Today News
مصنوعی ذہانت کی دوڑ : پاکستان کے لیے سبق
عالمی طاقت کا منظرنامہ اب صرف جغرافیائی سرحدوں یا روایتی ہتھیاروں سے متعین نہیں ہوتا بلکہ اب یہ فلوٹنگ پوائنٹ آپریشنز اور نیورل نیٹ ورکس سے تشکیل پا رہا ہے۔
جیسے جیسے دنیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے دور میں قدم رکھ رہی ہے، وہیں جنوبی ایشیا تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
تاہم انڈیا اے آئی ایمپکٹ سمٹ 2026 میں پیش آنے والا ایک حالیہ اسکینڈل نے پورے خطے کی ٹیک کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک وارننگ بھی ہے اور ایک اسٹرٹیجک آئینہ بھی۔
مصنوعی ذہانت اب کوئی مستقبل کا تصور نہیں رہی بلکہ یہ جدید معاشی ترقی کا بنیادی انجن بن چکی ہے۔ 2026 میں عالمی اے آئی مارکیٹ کی مالیت تقریبا 2.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2025 کے مقابلے میں تقریبا 44 فیصد اضافہ ہے۔
اب قومی مسابقت کا براہِ راست تعلق اے آئی کے استعمال کی شرح سے جڑچکا ہے، جو دنیا بھرکے اداروں میں بڑھ کر 78 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ معاملہ وجودی اہمیت رکھتا ہے۔
2030 تک اے آئی کے ذریعے عالمی معیشت میں 15۔7 ٹریلین ڈالر کے اضافے کی پیش گوئی ہے اور اس دوڑ میں ٹیکنالوجیکل جدت خود مختاری کی علامت بن چکی ہے جو زراعت، صحت اور روزگار کے نئے مواقعے سمیت ہر شعبے کو متاثرکررہی ہے۔
خطے میں اے آئی کی ترقی کا فرق واضح اور نمایاں ہے، تاہم دونوں ہمسایہ ممالک بالکل مختلف رفتار اور پیمانے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
انڈیا نے حال ہی میں 2۔1 ارب ڈالر کے ’’ انڈیا اے آئی مشن‘‘ کو عملی شکل دی ہے جس کا مقصد مقامی کمپیوٹنگ صلاحیت اور ’’سورن اے آئی‘‘ کی تعمیر ہے، جب کہ ’’ اے آئی فار آل‘‘ حکمتِ عملی کے تحت بھارت خود کو عالمی سطح پر اسکیل ایبل ٹیکنالوجی کے ایک بڑے تجرباتی مرکزکے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں اگست 2025 میں نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے، مگر یہ زیادہ تر انسانی وسائل کی ترقی اور مختلف شعبوں میں اے آئی کے اطلاق تک محدود ہے نہ کہ مہنگے انفرا اسٹرکچرکی تعمیر تک۔
اسی فرق کا اظہار اے آئی ایکو سسٹم میں بھی نظر آتا ہے جہاں 2026 میں اندازے کے مطابق انڈیا کی اے آئی انڈسٹری کی مالیت 8 ارب ڈالر سے زائد، اے آئی پر مبنی 4 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپس، عالمی سطح پر تحقیقی حوالہ جات میں ٹاپ 5 ویں پوزیشن اور قومی سپرکمپیوٹنگ گرڈ موجود ہے۔
جب کہ پاکستان میں اے آئی انڈسٹری کی مالیت تقریباً 120 ملین ڈالر ہے، 150 سے 200 اسٹاٹ اپس، تحقیقی آؤٹ پٹ میں جنوبی ایشیا میں 10 ویں پوزیشن اور کمپیوٹ پاور زیادہ تر کلاؤڈ پر انحصار تک محدود ہے۔
دہلی میں سولہ تا بیس فروری کو منعقد ہونے والے ’’ انڈیا اے آئی ایمپکٹ سمٹ 2026‘‘ میں گلگوٹیاس یونیورسٹی کو فوری طور پر اسٹال خالی کرنے اور عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیورسٹی نے ’’اورایئن‘‘ نامی روبوٹک کتے کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کیا، لیکن حاضرین اور سوشل میڈیا نے اسے جلد ہی چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس کی کمرشل پروڈکٹ ’’ یونی ٹری گو 2 ‘‘ کے طور پر شناخت کر لیا۔
بھارتی وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی نے یونیورسٹی کو اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ’’ غیر حقیقی رویے کو فروغ نہیں دیا جائے گا۔‘‘ یونیورسٹی نے عملے کی غلطی اور روبوٹ کو صرف ’’کلاس روم موشن‘‘ قرار دیا، لیکن ان کی ساکھ پر نقصان ہو چکا تھا۔
یہ واقعہ بین الاقوامی برادری کے لیے washing Innovation یعنی غیر ملکی ٹیکنالوجی کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے گلگوٹیاس اسکینڈل ایک محتاط انتباہ ہے کہ تشہیری مہم پر مبنی جدت حقیقی تحقیق و ترقی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
جہاں پاکستان اپنی قومی سطح کی مصنوعی ذہانت کی پالیسی نافذ کر رہا ہے تو یہ خطرہ موجود ہے کہ جامعات صرف ’’وقار‘‘ کے پیچھے بھاگیں اور حقیقی ’’پیداوار‘‘ کو نظر انداز کردیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سینیٹرز آف ایکسیلنس میں حقیقی علمی ملکیت کی جانچ اورآڈٹ یقینی بنائے۔ ملک میں ذہین کمپیوٹر سائنسدان موجود ہیں، لیکن مقامی جی پی یوکلسٹرز اور اعلیٰ سطح فنڈنگ کی کمی انھیں امریکا یا مشرق وسطیٰ جانے پر مجبورکرتی ہے۔
پاکستان ایک ’’ ڈیجیٹل خود مختار کلاؤڈ‘‘ قائم کر کے مقامی محققین کو وہ وسائل فراہم کر سکتا ہے جو انھیں ملک میں رہ کرکام کرنے کو ترجیح دیں۔
پاکستان کو عالمی سطح کا سب سے بڑا ماڈل بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ عملی مصنوعی ذہانت پر توجہ دے، جیسے لاہورکے اسموگ بحران کو حل کرنا، ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کو بہتر بنانا یا اردو زبان میں صحت کی تشخیص فراہم کرنا، تو پاکستان ایک ایسا شعبہ تخلیق کرسکتا ہے جو اخلاقی طور پر درست اور اقتصادی طور پر مؤثر ہوگا۔
گلگوٹیاس کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اے آئی میں قیادت کا راستہ کسی چینی شیلف سے خرید کر حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ لیبارٹری میں محنت اور تحقیق سے بنایا جانا چاہیے۔
پاکستان کے پاس صلاحیت موجود ہے، اب ضرورت ہے کہ اس کے ساتھ دیانت داری اور مضبوط انفرا اسٹرکچر بھی بنایا جائے۔
Today News
پنجاب میں معدنیات و قدرتی ذخائر کی تلاش کیلیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب اہم پیش رفت
پنجاب میں معدنیات اور قدرتی ذخائر کی تلاش کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
کینیڈا میں پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور کینیڈین کمپنی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ترجمان پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے مطابق ٹورنٹو میں پی بی آئی ٹی اور کینیڈین ایکسیوم گروپ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے پر چیئرمین پی بی آئی ٹی محمد منتہیٰ اشرف اور ایکسیوم گروپ کے صدر و سی ای او ڈوگ اینگڈیل نے دستخط کیے۔
ترجمان کے مطابق اس معاہدے کے تحت پنجاب میں معدنیات اور قدرتی ذخائر کی تلاش جدید سیٹلائٹ اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا، ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی تجزیاتی طریقوں کی مدد سے صوبے میں معدنی وسائل کی نشاندہی اور ان کی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اشتراک کے تحت سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کیا جائے گا جس سے معدنی وسائل کی تلاش اور ان کے مؤثر استعمال میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس اقدام کو پبلک سیکٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان اہم اشتراک قرار دیا۔
چیئرمین پی بی آئی ٹی محمد منتہیٰ اشرف نے کہا کہ حکومت پنجاب وزیراعلیٰ کے وژن کے مطابق معدنیات کے شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر کے ترقی کی نئی راہیں کھولنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی شراکت داریوں کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
Source link
Today News
علاقائی صورتحال: آئی ایم ایف نے پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب کرلیا
اسلام آباد:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے پاکستان سے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ہنگامی معاشی اقدامات پر مبنی جامع پلان طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور وزارت تجارت مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات سے آئی ایم ایف کا پاکستان سے علاقائی کشیدگی پر پلان تیار کریں گی۔
وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ پر آن لائن مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے جاری اصلاحات کو تیز کرنے اور ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف کو ٹیکس ہدف حاصل نہ ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف وفد کو پیپرا کے 2004 کے قواعد میں مجوزہ ترامیم سے متعلق رپورٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو پروکیورمنٹ ڈیٹا تک سی سی پی، نیب اور آڈیٹر جنرل کی رسائی سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور 3 صوبوں میں ای پیڈ سسٹم کے تحت سرکاری خریداری کو مزید وسعت دی جائے گی اور نظام کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس دوران رائٹ سائزنگ کمیٹی کے تحت کیے گئے فیصلوں، مالیاتی بچت اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر بھی مذاکرات ہوئے۔
حکام کے مطابق 2025 کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں جس سے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ صوبائی حکام کی بھی ورچوئل میٹنگز شیڈول ہیں۔
Today News
الزامات بدنیتی پر مبنی قرار: برطانوی عدالت نے عادل راجا کی اپیل مسترد کردی
برطانیہ کی عدالت میں عادل راجا کو قانونی محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جہاں اس کی اپیل مسترد کر دی گئی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق عادل راجا کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا گیا جبکہ مظلومیت اور سیاسی انتقام کا مؤقف بھی عدالتی جانچ میں برقرار نہ رہ سکا۔
برطانوی عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ پیش کردہ مؤقف میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج کی جانب سے ثبوت طلب کیے جانے پر متعلقہ نکات ثابت نہ ہو سکے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عدالت کے فیصلے کے تحت عادل راجا پر 3 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 12 کروڑ روپے بنتے ہیں، کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد اپیل کے امکانات بھی محدود قرار دیے جا رہے ہیں اور قانونی راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech1 week ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority