Connect with us

Today News

مفاہمت ہی واحد آپشن – ایکسپریس اردو

Published

on


پاکستان جن بڑے مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان سے باہر نکلنے کے لیے واحد راستہ مفاہمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ایک طرف داخلی مسائل ہیں جن میں معاشی، سیکیورٹی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل ہیں تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ جنگ ہے ،امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ اور خلیجی ممالک تک اس جنگ کا پھیلاؤ ہے جو ہمارے لیے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا باعث بن رہا ہے ۔یہ حالات فوری طور پر بہتر نہیں ہوں گے اور ان کے براہ راست اثرات ہم پر مرتب ہوں گے۔ایسے میں پاکستان کی قیادت کو زیادہ تدبر کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ہمیںغیر معمولی فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے بھی موجودہ صورتحال پر نہ صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے بقول قومی سیاست میں مفاہمت، مصالحت اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے ہی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ممکن ہوسکے گا اور یہ ہی استحکام نیشنل سیکیورٹی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

ان کے بقول تمام فریقین کو مل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کریں ۔یہ جو بھارت ، اسرائیل اور افغانستان پر مبنی گٹھ جوڑ ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے، ایسے میں ہمیں زیادہ حکمت کے ساتھ اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا جس میں سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور متفقہ طور پر حالات کا مقابلہ کریں ۔جنرل )ر(ناصر جنجوعہ نے جو باتیں کی ہیں اس میں فہم اور تدبر کی جھلک ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ قومی مفاہمت کا عمل کیسے شروع ہوگا اور کیسے مکمل ہوگا؟

 ادھر پی ٹی آئی کی کوٹ لکھپت جیل میں موجود قیادت نے بھی ایک خط کے ذریعے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی کے بانی سے ان کی ملاقات کرا دی جائے تو ہم بات چیت کی مدد سے سیاسی راستہ نکال سکتے ہیں لیکن اس خط کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے ۔

اگرچہ حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں کی قیادت مطمئن ہے کہ موجودہ حالات میں بھی ملک بہتر چل رہا ہے اور بعض وفاقی وزرا کے بقول نہ تو ملک کی سطح پر کوئی سیاسی تقسیم ہے اور نہ سیاسی محاذآرائی یا سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے۔ ان کی سوچ اپنی جگہ ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات نے پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس کا درست ادراک نہیں ہے۔اس حکومت نے حالات کی بہتری کے لیے جتنے بھی بڑے بڑے دعوے کیے تھے ، وہ تاحال تشنہ تکمیل ہیں۔ جنگی ماحول نے معیشت کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں ۔

مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب سیاسی لچک پیدا کرکے درمیانی راستہ پیدا کیا جائے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے حالات جلد نارمل ہوجائیں گے تو یہ اندازہ درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد جو کھیل جاری ہے یہ محض طاقت کی حکمت عملی، ڈکٹیشن یا مسلط کردہ ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل ہے جو امریکا ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں نے تیار کیا ہے۔ ہم یہ مشق پچھلے تین برسوں سے دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز عراق ، یمن ، لیبیا، شام اور غزہ سے ہوا تھا اور یہ ایران تک پہنچ گیا ہے مگر ہم اب تک سوائے خاموش تماشائی کے اور کچھ نہیں کرسکے ۔ باتیں تو بہت کی جاتی ہیںمگر حکومت کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس کا جائزہ کون لے گا۔کیونکہ حکومت اندرونی طور پر سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ علاقائی ماحول ٹھنڈا ہوا ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور ہم مجموعی طور پر اسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

 حکمران طبقات کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ مشیروں کے گھیرے میں ہوتے ہیں توان کو سب اچھا لگتا ہے اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اقتدار کافی مضبوط ہے اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے اور معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی اقتدار پر گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہے اور ان کے اپنے اندر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے ، معیشت جو پہلے بھی زیادہ اچھی نہیں تھی مزید کمزور ہو رہی ہے۔اب تھوڑا سا ملک کی سیاست پر بات ہوجائے۔حکومت کے اہم راہنما رانا ثنا اللہ کے بقول بانی پی ٹی آئی کو سیاسی ڈیل کی آفر کی گئی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ممکن ہو ایسا ہی ہو تاہم انھوں نے اپنی بات کی تردید بھی کردی ہے کہ کسی کو کوئی آفر نہیں کی گئی ، مفروضے کی حد تک یہ سوال بنتا ہے اگر کوئی آفرہوئی بھی تھی تو اس کا ایجنڈا اور نکات کیا تھے ؟تاکہ سب ہی جان سکیں کہ مفاہمت کے کھیل میںکس فریق کا کیا ایجنڈا ہے ۔

لیکن اب اس پر بات کرنے کا فائدہ اس لیے نہیں ہے کہ مبینہ ڈیل آفر کو کوئی فریق تسلیم نہیں کررہا ہے۔ بہرحال مسئلہ محض حکومت اور پی ٹی آئی کا نہیں ہے جیسے سابق لیفٹیننٹ جنرل)ر( اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک کی نیشنل سیکیورٹی کا براہ راست تعلق سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور معاشی سطح کا استحکام بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ملک کے داخلی سیاسی حالات مستحکم ہوں گے۔ کیونکہ معیشت کی ترقی براہ راست سیاسی استحکام ہی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ حالات کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ صرف سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہیں بلکہ ان حالات میں ہمارے لیے سیکیورٹی اور دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بڑھتے حکومتی اخراجات کا عوام پر مزید بوجھ

Published

on


ایک آزاد تھنک ٹینک کے مطابق حکومت پاکستان عوام پر مسلسل مالی بوجھ بڑھانے میں مصروف ہے توگزشتہ تین برس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات پرکنٹرول نہیں کر رہیں بلکہ اپنے حکومتی اخراجات مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

نان انٹرسٹ اخراجات میں 70 فی صد اور عملے سے متعلق اخراجات میں 59 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کے مطابق GCDA میں بدعنوانی کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن حکومت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں، انھیں تھنک ٹینک نے کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے سیاسی طور پر حساس اصلاحات اور ادارہ جاتی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 56 فی صد کے برابر بنیادی سرپلس ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ایڈجسٹمنٹ ہے اور اس میں 73 فی صد بوجھ محصولات کے ذریعے ڈالا گیا ہے جس کا زیادہ تر اثر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باقاعدہ کاروباروں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد پر پڑا ہے اور عوام پر بھی اثر پڑا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق 2022 سے حکومت نے مسلسل مالی استحکام ضرور حاصل کیا ہے جس سے آئی ایم ایف کسی حد تک ضرور مطمئن ہے مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں کی منظوری میں تاخیر پہ تاخیر ضرور کرتا ہے مگر انکار نہیں کرتا۔ تاخیر بھی جان بوجھ کر کی جاتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف جانتا ہے کہ اپنے فالتو اخراجات پورے کرنے اور غیر ملکی قرضوں کی برائے نام ادائیگی کے لیے حکومت پاکستان ہماری ہر شرط تسلیم کرے گی اور اپنے عوام پر محصولات کا بوجھ بڑھائے گی مگر قرضہ لینے سے انکار کبھی نہیں کرے گی کیونکہ اپنے شاہانہ حکومتی اخراجات پورا کرنے ، اپنوں کو مسلسل نوازنے اور غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ بنانے والوں کے لیے سخت سے سخت شرائط مان کر بھی قرض لینا حکومت پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے۔

حکومت خود تسلیم کر چکی ہے کہ ہمیں قرض کے لیے آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں بیٹھنا اور ہر شرط ماننا پڑتی ہے تب کہیں وہ اپنی شرط منوا کر اور تاخیری حربے اختیار کرکے قرض کی منظوری دیتا ہے مگر انکار نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف نے قرض ضرور دینا ہے اور قرضوں پر ملنے والے سود کی وجہ سے ہی آئی ایم ایف کا کاروبار چلتا ہے۔

آئی ایم ایف کو پاکستانی عوام کا کوئی احساس نہیں ہے بلکہ وہ اپنی شرائط سے پاکستانیوں پر مہنگائی مسلط کراتا اور محصولات بڑھوانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات پر تو کمی نہیں کرے گی تاکہ قرض ادا کرسکے، اس لیے آئی ایم ایف اپنے قرض کی وصولی کے لیے حکومت کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھواتا ہے اور بے بس عوام ہر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی احکامات ماننے سے انکار کی طاقت نہیں ہے۔

وہ حکومت کا ہر عوام دشمن فیصلہ ماننے پر مجبور ہیں اور حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج یا سڑکوں پر آنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اس لیے موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ عوام پر محصولات کا بوجھ ہی بڑھایا ہے اور عوام مہنگائی برداشت کر رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہر بجٹ میں بوجھ بڑھا دیتی ہے اور محکمہ خزانہ اس واویلے کا عادی ہو چکا ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ عوام ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور حکومت نے تو بچوں کو بھی نہیں بخشا اور بچوں کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے۔

حکومت خود سادگی اختیارکرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے پر ہی یقین رکھتی ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے مسلسل بڑھا رہی ہے جس کی تقلید صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔ کہنے کے لیے اٹھارویں ترمیم میں وفاق اور صوبوں میں کابینہ ارکان کی تعداد کم کرنے کا ذکر ضرور ہے مگر وفاق میں اس پر عمل ہو رہا ہے نہ صوبوں میں بلکہ وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے علاوہ بھی بے شمار کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھے ہیں اور اپنوں کو مختلف تخلیق کیے گئے عہدوں پر تعینات کرکے نواز رکھا ہے۔

وفاق نے صوبوں میں اپنے خصوصی نمایندے مقرر کر رکھے ہیں۔ سندھ میں محکمہ اطلاعات موجود ہے مگر لاتعداد حکومتی ترجمان مقررکر رکھے ہیں اور ہر جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے مگر عوام کے لیے ان حکومتوں کے پاس ریلیف یا سہولتیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حکومتی اخراجات بڑھنے کا سارا بوجھ عوام پر پڑا ہوا ہے اور عوام حکومتوں کے سرکاری حکام کو ہی نہیں بلکہ سیاسی حامیوں کو بھی پال رہے ہیں۔

صدر مملکت ہوں یا وزیر اعظم اور صوبوں میں بادشاہ بنے ہوئے وزرائے اعلیٰ کوئی عوام کی بات نہیں کرتا، نہ کبھی بے روزگاری اور مہنگائی کا ذکر ان کی زبانوں پر آتا ہے۔ وفاق اپنے مالی وسائل کم ہونے اور صوبوں کے وسائل کم ہونے کا رونا روتا ہے مگر وزیر اعظم اپنے غیر ملکی دورے کم کرنے پر تیار ہیں نہ حکومتیں اپنے اخراجات کم کرنے کی روادار ہیں جس کا واضح ثبوت حکومتی اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہے۔ کاش! حکومتیں قرضے لینا چھوڑیں اپنے وسائل میں رہ کر خرچ کریں تو عوام پر بڑھتا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، وزیر داخلہ سندھ کی علامہ شہنشاہ نقوی کی رہائش گاہ آمد، یوم قدس ریلی پر تبادلہ خیال

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے خطیب پاکستان علامہ شہنشاہ نقوی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یوم قدس ریلی کے منتظمین سے ملاقات کی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، ریاض شاہ شیرازی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ، کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کی المناک شہادت پر دعا کی گئی جبکہ 21 رمضان المبارک کو نکالی جانے والی یوم قدس ریلی کے سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی گفتگو بھی کی گئی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے اور ریلی کے شرکاء کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کو موجودہ نازک صورتحال میں باہمی افہام و تفہیم اور مذہبی رواداری کی اشد ضرورت ہے۔

اس موقع پر علامہ شہنشاہ نقوی اور یوم قدس ریلی کے منتظمین نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریلی اپنے طے شدہ روٹس پر نظم و ضبط کے ساتھ نکالی جائے گی۔

دوسری جانب میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے ریلی کے موقع پر صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا اور اسلم بھائی کا دبدبہ

Published

on


اور جناب ٹرمپ صاحب نے آٹھ جنگیں رکواتے رکواتے اپنے کندھے اسرائیل کے حوالے کر کے نویں جنگ چھیڑ لی۔اسے کہتے ہیں خرچے ساڈے تے نخرے لوکاں دے ( یعنی اسرائیل کے )۔

 سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی برملا اعتراف کیا ہے کہ امریکی سرزمین کو فوری ایرانی خطرہ نہیں ، چونکہ اسرائیل نے جنگ شروع کر دی تو امریکا بھی مروتاً اس کا حصہ بن گیا۔مگر ایران کا غصہ گھوم پھر کے امریکیوں پر ہی نکلنا تھا لہذا ہم بھی انھیں بچانے کے لیے احتیاطاً اس جنگ کا حصہ بن گئے۔سی آئی اے نے بھی امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی کو یہی شہادت دی کہ ایران امریکا کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگراں ادارے آئی اے ای اے کی بھی یہی رائے ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ چار پانچ ہفتے میں نتیجہ سامنے آ جائے گا۔اب ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگزتھ کہہ رہے ہیں کہ معاملہ ستمبر تک بھی طول پکڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی ساہوکاروں نے حساب کتاب لگایا ہے کہ اگر یہ جنگ تین ماہ چلتی ہے تو امریکی ٹیکس دھندگان کے کم ازکم ڈھائی سو ارب ڈالر چولہے میں چلے جائیں گے۔ابھی امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے نقصان کی پیمائش باقی ہے جو تیل اور گیس کی رکی ہوئی پیداوار اور سرمایہ کاری میں انجماد کی شکل میں کھرب ہا ڈالر میں جا سکتا ہے۔

ہمارے محلے میں ایک اسلم بھائی ہوا کرتے تھے۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اچھے وقتوں میں پانچ چھ قتل کیے تھے۔اس مشہوری کے سبب آخری وقت تک اتنی دھاک تھی کہ اسلم بھائی سے علاقے کے لوگ فیصلے کرواتے تھے۔اسلم بھائی کی پرچی بازار میں چلتی تھی اور تھانے والے اسلم بھائی کے حجرے میں جوتے باہر اتار کر داخل ہوتے تھے۔

کم ازکم ہم بچوں نے اسلم بھائی کو کبھی چیخ کر بات کرتے یا کسی کو گالیاں دیتے نہیں دیکھا۔اصلی ڈان کو نہ تو آواز اونچی کرنی پرتی ہے اور نہ ہی کسی ایرے غیرے سے ترکی بہ ترکی الجھنا پڑتا ہے۔ شخصیت اور پراسراریت کا دبدبہ ہی پیشاب خطا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

مگر امریکا کیسا عالمی دادا ہے جسے اپنی عظمت منوانے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی چھوٹے بڑے یا راہ چلتے سے گتھم گھتا ہونا پڑتا ہے۔القاعدہ جیسے گروہ نے نائن الیون کو چماٹ مار دی اور امریکا اس کی تلاش میں اتنا باؤلا ہوا کہ ہر آتے جاتے کو چھریاں مار دیں۔جو بھی ملک پاؤں تلے آیا روند ڈالا مگر ویسی دھشت پھر بھی قائم نہ ہو سکی۔

گمشدہ دبدبے کی تلاش میں پچھلے چھبیس برس میں امریکا چار جنگیں لڑ چکا ہے اور دس ممالک پر بمباری کر چکا ہے ( افغانستان ، ایران ، یمن ، عراق ، پاکستان ، صومالیہ ، لیبیا ، شام ، وینزویلا ، نائجیریا)۔ اس دوران ہر آڑے ٹیڑھے سے دھول دھپا اور ماں بہن تو خیر روزمرہ کا معمول ہے۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیرز کے تحقیقی ریکارڈ کے مطابق نائن الیون کے بعد سے اب تک افغانستان ، پاکستان ، عراق ، شام ، یمن سمیت متعدد بحرانی علاقوں میں امریکی پالیسیوں کے سبب ساڑھے نو لاکھ انسان ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں وہ لاکھوں اموات شامل نہیں جو ان بحرانوں کے نتیجے میں بھوک ، بیماری اور نقلِ مکانی کی شکل میں ہوئیں۔

ان مہمات پر امریکا کے لگ بھگ پانچ اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔اگر اس عدد کو توڑا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ دو اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر اسلحے اور فوجی نقل و حرکت کی مدد میں پینٹاگون نے خرچ کیے۔اس دوران پینٹاگون کو آٹھ سو چوراسی ارب ڈالر اضافی خرچے کی مد میں دیے گئے۔ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر داخلی سلامتی کے ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی پر خرچ ہوئے۔چار سو پینسٹھ ارب ڈالر مختلف معرکوں میں بیمار ، زخمی اور اپاہج ہونے والے فوجیوں کے طبی و تیماری اخراجات کی مد میں صرف ہوئے جب کہ ایک ٹریلین ڈالر جنگی قرضوں کے سود اور واپسی کی مد میں ادا ہوئے۔ اگلے تیس برس میں جو جنگیں لڑنی ہیں ان میں حصہ لینے والے فوجیوں کی طبی دیکھ بھال کے لیے ابھی سے دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر الگ سے رکھ دیے گئے ہیں ( اسے کہتے ہیں جنگجویانہ دور اندیشی )۔

اگر ہم نائن الیون کے بعد لڑی جانے والی چار بڑی جنگوں کو الگ الگ دیکھیں تو اس میں جنگِ افغانستان سرِ فہرست ہے۔اس مہم کا نام آپریشن اینڈیورنگ فریڈم ( دائمی آزادی کا معرکہ) رکھا گیا۔آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ افغانستان کس قدر ’’ دائمی‘‘ آزاد ہے۔ امریکی تاریخ کی اس سب سے طویل ( بیس برس ) بیرونی مہم میں سرخروئی کے لیے چار امریکی صدور نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔دو لاکھ اکتالیس ہزار انسانی جانیں گئیں پھر بھی آخر میں سرپٹ بھاگنا پڑ گیا۔

اس عدد کو توڑا جائے تو تصویر یوں بنتی ہے کہ بیس برس میں اکہتر ہزار تین سو چوالیس سویلین مارے گئے۔ان میں چوبیس ہزار ننانوے پاکستانی سویلینز بھی شامل ہیں۔تین ہزار پانچ سو چھیاسی امریکی اور ناٹو فوجی ، اٹھہتر ہزار تین سو چودہ افغان فوجی اور پولیس اہلکار ( بشمول نو ہزار تین سو چودہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ) جان سے گئے۔ چوراسی ہزار ایک سو اکیاون مخالف چھاپہ مار ہلاک ہوئے (اکیاون ہزار ایک سو اکیانوے افغانستان میں اور تینتیس ہزار پاکستان میں )۔ مگر بیس برس میں افغانستان پر دو اعشاریہ چھبیس ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا نتیجہ کیا نکلا ؟ جن طالبان سے حکومت چھینی تھی انھیں ہی امانت لوٹا کر رخصت ہونا پڑا۔

عراق کو جمہوریت کا گہوارہ بنانے کی جنگ آٹھ برس تک لڑی گئی۔عراق گہوارہ تو کیا بنتا البتہ دو لاکھ دس ہزار عام شہریوں کو تابوت میں بند کر دیا گیا۔

اس عرصے میں پاکستان ، صومالیہ اور ایران ڈرون جنگوں کا نشانہ بنے۔دو ہزار گیارہ میں لیبیا کو ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے لیے ناٹو نے امریکی قیادت میں ملک کا تیاپانچا کر دیا۔آج لیبیا میں دو متوازی حکومتیں ہیں اور خانہ جنگی بھی جاری ہے۔شام کی شکل بگڑ چکی ہے۔صومالیہ تین ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور یمن برادر ممالک کی جنگی شطرنجی بساط پر دنیا کا سب سے دربدر ملک بن چکا ہے اور امریکا خلیج میں نئے اسائنمنٹ پر اسی پرانے جذبے سے لگا پڑا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Trending