Connect with us

Today News

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے بند کریں ورنہ حملے کرتے رہیں گے؛ مجتبیٰ خامنہ ای

Published

on


نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا پہلا آڈیو بیان جاری کردیا جس میں انھوں نے امریکا کو سخت پیغام دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نومنتخب سپریم لیڈر نے آبنائے ہرمز پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند رکھا جانا چاہیے۔

ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے ہر اُس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ اور حملوں میں شہید ہوا ہے۔ اپنے شہداء کے خون کے بدلے کے حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنے شہدا کے خون کا بدلہ لینے کے عزم پر قائم ہے اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا۔ قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گا۔

امریکی فوجی اڈوں کے بند ہونے تک حملے جاری رکھیں گے

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں ورنہ ایران حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں میری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں اور وہ قوم کی حمایت کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔ دعا گو ہوں کہ اللہ مجھے قوم کی بہتر رہنمائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے

مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ ایرانی عوام ایک عظیم اور متحد قوم ہیں۔ اگر عوام کی حمایت نہ ہو تو کسی بھی رہنما کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

انھوں نے مزید کہا کہ دشمن ایران اور اس کے عوام کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن ایرانی قوم اتحاد کے ساتھ ان سازشوں کا مقابلہ کرے گی۔

ایران کا نشانہ عوام نہیں امریکی فوجی اڈے ہیں 

اپنے پیغام میں انھوں نے مزید کہا کہ ایران کسی عام شہری یا ملک کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ صرف فوجی اڈوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں امن چاہتا ہے تاہم اپنے دفاع اور شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جہاں جہاں سے جس چیز سے پاکستان کو خطرہ ہے اس کو ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

Published

on



پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ ہمارے ہاں دہشت گردی ختم ہو جائے، جہاں جہاں اور جس چیز سے پاکستان کو خطرہ ہے اس کو ختم کرنا پاکستان کا حق ہے۔

اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا کہ ہم لوگ ہر مرتبہ ادھر آتے ہیں افسوس بانی سے ملے بغیر ہی واپس جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں قیدی آج کے دن اپنے پیاروں سے مل رہے ہیں، ملاقاتوں کو روکنا مجرمانہ فعل ہے، دروازے اور ملاقاتیں بند کرکے یہ سوچنا کہ حالات بہتر ہو جائیں گے یہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صورت حال یہی رہی تو مشکل حالات المیہ کی طرف جانے کا سبب بن سکتے ہیں جو کسی صورت نہیں ہونا چاہیے، خطے کی صورت حال اور ملک کے حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ اس نہج پر پہنچ جائیں کہ ہمارے ہاں دہشت گردی ختم ہو جائے، ہمیں باریک چیزوں کا نہیں پتا، جو لوگ ڈیفنس اسٹریجکلی انوالو ہوتے ہیں ان کو حقائق کا پتا ہوتا ہے، جہاں جہاں سے جس چیز سے پاکستان کو خطرہ ہے اس کو ختم کرنا پاکستان کا حق ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری افواج غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتی، افغانستان لوگوں کے لیے آماجگاہ بنا ہوا ہے، وہاں دہشت گردی، منشیات، اسلحہ ہے۔

احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم 22 مرتبہ ہائی کورٹ گئے لیکن ہرمرتبہ مایوس ہوئے، تالیاں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہیں، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا الگ مینڈیٹ ہے، انہوں نے تحریک چلانی ہے، بات کس سے کرنی ہے، دونوں سے درخواست کی کہ آپ کے پاس جو سیاسی آپشن ہے ان کو استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام ضرور ہم نے دیا تھا، سلمان راجا نے کہا بھی تھا، مجھے نام دیا گیا جو آگے فارورڈ کردیا، مجھے اور علامہ ناصر عباس کو ڈیڑھ گھنٹے تک بانی کی صحت پر بریف ضرور کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ فکر نہ کریں پی ٹی آئی میں فراست ہے، دانش اور حکمت عملی ہے، سب کچھ اسی کے تحت ہوگا، محمود خان اچکزئی اور ناصر عباس کو مزاحمت اور مذاکرات کا اختیار دیا گیا ہے تمام فیصلے سوچ سمجھ کر ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پاکستان کےعوام دوست جماعت ہے، ہم ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں گے، بانی کی صحت اور رہائی ہر بات سے آگے ہے اور پاکستان کی سالمیت اور بقا ہمارے لیئے اہم ترین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیل اور امریکا نے جارحیت کی ہم اس جارحیت کے خلاف کھڑے ہیں، آپ کے کسی سے بھی اختلافات ہوں جب جبر آپ پر کیا جائے گا تو آپ اپنی عزت نفس اور دین کی بقا کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور ایرانی قوم یہ سب کر کے دیکھا رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ پنجاب سے مبینہ جسم فروشی کیلئے متحدہ عرب امارات جانے والی 33 خواتین ایجنٹس سمیت گرفتار

Published

on



وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے پنجاب سے مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے متحدہ عرب امارات جانے والی 33 خواتین کو کراچی سے گرفتار کرلیا۔

ایف آئی اے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے پنجاب سے متحدہ عرب امارات جانے والی 33 خواتین کراچی سے گرفتارکرکے خواتین کو بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون اور ڈپٹی ڈائریکٹر اے ایچ ٹی سی کراچی کی ہدایات پر کی گئی اور مصدقہ اطلاع پر پاسپورٹ آفس صدر کراچی کے قریب دو ہوٹلوں پر چھاپہ مارا گیا۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی 33 خواتین کو حراست میں لیا گیا اور مذکورہ خواتین کے ہمراہ انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ملزمان کے قبضے سے 29 پاسپورٹس اور دیگر متعلقہ مواد برآمد ہوا اور ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ خواتین کو وزٹ ویزے کے بہانے متحدہ عرب امارات بھجوایا جا رہا تھا اور خواتین کو جسم فروشی اور جنسی استحصال کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں،  مقدمات پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت درج کیے گئے ہیں، ملزمان ضیا الحق، امتیاز علی، فرمان علی اور سکینہ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا اور اس حوالے سےمزید تفتیش جاری ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان نے 78 سال میں بہت غلطیاں کیں لیکن افغانوں کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی تھی، وزیر دفاع

Published

on



اسلام آباد:

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی 78 سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں لیکن افغانوں کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی تھی، اللہ ہمیں معاف کرے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ میں انہوں ںے لکھا کہ ‏پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اسپتال پر حملے کا دعویٰ ان کی طرف سے آرہا ہے جو مسجدوں پہ حملے کرواتے ہیں، سر بسجود نمازیوں کو شہید کرتے ہیں نہتے شہریوں، بازاروں اور اسکولوں کو نشانہ بناتے ہیں، معصوم بچوں کو خون میں نہلاتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ جن کا ذریعہ آمدنی ہو، محسن کش لوگ اس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے  50 سال سے انہیں پناہ دی، جو کمٹمنٹ کرتے ہیں اس کے آنر نہیں کرتے، اربوں روپے کمٹمنٹ پوری کرنے کے لیے تاوان مانگتے ہیں۔ 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مٹی نے نہ صرف ان کو پناہ دی ان کے لیے ایک سپر پاور سے ٹکرا گئے، تین نسلوں کی مہمان نوازی کی، ہم نے اپنی 78 سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں لیکن ان کی مہمان نوازی سب سے فاش غلطی ہے، اللہ ہمیں معاف کرے۔





Source link

Continue Reading

Trending