Today News
ماہِ رمضان اور غربت – ایکسپریس اردو
رمضان المبارک کا مہینہ پورے عالم اسلام کے لیے خیر و برکت کا پیغام لاتا ہے۔ رمضان المبارک کے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں نفس کی تطہیر اور پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔
روزے کی روح کے مطابق ہمیں اپنے اعمال میں تقویٰ اور مال میں کمزور اور محروم لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ بھوک اور پیاس کی شدت یہ احساس دلاتی ہے کہ جو لوگ محرومیوں کے سبب اس کشٹ سے گزرتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی؟
اس اعتبار سے انفرادی عبادت کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک دلوں میں دوسروں کے لیے گداز اور اپنے اعمال میں پاکیزگی کا آفاقی پیغام ہے۔
رمضان المبارک سے کچھ پہلے اور رمضان المبارک کے دوران بہت سے چیرٹی اور فلاحی اداروں کی طرف سے عطیات اور زکوٰۃ کی اپیلیں سامنے آتی ہیں۔
پاکستانی اس اعتبار سے قابل فخر قوم ہیں جس میں نامساعد حالات اور مشکلات کے باوجود بالعموم دوسروں کی مدد کا جذبہ نمایاں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی ورلڈ گیونگ رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جو اپنے مال میں سے دوسروں کے لیے عطیات اور خیرات کی صورت حصہ نکالتے رہتے ہیں۔
حسن اتفاق ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز پر پلاننگ کمیشن نے ملک میں غربت اور عدم مساوات رپورٹ کے نتائج پیش کیے ہیں، 2018/19 کے بعد کیے گئے ملک بھر میں غربت اور عدم مساوات پر مبنی اس سروے کے نتائج چونکا دینے والے ہیں۔
بظاہر سماجی استحکام کے نیچے عوام کی ایک کثیر تعداد انتہائی مشکل زندگی گزار رہی ہے۔ ستم یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سات سال کے دوران میں غربت کی شرح میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 سالوں کے دوران یہ غربت کی بلند ترین شرح ہے۔ سب سے خطرناک صورت حال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر 32.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
سروے کے مطابق پاکستان کو اس وقت بلند ترین بے روزگاری کی شرح کا بھی سامنا ہے جو 7.1 فیصد ہے۔ یوں غربت بھی 11 برسوں کی بلند ترین سطح پر اور دولت کی عدم مساوات گزشتہ 27 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔
غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری بڑھنے کی وجوہات جانی پہچانی بتائی گئی ہیں کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کو واپس لینا پڑا۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ کرونا سمیت دیگر قدرتی آفات اور اقتصادی شرح نمو میں کمی نے غربت بڑھنے کی راہ ہموار کی۔
یہ خوفناک اقتصادی منظرنامہ گواہ ہے کہ حکومتوں کے لیے کار سرکار چلانا پہلی ترجیح ہے۔ عوامی فلاح کے لیے درکار پالیسیوں کی راہ میں اکثر آئی ایم کی شرائط سدراہ بن جاتی ہیں یا پھر خالی خزانے کی ویرانی کچھ کرنے نہیں دیتی۔
ایسے میں موجودہ حکومتی سوشل سیفٹی نیٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے نان پرافٹ اور چیرٹی اداروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ خلا جسے ریاست مکمل طور پر پْر نہیں کر پاتی، منظم فلاحی ادارے اسے جزوی طور پر پورا کرتے ہیں۔
خاص طور پر صحت کے شعبے میں، جہاں سرکاری اسپتالوں پر بوجھ اور نجی علاج کی مہنگائی نے متوسط اور نچلے طبقے کو بے بس کر رکھا ہے۔
Charities Aid Foundation کی مرتب کردہ World Giving Report کے مطابق پاکستان مسلسل ان ممالک میں شامل ہے جہاں لوگ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 60 فیصد سے زائد افراد نے سال کے دوران کسی نہ کسی صورت خیرات دی، جب کہ بہت نمایاں تعداد اجنبی کی مدد کرنے یا رضاکارانہ خدمات انجام دینے میں بھی پیش پیش رہی۔
اس پس منظر میں ہمارے ہاں وہ بے شمار فلاحی ادارے غنیمت اور قابل قدر ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں سالہاسال سے بے لوث خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔
زلزلے ہوں یا سیلاب، تعلیم ہو یا صحت، اپنے اپنے انداز اور بساط کے مطابق لا تعداد ادارے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
خوش قسمتی سے ہمارے ہاں درجنوں ایسے ادارے ہیں جنھوں نے اپنے انتظام اور ڈھانچے کو انتہائی منظم انداز میں تشکیل دیا ہے جس کے سبب یہ ادارے تسلسل اور اہتمام کے ساتھ اپنے اپنے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں ٹی سی ایف، غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ریڈ فاؤنڈیشن، الخدمت سمیت درجنوں ایسے ادارے ہیں جو لاکھوں بچوں کی تعلیم کا بندوبست کر رہے ہیں۔ صحت کے میدان میں انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی، شوکت خانم میموریل اسپتال، گھرکی اسپتال، سندس فاؤنڈیشن سمیت بہت سے ادارے قابل قدر کام کر رہے ہیں۔
ایسے اداروں میں ایک قابل قدر نام چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ لاہور کا بھی ہے جس کے پانچ مختلف ادارے چار دہائیوں سے خدمت خلق میں مصروف ہیں۔
چوہدری رحمت علی اسپتال 40 سال سے لاکھوں مریضوں کی خدمت کر رہا ہے جہاں مستحق اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔
سال 2025 کے دوران چوہدری رحمت علی اسپتال سے پونے تین لاکھ مریض مستفید ہوئے۔ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے تین تعلیمی ادارے ہزاروں طلباء کو انتہائی کم قیمت اور مستحق اور نادار طلبہ کو وظائف کے ساتھ معیاری تعلیم مہیا کر رہے ہیں۔
رمضان کے اس بابرکت مہینے میں اپنی زکات اور عطیات کی تقسیم میں انفرادی مستحقین کے ساتھ ساتھ منظم اداروں کو بھی یاد رکھیے۔ تعیلم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں مصروف دیگر اداروں کے ہمراہ چوہدری رحمت علی اسپتال ٹاؤن شپ لاہور بھی آپ کی توجہ کا طالب ہے تاکہ کوئی مریض محض وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔
زکوٰۃ اور عطیات کے لیے چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹ:زکوٰۃ: 201139351240202،بینک اسلامی پاکستان ،عطیات:21223312677636،نیشنل بنک پاکستان۔ قومیں صرف معاشی نمو سے نہیں، سماجی ہمدردی سے بھی مستحکم ہوتی ہیں۔
اگر ہم نے اپنی سخاوت کو حکمت کے ساتھ جوڑ لیا تو شاید آیندہ کسی رپورٹ میں غربت اور عدم مساوات کے اعداد و شمار کچھ بہتر دکھائی دیں۔
Today News
سعودی عرب میں یوم تاسیس کا رنگا رنگ آغاز، 300 سالہ تاریخ کے جشن میں شہر جگمگا اٹھے
ریاض:
سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جہاں دارالحکومت ریاض سمیت مختلف شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کو قومی رنگوں سے سجا دیا گیا اور فضاء جشن کے نعروں سے گونج اٹھی۔
سعودی شہری پہلی سعودی ریاست کے قیام کے 300 سال مکمل ہونے پر تاریخی دن کو بھرپور جوش و خروش سے منا رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور عوامی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس دن کو باقاعدہ قومی سطح پر منانے کی منظوری شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2022 میں دی تھی۔
تاریخی طور پر پہلی سعودی ریاست کی بنیاد امام محمد بن سعود نے 1744 میں رکھی جس کی یاد میں ہر سال یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے آج سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں خصوصی شوز، ثقافتی مظاہرے اور موسیقی کی محافل جاری ہیں جہاں سعودی فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہو کر قومی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
Today News
بولان، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، اے ایس آئی شہید، پولیس کا سرچ آپریشن جاری
بولان:
بلوچستان کے علاقے بولان میں کمبڑی پل کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک افسر شہید ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے دوران شہید ہونے والے اہلکار کی شناخت محمد موسیٰ مستوئی کے نام سے ہوئی، جو اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر تعینات تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح ملزمان مبینہ طور پر ڈکیتی کی غرض سے علاقے میں موجود تھے، جن کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی، تاہم ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس سے مقابلہ شدت اختیار کر گیا۔
واقعے کے بعد ایس ایس پی کچھی معاذالرحمان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
Today News
کراچی، مومن آباد میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار
کراچی:
شہرِ قائد کراچی کے علاقے مومن آباد سیکٹر 10 الفتح کالونی میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار دونوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا سامنا کیا، تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملزمان کو فرار ہونے سے روک لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی شناخت روشن اور شکیل عرف بھورا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، دو موبائل فونز، نقدی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad