش نہیں کر رہا ہے۔
چنانچہ غزہ کے لوگوں نے از خود میڈیا کا یہ محاذ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کے ظلم و ستم کو پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے دوستوں کی نہ صرف سخت بدنامی ہوئی بلکہ سخت عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، مغربی ممالک میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نظر آتا ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون فورا ختم کیا جائے۔حالیہ خبروں کے مطابق برطانوی صحافی اور کارکن سمیع حمدی نے الجزیرہ نیٹ ورک (قطر) پر 7 فروری 2026 کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ صہیونی ادارہ‘‘ کو سوشل میڈیاخریدنے پر مجبورکیا گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر فلسطین کے حامی صارفین نے، فلسطینی مقبولیت کو اسرائیل سے کہیں زیادہ کردیا تھا۔
امریکی اب مین اسٹریم ذرائع ابلاغ جیسے CNN یا The New York Times پر انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدا اور صہیونی خاتون باری ویسbari weiss،کو CBS کے سربراہ پر رکھا گیا تاکہ امریکی عوام تک معلومات کے بہاؤکوکنٹرول کیا جاسکے ،اور غزہ سے متعلق خبروں کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کی وجہ سے 2 سے 30 لاکھ امریکیوں کو نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled پر منتقل ہونا پڑا۔‘‘
درحقیقت اسرائیل عالمی میڈیا کو اپنے نہ نظر آنے والے دباؤ میں لے چکا ہے۔ بظاہر میڈیا آزاد نظر آتا ہے مگر وہ اسرائیل کے لیے ہر قسم کے پروپیگنڈے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مثلاً جنسی مجرم جیفری اپسٹین کہانی لے لیجیے، دنیا بھرکے مین اسٹریم میڈیا میں اس نے طوفان اٹھا دیا، ایک کے بعد ایک شخصیت بے نقاب کی جا رہی ہے، مگر اسرائیل کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کی تمام شخصیات محفوظ ہیں حالانکہ اس جنسی مجرم کے ان سے بھی روابط تھے۔
ایک وقت تھا کہ جب عراق کے صدام حسین کو کچلنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور موجود ہیں بعد میں یہ بات غلط بھی ثابت ہوئی لیکن آج اسرائیل میں تھرمو بریک ہتھیاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی جسم پگھل کر ہوا میں ہی تحلیل ہو رہے ہیں۔
ایسے گھناؤ نے جرم پر عالمی مین اسٹریم میڈیا خاموش بیٹھا ہے جو ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جیسے اس پروگرام سے نہ جانے کتنی ہلاکتیں ہوگئی ہوں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکا کے بعد اسرائیل بھی صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا کو بھی اپنی سخت گرفت میں لے چکا ہے اور اس پلیٹ فارم پر ایسا خودکار نظام لاگوکردیا گیا ہے کہ جس کی موجودگی میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے جو بھی خبر یا آواز بلند ہوتی ہے، بلاک ہوجاتی ہے۔
Today News
18 سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار، نیا آرڈیننس جاری
پنجاب میں لڑکا ہو یا لڑکی ، 18سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار ہوگا، پنجاب حکومت کی طرف سے نیا آرڈیننس جاری کردیا گیا۔
حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس کے مطابق نکاح رجسٹرار کو کم عمر شادی رجسٹر کرنے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا ، 18سال سے زائد عمر شخص کو کم عمر لڑکی سے نکاح پر کم از کم دو سال قید ہوگی ، کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص کو 5لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
آرڈیننس میں شادی کے بعد کم عمر کے ساتھ رہائش یا تعلقات کو چائلڈ ابیوز قرار دیدیا گیا ، چائلڈ ابیوز پر 5سے 7سال قید اور کم از کم 10لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا ۔
آرڈیننس کے مطابق کم عمر بچوں کو شادی کے لیے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہوگا ، چائلڈ ٹریفکنگ پر 5سے 7سال قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا ، سرپرست یا والدین کی جانب سے کم عمری کی شادی کرانے پر 2سے 3سال قید کی سزا ہوگی۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش ہوگا۔
Source link
Today News
ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا نجی شعبے پر مشتمل بورڈ قائم، 22 رکنی بورڈ میں 6 سرکاری ارکان شامل
حکومت نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ(ای ڈی ایف) کے انتظامی امور میں شفافیت اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے 22 رکنی نیابورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز تشکیل دیدیاہے، جس میں اکثریت نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر عمرسعید کوبورڈ کا نیا چیئرمین مقررکیاگیا ہے۔ اس سے قبل یہ عہدہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے پاس تھا ،جبکہ سیکریٹری تجارت بورڈکے وائس چیئرمین تھے، حالیہ قانونی ترامیم کے بعددونوں عہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے گزشتہ ماہ ای ڈی ایف ایکٹ میں وزیراعظم کی جانب سے قائم پینل کی سفارشات کی روشنی میں ترامیم کی تھیں،جن کامقصد فنڈکے استعمال کی نگرانی سخت کرنا اور بیوروکریسی کاکردارمحدودکرنا ہے۔
ای ڈی ایف میں تقریباً 52 ارب روپے کی رقم موجودہے،جو برآمدکنندگان پر عائد 0.25 فیصدسرچارج کے ذریعے جمع کی جاتی تھی۔ حکومت پہلے ہی اس سرچارج کو ختم کر چکی ہے اور وزیراعظم نے فنڈکابین الاقوامی معیارکے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
گزشتہ ماہ بورڈ نے چاول برآمدکنندگان کوعالمی مسابقت اور برآمدی حجم میں کمی کے پیش نظر 15 ارب روپے کی منظوری دی تھی اور جون تک 3 سے 9 فیصد ریبیٹ دینے کافیصلہ کیاتھا،تاہم اس اقدام پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔
نئے بورڈ میں 22 ارکان میں سے صرف 6 سرکاری افسران شامل ہیں،نجی شعبے کے ارکان میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور صنعتی نمائندے شامل کیے گئے ہیں،جبکہ پاکستان بزنس کونسل،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری،رائس ایکسپورٹرز ، سرجیکل گڈز، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز،میٹ ایکسپورٹرز اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچررزکے نمائندگان بھی بورڈکاحصہ ہونگے۔
قانونی ترامیم کے تحت گزشتہ تین برسوں کی بنیاد پر چار بڑے برآمدکنندگان، بڑا نان ٹیکسٹائل برآمد کنندہ اور زراعت، آئی ٹی اور صنعت کے شعبوں سے ایک، ایک رکن کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔
Source link
Today News
امریکی بحری بیڑہ قریب تر پہنچ گیا؛ ایران میں لڑاکا طیارہ پُراسرار طور پر گر کر تباہ
ایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق لڑاکا طیارے نے دو پائلٹس کے ہمراہ پرواز بھری تھی۔
یہ طیارہ 31 ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا۔ دوران پرواز مشکوک صورت حال کو دیکھتے ہوئے پائلٹس سے واپسی کا فیصلہ کیا۔
ہوا بازی کے ماہر نے العربیہ کو بتایا کہ پائلٹس کسی حد تک طیارے کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہمدان کے ایئربیس تک واپس لانے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے جب گیئر کھولے گئے تو اچانک طیارہ ہچکولے کھاتے ہوئے زمین بوس ہوگیا۔
ترجمان ایرانی فوج نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو پائلٹس میں سے ایک جان کی بازی ہار گیا جب کہ دوسرا پائلٹ محفوظ رہا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیارے نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی اور تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔
ایرانی فضائیہ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
تاہم بیان میں طیارے کی قسم اور حادثے کے مکمل حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایران کی ایروسپیس فورس نے اس قیاس آرائی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا کہ آیا طیارہ دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنا یا نہیں ہے۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims