Connect with us

Today News

متشدد افغان طالبان سے پاکستان کی کیسے نبھے؟

Published

on


’’افغانستان بطورِ ہمسایہ ملک چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے ۔اِس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں ۔‘‘یہ الفاظ افغان طالبان رجیم کے عبوری وزیر خارجہ،مولوی امیر خان متقی، کے ہیں ۔ اگلے روز یہ الفاظ موصوف نے اُس وقت کہے جب وہ قطری وزیر خارجہ (عبداللہ بن زاید النہیان) سے فون پر بات چیت کررہے تھے ۔

امیر خان متقی کے مذکورہ بیان کے دو روز بعد ( یکم اپریل2026 کو)خبر آئی ہے کہ چین کے شمال مغرب میں واقع (اور پاکستان سے متصل) چین کے مشہور صوبے( سنکیانگ) کے مشہور شہر ’’ارومچی‘‘ میں ، چین کی ثالثی میں، پاک افغان مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی جونیئر لیول کے ہیںکہ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری نے اِس میں شرکت کی ہے۔اِن مذاکرات کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے ، مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے افغان دہشت گردوں کے خلاف جس ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کو جاری کر رکھا ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی تاآنکہ اپنے متعینہ مقاصد و اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں ۔

افغانستان پر مسلّط طالبان رجیم اور اس کے مولوی متقی خان ایسے کئی وزیر پچھلے پانچ برسوں کے دوران ایسے کئی وعدے کئی بار کر چکے ہیں ، مگر ہر بار وعدہ کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ یوں پاکستان اور پاکستانی عوام اُن کے کسی وعدے اور عہد پر اب یقین نہیں کرتے ۔پاکستان افغان طالبان رجیم اور اس کے جملہ کارندوں پر اندھا اعتماد و اعتبار کرکے کئی بار ڈسا جا چکا ہے ۔

افغان طالبان اسقدر بد عہد واقع ہُوئے ہیں کہ دوست اسلامی ممالک ( سعودی عرب ، قطر ، ترکیہ) سے پاکستان میں دہشت گردیاں نہ کرنے بارے کیے گئے وعدوں سے بھی مکر گئے ۔ تنگ آکر پاکستان نے اُن افغان دہشت گردوں کے خلاف (افغانستان میں گھس کر) ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغازکیا ہے جنہیں کابل و قندھار کی افغان طالبان قیادت کی جانب سے ہر قسم کی اشیرواد بھی حاصل تھی ۔

افغان دہشت گرد طالبان اور طالبان کارندوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں اب تک 600 سے زائد افغان دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بسنے والے دہشت گرد افغان طالبان اَب ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے خوف سے تتر بتر ہوکر اور پاکستانی سرحد کے نزدیکی علاقوں سے فرار ہو کر افغانستان کے دُور دراز علاقوں میں جا بسے ہیں ۔ اُن کی چیخیں تا آسمان سنائی دے رہی ہیں۔پاکستان نے عید الفطر سے قبل چار پانچ روز کے لیے افغان دہشت گردوں کے خلاف حملوں میں وقفہ بھی کیا تھا۔ مگر اب یہ وقفہ ختم ہو کر ایک بار پھر بحال ہو چکا ہے ۔طالبان اب صلح کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں اور توبہ تائب بھی ہو رہے ہیں ، مگر اُن پر پاکستانی اتھارٹیز یقین کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں ۔

افغان طالبان کی کہہ مکرنیاں ، بے وفائیاں اور عہد شکنیاں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ آج دُنیا بھر میں کوئی ان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بھارت کی انگلیوں پر ناچنے والے مقتدر طالبان کی خونی دہشت گردیوں کی لپیٹ میں عام افغان شہری بھی آ چکے ہیں۔ جفا جُو اور دغا باز افغان طالبان نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کسی سے نبھا نہیں کیا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ مدتوں قبل خواجہ میر درد نے یہ شعر طالبان ہی کے لیے کہا تھا: نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز/ گلا تب ہو اگر تُو نے کسی سے بھی نبھائی ہو۔

ارُومچی میں تازہ مذاکرات سے قبل خبر آئی تھی کہ ایک جوائنٹ پاک ، افغان امن جرگہ 31مارچ  2026 کو پشاور میں منعقد ہوگا تاکہ دونوں ممالک میں مکالمے ، امن اور استحکام کی فضا ہموار کی جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکریٹری ( ارباب شہزاد خان) اور ’’قومی اصلاحی تحریک‘‘ کے سربراہ (حاجی سہراب علی خان) اِس جرگے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے تھے ۔ مگر یہ جرگہ بھی بے ثمر ہی ثابت ہُوا ۔اِس کی ناکامی میں بھی افغان دہشت گرد طالبان کی دغا بازیوں کا ہاتھ تھا ۔

جس تاریخ کو اِس جرگے نے بیٹھنا تھا، اُسی کے آس پاس مقتدر افغان طالبان نے معروف افغان صوبے ’’خوست‘‘ کے کئی شہروں میں پاکستان کے خلاف مسلح ریلیاں نکالیں۔ اِن ریلیوں میں پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔ افغان طالبان نے زبردستی اپنے میڈیا پر اِن ریلیوں کی ویڈیوز بھی چلائیں تاکہ پاکستان کے خلاف افغان ذہن مسموم کیے جا سکیں۔ ریلیوں میں یہ بھی نعرے لگوائے گئے : ’’ہم پاکستان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں۔‘‘ افغان میڈیا نے مگر اِن ریلیوں کی حقیقت کا یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ ’’افغان طالبان حکومت نے زبردستی اور جبر یہ طور پر افغان نوجوانوں کو پاکستان مخالف اِن ریلیوں میں شریک کیا تھا۔‘‘

دہشت گرد افغان طالبان بارے، حالیہ ایام میں،افغانستان کے لیے متعین رُوسی ایلچی ( ضمیر کابولوف)نے ایک عجب اقرارو اعتراف کیا ہے۔ 28مارچ 2026ء کو ضمیر کابولوف نے رُوسی خبر رساں ادارے (RIA Novosti)سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا: ’’ پاک افغان تعلقات اِس لیے بھی درست نہج پر نہیں آ رہے کیونکہ طالبان کے افغانستان میں کئی دہشتگرد اور شدت پسند گروہ اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔‘‘مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ افغان سر زمین پر بروئے کار متنوع دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان کی سرپرستی اور اعانت بھی حاصل ہے ۔

یہ سرپرستی ہی درحقیقت افغانستان سے پاکستان پر آئے روز حملوں کا سبب بنا کرتی تھی ۔ پاکستان نے مگر جب سے افغان دہشت گردوں کے خلاف’’آپریشن غضب للحق‘‘ کی شکل میں سخت ائر اسٹرائیکس کا آغاز کیا ہے ، افغان دہشت گردوں کی خونی کارروائیوں میں بڑی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے ۔ یوں ثابت ہُوا کہ لاتوں کے بھوت لاتوں ہی سے مانتے ہیں ۔

یکم اپریل 2026کو افغانستان کے لیے رُوسی صدر کے خصوصی ایلچی ، ضمیر کابولوف، نے افغانستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر بھی دی ہے ۔ موصوف نے کہا تھا: ’’رُوس کو چونکہ آجکل زراعت ، کنسٹرکشن ، ٹرانسپورٹ اورسروسز کے شعبوں میں مزدوروں کی سخت ضرورت ہے ، اس لیے رُوس سوچ رہا ہے کہ اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے افغان مزدُوروں کو رُوس لایا جائے۔ یوں افغان طالبان کے عوام کی کچھ مدد بھی ہو جائے گی۔‘‘ مگر اِس اعلان یا تجویز کی رُوسی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ مثال کے طور پر رُوس کی قومی اسمبلی (State Duma)کی کمیٹی برائے ریجنل پالیسی کے معروف رکن Mikhail  Matveyevنے کہا :’’ افغان لیبرکو رُوس میں لانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ افغانیوں کو بطورِ مزدُور رُوس درآمد کیا گیا تو یہ رُوسی سوسائٹی کے لیے سیکیورٹی رسک بن جائیں گے ۔‘‘

مذکورہ بالا الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ مقتدر افغان طالبان کے اقدامات اور حرکتوں نے اپنے عوام کو بھی دُنیا میں بے اعتبار بنا دیا ہے ۔ اگرچہ حالیہ کئی مثالیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ رُوس اور افغانستان میں تعلقات بڑھ رہے ہیں ( مثلاً رُوس میں افغان سفیر، مولوی گل حسن، کی تعیناتی)، مگر ساتھ ہی افغان طالبان نے پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کی وارداتوں کو فروغ دیا ہے ، اِس نے اِنہیں بے حد بدنام بھی کررکھا ہے ۔

پاکستان کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرنا اور بھارت سے پینگیں بڑھانا بھی افغان طالبان کی بے قدری اور بے اعتباری میں اضافے کا سبب بنا ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران افغان طالبان نے افغان بچیوں پر جس طرح تعلیم کے دروازے مقفّل کررکھے ہیں اور افغان خواتین کے لیے ہر قسم کی ملازمتیں بھی ممنوع قرار دے ڈالی ہیں ، یہ متشددانہ فیصلے بھی عالمی سطح پر افغان طالبان کے استرداد کا موجب بن رہے ہیں ۔

پچھلے ماہ کے دوران افغانستان کی سپریم کورٹ کے حکم سے کابل ، فاریاب، بلخ، ننگرہار اور ہرات کے صوبوں میں 46افراد کو کھلے عام38/38کوڑے مارے گئے۔ کوڑے کھانے والوں میں دس ، دس سال کے کمسن لڑکے بھی شامل تھے ۔ افغان طالبان نے خود تسلیم کیا ہے کہ 2025 میں افغانستان میں 6افراد کو سرِ عام پھانسیاں دی گئیں اور ملک بھر میں 1118 افراد کو کوڑے مارے گئے ۔ یوں تشدد پسند مقتدر افغان طالبان کی دُنیا سے نبھے تو کیسے نبھے؟؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں بارش کا 41 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

Published

on



کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارش کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 38.6 ملی میٹر بارش ہوئی جس کے سبب ماضی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

واضح رہے کہ 1985 میں کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران 37.0 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔

کراچی میں جمعرات 2 اپریل کی صبح مغربی سسٹم کے زیر اثر بارش کا آغاز ہوا جبکہ دوپہر کے بعد موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کر دیا۔

شہر میں موسلادھار بارش کے باعث موسم خنک ہوگیا جبکہ درجہ حرارت میں بھی کمی دیکھی گئی۔



Source link

Continue Reading

Today News

جنگ، اب تک کا ایک جائزہ

Published

on


28فروری 2026 کو امریکا و اسرائیل کے غیر علانیہ ایران پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ کو ایک مہینہ ہو گیا ہے۔جنگ ابھی جاری ہے۔جنگ شروع کرنے والے دونوں ممالک نے اپنے اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے یہ جنگ چھیڑی۔ امریکا اور ایران کے مابین سلطنتِ عمان کے توسط سے جنیوا سوئٹزرلینڈ میں ابھی یہ مذاکرات ہو رہے تھے کہ امریکا نے نتن یاہو کے ایما پر حملہ کر دیا جس میں ایرانی سپریم لیڈر،ان کی فیملی کے افراد اور کچھ اعلیٰ عسکری قیادت شہید ہو گئی۔

یہ ایک انتہائی افسوس ناک ڈویلپمنٹ تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے،کم ہے۔جس طرح امریکا و اسرائیل کے اہداف تھے، اسی طرح ،حالانکہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی لیکن جنگ چھڑ جانے کے بعد ایران نے بھی اپنے اہداف سامنے رکھ کر جوابی جنگی کارروائی شروع کی۔جی سی سی ممالک جنگ نہیں چاہتے تھے لیکن وہ اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئے۔چونکہ یہ معرکہ ابھی جاری ہے اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی بات تو شاید نہیں ہو سکتی لیکن پھر بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اب تک جنگ سے ہر فریق نے کیا حاصل کیا ہے۔

ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ یہ جنگ نتن ہاہو کے ایماء پر امریکا اور اسرائیل نے شروع کی۔ یوں کچھ اہداف تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کے ذاتی ہیں اور کچھ اہداف ریاستِ اسرائیل کے ہیں۔ جنگ و جھگڑا نتن یاہو کی سیاسی زندگی کو بقا بخشتا ہے۔وہ ہمیشہ اپنے ملک کو جنگ کی حالت میں رکھنا پسند کرتا ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی کرپشن اور غلط کاریوں سے توجہ ہٹائے رکھنے میں کامیاب رہ سکتا ہے۔نتن یاہو کے خلاف کرپشن اور غیر قانونی طور پر تحائف وصول کرنے کا کیس چل رہا ہے جو بہت حد تک مکمل ہو چکا ہے۔شنید ہے کہ جونہی جنگ ختم ہو اور وزیرِاعظم کو عدالت میں پیش ہونے کی مہلت میسر ہو۔وہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں،تو کیس کا فیصلہ شاید بہت جلد ہو جائے۔

نتن یاہو منفی فیصلے سے بچنے کے لیے صدر ٹرمپ کو بھی درمیان میں لے آیا ہے۔ٹرمپ نے دورہ اسرائیل کے موقع پر اسرائیلی صدر کو کہا کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نتن یاہو والا کرپشن کیس ختم کردیں مگر اسرائیلی صدر نے فی الحال ایسا نہیں کیا۔اسرائیل میں امسال عام انتخابات بھی ہونے ہیں۔انتخابات جیتنے کے لیے بھی نتن یاہو کے لیے جنگ ضروری ہے۔اسرائیل نے گریٹر اسرائیل کا نقشہ بھی جاری کر رکھا ہے اور وہ بڑی ہوشیاری سے اس پر کام کر رہا ہے۔اسرائیل جب قائم ہوا تو یہودیوں کے پاس فلسطین کی صرف 6فیصد زمین تھی جو اب بہت بڑھ چکی ہے۔اسرائیل ریاستِ شام کی ملکیت گولان کی پہاڑیوں پر پہلے ہی قابض ہے۔اب وہ مزید آگے بڑھتے ہوئے دمشق کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ لبنان کا جنوبی علاقہ بھی اس کی دسترس میں آ چکا ہے۔

اسرائیل غزہ کے علاوہ مغربی کنارے کے علاقوں کو بھی بتدریج ہڑپ کر رہا ہے۔ایران کے خلاف اسرائیل نے بہت محنت سے کمپین تیار کی ہے اور اپنے ٹارگٹس پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔امریکا بڑھ چڑھ کر اس کا ساتھ دے رہا ہے۔یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اپنے مقرر کردہ اہداف کی طرف بڑھ تو رہا ہے لیکن اسے بہت کٹھن اور لمبا سفر درپیش ہے۔ایرانی جواب نے اس کی منزل کھوٹی کر دی ہے۔اب تک مغرب اور خاص کر امریکی عوام اسرائیل کی بے پناہ حمایتی رہی ہیں لیکن پچھلے سال سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

اب امریکا کی آبادی کی اکثریت فلسطین کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے لگی ہے اور اسرائیلی بربریت کی غیر مشروط حمایت سے دست بردار ہو رہی ہے۔اسرائیل و امریکا کی مشترکہ کوشش رہی ہے کہ ایران کو عرب ریاستوں کے دشمن اور خطرے کے طور پر پیش کریں۔وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ عرب ریاستوں کا دفاع کبھی مضبوط نہ ہو۔یہ دونوں ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلمان ممالک آپس میں لڑ کر کمزور ہوں۔ ٹرمپ کے سامنے جنگ میں کودتے وقت دراصل کیا اہداف تھے،کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی،کیونکہ وہ جو ایک امریکی لا میکر نے کہا کہ ٹرمپ ہر گھنٹے اپنا ہدف بدل رہے ہیں۔وہ ایک بہت کامیاب اور نہایت خوش قسمت سیاست دان ہیں۔سیاسی میدان میں جو غلطیاں ٹرمپ نے کی ہیں ،اگر کوئی اور امریکی سیاست دان وہ کرتا تو اس کی سیاست کبھی کی ختم ہو چکی ہوتی لیکن ٹرمپ کو کبھی نقصان نہیں ہوا۔جنگ کی ابتدا میں کہا گیا کہ ایران کے اندر رجیم چینج ایک بڑا ہدف ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے پہلے ہی حملے میں سپریم لیڈر جناب خامنہ ای اپنے رب سے جاملے لیکن جنگ بند نہ ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔جنوری 2026میں ایران میں بڑے پیمانے پر پر تشدد مظاہرے ہوئے۔خیال کیا جا رہا تھا کہ سپریم لیڈر کی رخصتی کے ساتھ ہی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ایرانیوں نے ثابت کیا کہ وہ ایران کے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں کھیلیں گے۔ جناب ٹرمپ کو یہ بھی یقین تھا کہ پہلے چند دنوں میں ہی کامیابی ان کے قدم چومے گی اور تاریخ میں ان کا نام یوں سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ وہ ایسے صدر تھے جنھوں نے امریکی مخالف حکومت کو ویسے ہی چلتا کیا جیسا انھوں نے وینزویلا میں کیا ۔ایرانی عوام اور حکومت کے جوابی اقدامات اور حملوں نے امریکا و اسرائیل کی ان خواہشات پر اوس ڈال دی۔خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ایران کے حملوں کی زد میں ہیں اور امریکی بحری قوت کا بالکل بھی بس نہیں چل رہا۔

خلیجی ممالک اپنے ہاں حملوں کی وجہ سے بہت مشکل میں ہیں لیکن امریکی معاشی و فوجی قوت کی وجہ سے امریکا کو نکلنے کا بھی نہیں کہہ سکتے۔امریکا کا دوسرا ہدف ایران کی جوہری صلاحیت کو بالکل ختم کرنا تھا۔یہ شاید مذاکرات کے ذریعے تو ممکن تھا لیکن جنگ سے یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ ایران کی میزائل بنانے اور فائر کرنے کی صلاحیت بھی ملیامیٹ کرنا امریکی جنگی اہداف میں ہے لیکن ایران تو ابھی بھی تابڑ توڑمیزائل فائر کر رہا ہے۔یہ صلاحیت بھی ابھی ختم نہیں کی جا سکی۔جس طرح وینزویلا کے تیل ذخائر پر قبضہ ہوا ہے اسی طرح ایرانی تیل ذخائر بھی امریکی قبضے میں جانے تھے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی اہداف حاصل نہیں ہوئے اور صدر ٹرمپ جنگ میں ناکامی کی وجہ سے اکتاہٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ٹرمپ کے بیانات پر کبھی نہیں جانا چاہیے۔

ایران جنگی جنون کا شکار ہوا لیکن جب جنگ اس پر تھونپ دی گئی تو ایرانی عوام اور انتظامیہ نے بہت پامردی اور حوصلے سے اس کا مقابلہ کیا۔ایران نے محدود جنگ لڑنے کے بجائے جنگ کو ورٹیکل اور Horizontal پھیلا دیا۔ایران نے اسرائیل پر حملے کرنے کے ساتھ خلیج میں قائم امریکی اڈوں وسمندر میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ایران نے وہ کر دکھایا ہے جو بظاہر نا ممکن تھا۔ایرانی حکومت قائم ہے اور اس کے عوام جنگ میں متحد ہیں۔امریکا و اسرائیل کی متحدہ قوت ایران کو واضح شکست دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اور اب جنگ سے نکلنے کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ایران نے دو بہت بڑی قوتوں کے خلاف Stalemate پیدا کرکے تاریخ رقم کر دی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جام سے پینا رسم پرانی ہوگئی

Published

on


کمال کمال اور پھر کمال ہے یہ ہماری مملکت خداداد پاکستان بھی۔وہ کونسا رنگ ہے جو اس میں نہیں ہے دانائی دانشوری کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ یونان قدیم ہے۔دینداری پرہیزگاری اور صادق و امینوں کے لحاظ سے یہ ’’ریاست مدینہ‘‘ ہے ، اُن تمام ناموں سمیت جو مقدس ہیں اور آج کل تو یہ قدیم روم کے مماثل بھی ہوگیا ہے۔جہاں نیرو بانسری بجایا کرتا تھا۔اور قدم قدم پر’’ایربناؤں‘‘ میں طرح طرح کے کھیل کھیلے جاتے تھے جب لوگ بھوک ننگ سے پریشان ہوتے تھے تو ان کی بھوک کو بہلانے کے طرح طرح کے کھیل تماشے دکھانے کے زبردست پروگرام ہوا کرتے تھے۔ اور یہاں بھی وہی انتظام ہے، وہی عالم ہے، وہی نسخہ ہے اور یہ اندازہ ہم نے اس کرکٹ نام کے کھیل اور اس کی دھوم سے لگایا ہے جس میں نکمے نکھٹوؤں اور تاجروں، دکانداروں اور ساہوکاروں کے لیے بھی بے پناہ مواقع ہیں اور وہ بھی نہایت سنہرے اور آسان۔اس کا اندازہ اس لیے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے صرف ایک کرکٹ ہوا کرتی تھی جب کہ آج ہر ہر قسم کے رنگ اور نام کی کرکٹ ٹیمیں برساتی کمبھیوں کی طرح اُگ رہی اور پھوٹ رہی ہیں۔

وومن ٹیم تو خیر لازم تھی کہ عورت کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ کماتی ہے، مرد سے کم نہیں بلکہ زیادہ قابل ہے ۔پھر بلائنڈ کو بھی یہی ثابت کرنا تھا اور ہے اور جب بلائنڈز نے اپنے کمالات دکھائے تو ان کے باقی ہم نشینوں، ہم سفروں اور ہم نفسوں نے کیا گناہ کیا ہے جو پیچھے رہتے۔ہمیں یقین ہے آیندہ دوچار سال میںگونگوں،لنگڑے لولوں اور پولیو زدہ برادریوں کی ٹیمیں بھی سامنے آجائیں گی یا شاید بن بھی چکی ہوں گی اور’’ایج‘‘کی بنیاد پر تو انڈر تھرٹی سے انڈر تھری تک کی ٹیمیں موجود ہیں جو آیندہ کچھ عرصے میں چائیلڈ اور انفینٹ یعنی شیرخواروں تک دراز ہوسکتی ہیں۔اور اس میں کچھ مشکل بھی نہیں۔شیرخواروں کی مائیں اور آیائیں ان کو بچہ گاڑیوں میں تو ویسے بھی گراؤنڈ وغیرہ میں پھرایا کرتی ہیں تو کرکٹ بھی کھلوا سکتی ہیں۔ صوبوں، ضلعوں،تحصیلوں اور یونین کونسلوں کی ٹیمیں تو شروع ہوچکی ہیں۔

آگے شاید برادریوں،پیشوں اور روزگاروں کی بنیاد پر ٹیمیں بننا شروع ہوجائیں۔جیسے لوہارائرن۔ترکان ووڈن،سنارگولڈن،مستری الیون، معمارشاہین،مزدور ہتھوڑا،کسان درانتی،ڈرائیور اسپیڈ، گداگر فائٹر،ڈاکٹرز لیوپرڈ، دکاندار ٹائیگر،زمین دارٹریکٹر،حلوائی سلور،قصائی کلہاڑا وغیرہ۔ہمارے خیال میں سب سے پاپولر،ہارٹ فیورٹ اور بیسٹ سیلر ٹیم تیسری جنس کی ہوسکتی ہے کہ وہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ کچھ اور فنون کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں یا کرسکتی ہیں، تھرڈ ایمپائر تو پہلے سے موجود ہیں۔تو تھرڈ جینڈر ٹیم میں کیا حرج ہے۔

مطلب چونکہ کمائی اور شائقین کا انٹرٹینمنٹ ہے مثلاً اگر بالنگ میں ناچ کا رنگ بھی شامل ہوجائے، فیلڈنگ میں چٹک مٹک کا بھی مظاہرہ ہو۔بیٹنگ میں دوچار اسٹیپ ڈانس کے لیے جا سکتے ہیں اور وکٹ کیپر کو تو زیادہ کارکردگی دکھانے کا موقع حاصل ہوتا ہے، مطلب یہ کہ لہک لہک،چھنک چھنک اور ٹھمک ٹھمک کو کرکٹ کا حصہ بنایا جاسکتا اور اس ٹیم کے میچ کے ٹکٹ پکوڑوں کی طرح بکیں گے۔کچھ عرصہ پہلے ایک شہر میں ٹیموں کی نیلامی بلکہ صحیح معنوں میں عوام کی خرید فروخت ہورہی تھی کہ یہی اس ملک کی سب سے بڑی تجارت ہے کہیں پر کچھ بھی ہو۔سیاسی، تجارتی، مذہبی، سماجی خرید وفروخت کا مین بلکہ واحد آئٹم کالانعام ہی ہوتے ہیں لیکن نام الگ ہوتے ہیں۔مثلاً سیاسی پارٹیاں اسے ٹکٹ کا نام دیتی ہیں، میڈیا اسے اشتہارات وغیرہ کے نام دیتا ہے۔مذہبی لوگ اسے ثواب کا نام دیے ہوئے ہیں لیکن فروختگی خریدگی کالانعاموں ہی کی ہوتی ہے۔خیر تو اس نیلامی یا فروختگی میں ایک بزرگ مہر یا بقراط نے فرمایا۔کرکٹ ہمارے خون میں دوڑتی ہے یا دوڑ رہی ہے۔

بخدا یہ سُن کر ہم تو سن ہوکر رہ گئے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں اور ہمارے خون میں کرکٹ دوڑ رہی ہے بلکہ دوڑنا بھی اتنا حیران کن نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ ہمارے خون میں پہنچی کیسے۔وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میں حیران ہوں کہ چوزہ انڈے سے نکلتا کیسے ہے۔ دوسرے نے کہا، تم نکلنے کا کہہ رہے ہو اور میں حیران ہوں کہ چوزہ انڈے میں گھستا کیسے ہے۔اب تک تو ہم نے یہ سنا تھا کہ خون میں سرُخ اور سفید ذرات دوڑتے ہیں۔بلکہ ایک دانا دانشور نے یہ کہا ہے کہ انگریز جاتے ہوئے اپنی آنکھوں کا رنگ ہمارے لیڈروں کے’’قدموں‘‘ میں انجیکٹ کرگئے ہیں اور اپنی جلد کا سفید رنگ ہمارے خون میں ڈال چکے ہیں اس لیے ان کے قدم سبز اور خون سفید ہوگیا ہے۔لیکن ہم لیڈروں کی بات نہیں کرکٹ والوں کی کررہے ہیں۔ارے ہاں یہ تو ہم بھول گئے کہ اب تو ہماری سیاست اور کرکٹ ایک ہوچکی ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہا ہے، مفادات واردات،بیانات، تحفظات سب کچھ میں۔ سیاست بھی تو کھیل لڑکوں کا ہوا ،دیدۂ بیان نہ ہوا

ترے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

بندہ وصاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

بہرحال یہ خون میں کرکٹ دوڑنے کا معاملہ کچھ تشویش ناک سا ہے کیونکہ خون کو تو کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں، خون کا کینسر ہوسکتا اور شاید ہوچکا ہے، خون سفید ہوسکتا ہے وہ بھی شاید ہوچکا ہے اور بہنا بہایا بھی جاسکتا ہے اور وہ تو شاید نہیں یقیناً ایک عرصے سے ہورہا ہے

رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

ایک شخص نے ہمیں ایک شخص کے بارے میں بتایا کہ شکر ہے اپنے باپ پر نہیں گیا ہے اس کا باپ تو منشیات فروش تھا لوگوں کو نقصان پہنچاتا تھا۔معاشرے کو نقصان پہنچاتا تھا بچوں کو نشے کی لت لگاکر تباہ کرتا تھا۔لیکن اس کا یہ بیٹا دیکھو۔بچوں کو کرکٹ سکھاتا ہے۔ ٹیمیں بناتا ہے اور ٹورنامنٹ منعقد کرتا ہے صحت مندانہ کاروبار کرتا ہے۔ہم نے کہا جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کفن چور کا بیٹا چور ہی نکلتا ہے بلکہ باپ کو بخشواتا ہے۔یہ آپ جس نیک آدمی کی تعریف کررہے ہیں یہ بھی ’’منشیات فروش‘‘ ہی ہے۔لیکن منشیات الگ الگ ہیں، باپ جو منشیات فروخت کرتا تھا وہ’’مُنہ‘‘ سے استعمال کیے جاتے تھے اور بیٹا جو منشیات فروخت کررہا ہے وہ بھی استعمال ہوتے ہیں ورنہ جاکر کسی کو ٹی وی پر میچ دیکھتے ہوئے دیکھیے نشی نظر آجائیں گے

آنکھوں سے پی رُت مستانی ہوگئی

جام سے پینا رسم پُرانی ہوگئی





Source link

Continue Reading

Trending