Today News
ماہ رمضان میں مہنگائی … ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف زیرو ٹالرنس!!
ماہ رمضان میں مہنگائی اور حکومتی اقدامات کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
کرن خورشید
(سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب)
گڈ گورننس کے ماڈل میں حکومت، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ ملتے ہیں تو بہتری آتی ہے، حکومت اکیلے مسائل پر قابو نہیں پاسکتی۔ محکمہ خوراک صرف آئل اور چینی کو ڈیل کرتا تھا، اب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ بنا دیا گیا جو خوراک سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں کنزیومر پروٹیکشن پر کام ہو رہا ہے، کسی دوسرے صوبے میں یہ شعبہ موجود نہیں ہے۔ 2024ء میں پرائس کنٹرول اینڈ اسینشل کموڈٹیز کا ایکٹ منظور ہوا، 2025ء میں اس میں ترمیم کی گئی اور پرائس کنٹرول کونسل کی تشکیل ہوئی جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ اس کا ایک اجلاس جنوری میں ہوا، اگلا اجلاس دو ماہ مکمل ہونے پر ہو گا۔ 39 اشیائے ضروریہ میں خوراک کے ساتھ ساتھ اینٹ، چارہ اور فرٹیلائزرز بھی شامل ہیں ۔ ماہ رمضان میں 16 اشیائے ضرورت جن میں آٹا، گھی، چینی، چاول، چنا، بیسن، کھجور، پھل، سبزیاں شامل ہیں، پر کام ہو رہا ہے۔ ان کی قیمت اور دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اس وقت ان اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔ سٹرابیری اور خربوزے کی فصل نئی ہے، انار قندھار سے آتا ہے، افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے اس کی کمی ہے لہٰذا اس طرح کے پھل مہنگے ہیں ، چند دنوں میں مارکیٹ میں سپلائی ہوگی تو قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ اس وقت آٹا اور چینی وافر مقدار میں سستے داموں مل رہی ہے۔ ملز مالکان کی طرف سے خود ہی رمضان بازاروں اور فیئر پرائس شاپس پر کم قیمت پر فراہمی جاری ہے۔ کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن رضاکارانہ طور پر کم قیمت پر اشیائے خورونوش فراہم کر رہی ہے، چکن فی کلو 15 جبکہ انڈے فی درجن 10 روپے کم قیمت پر دیے جا رہے ہیں۔ بڑے سٹورز میں عام آدمی کم جاتا ہے، غریب طبقہ بازاروں اور ٹھیلوں سے خریداری کرتا ہے اس لیے یہاں ہر چیز اس کی پہنچ میں لانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بڑے سٹورز پر ڈی سی کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں ، وہاں بھی سامان اور ریٹ کی چیکنگ کی جاتی ہے، خلاف ورزی پر لاکھوں روپے کے جرمانے اور سٹور سیل بھی کیے جاتے ہیں۔ ماہ رمضان کے پہلے ہفتے میں ناجائز منافع خوری پر ایک کروڑ روپے کے جرمانے، 680 گرفتاریاں اور 400 سے زائد ایف آرز درج ہوچکی ہیں۔ صوبے بھر میں روزانہ 1638 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں جاتے ہیں، ان میں 227 مجسٹریٹس پیرا کے ہیں۔ حکومت پرائس کنٹرول کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پر کوئی معافی نہیں ہے، ’تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن‘ بھی کی جارہی ہے۔ تھرڈ پارٹی مختلف بازاروں میں ریٹس چیک کرتی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں 75 سہولت بازار قائم کیے گئے ہیں۔ ان بازاروں میں 5 کلومیٹر تک فری ہوم ڈیلوری، بزرگوں کیلئے میڈیکل چیک اپ وغیرہ کی مفت سہولیات بھی میسر ہیں۔ وزیراعلیٰ کے رمضان نگہبان پیکیج کے ذریعے مستحقین کو امدادی رقم دی جا رہی ہے جو صرف ماہ رمضان کیلئے ہے۔ اس پیکیج کے تحت 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں جو براہ راست اکاؤنٹ میں منتقل کیے جاتے ہیں، اس میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پنجاب میں حکومت کی جانب سے421 ، فیصل آباد میں 90 جبکہ لاہور میں 53 رمضان دسترخوان لگائے گئے ہیں۔ مخیر حضرات ہر سال لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ انہیں یہ مسئلہ رہتا تھا کہ کہاں دسترخوان لگائیں، انتظامات ان کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ اب حکومت نے دسترخوان لگا دیے ہیں، اس کے تمام انتظامات اور سہولیات حکومت کی ذمہ داری ۔ ان دسترخوانوں میں سول ڈیفنس تعینات ہے، فوڈسیفٹی، صحت، صفائی ستھرائی اور بہترین مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ مخیر حضرات یہاں لوگوں کو کھانا دے رہے ہیں، ان کا جو پیسہ انتظامات پر خرچ ہوتا تھا، اب وہ لوگوں کے پیٹ میں جا رہا ہے، ان کے کھانے پر خرچ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ تازہ کھانا بنتا ہے جس کا معیار بھی چیک کیا جاتا ہے اور حفظان صحت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے، با عزت طریقے سے لوگوں کی روزہ کشائی بھی کروائی جاتی ہے۔حکومت اس وقت سہولت کار کا بہترین کردار ادا کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے رمضان بچت فیسٹیول کا انعقاد کیا جس میں نجی شعبے نے لوگوں کو سستی اشیاء فراہم کی جبکہ حکومت نے انتظامات کیے۔ پرائس کنٹرول کا جدید میکنزم بنایا جا رہا ہے۔ منڈی کی سطح پہ انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہم منڈیوں کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، کاہنہ منڈی میں اس پر کام جاری ہے، آڑھتیوں کو بھی تربیت دی جا رہی ہے، کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار صوبے کی تمام منڈیوں تک پھیلایا جائے گا۔ منڈیوں میں روزانہ کی بنیادپر آکشن کو بہتر بنایا جا رہا ہے، مارکیٹ کمیٹی کے افسران کو ’باڈی کیم‘ لگائے گئے ہیں تاکہ سارا عمل ریکارڈ ہوسکے۔
حافظ عارف
(صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن)
مہنگائی پر ہر وقت چھوٹے دوکانداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ سبزی اور پھل کا سٹال لگانے والے محل نہیں بناتے، ان کے ساتھ ورکر بھی ہوتے ہیں، یہ اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کیلئے کام کرتے ہیں، یہ مہنگائی کا سبب نہیں ہیں۔ مہنگائی کا تعلق طلب اور رسد سے ہے۔ اس وقت آلو زیادہ ہے لہٰذا اس کی قیمت کم ہے، کسان نے 5 روپے فی کلو میں فروخت کیا جو مارکیٹ میں 35 روپے تک بک رہا ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے حکومت سب سے آسان ہدف ہے، اسے تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہے۔ مہنگائی جیسے مسائل کا تعلق ہمارے سماجی رویوں سے بھی ہے، حکومت اکیلئے اس کا خاتمہ نہیں کر سکتی، اس کیلئے من حیث القوم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاجر اور حکومت کے درمیان خلاء کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ سیکرٹری نے ہمارے ساتھ بار بار میٹنگز کیں اور اس خلاء کو ختم کیا ہے جس کے بعد سے معاملات میں بہتری آ رہی ہے۔ ہماری ایسوسی ایشن نے اپنی مدد آپ کے تحت لاہور میں 127 فیئر پرائس شاپس قائم کی ہیں جہاں عوام کو سستے داموں اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں، اگر حکومت کا تعاون جاری رہا تو اس کا دائرہ کار پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا۔ پرائس کنٹرول ایکٹ حکومت کیلئے بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کے درمیان اپنے اپنے ضلعے میں اشیائے خورونوش کے کم سے کم ریٹ مقرر کرنے کی دوڑ ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ایک ہی جنس کی قیمت میں الگ الگ شہروں میں 30،40 روپے کا فرق آجاتا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ ہم نے حکومت کو ریٹ مقرر کرنے کے لیے باقاعدہ رپورٹ بنا کر سفارشات دی ہیں جس کے بعد پورے پنجاب میں ایک ریٹ لسٹ ہوگی۔ لاہور، فیصل آباد اور ملتان کے حساب سے دوسرے علاقوں کے فرق اور ٹرانسپورٹ چارجز کی بنیاد پر ریٹ کا فرق ڈیڑھ سے دو روپے ہوتا ہے، اس کی روشنی میں ریٹ مقرر کیے جائیں گے تاکہ کس کا نقصان نہ ہو۔ امید ہے جلد اس پر عملدرآمد ہوگا جس سے پرائسنگ کا میکنزم بہتر ہوجائے گا۔ زراعت اور لائیو سٹاک دونوں شعبوں کیلئے حکومت نے زیادہ قرض لیا لیکن دونوں میں ہی خرابیاں موجود ہیں، یہ شعبے خسارے میں ہیں، اگر مہنگائی پر قابو پانا ہے تو ان شعبوں پر توجہ دینا ہوگی۔
عبداللہ ملک
(نمائندہ سول سوسائٹی)
آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ہماری 25 کروڑ سے زائد آبادی ہے جس میں 48 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزا رہے ہیں۔ ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں اوسط آمدن 82 ہزار روپے ہے۔ انڈسٹری بند ہو رہی ہے، ملازمتوں کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور ایک مشکل صورتحال ہے جس میں عام آدمی کی قوت خرید کم ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے 1977ء میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے قانون سازی کی۔ آئین کے مطابق 38 اشیائے ضرورت کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے 1977ء اور 2024ء میں قوانین بنے۔ان قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ جرمانہ اور 3 ماہ تک قید کی سزا ہے مگر افسوس ہے کہ ہمارے ہاں قوانین پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے قانون اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے قانون سازی اور عملدرآمد کے میکنزم میں ٹریڈ باڈیز، بزنس چیمبرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک خلاء ہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح مارکیٹ کمیٹی جو ریٹ لسٹ بناتی ہے وہ حقیقت سے دور ہوتی ہے لہٰذا نظام کی بہتری اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہوگا، پرائس کنٹرول کونسل کو فعال بنانا ہوگا۔پہلے مجسٹریٹس کا نظام ہوتا تھا، ان کے پاس سزا کے اختیارات تھے، پھر یہ نظام ختم کر دیا گیا۔ اب اضافی اختیارات کے ساتھ نوٹیفکیشن کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے ہیں، فل ٹائم مجسٹریٹس کا نظام موجود نہیں۔ آئین کے مطابق لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اقدامات کرے، پیداوار بڑھائے، طلب اور رسد کو مینج کرے، قلت نہ ہونے دے۔ افسوس ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق نہیں کی جاتی، کسانوں کی فصلیں ضائع ہو جاتی ہیں، ہم نے زراعت کے حوالے سے زونز مقررنہیں کیں، زمین کی زرخیزی اور جنس کے حوالے سے موضوع ہونے کے حساب سے زونز بنائی جائیں۔ پہلی مرتبہ فیلڈ مارشل نے اس حوالے سے ریسرچ کروائی ہے، ہمیں دنیا کی تحقیق سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دنیا میں ماہ رمضان جیسے مہینوں میں قیمتیں کم کی جاتی ہیں، ہمارے ہاں اسے سیزن کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ایسے رویوں کا تعلق ہمارے معاشرے اور کلچر سے ہے۔ ماہ رمضان تو صبر اور ہمدردی کی تلقین کرتا ہے، ہمیں ایسا کمیونٹی کلچر بنانا ہے جو غلط رویوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ ایک امر توجہ طلب ہے کہ بڑے سٹورز پراوور پرائسنگ ہوتی ہے، وہاں ڈی سی کاؤنٹر بنا دیا جاتا ہے جہاں سرکاری ریٹ پر ناقص اشیاء فراہم کی جاتی ہیں، ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے جبکہ غریب کو بھاری جرمانے کر دیے جاتے ہیں، اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل سے چھٹکارہ پانے کیلئے حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی، صارفین اور معاشرے کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
Today News
کراچی، کچی شراب سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ، آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ناظم آباد نمبر ایک میں مبینہ طور پر کچی شراب پینے سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
آئی جی سندھ نے ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ہر صورت یقینی بنائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جاوید عالم اوڈھو نے اقلیتی تہوار کے پیش نظر کچی اور زہریلی شراب سمیت دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت دی ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
Today News
دو غیر ملکی ایئر لائنز نے پاکستان کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن بحال کر دیا
کراچی:
دو غیر ملکی ایئرلائنز سلام ایئر اور فلائی ناس نے پاکستان کے لیے اپنا فضائی آپریشن بحال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسقط کی سلام ایئر کی پرواز OV 507 مسافروں کو لے کر سیالکوٹ ایئرپورٹ پہنچی، جبکہ واپسی کی پرواز OV 508 سیالکوٹ سے مسقط کے لیے روانہ بھی ہو گئی ہے۔
اسی طرح مسقط سے کراچی کا فلائٹ آپریشن بھی بحال کر دیا گیا ہے اور مسقط سے کراچی آنے والی پرواز علی الصبح 4 بجے تک جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلام ایئر نے مسقط سے پاکستان کے لیے فضائی آپریشن بحیرۂ عرب کے روٹ کے ذریعے شروع کیا ہے۔ تاہم تاحال سلام ایئر کا ایران، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے فضائی آپریشن معطل ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی نجی ایئرلائن فلائی ناس نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازیں بحال کر دی ہیں۔
فلائی ناس کی پرواز 315 سعودی دارالحکومت ریاض سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئی اور بحیرۂ عرب کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔
Today News
سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی داستان
پہلے امریکا نے رواں برس کے طلوع ہوتے ہی وینزویلا کے صدر ( مادورو) اور اُن کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کرکے امریکا پہنچا دیا ۔ ساری دُنیا امریکی سامراجیت اور امریکی زیادتی و ظلم پر ششدر رہ گئی تھی۔ دُنیا اور اقوامِ متحدہ مگر خاموش رہنے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے۔ واقعہ یہ ہے کہ رُوس ، امریکا اور اسرائیل نے مل کر دُنیا میں من پسند قیامتیں برپا کررکھی ہیں۔ یہ تینوں بے لگام طاقتیں جب چاہتی ہیں ، دُنیا کے کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑتی ہیں ۔
یہ طاقتیں اب تک صدر صدام حسین اور کرنل قذافی کو سزائے موت بھی دے چکی ہیں ۔ اور اقوامِ متحدہ ہر بار ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔پچھلے دو برس سے رُوس اپنے ہمسائے ، یوکرین ، پر ناجائز یلغار کیے بیٹھا ہے۔ اِس دوران ہزاروں یوکرینی شہری اور فوجی موت کے گھاٹ اُتارے جا چکے ہیں ۔ رُوس کا بھی کم نقصان نہیں ہُوا ہے ۔ پچھلے دو برس کے دوران صہیونی اسرائیل نے کمزور اور ناتواں ’’غزہ‘‘ کے بیگناہ مسلمانوں کا 80ہزارکی تعداد میں جو بہیمانہ اور وحشیانہ قتلِ عام کیا ہے ، اِس پر بھی طاقتور دُنیا اور اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔
اِسی عرصے میں بھارت نے بھی (مئی 2025 میں) پاکستان پر یلغار کرنے کی جسارت تو کی مگر افواجِ پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت، شکست اور ذلّت اُٹھا کر بھاگ اُٹھا ۔ بھارت پچھلے چند برسوں سے BLAاور TTPکی شکلوں میں پاکستان کے خلاف جو خونریز پراکسی جنگ لڑ رہا ہے ،یہ دراصل بھارت ، افغان طالبان اور صہیونی اسرائیل کے باہمی گڑھ جوڑ کی شرمناک داستان ہے ۔اور اِس امر کا ثبوت بھی کہ یہ تینوں عناصر درحقیقت ’’حزب الشیطان‘‘ کی عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ احسان ناشناس افغان طالبان رجیم نے ایک ہفتہ قبل پاکستان کے نصف درجن سرحدی علاقوں پر ، بِلا اشتعال ، جس شرمناک جارحیت کا اقدام کیا ہے، یہ بھی ساری دُنیا نے ملاحظہ کر لیا ہے۔
یہ جارحیت بھی’’حزب الشیطان‘‘ کی کارستانی کہی گئی ہے۔ افواجِ پاکستان نے ترنت ، پلٹ کر جس عزم اور طاقت سے بے مہار اور احسان فراموش افغان طالبان کو دندان شکن جواب دیا ہے ، مثالی بھی ہے اور طالبان رجیم کے لیے عبرتناک بھی ۔ بھارت کی پراکسی افغان طالبان، کے خلاف یہ سطور لکھتے وقت بھی بھرپور کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بھارتی پراکسی ( افغان مقتدر مُلّا طالبان) نے پاکستان کے خلاف تازہ جارحیت کا ارتکاب کرتے ہُوئے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی بھی پروا اور حیا نہیں کی ۔
رمضان شریف ہی کے دوران صہیونی اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا (گویا طالبانی، بھارتی اور اسرائیلی ذہنیت یکساں ہے ) ُپہلے یہ خبر آئی کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے۔ پھر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے خبر جاری کی کہ ’’نہیں ، ایران پر یہ حملہ امریکا نے کیا ہے ۔‘‘اور پھر یہ خبریں منصہ شہود پر آئیں کہ اسرائیل اور امریکا ، دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے بھی ، حسبِ وعدہ، پلٹ کر، ردِ عمل میں ، اور اپنے حقِ دفاع میں ، اسرائیل پر حملے کیے ہیں ۔ یہ جوابی حملے اب بھی جاری ہیں اور اسرائیل کو خاصا نقصان پہنچا چکے ہیں ۔ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کو بھی ہدف بنایا ہے ۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کے500سے زائد مقامات کو اپنے خونریز حملوںکا نشانہ بنایا ہے ۔
مغربی ایشیا تا جنوبی ایشیا ، اور مشرقِ وسطیٰ و خلیجی ممالک سے لے کر مغرب میں یوکرائن تک پھیلا آگ و خون کا یہ تازہ افسوسناک سلسلہ کیا تیسری جنگِ عظیم کا آغاز کہلانے کا مستحق نہیں ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تیسری جنگِ عظیم کسے کہا جائے گا؟ جب ساری دُنیا خس و خاشاک کا سلگتا ڈھیر بن جا ئے گی؟ اب اس المناک خبر کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ ’’ ایرانی سپریم لیڈر ، جناب آیت اللہ خامنہ ای اب اِس دُنیا میں نہیں رہے ۔‘‘ یہ دردناک خبر ساری دُنیا کا میڈیا بھی نشر کررہا ہے ، مگر ہمیں ہنوذ یقین نہیں آرہا لیکن کیا کریں ، حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ایرانی حکام نے بھی اپنے سپیریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کردی ہے اور یہ بھی خبریں ہیں کہ ایت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اُن کی فیملی کے کئی قریبی ساتھی اور ایرانی فوج کے افسر بھی شہادت کے مرتنے پر فائز ہو چکے ہیں۔ ایرانی و عراقی مقدس مقامات سرخ روشنیوں ( شہادت کی نشانی) میں نہا چکے ہیں ۔ایسا عظیم نقصان تو دوسری جنگِ عظیم میں بھی کسی دشمن کا نہیں ہُوا تھا ۔ کیا اسرائیل اور امریکا اور ان کے اتحادی رَل مل کر کامیاب و کامران رہے ہیں؟ ایران پھر بھی سامراج امریکا و صہیونی اسرائیل اور عالمی قوت کے سامنے کامل سرنڈر کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ یہ اقدام اس کے قومی سطح پر اولوالعزم ہونے کا نشان ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ایران پر اسرائیل و امریکی حملے نے پوری دنیا بالخصوص عالمِ اسلام کو ایک نئے پریشان کن اور سخت آزمائشی دَور میں داخل کر دیا ہے۔ایران مخالف سارے فریق اور پارٹیاں یکجا ہو چکی ہیں ۔
احسان فراموش افغان طالبان بھی اِس اتحاد کا ایک فعال رکن بن کر اسلامی جمہوریہ پاکستان پر، کئی رُخوں ، سے حملہ آور ہُوا ہے ۔ پاکستان پر طالبان رجیم نے ہلّہ بول کر اپنی ہی کمزوریوں اور بزدلیوں کو عیاں کیا ہے ۔ اب ساری دُنیا میں انتہاپسند افغان طالبان رسوا ہور ہے ہیں ۔ پاکستان کی جری افواجِ کے ہاتھوں 300 سے زائد دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات بھی اِن جہنمیوں کی عبرتناک اموات کی تصدیق کر چکے ہیں ۔ اگرچہ شیطانوں کا مقابلہ کرتے ہُوئے ہمارے درجن بھر جوانوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیے ہیں ۔وطن پر قربان ہونے والے ہمارے اِن جوانوں اور افسروں کو ہمارا محبت و احترام بھرا سلام و سیلوٹ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی سیلوٹ ، جن کی پُر عزم قیادت میں ’’حزب الشیطان‘‘ کو عبرتناک سبق سکھایا گیا ہے ۔ فیلڈ مارشل صاحب کی شاندار فوجی قیادت میں پچھلے برس یہ سبق بھارت کو بھی سکھایا گیا تھا۔ اب طالبان، کو بھی یہ سبق سکھا دیا گیا ہے ۔ اب خود ہی طالبان سیز فائر کا اعلان کر بھی رہے ہیں اور پاکستان سے بھی سیز فائر کی درخواستیں کررہے ہیں ۔ پاکستان نے مگر بجا طور پر اِن احسان فراموشوں کو گھر تک پہنچانے کا عہد کررکھا ہے۔ جارح اور احسان فراموش طالبان اب اپنے جلی و خفی دوستوں اور سرپرستوں کی جانب بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ کوئی مگر اُن کے وعدوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ طالبان کی وعدہ شکنیاں ایک ثابت شدہ کہانی ہے ۔
اِسی دوران ہمارے وزیر دفاعِ خواجہ محمد آصف، کا طالبان عبوری وزیر داخلہ ( سراج الدین حقانی) کے نام ایک ٹوئٹر پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ اِس پیغام میں طالبان اور حقانیوں کی کہہ مکرنیاں ، احسان فراموشیاں اور دغا بازیاں بیان کر دی گئی ہیں۔ خواجہ صاحب موصوف نے سراج الدین حقانی کو یہ کہا ہے کہ ’’ پاکستان نے تمہاری دو تین نسلوں کو پالا پوسا، تم پر احسانات کیے، ہم سے جب تمہاری لوکیشن بارے پوچھا گیا تھا تو ہم نے لوکیشن نہ بتا کر تمہاری جان بچائی۔ اور اب تم بھی ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانیوں کے درپے ہو ؟‘‘خواجہ صاحب نے کابل و قندھار پر قابض قبضہ گیر ٹولے ، طالبان، کے سنگی ساتھی، سراج الدین حقانی، کے پاکستان سے پیسے مانگنے کی داستان بھی بیان کر دی ہے۔ یہ کہانی روپے پیسے کے لالچی اور بلیک میلر طالبان کی داستان بھی بیان کرتی ہے ۔ یہ افغان طالبان کے سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی بھی ناقابلِ فراموش کہانی ہے ۔ شرم مگر طالبان کو نہیں آتی ۔ شائد کبھی آئے گی بھی نہیں ۔ یہ تو بھارت سے متنوع بھیک مانگنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا