Today News
متحدہ عرب امارات؛ ہیلی کاپٹر حادثے میں مسلح افواج کے دو اہلکار شہید
متحدہ عرب امارات میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر فرائض کی انجام دہی کے دوان گر کر تباہ ہوگیا۔
عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا۔
اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر اس وقت قومی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے پرواز کر رہا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حادثے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے دو اہلکار شہید ہو گئے۔
تاہم حکام نے حادثے کے مقام اور دیگر تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔ البتہ حادچے کی وجہ تکنیکی خرابی کو بتایا ہے۔
وزارت دفاع نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو تکنیکی خرابی کا سامنا ہوا تھا۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور متعدد فوجی آپریشنز اور نگرانی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
Today News
اگر پٹرول کی قلت ہے تو کیا قیمت بڑھانے سے اچانک سپلائی بھی بڑھ جائے گی؟ مایا علی
اداکارہ مایا علی نے رمضان المبارک کے دوران مہنگائی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے حکام اور عوام دونوں کو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے حالات پر غور کرنے کی اپیل کی۔
اداکارہ نے انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے متعدد پیغامات میں لکھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ بعض اوقات معاشی یا سیاسی حالات کے باعث مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، اور اگر ملک جنگی صورتحال سے گزر رہا ہو تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا ضروری ہے جن کے گھروں کا نظام روزانہ کی کمائی سے چلتا ہے۔
مایا علی کے مطابق بہت سے افراد ایسے ہیں جن کے پاس صرف موٹر سائیکل ہوتی ہے اور وہ روزانہ کام کر کے ہی اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر ان لوگوں پر پڑتا ہے جو روزانہ سفر کر کے اپنی روزی کماتے ہیں۔
اداکارہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں عوام کسی حد تک ریلیف کی امید رکھتے ہیں کیونکہ بہت سے خاندان پہلے ہی بڑھتے اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے لوگوں کی تنخواہیں یا یومیہ آمدنی اتنی نہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بوجھ آسانی سے برداشت کر سکیں، جبکہ اکثر افراد کے لیے گھر بیٹھنا ممکن نہیں کیونکہ انہیں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کام جاری رکھنا پڑتا ہے۔
ایک اور پیغام میں مایا علی نے حکومت کی جانب سے ایندھن کے ذخائر سے متعلق دی جانے والی وضاحت پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر صرف چند دن کے لیے باقی ہیں تو پھر قیمتوں میں اچانک اضافہ اس مسئلے کو کیسے حل کرسکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پٹرول کی قلت ہے تو کیا قیمت بڑھانے سے اچانک سپلائی بھی بڑھ جائے گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور روزمرہ کے اخراجات سے پریشان ہیں اور ایسے مقدس مہینے میں لوگ مزید مالی دباؤ کے بجائے کچھ ریلیف کی امید رکھتے ہیں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ آخر عوام پر بوجھ کب تک بڑھایا جاتا رہے گا؟
Source link
Today News
PM Shahbaz Sharif address nation
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم برادر مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے، ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہی زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وقت میں ملک دیوالیہ ہونے والا تھا مگر ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معشیت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا، روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے
ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا، حکومت کی کوشش ہوگی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس حوالے سے دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں اور انشاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں، اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھا، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلیے آگے بڑھ کر قربانی دی، اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔
حکومت کے کفایت شعاری، بچت سے متعلق اہم فیصلے
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔
- آئندہ دو ماہ کیلیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا پیٹرول کوٹہ 50 فیصد کم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
- ایندھن کی بچت کیلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے۔
- دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
- وزیراعظم نے کہا کہ 20 گریڈ اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد اُن کی دو روز کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلیے استعمال کی جائے گی۔
- تمام سرکاری محکموں کی تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
- وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد جن کا اطلاق چاروں صوبوں کے گورنرز پر بھی ہوگا تاہم ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی۔
- سرکاری سطح پر آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ایندھن کی بچت ہوسکے گی۔
- سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد
- سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی
ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں
- انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام (ورک فراہم ہوم) کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی ہر ہفتے دی جائے گی۔
- بینکس، صنعت، زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے میں اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
- وزیراعظم کے مطابق فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئے چلینج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر ہے جس میں اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا اور یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ وہتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے، مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔
Today News
بحرین کی توانائی کمپنی باپکو کا فورس میجر کا اعلان، معاہدوں کی تکمیل مشکل
ایران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچ گئے جس کے نتیجے میں بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو نے فورس میجر کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو انرجیز نے ایرانی حملوں کے بعد اپنے معاہدوں کی تکمیل سے معذرت کرلی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں بحرین کی 90 سال پرانی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جس کے بعد پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اس ریفائنری کی استعداد بڑھا کر تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ تک کی گئی تھی جبکہ پلانٹ میں جدید یونٹس نصب کیے گئے تھے جو جیٹ فیول اور ڈیزل کی زیادہ مقدار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث کمپنی کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں تاہم مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔
معاملہ صرف باپکو کا ہی نہیں، ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی توانائی کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں قطر انرجی نے دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹ سے متعلق بھی فورس میجر کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب کویت نے بھی اپنے آئل فیلڈز اور ریفائنریز میں پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے۔
فورس میجر کیا ہوتا ہے؟
فورس میجر ایک معاہداتی شق ہوتی ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات جیسے جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی صورتحال میں کمپنی کو عارضی طور پر معاہدوں کے تحت ترسیل یا سپلائی روکنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Magazines1 week ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The dog without a leash!
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
EDUCATION: MEDIA DEGREES OUT OF SYNC – Newspaper