Connect with us

Today News

مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی سیاست

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بعض اہم اہداف خصوصاً بجلی پیدا کرنے کے مراکز ابھی تک نشانہ نہیں بنائے گئے لیکن ضرورت پڑی تو انھیں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔ایران جنگ خاتمے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہوسکتا ہے تاہم یہ رواں ہفتے ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت طویل جنگ نہیں چاہتی۔روسی صدر پیوٹن نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور ثالثی کی پیش کش کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے نہایت حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات، ایران کی جانب سے جوابی انتباہات اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے اس تنازع کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا بحران بن سکتا ہے جس کے اثرات عالمی نظام، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے مرتب کریں گے۔

 آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسی گزرگاہ کا ذکر سامنے آتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب جنگی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بعد ازاں صورتحال میں معمولی بہتری آنے پر قیمتیں کم ہو کر تقریباً 90 ڈالر تک آ گئیں، لیکن اس اتار چڑھاؤ نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگ یا کشیدگی عالمی معیشت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

 امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ایرانی تیل کے ذخائر پر حملے نہ کرنے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیلی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانا مستقبل میں توانائی کی سیاست کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا یہ نہیں چاہتا کہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے تیل کے وسائل مکمل طور پر تباہ ہو جائیں کیونکہ مستقبل میں یہی وسائل خطے میں توانائی کے توازن اور عالمی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس لیے واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جنگ کی شدت کو اس حد تک نہ بڑھنے دیا جائے جہاں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔دوسری طرف امریکی بحریہ کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار بھی اس خطے میں موجود خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے امریکی نیوی سے درخواست کی تھی کہ انھیں اس حساس راستے سے گزرنے کے لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے لیکن امریکی حکام نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور اس وقت اس طرح کی سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال نے عالمی تجارت اور شپنگ انڈسٹری میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اگر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران پر حالیہ فضائی حملوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف عسکری اور اسٹرٹیجک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ ایران بھی جوابی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس صورتحال میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ تصادم کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کی جانب سے اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ طویل جنگ نہیں چاہتی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسی دوران سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے ایرانی قیادت سے رابطہ کر کے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ روس اس خطے میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات بھی ہیں۔ اس لیے اگر روس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ اس بحران کے حل کے لیے کوئی سفارتی راستہ نکل آئے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کا موقف بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ایران کے عوام اور قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انھوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت ایران کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ پاکستان کا یہ موقف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے جس میں وہ خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور علاقائی امن کے فروغ کی کوشش کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال دراصل عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تصادم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ امریکا خطے میں اپنی اسٹرٹیجک برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے جب کہ ایران خود کو خطے میں ایک اہم اور خودمختار طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ ان تمام مفادات کے ٹکراؤ نے اس خطے کو مسلسل کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑے گا۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی مختلف اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

ایسے حالات میں عالمی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران کو حل کر سکتا ہے،اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت شروع ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف اس جنگ کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت موقف میں کچھ لچک پیدا کریں اور مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی قابلِ قبول حل تلاش کریں۔

آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں۔ موجودہ بحران دراصل ایک آزمائش ہے، نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی، اگر اس مرحلے پر دانشمندی، صبر اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن جائے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کی سیاست غالب رہی تو اس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کھانا ہی کھانا … – ایکسپریس اردو

Published

on


’’میں اپنے شوہر کے ساتھ کچھ کھانا تقسیم کرنے کے لیے نکلی، شام کا وقت تھا اور جگہ جگہ دستر خوان لگے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ لوگ زمین پر بچھی دریوں پر اپنے اپنے سامنے کھانا رکھے ہوئے بیٹھے تھے مگر انتظار ہو رہا تھا افطار کا سائرن بجنے کا کہ کھانا شروع کیا جائے۔  میںنے اپنی گود میں رکھے ہوئے ڈبے میں سے کھڑکی کھول کر راہ چلتے لوگوں کو کھانے کے پیکٹ پکڑانا شروع کیے تو ان بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کئی اٹھ کر ہماری گاڑی کی طرف آگئے۔

سامنے رکھا ہوا کھانا انھیں بھول گیا تھا اور وہ سو چ رہے ہوں کہ شاید ہمارے والا کھانا زیادہ بہتر ہے۔ جب ان کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے خوفزدہ ہو کر گاڑی کا شیشہ بند کر دیا اور وہ لوگ گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹانے لگے۔ میں نے گھبرا کر اپنے شوہر سے کہا کہ گاڑی چلائیں مبادا کہ وہ ہماری گاڑی کا شیشہ توڑ دیں ۔‘‘ وہ بات سنا رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ ماہ رمضان میں ہمارے ہاں یہ منظر اکثر ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جگہ جگہ دستر خوان سجے ہیں، لوگ کھانا بانٹ رہے ہیں اور مساجد میں افطاری کا انتظام ہوتا ہے، تراویح سے پہلے بھی چائے پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔

اس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ کھانا ہمارے ہاں لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، جینا مرنا، لڑنا جھگڑنا، آگ لگے، زلزلے آئیں یا سیلاب… سب کچھ کھانے کے لیے ہی ہوتا ہے، اصل آگ تو پیٹ کی ہے کہ بجھنے میں ہی نہیں آتی۔ ہمیں بھی بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ساری توفیق صرف رمضان میں ہی کیوں ہوتی ہے اور بھوکوں کو بھی اتنی بھوک کہ سامنے پڑا کھانا چھوڑ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جس کے بارے میں علم ہی نہیں کہ اس بند پیکٹ میں کیا ہے ۔

جس طرح کہانیوں میں پہلے پہل بادشاہ خوشیوں کے مواقع پر اپنے خزانوں کے منہ کھول دیا کرتے تھے اسی طرح ہم پاکستانی بالخصوص ماہ رمضان میں اپنی زکوۃ کی رقم سے خشک راشن اور کھانوں کے منہ کھول دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس ماہ مبارکہ کی فضیلتوں سے فیضیاب ہوں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوپر سے لے کر نیچے تک پوری قوم کو بھکاری بنا کر ان پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ انھیں بنا محنت کیے یوں ہر روز کھانا کھلا کر ان کے اندر ہوس کو گھٹا رہے ہیں تو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہی بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کی ہوس اور بھوک اس طرح ختم نہیں ہوتی، کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی!!

کئی لوگوں سے میں نے سوال کیا جن کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ کافی زیادہ راشن اور کھانا تقسیم کرتے ہیں، ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ان کا خرچہ ہوتا ہے۔ بلاشبہ ہمارے ہاں ایسے لاکھوں لوگ ہیں جن کی زکوۃ ہی لاکھوں اور کروڑوں میں بنتی ہے اگر وہ ادا کریں تو!! اس پر ایک اور حقیقت کہ زکوۃ دیں تو ٹیکس نہیں دیتے اور ٹیکس دیں تو کہتے ہیں وہی ہماری زکوۃ نکل گئی، زکوۃ بھی تو ایک قسم کا ٹیکس ہی ہے۔ چلیں اس منطق یا نکتے پر بحث ہرگز مقصد نہیں۔ اگر آپ لاکھوں خرچ کر کے ہزاروں لوگوں کو ماہ رمضان کے دوران دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلاتے ہیں، سحری اور افطاری میں اور عموماً عید والے دن بھی وہ پیٹ بھر کر کھانے والے روکھی سوکھی کھا رہے ہوتے ہیں… تو ایسی ’عبادت‘ کو منقطع کرنے کا کیا فائدہ۔ عید سے اگلے دن سے وہ لوگ پھر یا مزدوری کر رہے ہوتے ہیں یا بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم زکوۃ کے فلسفے کو سمجھتے ہیں؟؟

ہمارے مذہب میں کوئی بھی عبادت یا عمل بے مقصد نہیں ہے، آج کے دور میں سائنس بتاتی ہے کہ روزہ جسم کے تزکیے کے لیے کتنا اہم ہے، ہمارے مذہب نے سیکڑوں برس پہلے بتا دیا تھا کہ روزہ تزکیہء جسم اور نفس ہے۔ صرف یہ نہیں کہ روزے سے ہمیں دوسرے کی بھوک کا احساس ہوتا ہے بلکہ روزہ رکھنے سے ہمیں اپنے سفلی جذبات اور اپنی زبان پر قابو پانے اور خود کو برائی سے روکنے کی عادت ہوتی ہے، اگر ہم واقعی روزے کی اصل روح پر عمل کریں تو۔ روزے کی حالت میں ہمارا جسم اپنی مرمت کا کام کرتا ہے، یہ بات آج کی سائنس بتا رہی ہے۔ ہم سائنس کے بتائے ہوئے اس عمل کی بھی دھجیاں اوقات سحر اور افطار میںاڑاتے ہیں، پراٹھے، بریانی نہاری، پائے، پکوڑے، سموسے اور چاٹ کھا کھا کر اور شربت پی کر۔ کیا نفس پر قابو اور کیا زبان پر… سب کچھ ملیامیٹ ہوجاتا ہے جب ہمارا روزہ ’ کھل ‘ جاتا ہے تو۔

اسی طرح نماز ہے تو اللہ کو کہاں ضرورت ہے ہماری عبادت کی یا ماتھا زمین پر ٹیکنے کی؟ اس کی عبادت کو کون سے کم فرشتے اور دیگر مخلوقات ہیں۔ ہماری نماز کا مقصد ہمارے اندر عاجزی پیدا کرنا اور ماتھا زمین پر ٹیکنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے زیرو ہو جاتے ہیں۔

اب اس عمل کو بھی آپ کی آج کی سائنس کہتی ہے کہ حالت سجدہ میں انسانی دماغ کو چند لمحوں کے لیے خون کی وہ سپلائی ہوتی ہے جو کہ عام حالات میں نہیں ہو پاتی کیونکہ کشش ثقل کے باعث خون کی دماغ تک جانے کی وہ رفتار نہیں بن پاتی جو درکار ہوتی ہے اور سجدہ میں انسانی جسم جس ساخت میں ہوتا ہے وہ ساخت ہے جس میں انسان اس دنیا میں آنے سے پہلے رہتا ہے اور اس ساخت میں جانے کا عمل جسم میں لچک اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے ۔ کمر اور ریڑھ کی ہڈی کے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے اور حالت سجدہ میں جو اعضاء زمین کو چھوتے ہیں، ماتھا اور ہتھیلیاں… ان پر کئی ایسے پریشر پوائنٹ ہوتے ہیں جن سے ان اعضاء کو فائدہ پہنچتا ہے ۔

اسی طرح زکوۃ اگرچہ سخاوت کا عمل ہے جس سے دولت مند لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں لیکن اس کا ایک اہم مقصد دولت کی طہارت ہونا ہے، آپ کی دولت سے جب کچھ حصہ منہا ہوتا ہے تو اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس سے آپ کو دعائیں ملتی ہیں۔ اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور ساتھ ہی آپ کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ آپ کے لیے آزمائش ہے، وہ آپ کو دے کر آزما رہا ہے۔ اگر آپ اس کے دیے میںسے دیتے ہوئے ہچکچائیں گے تو وہ آپ سے چھین بھی سکتا ہے ۔ آپ کی زکوۃ سے کسی غریب کا گھر چل جائے، اس کا علاج ہو جائے، اس کے بچے تعلیم حاصل کرلیں تو آپ کے لیے اطمینان قلب کا باعث ہو گا۔

زکوۃ دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مانگنے والا مانگنا چھوڑ دے ، وہ وقت آئے کہ آپ سے زکوۃ لینے والا خود زکوۃ دینے کے قابل ہو جائے۔ اپنا گھر بھی چلائے اور دوسروں کی حتی الامکان مدد بھی کرسکے ۔ اس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ آپ یوں راشن اور کھانا بانٹنے کی بجائے کوئی آٹھ دس لوگوں کو اپنی زکوۃ کی رقم سے اس قابل بنا دیں کہ وہ اپنا کام شروع کر لیں اور اس سے انھیں اتنی آمدن ہوجائے کہ وہ اپنے گھر کا ذمہ خود اٹھا لیں ۔ آٹھ دس نہ سہی تو پانچ ، پانچ نہ سہی تو دو اور کچھ نہیں تو صرف ایک شخص کو اس قابل بنا دیں کہ وہ اگلے سال آپ سے زکوۃ نہ مانگے ، یا آپ کی زکوۃ کا حقدار نہ رہے ۔ یوں رمضان کا راشن دے کر تو ہم انھیں بھکاری کا بھکاری ہی رکھیں گے۔ ان کی عزت نفس ہو گی اور نہ محنت کی طلب و عادت۔

 ماہ رمضان میں پھل اور سبزی کی ریڑھیاں، دودھ اور دہی کی دکانیں ، چھوٹی چھوٹی کریانے کی دکانیں جہاں پر سارا سودا تقریبا ادھار پر ہی رکھا جاتا ہے اور کمپنیوں کو اس وقت ادائیگی کرنا ہوتی ہے جب سامان بک جاتا ہے ۔ پکوڑوں سموسوں کے خوانچے جو ماہ رمضان میں ہم جتنی بھی کوشش کریں ، ختم نہیں ہو سکتے اور جتنے بھی ہوں ان پر اسی طرح رش ہوتا ہے، کسی کو ہنر سکھا کر اس کی دکان کھلوا دیں… درزی، نائی، موچی، رنگساز۔ سیمنٹ یا سلنڈر کی ایجنسیاں لے کر انھیں بنیادی سرمایہ دے دیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔ کتابوں اور یونیفارم کی دکانیں ، غرض سوچتے جائیں تو کئی تجاویز نکل آتی ہیں۔ جن کی مدد کرنا ہے، ان سے پوچھ لیں کہ ہو کیا کر سکتے ہیں یا کیاکرنا چاہتے ہیں۔

قناعت، برداشت، صبر، توکل… ایسی ہی دیگر خاصیتیں کوئی سیکھنے سے تو نہیںآتیں، یہ تو اپنے من کا کام ہے کہ کہاں رکے اور کہاں حد سے بڑھے۔ وہ جنھیں عام حالات میں اچھا تو کیا، وقت پر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، جب یوں وافر ملتا ہے تو ان کے نفس کا گھوڑا بے لگام ہو جاتا ہے اور اس طرح کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کی ایران فہمی میں ناکامی

Published

on


امریکا نے ایران پر حملہ کر کے ایک خود مختار اور غیور قوم کو للکارا ہے۔ اب تک امریکا وینزویلا اور یورپ کے دوسرے ملکوں پر قبضے کے لیے ہمک رہا تھا مگر ایران اس کے دل کا کانٹا بنا ہوا تھا اور بالآخر جب انھیں درست طور پر پتا چل گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں تو اس جگہ پر ٹھیک حملہ کر دیا گیا۔اس حملے میں آیت اللہ خانہ ای کے علاوہ ان کے گھر کے تقریباً سب افراد شہید ہو گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد، نواسی، بہو، کمانڈر پاسداران انقلاب بھی شہید ہو گئے۔ جو لوگ شہید کیے وہ خامنہ ای کے اہل خانہ اور متعلقین تھے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا قتل جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے مگر ان کے خون کی قیمت لگانے کون سا ادارہ کھڑا ہو سکے گا۔

رہے آیت اللہ خامنہ ای تو امریکا کا خیال تھا کہ اگر وہ زندہ رہے تو ایران پر قابو پانا دشوار ہوگا اور ان کی یہ فکر ان کے نقطہ نظر سے درست ہوگی مگر آیت اللہ خامنہ ای کو اپنی قوم کی قیادت کا حق حاصل تھا جس طرح مسٹر ٹرمپ کو امریکا کی قیادت کا حق حاصل ہے مگر تکنیکی امور میں مہارت کے حامل امریکا نے اپنا مقصد گھر بیٹھے حاصل کر لیا ہے۔ یہ میدان جنگ میں لڑنے والے کی شکست نہیں تھی بلکہ ایک امریکا کے مقابلے میں انتہائی کمزور ملک پر اپنی تکنیکی جنگی برتری کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے گویا یہ جنگ بغیر میدان میں آئے لڑی گئی اور جیت لی گئی۔امریکا کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنی زیادہ مزاحمت کرے گااور جواب میں امریکا اور اسرائیل کو بھی بھاری نقصان پہنچائے گا۔

مگر ایران نے اپنی انتہائی قیمتی جانوں کے زیاں سے حوصلے نہیں ہارے، وہ زندہ رہنے کی جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔ ایران قبل اسلام بھی ایک طاقتور ملک تھا جسے عالمی سیاست میں اہم مقام حاصل تھا۔قبول اسلام کے بعد بھی وہ مسلم تاریخ میں نمایاں مقام کا حامل رہا۔ ایرانیوں کو اپنے ایرانی ہونے پر سب سے زیادہ فخر رہا ہے۔ وہ اپنے شان دار ماضی پر نازاں رہے ہیں اور کسی قیمت پر کسی کی باج گزاری انھیں گوارا نہیں رہی۔ ایران نے قبول اسلام کے بعد ہی مسلم سوسائٹی میں اپنا مقام بنایا تھا اور اس کے باوجود اس نے اپنی علیحدہ شناخت بنائی تھی۔ ایران کی اس تاریخی اہمیت اور تسلسل سے دنیا کے نقشے پر اپنے علیحدہ نقوش کے باعث ایک نمایاں مقام بنا رکھا تھا۔ امریکی قیادت نے یا تو اس مقام کو سمجھا نہ تھا یا پھر اس سے سرسری طور نمٹ لینے کے لیے ہی تیار تھے۔

 ایران آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد بے قیادت نہیں ہوا، ایران نے جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا اور دنیا کو بتایا کہ ایران ایک قوت اور جذبے کا نام ہے جو بڑی سے بڑی قوت سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔ ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے ایرانیوں کے دل جل اٹھے ہیں، وہ امریکا کا بھی دل جلائیں گے اور ایران اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہے گا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ایران مشرق وسطیٰ میں قائم 27 امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینا ایرانی قوم پر قرض اور وہ جلد ہی یہ قرض اتار دے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ترین دھمکی کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کو جو کہ شہید رہبر کے بیٹے ہیں، سپریم لیڈر چن لیا گیا اور اب ایران کو نہ صرف قیادت میسر آگئی ہے بلکہ وہ زیادہ قوت وشدت سے اسرائیل پر حملہ آور ہورہا ہے،یہ سارے انتظامات ایرانی قوم کے جذبہ انتقام کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

اور اب آپ کو راقم الحروف کے اس خدشے کا ثبوت مل گیا ہوگا کہ آخر ٹرمپ صاحب ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے کمانڈر آف فورسز کے اتنے مداح کیوں ہیں۔ وہ کبھی ان کی صفات اعلیٰ کی تعریفات کے پُل باندھتے ہیں کبھی انھیں گلے لگاتے ہیں اور کبھی ان کی تعریف اس تعلق سے کرتے ہیں جو ایک عالمی سربراہ کے عہدے کے لیے نامناسب معلوم ہوتی ہے۔

دراصل پاکستان واحد مسلم ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔ پھر وہ ہندوستان سے پچھلی جھڑپ میں جس طرح نبرد آزما ہوا وہ فوجی اعتبار سے بحرالقول کا زمانہ تھا۔ یہ فتح جنگی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب بن گئی ہے۔ امریکا اس طاقت کو اپنے دام ہم رنگ میں سنبھالے گا اور وہ غزہ امن بورڈ میں رہتے ہوئے امریکا کے خلاف موثر آواز بلند نہیں کر سکے گا۔ بس یہی بندوبست امریکا کو راس آیا۔ اب پاکستان امریکی حملے کی مخالفت تو کر رہا ہے مگر اس کی آواز میں وہ گھن گرج سنائی نہیں دیتی جس کی اس سے توقع تھی اور بس یہی امریکا کو درکار تھا جو اس نے حاصل کر لیا۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس نے اسرائیل پر حملہ کرکے بدلے اور انتقام کا ایک مرحلہ تو طے کر لیا مگر خاموش بیٹھنا ایرانی مزاج کے خلاف ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

Published

on



نیویارک:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔

قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے پر ووٹنگ ہوئی جس میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

پاکستان نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور اسے مشترکہ طور پر پیش کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔

بحرین کے مندوب نے اجلاس کو بتایا کہ ایران کے حملوں کی مذمت کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد کو 135 ممالک کی حمایت حاصل تھی جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی تعداد ہے۔

اس سے قبل ایبولا کے معاملے پر پیش کی گئی قرارداد کو 134 ممالک کی سرپرستی حاصل ہوئی تھی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے پاکستانی مندوب کا خطاب

اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جہاں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی ہے وہیں خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں میں دو پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے تاہم مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مندوب کا خطاب

متحدہ عرب امارات کے مندوب محمد ابوشہاب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایران کے اقدامات کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملے نہ صرف خطے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ان حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور خطے کے ممالک نے اس مشکل وقت میں اتحاد اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

روسی مندوب کا خطاب

روس کے نمائندے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اور کسی بھی ملک کی شہری آبادی پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اور خلیجی ریاستوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے

روسی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے کی صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف یہ جارحیت موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تہران پر ہونے والے حملوں کا ذکر یا مذمت شامل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور اس نے بارہا کہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف امریکی اڈے ہیں۔

روسی نمائندے نے مزید کہا کہ سینٹ کام کے مطابق ایران پر حملوں کے لیے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے استعمال کیے گئے جن میں بحرین بھی شامل ہے۔

انہوں نے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور مزید حملوں سے گریز کا مطالبہ کیا۔

امریکی مندوب کا خطاب

اجلاس میں امریکی مندوب نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور دنیا کے 135 ممالک اس کے اقدامات کے خلاف کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی سلامتی کونسل میں حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔

امریکی مندوب کے مطابق دبئی میں ایک ہوٹل، بحرین کی بڑی آئل ریفائنری اور دبئی ایئرپورٹ جیسے سویلین مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جو کسی صورت فوجی اڈے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت کئی ممالک میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ کارگو بحری جہازوں پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں جو خوراک کی ترسیل میں مصروف تھے۔

امریکی مندوب نے مزید کہا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

چین کے مندوب کا خطاب

چین کے نمائندے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سویلین انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی اور تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔

چینی مندوب نے کہا کہ تنازعات کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری ہے اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

برطانیہ کے مندوب کا خطاب

برطانیہ کے نمائندے نے کہا کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، خصوصاً بحرین پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔

بحرین کے مندوب کا خطاب

بحرین کے مندوب نے اجلاس میں بتایا کہ ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو دنیا کے 135 ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحرین کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں سائرن بج رہے ہیں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو خطے میں امن کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending