Connect with us

Today News

مصالحت نہ سکھاجبرِ ناروا سے مجھے

Published

on


اِس وقت آدھی دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے، دنیا بھرکی ایوی ایشن اور ٹورازم انڈسٹری برباد ہوچکی، اسرائیل، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا،سیاحت اور شاپنگ کے عالمی مراکز ویران ہوچکے اور ہر ملک کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، کیا دنیا کے طاقتور ترین شخص کا ہدف یہی تھا کہ دنیا کا نقشہ ایسا ہوجائے۔ نہیں وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔

اگر سُپر پاور کی ہر خواہش پوری ہوتی تو آج ویت نام پر امریکی پرچم لہرا رہا ہوتا، افغانستان پر اس کا قبضہ ہوتا، کیوبا اس کی ریاست ہوتا اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کا کوئی کٹھ پُتلی حکومت کررہا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ سُپر پاور سے بڑی سپریم پاور بھی موجود ہے کہ پورے کرۂ ارض کا کنٹرول جس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اس جہانِ رنگ و بو میں بالآخر وہی ہوتا ہے جو اُس سپریم پاور کو منظور ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کی رہائشی آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے، سیکڑوں معصوم طالبات کو بھی خاک وخون میں نہلا دیا ہے، ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی سمیت صفحۂ اوّل کے سول اور عسکری لیڈروں کو شہید کردیا ہے، مگر وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس لیے کہ نہ ایران میں حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے، نہ وہاں پھوٹ ڈالی جاسکی ہے اور نہ ہی کوئی کٹھ پتلی مسلّط کیا جا سکا ہے۔ ایرانی قوم نے آہنی عزم واستقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ اکیسویں صدی کے چنگیز خان اور ہٹلر نہیں جانتے تھے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے، اُن کا سامنا بدرو حنین کے ان سرفروشوں کی اولاد سے ہے جو اپنے سے دس گنا بڑی سپر پاور کو پیغام بھیجتے تھے کہ ’’یاد رکھو تمہارا مقابلہ اسلام کے ان جانثاروں سے ہے جنھیں موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی۔‘‘ نیتن اور ٹرمپ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا پالا شہدائے کربلا کے وارثوں سے پڑا ہے جن کے لیے شہادت زندگی سے بڑا اعزاز ہے اور جن کا بچہ بچہ اب بھی پکار رہا ہے کہ

مصالحت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے

میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے

اہلِ ایران کی بہادری اور ثابت قدمی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر ان کی ناکامیاں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ ان کی اپنی صفوں کے اندر دشمنوں کے آلۂ کار گھسے رہے اور وہ اپنے راہبر اور عسکری کمانڈروںاور ایٹمی سائنسدانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ انھیں اس کمی پر قابو پانا ہوگا اور security lapses کے خطرناک شگافوں کو بھرنا ہوگا۔

کھربوں ڈالر کے خطرناک ترین بم اور میزائل گرانے کے باوجود آج کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ ایران کی حکومت چل رہی ہے، وہاں روز مرہ زندگی رواں دواں ہے اور عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں شہید راہبر اور ان کی فیمیلی اور ان کی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگر اس وقت ایرانیوں کے دل میں کسی کے لیے سب سے زیادہ نفرت ہے تو وہ اسرائیل اور امریکا ہے۔ ایران میں بغاوت کے کوئی آثار نہیں اور سابق شاہ کے بیٹے کوکسی کی حمایت حاصل نہیں۔ امریکی صدر نے طاقت کے گھمنڈ، تکبّر اور پوری دنیا کے وسائل کا مالک بننے کے جنون میں، جمہوریّت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ تصوّرات اور ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں کے تقدّس کو روند ڈالا ہے اوروہ اکیسویں صدی میں بھی  Might is Right کے صدیوں پرانے نظریئے کی تلوار اُٹھاکر دوسرے ملکوں پر چڑھ دوڑا ہے۔ افسوس ہے کہ کوئی ملک اس کو روکنے والا نہیں ہے۔ روس اور چین بھی حملہ آور کو سامنے آکر روکنے سے گریزاں ہیں۔ یورپی ممالک تماشہ دیکھ رہے ہیں مگر اسے روکنے کی جرات نہیں کرپائے۔ اقوامِ متحدہ تو اس کی باندی ہے، وہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر معمولی سی قرارداد پاس نہیں کرسکی۔

ایران میںسکول کی معصوم طالبات کے بہیمانہ قتل پر ہمارے ملک کی این جی اوز یا دین بیزار لبرلز میں سے کسی نے اس کی مذمّت کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اسرائیل اور امریکا کی ننگی جارحیّت نے ہمارے ملک کے نام نہاد سوڈو لبرلز کا کردار بھی بالکل بے نقاب کردیا ہے۔ انھوں نے اسرائیل اور امریکا کے بلا جواز حملے کے نتیجے میں ایک خودمختار ملک کے سیاسی اور روحانی قائد سیّد علی خامینائی کے وحشیانہ قتل پر چپ سادھ رکھی ہے، یعنی ان کے نزدیک کسی ملک کے انسانی حقوق اور جغرافیائی سرحدوں کے تقدس کی کوئی اہمیّت نہیں۔

اس جنگ میں پاکستان کا کردار انتہائی نازک، حسّاس اور ہم ہے، اس کا کردار ایک Tight Rope  پر چلنے کے مترادف ہے، ان حالات میں پاکستان کو جرات مندانہ مگر دانش مندانہ کردار ادا کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ہمارا بھائی بھی ہے اور ہمسایہ بھی، اس لیے اس پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ ہمیںکسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیئے۔

ایران کے خلاف جارحیت پر پاکستان نے اس کی مزمت کی ہے۔ ادھر ہم یہ بات بھی فراموش نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں چالیس ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ (جو ہماری لائف لائن ہے) ہمارے وہ اوورسیز پاکستانی بھیجتے ہیں جو خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کررہے ہیں، ان میں سے نوّے فیصد سعودی عرب اور یو اے ای میں ہیں۔ اگر کوئی ملک (چاہے ایران ہی کیوں نہ ہو) اگر ان ممالک پر حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں بھی ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ کوئی بڑا ملک ہو یا چھوٹا، سب سے پہلے وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے، جس طرح ماضی میں ایران نے اپنے ملک کا مفاد دیکھتے ہوئے کئی بار پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا (امید ہے کہ اب بھارت کے گھناؤنے کردار نے ایران کی آنکھیں کھول دی ہوںگی اور انھیں اپنے دوست اور دشمن کی پہچان ہوگئی ہوگی) اسی طرح پاکستان کی حکومت کو فیصلہ کرتے وقت پاکستان کا مفاد پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ابھی تک ملنے والے شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمی دور کرانے میں پاکستان کا مصالحانہ کردار قابلِ تحسین ہے۔ ان کی کوششوں سے ایران کے صدر نے معذرت کرلی، اور سعودی عرب سمیت بہت سے عرب ممالک نے جنگ میں اسرائیل اور امریکا کا اتحادی بننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے اپنے وی لاگ میں حالیہ جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ کوئی محدود فوجی آپریشن نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے وجود کا سوال کھڑا ہو جائے تو اس کی جنگ کی تعریف بدل جاتی ہے۔ ایران کے لیے امریکا یا اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دینا ضروری نہیں، اسے صرف اپنے نظام، اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ریاست باقی رہتی ہے تو وہی اس کی فتح ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو طویل جنگوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو دانستہ طور پر غیر مرکزی بنایا ہے۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے تب بھی نچلی سطح کے کمانڈر متحدہ کوشش کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل روایتی‘‘یونیٹی آف کمانڈ’’سے مختلف ہے۔ اس میں نظام کسی ایک شخصیت پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ایک نظریاتی اور قومی ڈھانچے پر قائم ہوتا ہے۔ ساہنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ جنگ اب صرف ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی نہیں رہی بلکہ سگنل، ڈیٹا اور خلا کی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی جی پی ایس پر انحصار کم کر کے چینی سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ اس سے میزائل اور ڈرون ہدف تک زیادہ درستگی سے پہنچ سکتے ہیں اور جیمنگ کے باوجود مواصلات برقرار رہتے ہیں۔ اصل ہتھیار اب ’’سگنل‘‘ہے۔ اگر آپ دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے سکیں، اس کے دفاعی نظام کو غلط شناخت پر مجبور کر دیں، تو بغیر روایتی فضائی برتری کے بھی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

 ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں وہ تباہی مچائی ہے جس کا کوئی تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ فرسٹرٹیڈ اور مایوس ٹرمپ اب فیس سیونگ کی تلاش میں ہے۔ اس ضمن میں اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشیا اور مصر کو بڑا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھیں چاہیے کہ روس اور چین کو ساتھ ملاکر ٹرمپ کو جنگ بندی پر مجبورکریں۔ ایسا نہ ہوا تو پھر دنیا کو ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، وائٹ ہاؤس

Published

on



واشنگٹن:

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ مقررہ اہداف جلد حاصل کر لیے جائیں گے۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ امریکی فوج ایران کی میزائل تنصیبات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور بعض زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اور ان کی توانائی ٹیم عالمی تیل منڈیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اہداف حاصل ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

 

کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ امریکا نے اب تک آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کی براہِ راست مدد نہیں کی تاہم خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

باب العلم امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضیؓ

Published

on


آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ کے والد ابُوطالب رسول کریم ﷺ کے چچا تھے۔ آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنھوں نے رسول کریم ﷺ کو اعلان نبوت سے لے کر وصال تک، خلوت و جلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ کے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو، جسم اطہر کے ہر ایک انداز کو اپنے دل و اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بل کہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔

حضرت علیؓ، نبی کریم ﷺ کے دست و بازو تھے، اور مصائب و آلام کی ہر گھڑی میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔

 آپؓ فرماتے ہیں: ’’جب رسول کریم ﷺ ہجرت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اور میرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ ’’امین‘‘ کہلاتے تھے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)

اسی طرح غزوۂ بدر میں حضرت علیؓ کی شجاعت لوگوں کے سامنے آئی جب آپؓ نے نام ور قریشی سردار عقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔ جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اور اپنے قومی و خاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہُوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس کی تلوار سے اس کا کام تمام کیا۔ اس دن رسول اکرم ﷺ کا جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت علیؓ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کردیا۔ سیدنا علی ؓ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر و خیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے علم بردار رہے۔

غزوۂ بدر کے بعد حضرت علیؓ کو ایسا اعزاز حاصل ہُوا جس نے ان کی عظمت کو چار چاند لگا دیے۔ یہ اعزاز حضرت علیؓ کی رسول کریم ﷺ کی چہیتی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی خانہ آبادی کا تھا۔ اور اﷲ تعالی نے روز ازل سے ان کے لیے یہ عظمت و نعمت مقدر کررکھی تھی۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی زندگی امت کے لیے لازوال نمونہ تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ کی شخصیت مزید ابھر کر سامنے آئی۔ آپؓ فقیہہ، مجتہد اور مفسر قرآن ہونے کے ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضیؓ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔ آپ ؓنے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لیے آپؓ کی معلومات و روایات کو مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓکے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خود تعریف فرمائی۔ آپؓ کی فقہی مہارت اور اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجا تھا کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے انھیں ’’اقضاکم‘‘ (تم میں سے اچھے، سب سے بڑے قاضی) قرار دیا۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپؓ لوگوں کو حضرت علیؓ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔

رسول اکرم ﷺ نے آپؓ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔ چناں چہ آپؓ اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے: ’’اے علیؓ! اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالحؑ کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا۔‘‘

امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیؓ کی عادت تھی کہ نماز کے لیے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ بس جیسے ہی آپ ؓ وہاں پہنچے اس نے آپؓ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا جو دماغ تک جا پہنچا اور آپؓ خون سے نہا گئے اور داڑھی مبارک خون سے تر ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھا یکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی اور میں نے امیرالمومنینؓ کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا :

’’قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی۔‘‘

اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اور ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔ ابن ملجم کو حضرت علیؓ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ؓ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ بلکہ فرمایا! یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہی اسے کھلانا۔ پھر فرمایا: اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیار ہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اس کو ایک ضرب ہی لگانا۔ پھر اپنے صاحب زادوں حضرت امام حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلا کر وصیت لکھوائی اور دو دن انتہائی کرب کی کیفیت میں گزارنے کے بعد اکّیس رمضان المبارک کی صبح اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیر داخلہ سندھ، آئی جی اور میئر کراچی کا مرکزی جلوس کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

Published

on



کراچی:

وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو ، کراچی پولیس چیف آزاد خان اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا۔

بعدازاں نمائش چورنگی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 28 فروری کو جو واقعہ ہوا اس کی انکوائری ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کچھ بھی کہنا اس وقت قبل از وقت ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ جہاں ایڈمنسٹریشن میں کمی نظر آئیگی پولیس افسران کا تبادلہ کیا جائیگا، پولیس ہائی الرٹ ہے جبکہ میئر کراچی بھی خود وزٹ کر رہے ہیں جبکہ ان کی ٹیم بھی متحرک ہے۔

دریں اثنا پولیس کی جانب سے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے سیل کر دیئے۔

آج  یوم شہادت حضرت علیؓ کے سلسلے میں مرکزی جلوس دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔ 

اس حوالے سے پولیس کی جانب سے رات گئے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والی مارکیٹوں ، دکانوں اور راستوں کو بم ڈسپوزل یونٹ سے سوئپنگ کے بعد سیل کیے جانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایم اے جناح روڈ ، گرومندر سے ٹاور تک جبکہ صدر دواخانہ ایمپریس مارکیٹ سے ریگل چوک تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیوں کی مدد سے سیل کر کے نفری کو بھی تعینات کر کے انھیں ہدایات بھی جاری کر دی گئیں۔

سیل کیے گئے راستوں سے نہ تو کسی کو جلوس میں داخل اور وہاں سے باہر جانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی ، آخری اطلاعات آنے تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو سیل کیے جانے کا عمل جاری تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending