Connect with us

Today News

’’معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق‘‘ غزوۂ بدر

Published

on


قریش مکہ جزیرۃ العرب کے تمام قبائل میں خود کو سب سے زیادہ ذی مرتبہ اور عالی وقار سمجھتے تھے۔ اﷲ کی وحدانیت اور روز قیامت پر ایمان لانا نیز اسلام کے مساویانہ نظام عدل کو قبول کرنا، ان کے متکبّرانہ سوچ کے خلاف تھا۔

اس لیے وہ اسلام سے سخت بے زار اور اسلام کے خاتمے کے در پہ تھے۔ جب تک مسلمان مکہ میں رہے وہ انہیں ہر طرح کی ایذائیں دیتے رہے لیکن جب مسلمان مدینے چلے گئے تو انہیں اپنی دیرینہ خواہش چکنا چُور ہوتی نظر آنے لگی۔ مدینے میں مسلمانوں کے جمتے قدم اور اسلام کا تیزی سے فروغ ان کے لیے سوہان روح سے کم نہ تھا۔ انھوں نے مدینہ منورہ کے یہودیوں اور اسلام قبول نہ کرنے والے اوس و خزرج کے لوگوں کو دھمکی دی کہ مکے کے مسلمانوں کو اپنے شہر سے نکالو ورنہ ہم تم پر حملہ آور ہوکر مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے لیکن ان کی یہ دھمکی رائیگاں گئی جس پر انھوں نے مدینہ اور اس کے اطراف و اکناف کے مشرک قبائل سے ساز باز کا سلسلہ شروع کیا۔ اس وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی تدابیر اختیار کیں۔

ابُوجہل نے مشہور کردیا کہ قریش کے اس قافلے کو جو شام سے آرہا ہے اور جس کا سرمایہ پچاس ہزار دینار ہے، مسلمان لوٹنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا قافلے کی حفاطت کے لیے جلد آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کی تدبیر زود اثر ثابت ہوئی اور ایک ہزار کا عظیم لشکر جس میں تین سو گھوڑے اور سات سو اونٹ تھے، روانہ ہُوا۔ ابُوجہل مکے سے چار پانچ منزل پر تھا کہ اسے اطلاع مل گئی کہ وہ قافلہ بہ خیریت مکہ پہنچ گیا ہے۔ اہل لشکر نے ابُوجہل سے کہا کہ اب ہم کو واپس چلنا چاہیے لیکن ابُوجہل نے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ یہ تو اچھا ہُوا، لیکن بہتر یہ کہ ہم مدینے کے قرب و جوار تک پہنچیں اور مسلمان ہماری کثرت اور شان و شوکت سے مرعوب ہوجائیں گے۔

ابُوجہل کا ارادہ جاننے کے بعد نبی کریم ﷺ نے سرداران مہاجرین اور انصار کی شوریٰ طلب کی جس میں سب سے پہلے حضرت ابُوبکر صدیق ؓ پھر حضرت عمرؓ نے نہایت جاں نثارانہ تقاریر کیں۔ لیکن آپؐ انصار کا عندیہ لینا چاہتے تھے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے انصار کی طرف سے عرض کیا: ’’آپؐ جہاں تشریف لے جائیں گے، ہم آپؐ کے ساتھ ہیں، آپؐ جس سے قطع تعلق کرنا چاہیں کیجیے، جس سے قائم رکھنا چاہیں قائم رکھیں، ہم دونوں کے لیے حاضر ہیں، اگر آپ ﷺ برکِ غم دان (یمن کا ایک مقام) تک بھی جائیں گے تو ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں، اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں گے تو ہم کود پڑیں گے۔‘‘

اس کے بعد انصار ہی کی طرف سے حضرت مقداد بن عمرؓ نے کہا: ’’ہم موسیٰؑ کی امت کی طرح نہیں ہیں، جس نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جاکر لڑو۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم آپؐ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے آپ ﷺ کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

یہ تقریریں سن کر آپؐ کا چہرۂ مبارک وفور مسرت سے چمک اٹھا۔ آپ ﷺ تین سو تیرہ مسلمانوں کے ہم راہ روانہ ہوئے۔ اسلامی لشکر میں صرف ستّر اونٹ، تین گھوڑے اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اس درمیان میں قریش کا لشکر جس میں ہزار پیدل اور سو سوار تھے۔ عقبہ بن ربیعہ کی قیادت میں مدینہ کے قریب پہنچ کر مناسب جگہوں پر قبضہ کرچکا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو چاہ بدر کے قریب اس کی اطلاع ملی۔ آپ ﷺ وہیں ٹھہر گئے اور صف آرائی شروع کی۔ آپ ﷺ نے اصول جنگ کے مطابق فوجیں مرتب کیں۔ مہاجرین کا علم حضرت معصبؓ کو عنایت فرمایا۔ خزرج کا علم بردار حضرت خباب بن منذر ؓ اور اوس کے حضرت سعد بن معاذ ؓمقرر ہوئے۔ اب دو صفیں آمنے سامنے مقابل تھیں۔ حق و باطل، نور و ظلمت، کفر و اسلام، یہ عجیب منظر تھا اتنی بڑی دنیا میں اسلام کی بقاء چند نفوس پر منحصر تھی۔ اس وقت نبی کریم ﷺ پر گریہ طاری تھا۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتے تھے: ’’یااﷲ! تُونے مجھ سے وعدہ کیا ہے آج پورا کر دے۔‘‘ محویت اور بے خودی کے عالم میں چادر کندھے سے گر پڑتی تھی اور آپ ﷺ کو خبر تک نہ ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کبھی سجدے میں گر پڑتے تھے اور فرماتے تھے: ’’یااﷲ! اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو قیامت تک کوئی تیرا نام لیوا نہ ہوگا۔‘‘ قریش کی فوجیں اب بالکل قریب آگئیں۔ تاہم آپ ﷺ نے صحابہؓ کو پیش قدمی سے روکا اور فرمایا کہ جب دشمن پاس آجائیں تو تیر سے روکو۔ یہ بڑے امتحان و آزمائش کا موقع تھا۔ جب دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو مسلمانوں نے دیکھا کہ خود ان کے بزرگ اور ان کے قلب و جگر کے ٹکڑے تلواروں کے سامنے ہیں لیکن اسلام کی محبت نے تمام رشتوں کو بُھلا دیا تھا۔ چناں چہ میدان جنگ میں حضرت ابُوبکرؓ کی تلوار اپنے لخت جگر عبدالرحمٰن کے مقابلے میں بے نیام ہوئی۔ حضرت عمرؓ کی تلوار اپنے ماموں کے خون سے رنگین ہوئی۔ حضرت حذیفہؓ کو اپنے والد عقبہ کے مقابلے میں آنا پڑا۔ پہلے فرداً فرداً مقابلہ ہوا اور دونوں فوجوں میں سے ایک ایک آدمی میدان میں آیا۔ مقتول عمرو حضرمی کے بھائی کو حضرت عمرؓ کے غلام نے قتل کیا۔ قریش کے سپہ سالار عتبہ کا کام حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تمام کیا اس کے بھائی شیبہ کو حضرت علیؓ کی تلوار نے ختم کیا۔ عبیرہ بن سعید کو حضرت زبیرؓ نے مارا اس کے بعد عام جنگ شروع ہوگئی۔ دو انصاری بچے معاذ اور معوذ بن عفراءؓ ابُوجہل کی تاک میں تھے اس پر نظر پڑتے ہی انھوں نے اس کو زخموں سے چور کرکے لاچار کردیا۔ ابُوجہل کے قتل سے قریش میں بَد دلی پھیل گئی مگر ابھی ایک اور سردار امیہ بن خلف باقی تھا۔ اتفاق سے حضرت بلالؓ نے جو مکہ میں اس کے مشق ستم رہ چکے تھے اسے دیکھ لیا۔ انھوں نے انصار کو خبر کردی وہ ہر طرف سے ٹوٹ پڑے اور اسے جہنم رسید کردیا۔ امیہ کے قتل ہوتے ہی کفار نے میدان چھوڑ دیا۔

لڑائی کے خاتمے پر رسول اکرم ﷺ نے حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ سے ابُوجہل کی موت کا پوچھا۔ جس پر حضرت عبداﷲؓ نے مُردوں کو معائنہ کرتے ہوئے ابوجہل کو فرش خاک پر پڑا دیکھا، وہ زخموں سے چور تھا۔ آپ نے تلوار نکالی اور اس کے سینے پر رکھ دی۔ گردن کاٹنے کے بعد حضرت عبداﷲ ؓ نے آنحضرت کو اس کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ نے مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا: ’’اﷲ کا شُکر ہے جس نے اسے رسوا کیا۔ یہ امت کا فرعون تھا۔‘‘ قریش کے بہت سے نام ور سرداروں کے ساتھ ستّر آدمی ہلاک ہوئے۔ مسلمانوں کے کل چودہ آدمی شہید ہوئے۔ کفار قریش کے ستر آدمی گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے صحابہؓ سے اسیران جنگ کے بارے میں مشورہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ کی رائے کو پسند فرماتے ہوئے فدیہ لے کر سب کو رہا کردیا جو لوگ ناداری کی وجہ سے فدیہ ادا نہ کرسکتے تھے اور لکھنا جانتے تھے ان کے متعلق حکم ہوا کہ دس دس لڑکوں کو لکھنا سکھا دیں تو وہ رہا کر دیے جائیں گے۔

کفار مکہ میدان جنگ سے ایسے بھاگے تھے کہ انھوں نے اپنی فوج کے مردوں کا بھی کچھ انتظام نہ کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جہاں کہیں کسی انسان کی لاش بلا تدفین دیکھتے دفن کرنے کا حکم دیتے۔ بدر میں آنحضرت ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ بعد ازاں حضور اکرم ﷺ کفار کے ایک ایک سردار کا نام لے کر یوں مخاطب ہوئے: ’’کیا تم نے اس وعدہ کو جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا (یعنی تمہاری شکست کا وعدہ) سچا پایا ؟ بے شک! میں نے اس وعدے کو سچا پایا ہے جو میرے رب نے مجھ سے کیا تھا۔‘‘ جنگ کا نتیجا انتہائی حیرت انگیز تھا۔ اغیار مسلمانوں کی فتح ماننے کے لیے بالکل تیار نہ تھے لیکن جب مسلمانوں کا فاتح لشکر قیدیوں اور کثیر مال غنیمت کے ہم راہ مدینہ میں داخل ہوا تو حاسد مشرکوں، منافقوں اور یہودیوں کی حیرت کی انتہاء نہ رہی۔ فتح بدر کی شہرت نے جزیرۃ العرب کے طول و عرض میں اسلام کی صداقت کا سکہ بٹھا دیا۔ بہت سے کفار قریش نے فرشتوں کے نزول اور آسمانی امداد کا پہنچنا دیکھا تھا اب ان کے دل میں اسلام کی صداقت سے متعلق کوئی شک باقی نہ رہا۔ چناں چہ ان میں سے متعدد مدینہ میں دربار نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

غزوۂ بدر کو دیگر غزوات پر جو امتیاز حاصل ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خود خدا نے اس غزوہ کو ’’یوم الفرقان‘‘ کہا۔ غزوۂ بدر کی یہ فضیلت بھی بڑی اہم ہے کہ تمام صحابہؓ میں بدری صحابہؓ افضل ترین ہیں۔ یوم الفرقان کے بعد شہدائے محترم کی رفعت کا اظہار خود اﷲ نے بہت معظم و مکرم الفاظ میں یوں فرمایا ہے: ’’اور جو اﷲ کی راہ میں مارے گئے انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ اپنے رب سے رزق پاتے ہیں۔ شاد ہیں اس پر جو کچھ اﷲ نے انہیں دیا ہے۔‘‘

بے سر و سامانی کے باوجود جنگ بدر میں جو فتح مسلمانوں کو حاصل ہوئی وہ کسی معجزے سے کم نہ تھی اس جنگ نے جزیرہ نمائے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اس فتح کے نتیجے میں یہ طے ہوگیا تھا کہ اسلام کو زندہ رہنا ہے اور کفر کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

Government increase petroleum levy – ایکسپریس اردو

Published

on


حکومت نے آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 32 روپے کی بجائے 55 روپے کرنے کی وجہ سامنے آگئی۔

وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بھی بڑھائی گئی ہے، حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 20روپے فی لیٹر کے حساب سے اضافہ کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر منتقل نہیں کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صرف عالمی منڈی میں اضافے کو منتقل کیا جاتا تو پیٹرول 32 سے 35 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہوگا۔ 

 

پٹرول پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 85روپے سے بڑھا کر 105روطے فی لیٹر کردی گئی ہے،ذرائع





Source link

Continue Reading

Today News

گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران میں 200 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، امریکی سنٹکام

Published

on



خلیجی جنگ آج آٹھویں روز میں داخل ہوچکی ہے جبکہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں شہدا کی تعداد 1332 تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران میں تقریباً 200 اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔

سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کاپر نے ایران پر حملوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بی ٹو بمبار طیارہ نے درجنوں بنکر بسٹر بموں کے ذریعے زمین کی گہرائی میں دفن بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے پہلے دن کے بعد سے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں 90 فیصد تک کمی آچکی ہے جبکہ اب تک 30 سے زائد ایرانی بحری جہاز بھی ڈبو دیے گئے ہیں۔

سینٹکام کے مطابق آپریشن کے اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ اس کے دفاعی اور عسکری ڈھانچے کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

فلسطینی مفادات نظر انداز ہوئے تو ’بورڈ آف پیس‘ سے الگ ہو جائیں گے؛ انڈونیشیا

Published

on


دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ پلیٹ فارم بورڈ آف پیش سے فلسطینیوں کو فائدہ نہ پہنچا تو اس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

حکومتی بیان کے مطابق صدر پرابووو نے جمعرات کی شام مقامی اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کی۔

صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس پلیٹ فارم سے فلسطین یا انڈونیشیا کے قومی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا تو حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے گی۔

انڈونیشیا کے صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ اقدام فلسطینی مفاد میں نہیں یا انڈونیشیا کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ فوراً بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔

اندرون ملک تنقید

انڈونیشیا کی اس بورڈ میں شمولیت اور غزہ میں استحکام کے لیے ممکنہ فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے پر ملک کے ماہرین اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی کاز کی طویل عرصے سے جاری انڈونیشی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔

علما اور مذہبی تنظیموں کا مؤقف

اس سے قبل انڈونیشیا کی علما کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے کردار کے باعث انڈونیشیا کو اس بورڈ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم کا بھی کہنا تھا کہ حکومت اس پلیٹ فارم کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

تنظیم کے سربراہ کے مطابق انڈونیشیا اس بورڈ کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دے سکتا ہے۔

بورڈ آف پیس کی سرگرمیاں معطل

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ  پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث بورڈ آف پیش کی تمام سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Trending