Today News
معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق
پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔
اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔
اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔
یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔
اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔
Today News
سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف طاقت کا آپشن موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس
واشنگٹن:
امریکہ نے ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف کو مزید واضح کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو فوجی آپشن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کا فیصلہ بھی ان کے اختیار میں ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے جہاں خطے میں بڑھتی کشیدگی اور جوہری پروگرام کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران کو معاہدے کے لیے محدود مہلت دے چکے ہیں جبکہ توقع ہے کہ وہ آئندہ خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کریں گے۔
Today News
سعودی کابینہ نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کی منظوری دے دی
ریاض:
سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جن میں پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی منظوری بھی شامل ہے۔
اجلاس میں کابینہ نے سعودی وزارت داخلہ اور پاکستانی وزارت داخلہ کے درمیان سائنسی، تربیتی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کی اجازت دے دی۔
اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے سکیورٹی اور انتظامی شعبوں میں تجربات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
کابینہ نے سعودی اور پاکستانی وزارت صحت کے درمیان ریگولیشن، کوآرڈینیشن اور طبی شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے معاہدوں کی منظوری بھی دی جس سے صحت کے نظام، پالیسی سازی اور طبی سہولیات میں مشترکہ پیش رفت کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس کے دوران دیگر علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ سعودی کابینہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
Today News
کراچی میں پولیس مقابلوں کی رات، مختلف کارروائیوں میں 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:
شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران کارروائیاں کرتے ہوئے 5 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور مسروقہ سامان بھی برآمد کیا گیا۔
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق سپر ہائی وے پر گنا منڈی سروس روڈ کے قریب ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکو زخمی ہوئے، جن کی شناخت جاجی رحمان اور گلار خان کے نام سے ہوئی۔
زخمی ملزمان کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسی طرح جوہرآباد پولیس نے فیڈرل بی ایریا بلاک 15 میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا، جس کی شناخت طلحہٰ کے نام سے کی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے پستول، چھینے گئے تین موبائل فون اور نقد رقم برآمد ہوئی ہے۔
مزید کارروائیوں میں گڈاپ سٹی پولیس نے سپر ہائی وے چکوال پمپ کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک ملزم کو زخمی حالت میں حراست میں لیا۔
جبکہ نیو کراچی سیکٹر 11-J میں بھی ایک اور مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings