Connect with us

Today News

مجھے اس دیس جانا ہے

Published

on


تسنیم کوثر ایک کمال نثر نگار ہیں۔ چند دن پہلے ان کی ایک کتاب موصول ہوئی جس کا عنوان ہے ’’مجھے اس دیس جانا ہے۔‘‘ اندرون صفحہ پر حد درجہ دلچسپ جملے لکھے ہوئے تھے۔ ’’محترم آداب! گذشتہ برس کتاب آپ کو پوسٹ کروائی۔ محکمہ ڈاک نے پھرتی دکھائی۔ اور دو دن بعد کتاب مجھے ہی موصول ہو گئی۔ آج پھر جسارت کر رہی ہوں۔ کتاب پر تاریخ وہی پرانی ہے‘‘۔ ذاتی طور پر تسنیم صاحبہ سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک مصنفہ ہیں۔ مگر میرا قیاس غلط ثابت ہوا۔

کتاب پڑھنے سے پتہ چلا کہ وہ محض نثر نگار نہیں بلکہ باکمال لکھاری ہیں۔ ان کی کتاب بظاہر تو ملائیشیا کا سفر نامہ ہے۔ مگر اصل میں الفاظ‘ جملوں‘ مضمون کی ساخت اور زبان پر ان کی گرفت کا ثبوت ہے۔ سفرنامہ بہت ہی کم پڑھتا ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی عمدہ تحریر ہے۔ جو اردو ادب میں ایک نکھرا ہوا اضافہ ہے۔ دو تین نشستوں میں ہی اس کتاب کو پڑھ ڈالا۔ اب اس میں سے چند اقتسابات ‘ پیش کرتا ہوں۔

پیش لفظ میں مصنفہ رقمطراز ہیں:وقت کی تتلی: یہ کب ضروری ہے کہ جو جی چاہے وہی ہوجائے!کہیں حالات انسان کو الجھائے رکھتے ہیں اور کہیں خوف بہت سے شوق دبا دیتا ہے مگر…اس ڈر اور خوف کے باوجود ہر انسان سفر ضرور کرتا ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر اور …کبھی دوسرے ملک جا پہنچتا ہے۔کوئی روزگار کے لیے‘کوئی حصول تعلیم کے لیے‘لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محبت کے رتھ پر سوار ہو کر تنہا ہزاروں میل دور کا سفر کر جاتے ہیں۔محبت وہ منہ زور جذبہ جو ناممکن کو ممکن بنا دے۔اور ایک ماں کو اپنی اکلوتی بیٹی سے ملنے کی لگن لگا دے۔مجھے بھی یہ لگن ہی اس خوبصورت جزیروں والے ہرے بھرے دیس میں لے گئی تھی۔ اس محبت نے ہی مجھے اس سفر پہ اکسایا تھا۔

سلمیٰ اعوان صاحبہ نے حد درجہ سادہ مگر پر تاثیر پیش لفظ رقم کیا ہے۔تسنیم … ایک اچھی افسانہ نگار: سالوں پہلے کی بات ہے تخلیق کے بانی مدیر اظہر جاوید حیات تھے۔ پرچہ ملا تو ہندوستان کے ایک سفر نامے کا آغاز ہو رہا تھا۔ پہلی قسط ہی ایسی دل موہ لینے والی تھی کہ پڑھ کر تھوڑی دیر تو گم صم ہونے والا سلسلہ ہوا۔ نثر سا دگی اورپرکاری کی اپنی مثال آپ تھی۔ توجہ کھنیچ کر بتاتی تھی کہ رکو‘ مجھے پڑھو اور ہاں سراہو بھی۔ مصنفہ کون تھی؟ پڑھا تو تسنیم کو ثر پڑھنے کو ملا۔ اس وقت ابھی شناسائی زیاہ نہ تھی۔ ہاں کہیں کسی تقریب میں بس ہیلو ہائے والی بات ضرور تھی۔ پھر جیسے تخلیق کا انتظار رہنے لگا۔ خصوصی طور پر تسنیم کوثر کے سفر نامے کا۔ کیا دل پذیر سا انداز تھا ۔ کہیں دلی کے گلی کوچوں میں لیے پھرتی تھی۔ کہیں چندی گڑھ کے سبزہ زار وں میں گھما پھرا رہی ہے۔ کہیں شملہ کے پہاڑوں میں پہنچی ہوئی ہے۔ لوگوں سے ملاقاتیں کروا رہی ہے۔ پنجاب کی رہتل اور وسیب کی کہانیاں اپنے ہندوستانی دوستوں کے حوالے سے سنا رہی ہے۔ بات سے بات نکال رہی ہے۔ شگفتہ بیانی سے دلوں میں اتر رہی ہے۔ محبتیں بانٹ رہی ہے۔ اور انھیں سمیٹ بھی رہی ہے۔

میں اور میرا دل:یہ دل کا نگر بھی عجیب ہوتا ہے۔کبھی تو‘آپ ہی آپ بنا کسی بات کے مہکے سرخ گلابوں کا مسکن بن جاتاہے اور کبھی‘ گہری اداسی کی آکاس بیل اسے یوں جکڑ لیتی ہے کہ چاروں اور بکھرے اجالے بھی نظر نہیں آتے۔ احساسات اورجذبات کی اس نگری میں ایک محبت ہی تو ہے جو ‘خاموشی میں بھی گنگناتی ہے۔ میری خاموشی بھی اس روز گنگنانے لگی تھی جب ‘جاڑے کی نرم گرم دھوپ میں لپٹی ایک چمکدار صبح ارم نے اپنے خوابوں کی تعبیر پائی۔ یہ نوید ملتے ہی میرا باؤلا سا دل پروں کی خواہش کرنے لگا۔ میرے گلشن میں اک کلی کھل گئی تھی۔ میں تعبیر کو دیکھنے اور ارم سے ملنے کی دعائیں کرنے لگی تھی مگر‘یہ سب میرے لیے اتنا آسان کب تھا؟اسی اضطراب میں جاڑا رخصت ہوا۔بہار کا موسم بھی اپنی چھب دکھلا کے گرمی کی شدت ہمیں سونپ گیا۔ اس دوران میںنے کئی بار اڈاری مارنا چاہی مگر بات نہ بن سکی تھی ۔

پام نگری: امیگریشن کے مراحل سے نمٹنے کے بعد پھلجھڑی کی طرح پھوٹتی بکھرتی اس کیفیت کے ساتھ میرے قدم اب تیزی سے اس بیریئر کی طرف اٹھنے لگے تھے جہاں میرے اپنے میرے منتظر تھے۔اور پھر فاصلے سمٹ گئے۔میری لاڈلی نے جب اپنی لاڈلی کو بانھوں میں بھرے اپنی ماں کو گلے لگایا تو جیسے دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے تھے۔ دور کہیں اک پرانے گیت کی باز گشت سنائی دینے لگی تھی۔

مانواں دھیاں ملن لگیاں

چاروں کنداں نے

چوبارے دیاں ہلیاں

اس بلوریں ائر پورٹ پہ تو آنسوؤں کی اس برسات سے کوئی ہلچل نہ مچی تھی البتہ کچھ آنسو چھلک کے ارم کی گود میں سمٹی ہوئی تعبیر کو مضطرب کر گئے تھے۔ وہ کسمسائی ۔ میرے گلشن کی پہلی کلی نے اپنی گول آنکھیں گھمائیں اور ہم ماں بیٹی کے ملن کا یہ منظر اپنی آنکھوں میں بھر لیا۔

کوالالمپور میں بسنت :یہ جو شوق ہے نا۔ یہ سب کام کرا دیتا ہے۔ منی اسکرٹ پہننے والیوں کو بھی عبایا پہن کے چلنا سکھا دیتا ہے۔ سورج کی نرم گرم کرنوں نے جھیل کے پانی کو بھی سنہرا کر دیا تھا اور مسجد کا گلابی عکس‘ اس سنہرے پن کو اور بھی حسین بنا رہا تھا۔ مسجد پترا جایا جھیل کے پانی میں ہلکورے لے رہی تھی اور ہم ان ہلکوروں سے محفوظ ہو رہے تھے کہ اچانک موسم بے ایمان ہو گیا۔یہاں کی بارشیں بھی خوب ہیں۔ پلک جھپکتے میں گرجتے چمکتے بادلوں کی اوٹ سے اپنا آپ دیکھاتی ہیں۔ اورفضا میں حبس گھول کر چلتی بنتی ہیں۔ اس بارش نے سب پات شجر مزید نکھار دیے تھے۔ پترا جایا کی ہریالی کچھ اور چمکدار ہو گئی تھی۔ سرسبز پودے آنکھوں کو ٹھنڈک دیتے تھے اور مٹی کی سوندھی خوشبو من مہکائے جاتی تھی۔یہ بارشیں بھی کیا کیا یاد دلادیتی ہیں؟

کیمرون ہائی لینڈز… ایک طلسم :رستے میں ہر طرف شادابیاں تھیں۔ درختوں کے جھنڈ تھے۔ کچی پکی بستیاں تھیں۔ سڑک کنارے لگے ہوئے اسٹال تھے جہاں چھاتے تان کے ملے اور چینی خواتین کاروبار میں الجھی ہوئی تھیں۔کہ اس ملک کے بے اعتبارے موسم میں بارش کبھی اپنا جلوہ دکھا سکتی تھی۔ اس وقت بھی کن من ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی جاتی تھی۔ شاداب رستے بل کھاتے ہوئے بلندیوں کی طرف جاتے تھے۔ گہرے سر مئی بادل منڈلاتے تھے اور ہرباول مستیاں دکھاتی تھی۔ راہ میں کوئی شاندار سی عمارت ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی تو ہم سب نظریں چرائے آگے بڑھ جاتے تھے کہ چلتے سمے متفقہ فیصلہ یہی کیاگیا تھا کہ رستے کی رنگینیوں میں الجھے بغیر زیادہ سے زیادہ وقت پہاڑ کی گود میں گزارا جائے۔ دن کی روشنی میں یہاں کی اترائیوں‘ اونچائیوں اور گہرائیوں کے منظر دیکھے جائیں اور شام کو جب سورج واپسی کا رستہ ناپے تو ہم سب بھی گھروں کو پلٹ آئیں۔ لہٰذا کہیں بھی بغیر رکے ہماری گاڑیاں دھیرے دھیرے رینگتی ہوئی اونچائی کا سفر طے کرتی رہیں۔ پہاڑیوں ‘ گھاٹیوں‘ ٹیلوں نے اپنے جوبن سے ہمیں پر چانا چاہا۔ سبز مخملیں دوشالہ اوڑھے چائے کے باغات بھی اپنی طرف بلاتے رہے۔ پھلوں اور پھولوں سے لدے فارم دل لبھاتے رہے مگر ہم واپسی پہ انھیں دیکھنے کا ارادہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ تنگ و تاریک گھیریوں میں گھومتے گھماتے ہم کیمرون ہائی لینڈ آ پہنچے۔

پینکورآئس لینڈ کا ہرا سمندر:میں نے دیکھا یہ ہرا سمندر دل و جاں کو سکون بخشتا تھا۔ دور سطح سمندر پہ لپٹی کشتیاں پانی سے ہم آغوش ہونے کو بے تاب ہوئی جاتی تھیں۔ ملاح اپنے لیے مسافر تلاش کرتے تھے اور گورے‘ کالے اور ہم سب بہت سے دیوانے چاندی جیسے پانی پہ سنہری کرنوں کا جال بچھتے دیکھتے تھے تو مستانے ہوئے جاتے تھے۔ لہروں کی بے تابی دل کا اضطراب بڑھاتی تھی۔اور مچلتی لہریں جب ساحل سے ٹکرا کر پلٹتی تھیں تو میری آنکھیں ان کا پیچھا کرتی دور تک چلی جاتی تھیں۔ جہاں گھنے جنگلوں کا عکس میری توجہ اپنی طرف کر لیتا تھا۔

سفر نامہ کی بابت پروفیسر خواجہ محمد ذکریا لکھتے ہیں: سفر نامہ جہاں بھی جائے اور جہاں سے بھی گزرے وہ ان مقامات کو خارجی انداز میں بھی دیکھتا ہے اور اپنے ذاتی زاویۂ نظر سے بھی مشاہدے کو احساس کا رنگ دے دیتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ اس ملک کا تقابل اپنے ملک سے بھی کرتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً اس اجنبی خطۂ زمین اور ہمارے منظر نامے میں کیا نمایاں فرق ہے؟ افراد کی شکل شباہت‘ پوشاک‘ خوردنوش ‘ رہن سہن‘ تہذیب ‘ وثقافت وغیرہ میں کتنا اختلاف اور کتنی مشابہت ہے۔ سفرنامہ نگار مرد ہو تو اس کا زاویہ ٔ نظر خاتون سفر نامہ نگار سے بعض معاملات میںالگ ہو گا۔ تسنیم کوثر نے ملائیشیا جیسے ابھرتے ہوئے ملک سے جو تاثرات اخذ کیے ہیں ان کو بڑے دلچسپ‘ اسلوب اور باریک بینی سے تحریر کیا ہے۔

بڑے عرصے کے بعد اس کتاب کی صورت میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا محسوس ہوا ہے۔ خدا کرے کہ تسنیم کوثر صاحبہ یونہی بلکہ اتنی ہی عمدگی سے لکھتی چلی جائیں!





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، کچی شراب سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ، آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے ناظم آباد نمبر ایک میں مبینہ طور پر کچی شراب پینے سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

آئی جی سندھ نے ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ہر صورت یقینی بنائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جاوید عالم اوڈھو نے اقلیتی تہوار کے پیش نظر کچی اور زہریلی شراب سمیت دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت دی ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

دو غیر ملکی ایئر لائنز نے پاکستان کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن بحال کر دیا

Published

on



کراچی:

دو غیر ملکی ایئرلائنز سلام ایئر اور فلائی ناس نے پاکستان کے لیے اپنا فضائی آپریشن بحال کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسقط کی سلام ایئر کی پرواز OV 507 مسافروں کو لے کر سیالکوٹ ایئرپورٹ پہنچی، جبکہ واپسی کی پرواز OV 508 سیالکوٹ سے مسقط کے لیے روانہ بھی ہو گئی ہے۔

اسی طرح مسقط سے کراچی کا فلائٹ آپریشن بھی بحال کر دیا گیا ہے اور مسقط سے کراچی آنے والی پرواز علی الصبح 4 بجے تک جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سلام ایئر نے مسقط سے پاکستان کے لیے فضائی آپریشن بحیرۂ عرب کے روٹ کے ذریعے شروع کیا ہے۔ تاہم تاحال سلام ایئر کا ایران، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے فضائی آپریشن معطل ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی نجی ایئرلائن فلائی ناس نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازیں بحال کر دی ہیں۔

فلائی ناس کی پرواز 315 سعودی دارالحکومت ریاض سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئی اور بحیرۂ عرب کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔





Source link

Continue Reading

Today News

سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی داستان

Published

on


پہلے امریکا نے رواں برس کے طلوع ہوتے ہی وینزویلا کے صدر ( مادورو) اور اُن کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کرکے امریکا پہنچا دیا ۔ ساری دُنیا امریکی سامراجیت اور امریکی زیادتی و ظلم پر ششدر رہ گئی تھی۔ دُنیا اور اقوامِ متحدہ مگر خاموش رہنے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے۔ واقعہ یہ ہے کہ رُوس ، امریکا اور اسرائیل نے مل کر دُنیا میں من پسند قیامتیں برپا کررکھی ہیں۔ یہ تینوں بے لگام طاقتیں جب چاہتی ہیں ، دُنیا کے کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑتی ہیں ۔

یہ طاقتیں اب تک صدر صدام حسین اور کرنل قذافی کو سزائے موت بھی دے چکی ہیں ۔ اور اقوامِ متحدہ ہر بار ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔پچھلے دو برس سے رُوس اپنے ہمسائے ، یوکرین ، پر ناجائز یلغار کیے بیٹھا ہے۔ اِس دوران ہزاروں یوکرینی شہری اور فوجی موت کے گھاٹ اُتارے جا چکے ہیں ۔ رُوس کا بھی کم نقصان نہیں ہُوا ہے ۔ پچھلے دو برس کے دوران صہیونی اسرائیل نے کمزور اور ناتواں ’’غزہ‘‘ کے بیگناہ مسلمانوں کا 80ہزارکی تعداد میں جو بہیمانہ اور وحشیانہ قتلِ عام کیا ہے ، اِس پر بھی طاقتور دُنیا اور اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔

اِسی عرصے میں بھارت نے بھی (مئی 2025 میں) پاکستان پر یلغار کرنے کی جسارت تو کی مگر افواجِ پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت، شکست اور ذلّت اُٹھا کر بھاگ اُٹھا ۔ بھارت پچھلے چند برسوں سے BLAاور TTPکی شکلوں میں پاکستان کے خلاف جو خونریز پراکسی جنگ لڑ رہا ہے ،یہ دراصل بھارت ، افغان طالبان اور صہیونی اسرائیل کے باہمی گڑھ جوڑ کی شرمناک داستان ہے ۔اور اِس امر کا ثبوت بھی کہ یہ تینوں عناصر درحقیقت ’’حزب الشیطان‘‘ کی عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ احسان ناشناس افغان طالبان رجیم نے ایک ہفتہ قبل پاکستان کے نصف درجن سرحدی علاقوں پر ، بِلا اشتعال ، جس شرمناک جارحیت کا اقدام کیا ہے، یہ بھی ساری دُنیا نے ملاحظہ کر لیا ہے۔

یہ جارحیت بھی’’حزب الشیطان‘‘ کی کارستانی کہی گئی ہے۔ افواجِ پاکستان نے ترنت ، پلٹ کر جس عزم اور طاقت سے بے مہار اور احسان فراموش افغان طالبان کو دندان شکن جواب دیا ہے ، مثالی بھی ہے اور طالبان رجیم کے لیے عبرتناک بھی ۔ بھارت کی پراکسی افغان طالبان، کے خلاف یہ سطور لکھتے وقت بھی بھرپور کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بھارتی پراکسی ( افغان مقتدر مُلّا طالبان) نے پاکستان کے خلاف تازہ جارحیت کا ارتکاب کرتے ہُوئے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی بھی پروا اور حیا نہیں کی ۔

 رمضان شریف ہی کے دوران صہیونی اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا (گویا طالبانی، بھارتی اور اسرائیلی ذہنیت یکساں ہے ) ُپہلے یہ خبر آئی کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے۔ پھر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے خبر جاری کی کہ ’’نہیں ، ایران پر یہ حملہ امریکا نے کیا ہے ۔‘‘اور پھر یہ خبریں منصہ شہود پر آئیں کہ اسرائیل اور امریکا ، دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے بھی ، حسبِ وعدہ، پلٹ کر، ردِ عمل میں ، اور اپنے حقِ دفاع میں ، اسرائیل پر حملے کیے ہیں ۔ یہ جوابی حملے اب بھی جاری ہیں اور اسرائیل کو خاصا نقصان پہنچا چکے ہیں ۔ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کو بھی ہدف بنایا ہے ۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کے500سے زائد مقامات کو اپنے خونریز حملوںکا نشانہ بنایا ہے ۔

 مغربی ایشیا تا جنوبی ایشیا ، اور مشرقِ وسطیٰ و خلیجی ممالک سے لے کر مغرب میں یوکرائن تک پھیلا آگ و خون کا یہ تازہ افسوسناک سلسلہ کیا تیسری جنگِ عظیم کا آغاز کہلانے کا مستحق نہیں ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تیسری جنگِ عظیم کسے کہا جائے گا؟ جب ساری دُنیا خس و خاشاک کا سلگتا ڈھیر بن جا ئے گی؟ اب اس المناک خبر کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ ’’ ایرانی سپریم لیڈر ، جناب آیت اللہ خامنہ ای اب اِس دُنیا میں نہیں رہے ۔‘‘ یہ دردناک خبر ساری دُنیا کا میڈیا بھی نشر کررہا ہے ، مگر ہمیں ہنوذ یقین نہیں آرہا لیکن کیا کریں ، حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ایرانی حکام نے بھی اپنے سپیریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کردی ہے اور یہ بھی خبریں ہیں کہ ایت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اُن کی فیملی کے کئی قریبی ساتھی اور ایرانی فوج کے افسر بھی شہادت کے مرتنے پر فائز ہو چکے ہیں۔ ایرانی و عراقی مقدس مقامات سرخ روشنیوں ( شہادت کی نشانی) میں نہا چکے ہیں ۔ایسا عظیم نقصان تو دوسری جنگِ عظیم میں بھی کسی دشمن کا نہیں ہُوا تھا ۔ کیا اسرائیل اور امریکا اور ان کے اتحادی رَل مل کر کامیاب و کامران رہے ہیں؟ ایران پھر بھی سامراج امریکا و صہیونی اسرائیل اور عالمی قوت کے سامنے کامل سرنڈر کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ یہ اقدام اس کے قومی سطح پر اولوالعزم ہونے کا نشان ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ایران پر اسرائیل و امریکی حملے نے پوری دنیا بالخصوص عالمِ اسلام کو ایک نئے پریشان کن اور سخت آزمائشی دَور میں داخل کر دیا ہے۔ایران مخالف سارے فریق اور پارٹیاں یکجا ہو چکی ہیں ۔

احسان فراموش افغان طالبان بھی اِس اتحاد کا ایک فعال رکن بن کر اسلامی جمہوریہ پاکستان پر، کئی رُخوں ، سے حملہ آور ہُوا ہے ۔ پاکستان پر طالبان رجیم نے ہلّہ بول کر اپنی ہی کمزوریوں اور بزدلیوں کو عیاں کیا ہے ۔ اب ساری دُنیا میں انتہاپسند افغان طالبان رسوا ہور ہے ہیں ۔ پاکستان کی جری افواجِ کے ہاتھوں 300 سے زائد دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات بھی اِن جہنمیوں کی عبرتناک اموات کی تصدیق کر چکے ہیں ۔ اگرچہ شیطانوں کا مقابلہ کرتے ہُوئے ہمارے درجن بھر جوانوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیے ہیں ۔وطن پر قربان ہونے والے ہمارے اِن جوانوں اور افسروں کو ہمارا محبت و احترام بھرا سلام و سیلوٹ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی سیلوٹ ، جن کی پُر عزم قیادت میں ’’حزب الشیطان‘‘ کو عبرتناک سبق سکھایا گیا ہے ۔ فیلڈ مارشل صاحب کی شاندار فوجی قیادت میں پچھلے برس یہ سبق بھارت کو بھی سکھایا گیا تھا۔ اب طالبان، کو بھی یہ سبق سکھا دیا گیا ہے ۔ اب خود ہی طالبان سیز فائر کا اعلان کر بھی رہے ہیں اور پاکستان سے بھی سیز فائر کی درخواستیں کررہے ہیں ۔ پاکستان نے مگر بجا طور پر اِن احسان فراموشوں کو گھر تک پہنچانے کا عہد کررکھا ہے۔ جارح اور احسان فراموش طالبان اب اپنے جلی و خفی دوستوں اور سرپرستوں کی جانب بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ کوئی مگر اُن کے وعدوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ طالبان کی وعدہ شکنیاں ایک ثابت شدہ کہانی ہے ۔

اِسی دوران ہمارے وزیر دفاعِ خواجہ محمد آصف، کا طالبان عبوری وزیر داخلہ ( سراج الدین حقانی) کے نام ایک ٹوئٹر پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ اِس پیغام میں طالبان اور حقانیوں کی کہہ مکرنیاں ، احسان فراموشیاں اور دغا بازیاں بیان کر دی گئی ہیں۔ خواجہ صاحب موصوف نے سراج الدین حقانی کو یہ کہا ہے کہ ’’ پاکستان نے تمہاری دو تین نسلوں کو پالا پوسا، تم پر احسانات کیے، ہم سے جب تمہاری لوکیشن بارے پوچھا گیا تھا تو ہم نے لوکیشن نہ بتا کر تمہاری جان بچائی۔ اور اب تم بھی ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانیوں کے درپے ہو ؟‘‘خواجہ صاحب نے کابل و قندھار پر قابض قبضہ گیر ٹولے ، طالبان، کے سنگی ساتھی، سراج الدین حقانی، کے پاکستان سے پیسے مانگنے کی داستان بھی بیان کر دی ہے۔ یہ کہانی روپے پیسے کے لالچی اور بلیک میلر طالبان کی داستان بھی بیان کرتی ہے ۔ یہ افغان طالبان کے سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی بھی ناقابلِ فراموش کہانی ہے ۔ شرم مگر طالبان کو نہیں آتی ۔ شائد کبھی آئے گی بھی نہیں ۔ یہ تو بھارت سے متنوع بھیک مانگنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔





Source link

Continue Reading

Trending