Connect with us

Today News

معیشت و آبادی میں توازن ہی اصل کلید

Published

on


وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت اور ترقی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں رد و بدل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے جس میں اس بات پر خصوصی غور کیا جا رہا ہے کہ ٹیرف میں ممکنہ ردوبدل کا اضافی بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے جس انداز میں آبادی میں تیز رفتار اضافے کو معیشت کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیا ہے، وہ محض ایک وقتی انتباہ نہیں بلکہ قومی پالیسی کے رخ کا تعین کرنے والی بات ہے۔ پاکستان اس وقت بیک وقت دو دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی استحکام کی ضرورت، دوسری طرف ہر سال لاکھوں نئے نوجوانوں کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت۔ اگر آبادی کی شرحِ نمو بلند رہتی ہے اور معیشت اسی رفتار سے روزگار پیدا نہیں کرتی تو یہ عدم توازن سماجی اور معاشی بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔

حکومت کا یہ مؤقف کہ ریاست اکیلے روزگار فراہم نہیں کر سکتی، اصولی طور پر درست ہے۔ جدید معیشتوں میں پائیدار ملازمتیں نجی شعبے، برآمدات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سے پیدا ہوتی ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا نجی شعبے کو وہ سازگار ماحول میسر ہے جس میں وہ سرمایہ کاری بڑھا سکے؟ توانائی کی لاگت، ٹیکس نظام کی پیچیدگی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور ریگولیٹری رکاوٹیں کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہیں، اگر حکومت واقعی نجی شعبے کو ترقی کا انجن بنانا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس بیس کی منصفانہ توسیع، دستاویزی معیشت کے فروغ اور کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانے پر عملی پیش رفت دکھانا ہوگی۔

آبادی کا مسئلہ صرف اعداد کا کھیل نہیں بلکہ انسانی سرمائے کے معیار کا سوال ہے۔ ایک بڑی نوجوان آبادی بوجھ بھی بن سکتی ہے اور طاقت بھی۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ کیا ریاست تعلیم، صحت اور ہنرمندی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرتی ہے یا نہیں۔ اگر لاکھوں نوجوان معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں سے محروم رہیں تو وہ رسمی معیشت کا حصہ نہیں بن پائیں گے۔ اس کے برعکس اگر انھیں ڈیجیٹل مہارتوں، ٹیکنالوجی اور برآمدی صنعتوں سے جوڑ دیا جائے تو یہی نوجوان عالمی منڈی میں پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

آئی ٹی اور خدماتی برآمدات کے امکانات اسی تناظر میں اہمیت اختیار کرتے ہیں، مگر اس کے لیے ادائیگی کے نظام، ضابطہ جاتی فریم ورک اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی میں سہولت درکار ہے۔ ٹیکس اصلاحات بھی اس بحث کا لازمی جزو ہیں۔ جب تک ٹیکس کا بوجھ محدود طبقات پر مرکوز رہے گا اور بڑے شعبے موثر نگرانی سے باہر رہیں گے، تب تک مالیاتی استحکام کمزور بنیادوں پر کھڑا رہے گا۔ ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام ہی ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کر سکتا ہے۔

عوام اس وقت ٹیکس دینے پر آمادہ ہوتے ہیں جب انھیں بدلے میں معیاری عوامی خدمات نظر آئیں۔ اس لیے مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ گورننس کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔آبادی میں اضافے پر قابو پانا محض وفاقی سطح کا فیصلہ نہیں بلکہ صوبائی ہم آہنگی، بنیادی صحت کے نظام کی مضبوطی اور خواتین کی تعلیم و معاشی شرکت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب تک خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے، خاندانی منصوبہ بندی کے اہداف حاصل کرنا دشوار رہے گا۔ دنیا کے کئی ممالک نے آبادی کے چیلنج کو سماجی شعور، صحت کی سہولتوں اور پالیسی تسلسل کے ذریعے متوازن کیا ہے، پاکستان کو بھی اسی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

معاشی استحکام کی حالیہ پیش رفت اگرچہ حوصلہ افزا قرار دی جا سکتی ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ استحکام کو پائیدار ترقی میں بدلنے کے لیے روزگار کے وسیع مواقع، برآمدات میں اضافہ اور انسانی سرمائے کی تعمیر ناگزیر ہیں، اگر ریاست نجی شعبے کے لیے قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائے اور نوجوان آبادی کو ہنر مند بنانے پر توجہ دے تو یہی آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہی رفتارِ نمو مستقبل کی معیشت پر ایسا دباؤ ڈال سکتی ہے جسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کے لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ آبادی اور معیشت کو الگ الگ موضوعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جائے۔ ادھرعالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے حوالے سے جاری مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ، افراطِ زر، گردشی قرضے اور مالیاتی خسارے جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ اس وقت توانائی کا شعبہ بدستور اصلاحات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات کے دوران اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کہ ممکنہ ٹیرف ردوبدل کا اضافی بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر نہ پڑے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس سارے عمل کو محض ایک تکنیکی مالیاتی بحث سے نکال کر سماجی و معاشی انصاف کے دائرے میں لے آتا ہے۔

ملک میں بجلی کے نرخوں کا مسئلہ محض حساب کتاب کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی زندگی کے ہر پہلو سے جڑا ہوا سوال ہے۔ بجلی کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پہلے ہی خوراک، ایندھن، کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے جب کہ کم آمدنی والے طبقے کیلیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے میں اگر بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف بجلی کے بل تک محدود نہیں رہتے بلکہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دیتے ہیں، صنعتی لاگت بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں اور مجموعی اقتصادی سرگرمی سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے دوران ہدفی سبسڈی، کیش ٹرانسفر پروگرامز اور کراس سبسڈی جیسے طریقہ کار اختیار کیے گئے تاکہ معاشرے کے نچلے طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ہمارے ہاں بھی اگر ٹیرف میں ردوبدل ناگزیر ہو تو اسے اس انداز میں ترتیب دینا ہوگا کہ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو کم سے کم متاثر کیا جائے جب کہ زیادہ استعمال اور پرتعیش طرزِ زندگی رکھنے والے طبقات پر نسبتاً زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔متوسط طبقہ کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

یہی طبقہ ٹیکس نیٹ کا بنیادی حصہ بنتا ہے، یہی صارفین کی بڑی منڈی تشکیل دیتا ہے، اور یہی سماجی استحکام کا ضامن ہوتا ہے، اگر مسلسل بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز اور مہنگائی کے باعث یہی طبقہ سکڑنے لگے تو معیشت کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ کم آمدنی والے طبقات کیلیے صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ دیہاڑی دار مزدور، چھوٹے دکاندار، ریڑھی بان، اور محدود تنخواہوں پر گزارا کرنے والے سرکاری و نجی ملازمین پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔ بجلی کے بلوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ انھیں خوراک، تعلیم یا صحت جیسے بنیادی اخراجات میں کٹوتی کرنا پڑے گی جسکے طویل المدتی سماجی نتائج نہایت منفی ہو سکتے ہیں۔یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی شعبے کو بھی متاثر کرتا ہے۔

صنعتکار پیداواری لاگت بڑھنے کی صورت میں یا تو قیمتیں بڑھاتے ہیں یا پیداوار کم کرتے ہیں۔ دونوں صورتیں معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ قیمتیں بڑھیں تو مہنگائی میں اضافہ، اور پیداوار کم ہو تو بیروزگاری میں اضافہ۔ چنانچہ توانائی کے نرخوں کا تعین محض مالیاتی توازن کا سوال نہیں بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر اصلاحات اس انداز میں کی جائیں کہ صنعت کو بتدریج اور پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا موقع ملے تو منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سماجی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو اپنے فلاحی پروگرامز کو مزید مؤثر اور ہدفی بنانا ہوگا۔ اگر بجلی کے نرخ بڑھانے پڑیں تو اس کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے گھرانوں کو براہِ راست مالی معاونت دی جا سکتی ہے، یا ان کے لیے ایک مخصوص حد تک سبسڈی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے سولر پینلز کے فروغ کے لیے آسان قرضوں اور سبسڈی کا اجرا بھی ایک دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔ اگر گھریلو صارفین اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں تو نہ صرف قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہو گا۔

معیشت کی بحالی اور سماجی انصاف ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ اگر پالیسی سازی میں انسانی پہلو کو مرکزی اہمیت دی جائے، اگر کمزور طبقات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا جائے، اور اگر اصلاحات کو جامع اور شفاف انداز میں نافذ کیا جائے تو ممکن ہے کہ موجودہ چیلنج ایک موقع میں بدل جائے۔ بصورتِ دیگر بجلی کے بڑھتے ہوئے بل صرف گھروں کی روشنیاں ہی مدھم نہیں کریں گے بلکہ عوام کے اعتماد اور امید کی شمع کو بھی متاثر کریں گے۔ یہی وہ نازک موڑ ہے جہاں دانشمندی، توازن اور سماجی ذمے داری کا امتحان لیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بھارت سے شکست کے باوجود قومی ٹیم کی بیٹنگ میں ریکارڈ شراکت

Published

on



ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کھائی تاہم بیٹنگ میں آخری وکٹ میں شراکت کا ریکارڈ توڑ دیا۔

کولمبو میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو بھارت کے ایشان کشن نے شان دار بیٹنگ کی اور پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستانی بیٹرز نے ناقص کارکردگی دکھائی اور صاحبزادہ فرحان کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد دیگر بیٹرز بھی مسلسل آؤٹ ہوتے رہے تاہم عثمان خان نے ٹیم کو 100 کا ہندسہ عبور کرنے کا موقع فراہم کیا۔

پاکستان کے 7 بیٹرز دہرا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکے اور 3 بیٹرز صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خان نے سب سے زیادہ 44 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 6 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، شاداب خان نے 15 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 14 رنز بنائے۔

بھارت کے 175 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 114 رنز پر ڈھیر ہوئی، جس میں آخری وکٹ کی شراکت میں شاہین شاہ آفریدی اور عثمان طارق نے 17 رنز کی شراکت کی جو ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کا ریکارڈ ہے، عثمان طارق کے صفر پر آؤٹ ہونے کے باوجود شراکت کا ریکارڈ بن گیا ہے۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے دسویں وکٹ میں محمد آصف اور سعید اجمل نے 6 مئی 2010 کو انگلینڈ کے خلاف 15 رنز بنا کر آخری وکٹ میں بڑی شراکت کا ریکارڈ بنایا تھا۔

بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے اس میچ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت شاداب خان اور عثمان خان نے 35 گیندوں پر 39 رنز کی شراکت بنائی تھی، جس میں عثمان کے 22 گیندوں پر 26 اور شاداب خان کے 13 گیندوں پر 13 رنز شامل تھے۔

بابراعظم اور شاداب خان نے 21 جبکہ فہیم اشرف اور شاہین شاہ آفریدی نے 19 رنز کی شراکت بنائی تھی۔

ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ محمد رضوان اور بابراعظم کا انگلینڈ کے خلاف پہلی وکٹ میں ناقابل شکست 203 رنز ہے اور سرفہرست پانچ بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی انہی دونوں بیٹرز کے پاس ہے۔

بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے محمد رضوان اور بابراعظم نے 24 اکتوبر 2021 کو دبئی میں 152 رنز بنا کر سب سے بڑی شراکت قائم کی تھی۔



Source link

Continue Reading

Today News

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا

Published

on



حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے بڑھا دیے ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے تھی۔

حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation

Published

on


وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔

 

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ ویانا پہنچے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ دورے پر ویانا پہنچ گئے ہیں اور ویانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آسٹریا کی مسلح افواج کے دستے نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو سلامی پیش کی۔

وزیرِ اعظم آسٹرین چانسلر کرسچئین اسٹاکر سے دو طرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے، وزیرِ اعظم اور آسٹریا کے چانسلر دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے معروف کاروباری افراد کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

وزیرِاعظم پاکستان آسٹریا بزنس فورم میں شرکت اور خطاب کریں گے، وزیرِاعظم ویانا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ “پائیدار ترقی، عالمی امن و خوش حالی کا راستہ” کے موضوع پر خصوصی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔

علاوہ ازیں وزیرِاعظم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹرجنرل سے بھی ملاقات کریں گے۔





Source link

Continue Reading

Trending