Today News
مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی سفارتکاری
ایران تنازع کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، خطے کے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پرکام جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا پہلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران حملے جاری اورآبنائے ہرمزکو بند رکھے گا، جب کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے نفع بخش ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، توانائی کی فراہمی اور عالمی سلامتی کے نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ ایسے حساس اور نازک حالات میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اس کے روابط خصوصی اہمیت اختیارکرگئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشاورت اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تلاش تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنگی کارروائیاں ایک وسیع شکل اختیارکرتی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے وسیع فضائی حملوں نے خطے میں شدید رد عمل کو جنم دیا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے مختلف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ لبنان میں موجود حزب اللہ نے اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ داغے جب کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح ایران کی جانب سے عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بعض امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ دبئی کے مرکزی علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات نے خلیجی خطے میں خوف اور تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔ عراق کے شہر بصرہ میں بندرگاہ پر آئل ٹرمینلزکی بندش اور بحرین میں تیل کے ٹینکوں میں آتشزدگی جیسے واقعات نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خلیجی ممالک میں عید کی تقریبات اور مختلف عوامی پروگرام بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں جب کہ سیاحت اور فضائی سفر کے شعبے کو روزانہ کروڑوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے۔
ان واقعات کے فوری اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے سے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ بڑی معیشتوں کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا وہاں سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور معیشت کے لیے انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی سطح پر فوری تشویش کا باعث بنتی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا جواب دیتا رہے گا اور آبنائے ہرمزکو بند رکھنے کے فیصلے پر قائم رہے گا۔
موجودہ بحران صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ اس میں بڑی عالمی طاقتوں کے براہ راست ملوث ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکا پہلے ہی اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی سمجھا جاتا ہے جب کہ خطے میں اس کے متعدد فوجی اڈے موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے بھی عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے بیانات عالمی بحران کے دوران غیر ذمے دارانہ سمجھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں بعض اوقات معاشی مفادات کو انسانی جانوں اور عالمی امن پر ترجیح دیتی ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس صورتحال میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں تاکہ موجودہ بحران کے حوالے سے سفارتی مشاورت جاری رکھی جا سکے۔ یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے اہم ممالک اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اس صورتحال میں انتہائی متوازن اور ذمے دارانہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ اسی تناظر میں ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے بلکہ ایران کے ساتھ بھی اچھے ہمسایہ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتکاری کا بنیادی مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا اور کسی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے تنازعات، جنگوں اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ ان تنازعات نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لی ہیں اور کروڑوں لوگوں کو بے گھر کیا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ موجودہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکے اور فوری طور پر سفارتی اقدامات کو تیز کرے۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ جنگ بندی، مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی وہ راستے ہیں جو اس خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتے ہیں۔دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہوتا۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔
موجودہ بحران دنیا کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ اگر عالمی قیادت نے دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا تو اس بحران کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر طاقت کے استعمال اور جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تنازع ایک بڑے اور خطرناک تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
لہٰذا وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ تمام فریق فوری طور پر جنگ بندی کریں، مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران سے بچا سکتا ہے۔
Today News
جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا (آخری حصہ)
دنیا کی معیشت کی ایک عجیب عادت ہے جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کی طرف دوڑنے لگتی ہیں اور آبنائے ہرمز تو ایک شعلہ بنتا ہے جیسے ہی اس کے گرد جنگی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو لندن اور نیویارک کی تیل کی منڈیوں میں آگ لگ جاتی ہے،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ 20 ملین بیرل سے بھی زائد تیل اسی تنگ گزرگاہ سے گزر کر مختلف ملکوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس بحری راستے کی سانس جیسے ہی تنگ ہونے لگتی ہے، پاکستانی معیشت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔ ان لمحات میں حکومت کا یہ فیصلہ خوش آیند ہے کہ سرکاری گاڑیوں میں استعمال کیے جانے والے پٹرول کو آدھا کردیا جائے۔
پٹرول کے خرچے میں نصف کٹوتی دراصل ایک انتظامی فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک پیغام ہے جو ہرمز کی لہروں نے ہمیں دیا ہے کہ جب عالمی معیشت کے طوفان تیز ہو جائیں تو قوموں کو اپنی کشتی کا وزن کم کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ ہی غیر ضروری سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی ہے اور نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے گزر رہی ہے۔
پاکستان کی برآمدات سے دگنی مالیت اب درآمدات کی ہو کر رہ گئیں جس کے باعث اب تک8 ماہ میں برآمدات سے کہیں زیادہ تجارتی خسارہ ہو چکا ہے، اگر حکومت اس قسم کے اقدامات نہ اٹھاتی تو تجارتی خسارہ برآمدات سے دگنا ہو سکتا تھا، کیونکہ تجارتی خسارے کی کہانی میں اگر کسی ایک کردار کو مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ تیل ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پاکستان کے درآمدی بل کا اب تک تقریباً چوتھائی حصہ بنتا ہے، لیکن اب یہ 35 سے 40 فی صد تک جا سکتا ہے۔
جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت کی لاگت، خوراک سمیت مکانوں کے کرائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تیل ہی اس کا مرکزی کردار نظر آتا ہے۔ جب 1973 میں تیل کا بحران آیا تو مغربی معیشتیں ہل کر رہ گئیں۔ خلیج جنگ کے دوران تیل کے کنویں جلتے رہے اور دنیا بھر کی معیشتوں کو اس کی تپش جھلساتی رہی۔ اب جب کہ امریکا، ایران جنگ میں جیسے جیسے تیزی آ رہی ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورت حال ہمیشہ امتحان بن جاتی ہے کیونکہ معیشت کے بڑے حصے کا دار و مدار درآمدی توانائی پر ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عارضی فیصلے کرنے کے بجائے پاکستان کو ایک طویل المدتی منصوبے پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کے پاس سورج کی روشنی کا پورے سال کا خزانہ موجود ہے، سولر سسٹم کے ذریعے اس خزانے سے بڑی مقدار میں بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ بڑے بڑے بہتے دریاؤں پر بند باندھے جا سکتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح الیکٹرک ٹرانسپورٹ بھی پٹرول کی بچت کا اہم ذریعہ ہے، اگر بڑے شہروں میں الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں کو فروغ دیا جائے تو پٹرول کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی لہریں اب بھی کراچی کے ساحل سے ٹکرا رہی ہیں، ان لہروں کے شور میں ایک خاموش پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ قومیں اپنی معیشت کو مضبوط نہ کریں تو ایک دن توانائی کی قیمتیں ہی ان کے بجٹ کا فیصلہ کرنے لگتی ہیں۔ اس سے قبل کہ وہ وقت آ جائے حکومت نے خوش آئند اعلان کر دیا کہ پٹرول آدھا کر دیا گیا ہے، لیکن اب بھی یہ ایک عارضی حل ہے۔ اصل مسئلہ پاکستان کا توانائی پر درآمدی انحصار ہے۔ جب تک پاکستان ملک میں موجود تیل اور گیس کے کنوؤں کی پیداوار نہیں بڑھاتا، نئے نئے ذخائر تلاش نہیں کرتا، قابل تجدید توانائی کو فروغ نہیں دیتا، پاکستان عالمی توانائی کے بحران سے نمٹتے نمٹتے مافیاز کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کس طرح ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوکر رہے گا، لہٰذا وہ ہر مال سے اپنے گوداموں، ذخیرہ گاہوں کو بھر لیتے ہیں۔ پہلے ہی قیمت میں اضافہ ہو رہا تھا اور اب ہر شے کی قلت پیدا کر کے اس کے دام دگنے سے تگنے کر دیے جاتے ہیں اور اربوں روپے منافع کما کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں۔
حکومت نے فیصلہ کیا کہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی جائے۔ اس فیصلے کو کئی سالوں کے لیے کیا جانا ضروری ہے کیونکہ کوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جس کے پاس گاڑیوں کی طویل قطار نہ ہو۔ کئی اچھی گاڑیاں معمولی خرابی کی بنا پر ایک طرف کھڑی کر دی جاتی ہیں اور بہت جلد ان کو نیلام کرنے کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ نیلام کرنے والوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ یہ گاڑی کتنی اچھی ہے اور خریدار بھی جانتا ہے کہ بس معمولی خرابی ہے۔
چند لاکھ خرچ کیے گاڑی خرید کر چند ہزار میں معمولی نقص دور کرا دیا اور کروڑوں کی گاڑی ہاتھ لگ جاتی ہے، لہٰذا انھی معمولی یا زیادہ خراب گاڑیوں کو درست کرایا جائے تاوقت یہ کہ انتہائی ضرورت کے عالم میں نئی گاڑی بشرطیکہ زیادہ قیمتی نہ ہو وہ خرید لی جائے۔ وزیر اعظم کے اعلانات کے تحت جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ ایک مثبت قدم ہے۔ خاص طور پر پٹرول کے خرچ کو آدھا کر دینے کے مثبت اثرات توانائی کے اخراجات پر مرتب ہوں گے جس سے ملک کے بڑھتے ہوئے ہوش ربا تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
Today News
وحشی آدم خوروں کے درمیان
ہم بھی کیا؟بات کیا شروع کی تو پہنچ گئے کہاں؟ چلے تھے چین پہنچ گئے جاپان۔بات ہم نے عاملوں کاملوں،پروفیسروں،جادو گر بنگالیوں پرتگالیوں بلکہ سراسر گالیوں کی شروع کی تھی جو ایک دانشور ڈاکٹر کے مطابق سیدھی سادی بیماریوں کو جنات سے منسوب کرکے اللہ کی گائے یعنی عوام کالانعام کو جی بھر کر دوہتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے ایسی تمام بیماریوں کی نشان دہی کرکے مشورہ دیا ہے کہ ان نوسربازوں کے پاس جانے کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔اور یہی ہمارا نکتہ اعتراض ہے اگر ڈاکٹر صاحب آدم خوروں سے رجوع کرنے کو کہتے یا وحشی جنگلیوں کے پاس جانے کا مشورہ دیتے، خونی درندوں کے آگے خود کو ڈالنے کے لیے کہتے تو ہم مان بھی لیتے اور کالانعاموں سے بھی منوانے کی کوشش کرتے لیکن۔ڈاکٹر؟کیا اس بے مہار ملک میں ڈاکٹر سے بھی زیادہ کوئی درندہ ہے؟یہ تو بارش بلکہ بوندہ باندی سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے بیٹھنے والی بات ہوگئی۔
ڈاکٹروں نے ثابت کردیا ہے کہ ان سے ’’بڑا‘‘کوئی بھی کہیں بھی نہیں ہے۔ہاں’’ایک‘‘ہے لیکن لوگ اس کے پاس جاتے نہیں بلکہ وہ خود لوگوں کے پاس جاتا ہے اور جب لوگوں کو اپنے پنجہ استبداد میں لے لیتا ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتا نام تو اس کے بہت سارے جاتے ہیں منتخب نمائندہ۔جمہوری شہنشاہ‘ سیاسی دادا‘ جمہوری ڈکٹیٹر،فنڈہضم‘بجٹ ہضم،ملازمت فروش وغیرہ لیکن آج یہ مینڈیٹ کہلاتا ہے دراصل یہ برہمن اور کشتری ہوجاتے ہیں اور کالانعاموں کو شودر بنادیتے ہیں۔خیر مینڈیٹ اور مینڈیٹ فروشوں کو چھوڑیے کہ اب ہمارا مستقل نصیبہ ہوچکے ہیں اپنی اصل بات پر۔یعنی ڈاکٹر؟ سینہ کے تیر۔ سانپ بچھو کے ڈنک،پھیپھڑے کے جبڑے۔
پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر ہی کے انساں پائے ہیں
تم ’’شہر‘‘ سمجھتے ہو جس کو ہم جان بچاکر آئے ہیں
’’شفاخانے‘‘سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم بھی وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
کبھی کسی کونے کھدرے میں اکادکا ایسے ہوں جو اگلے وقتوں کے مسیحا ہوں گے باقی وہ اجرتی قاتل۔جو قتل کا معاوضہ بھی مقتول سے وصول کرتے ہیں
ابھی تم قتل گہہ کو دیکھتا آساں سمجھتے ہو
نہیںدیکھا شناور جوئے خوںمیںاس کے ’’توسن‘‘کو
اور یہ قتل گہہ ہر جگہ ہر مقام ہر شہر ہربازار ہر گلی ہر کوچے میں پھیلے ہیں۔مذکورہ ڈاکٹر کو یا تو پتہ نہیں یا جان بوجھ کر کاروباری انداز سے کام لے رہا ہے ورنہ
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس
کہتے ہیں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ بھیڑیے کے منہ میں اپنا سر دے دیجیے۔ہم نے تو عرصہ ہوا ان کو یہ فضول قسم کے غلط سلط ناموں جیسے ڈاکٹر،معالج،مسیحا وغیرہ کہنا چھوڑ دیا ہے سیدھے سیدھے اصلی نام سے یاد کرتے ہیں ایجنٹ۔جسے دیسی زبان میں مختلف ناموں سے پکارتے ہیںاور وہ بھی کسی ایک نہیں بیماریوں کے ڈسٹری بیوٹر،کمپنیوں کے ایجنٹ۔اور موت کے ہرکارے لوٹ ماروں کے لٹیروں کے سردار بلکہ ہمارا خیال ہے کہ موت کے سوداگر بھی اتنے بُرے نہیں، مرنا تو سب کو ہے اور بروقت آجائے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن نچوڑ نچوڑ کر چوس چوس کر دھیرے دھیرے مارنا۔ قسطوں میں مارنا؟ظلم کی انتہا ہے اور یہ سلسلہ اتنا وسیع پیمانے پر رواں دواں ہے کہ شہروں میں مکانات دھڑا دھڑ ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی جگہ کلینک اسپتال، میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں ابھر رہی ہیں۔
ہمارے چند دوست ڈاکٹر تھے ہم جن کے پاس جب جاتے تھے تو ہم سے فیس نہیں لیا کرتے بلکہ کبھی سیمپل بھی دے دیا کرتے تھے لیکن اس وقت یہ ’’تازہ‘‘ زہریلی ہوا نہیں چلی تھی، انسان کچھ کچھ انسان اور ڈاکٹر میں کچھ کچھ ڈاکٹر بھی ہوا کرتے تھے۔
بیچ میں کافی عرصہ گزر گیا ہے اب جب ہم ان کے پاس جاتے ہیں تو مروت برقرار رکھے ہوئے ہیں حسب معمول فیس نہیں لیتے لیکن جب وہاں سے نکلتے ہیں تو دس پندرہ ہزار کا جرمانہ بھر کر نکلتے ہیں کیونکہ ٹیسٹوں، ایکسریز اور دواؤں کے تھیلے ساتھ ہوتے ہیں۔اور یہ ان کی بھی مجبوری ہے جن لوگوں نے ان کو بٹھایا اس لیے ہے کہ ان کے گلشن کا کاروبار خوب چلے۔لیکن۔ڈاکٹر تو پھر بھی مرد ہیں اور مرد تو اکثر ظالم اور پتھردل ہوتے ہیں بہت زیادہ دکھ ان خواتین ڈاکٹروں۔معلوم نہیں قصائی کی مونث کیا ہے شاید قصائین ہاں تو ان قصائیوں کو دیکھ کر دل لہولہان ہوجاتا ہے کہ عورت تو سراسر پیار ہی پیار رحم ہی رحم، مامتا ہی مامتا ،شفقت ہی شفقت اور قربانی ہوتی ہے۔
یہ کیسی عورتیں ہیں جنہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی عورت ہمارے ہاں سے صحیح سلامت پیٹ لے کر نہیں جائے گی حالانکہ بچہ جننا کوئی بیماری نہیں ہے ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کسی جانور کے بارے میں تو کبھی نہیں سنا ہے کہ بچہ جننے کے دوران اس کا پیٹ کاٹنا اور پھاڑنا پڑا ہو۔ پیٹ ہیں کہ پھاڑے جارہے ہیں ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی عورت سالم پیٹ والی نظر نہ آئے گی ان قصائیوں کے سوا اور ہاں وہ ایک کہاوت کہ بستی ابھی بسی نہیں کہ ڈاکو آگئے۔اس میں تھوڑی سی صرف ایک لفظ میں ایک دو حروف کی تبدیلی کرنا پڑے گی بستی ابھی بسی نہیں کہ…آگئے کیونکہ ہم نے ایسے ایسے مقامات پر بھی کلینک دیکھے ہیں جہاں دور دور تک کوئی بستی نہیں ہوتی ۔ہمارے پڑوس ایک بیوہ خاتون تھی جو پاس کے قصبے میں ایک ڈاکٹرنی عرف قصائین کے کلینک میں ملازم تھی ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹرنی نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔
وجہ پوچھی تو بولی کہ ایک کیس آیا تو ڈاکٹرنی اس وقت موجود نہیں تھی ، مریضہ کو بستر پر لٹا کر میں نے ڈاکٹرنی کو فون کرنا چاہا تو میرے موبائل میں پیسے نہیں تھے، جلدی سے باہر نکلی، فون کا پیٹ بھرا ، ڈاکٹرنی کو فون پر کلینکس کی اطلاع دی لیکن ڈاکٹرنی کے آتے آتے نارمل ڈیلیوری ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے آرے ہاتھوں لیا ، میں نے بہت سمجھایا فون میں بیلنس نہ ہونے کی بات کی لیکن اس نے مجھے نکال دیا کہ تو نے بر وقت مجھے اطلاع نہیں دی اور شکار صحیح سلامت اور سالم پیٹ لے کر نکل گیا۔ یقین نہیں آتا کہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جسے اسلام کا مرکز ثانی کا دعویٰ ہے، تلقین ہی تلقین، ہدایت ہی ہدایت، رہنمائیاں ہی رہنمائیاں، دعوے ہی دعوے، عبادتیں ہی عبادتیں،بیان ہی بیان۔اور بلکہ لگتا ہے جیسے ہم افریقہ کے کسی دور دراز جنگل کے اندر آدم خور بستی میں ہوں۔
Today News
امریکا کا مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم ایرانی رہنماؤں کی معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان
امریکا نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران کے اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ جو بھی فرد ایران کے ان 10 اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا وہ امریکا منتقل ہونے کا اہل بھی بن سکتا ہے اور اس کے لیے 10 ملین امریکی ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔
Got information on these Iranian terrorist leaders?
Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026
وہ ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر انعام رکھا گیا ہے ان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ، ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب، سیکرٹری برائے سپریم کونسل علی لاریجانی، نائب چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی، میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی اور بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آج تہران میں یوم القدس ریلی کے موقع پر علی لاریجانی اور دیگر اہم شخصیات عوامی ریلی میں شریک ہوئے، ایرانی رہنماؤں نے کسی بھی دھمکی اور خوف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ریلی کے شرکا کے ساتھ سیلفیز بنوائیں اور امریکا مخالف نعرے بھی لگائے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person