Today News
ملکی معیشت اور اس کے مسائل
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مختلف نوعیت کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر گزرے دو تین برس کا جائزہ لیا جائے تو ملکی معیشت میں قدرے استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔
معیشت کے دیوالیہ ہونے کی خبریں بند ہو چکی ہیں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ شرح سود میں بھی خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔
پاکستان پر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ اگلے روز کی ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025میں پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی اور جی ڈی پی کا 1.3فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے، یہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔
یہ انکشاف آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف کا یہ وفد اپنے دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جب کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کرے گا۔
انھوں نے اعتراف کیا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا، اصلاحات سے معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت بڑھانے کی سفارشات کی ہیں، سرکاری خریداری کی نظام میں شفافیت پرزوردیا ہے۔
پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔قوانین میں موجود پیچیدگیوں اور ابہام کا خاتمہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت ٹیکس کا نظام بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔
خصوصاً کم آمدنی والا ایسا طبقہ جو انکم ٹیکس کی سلیب کے تحت ٹیکس نیٹ میں آ جاتا ہے، اسے اپنا گوشوارہ جمع کروانے کے لیے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ گوشوارہ خود سے تیار نہیں کر سکتا۔
اگر یہ سادہ ہو تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا دکاندار وکیل کی فیس دینے سے بچ سکتا ہے اور وہ خود ہی اپنا گوشوارہ تیار کر کے ایف بی آر کو بھجوا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جب کہ مالی سال 2025میں ملک نے 14سال بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔
آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی، رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا اہم ترین ٹیکس اصلاحات ہے۔
جیولی کوزیک کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کی باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہے، البتہ آئی ایم ایف نے کئی معاملات میں اپنی سفارشات پیش کی ہیں جو کہ قابل غور ہونی چاہئیں۔
ادھر جمعہ کو سرکاری سروے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ سروے رپورٹ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔
سال2018-19ء سے 2024-25کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014 کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت کی عدم مساوات 32.7 تک پہنچ چکی ہے۔
اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998 میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔ پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جب کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔
اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جب کہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔
لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔
لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7 فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جب کہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔
لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ بھی ہوا ہے تو مہنگائی نے اسے ختم کردیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کا بھی لوگوں کی عام زندگیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا کیونکہ مہنگائی کی بلند شرح،توانائی کی بڑھتی قیمتوں،روپے کی شرح مبادلہ گرنے ،بھاری ٹیکسوں خاص طور پربراہ راست لگنے والے ٹیکسوں نے لوگوں کی زندگیوں پر بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس سے لوگوں کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔احسن اقبال نے غربت بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلی بارتو2018 میں اقتصادی ترقی کا سفر متاثر ہوا اس کے بعد 2022 میں ملکی معیشت کریش کرگئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ،اس کے لیے ہمیں معاشی گروتھ اور دولت کی پیدا واریت کی طرف جانا ہوگا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔
جب ان سے ملکی معیشت کی بدحالی میں وفاقی حکومت کے کردارکے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ہمیں پہلے تین سال تو پی ٹی آئی کی تباہی کے اثرات دور کرنے میں ہی لگے ہیں۔
انھیں امید ہے کہ اب اگلے مرحلے پر ہم اقتصادی شرح نمو بڑھانے اور غربت کی شرح میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
انھوں نے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل ازوقت نکلنے کی باتوں کو مسترد کردیا اور کہا کو حکومت زراعت او رآئی ٹی سیکٹرز کو فروغ دے کرمشکلات سے نکل سکتی ہے۔
حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔
پاکستان میں گراس روٹ لیول پر جو معاشی مسائل نظر آ رہے ہیں، ان کی وجوہات میں ایک وجہ غیرپیداواری اخراجات میں اضافہ ہونا بھی شامل ہے۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا خصوصاً سابقہ فاٹا کا ایریا، بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سے وفاقی ٹیکسوں کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کی شرح میں کمی کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
Today News
کراچی، مومن آباد میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار
کراچی:
شہرِ قائد کراچی کے علاقے مومن آباد سیکٹر 10 الفتح کالونی میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار دونوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا سامنا کیا، تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملزمان کو فرار ہونے سے روک لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی شناخت روشن اور شکیل عرف بھورا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، دو موبائل فونز، نقدی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔
Today News
ایران اور امریکا کشیدگی، نتائج کیا ہوں گے؟
ایران اور امریکا کی کشیدگی تاحال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی دباؤ بڑھاتے ہوئے مزید ایک بحری بیڑہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا ہے اور اس بات کا اظہا ر انھوں نے گزشتہ دنوں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں بھی کیا تھا۔
اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا امریکا اس جنگ کے نتائج کو بھگت پائے گا؟ اگر امریکا ایران پر حملہ بھی کر لے توکیا ایران کو اس قدر نقصان پہنچا پائے گا کہ جو امریکا کے اہداف ہیں؟ یا پھر یہ کہ ایران کے مقابلے میں امریکا کو متعدد نقصانات ہوں گے؟
اسی طرح یہ بات بھی بہت اہمیت اختیارکرتی چلی جا رہی ہے کہ امریکا کو اس کشیدگی سے نکلنے کے لیے کیا کوئی Face Saving مل سکتی ہے؟
اور یہ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایران کو کیا پیغام بھیجا گیا ہے اور امریکا نے کیا پیغام دیا ہے، یہ ساری باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ خطے کی ایک نئی صف بندی یا ترتیب ہونے جا رہی ہے۔ اب اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر کیا امریکا اس کے نتائج کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔
حال ہی میں سابق برطانوی سفارت کار اور انٹیلی جنس افسر Alastair Crooke نے اپنے حالیہ تجزیے میں، جو جریدہ Geopolitika میں شائع ہوا، ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ایران کو حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دو مختلف نوعیت کی پیش کشیں کی گئیں، مگر تہران نے دونوں کو مسترد کردیا۔ کروک کے مطابق یہ انکار محض سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔
کروک کے مطابق امریکا کی جانب سے ایک محدود فوجی کارروائی کی تجویز سامنے آئی، جس میں ایران سے بھی محدود اورکنٹرولڈ جواب کی توقع رکھی گئی تھی تاکہ تصادم کو ایک منظم سطح پر رکھا جا سکے۔
تاہم تہران نے اس تصورکو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگا۔یہ موقف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا عکاس ہے جسے برسوں سے ڈیٹرنس کی بنیاد پر استوارکیا گیا ہے۔
ایرانی قیادت کا موقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا جواب وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔
کروک نے اپنے مقالے میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ ثالثوں کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی حملے میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور ایران سے بھی اسرائیل کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی، مگر ایران کا جواب سخت تھا، اگر فوجی کارروائی ہوئی تو اسرائیل براہِ راست ہدف ہوگا۔
اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس امر سے آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں، بلکہ پورے خطے میں محاذوں کا کھل جانا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح عرب ریاستوں سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران نے خلیجی اور عرب ممالک کو بھی واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انھیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔
یہ پیغام دراصل خطے میں امریکی عسکری موجودگی کے تناظر میں دیا گیا، جہاں متعدد اڈے موجود ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ سیاسیات John Mearsheimer کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب روایتی اتحادوں سے ہٹ کرریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر حملہ پورے بلاک کو متحرک کر سکتا ہے۔
اس صورتحال نے بھی عرب ممالک کی حکومتوں کو مجبورکیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران پر فوجی کارروائی سے دور رکھیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات اور پیشکش کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
امریکا، جس کی قیادت اس وقت Donald Trump کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے جس میں طاقت کا مظاہرہ بھی ہو اور مکمل جنگ سے بھی بچا جا سکے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آسان جنگوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
افغانستان اور عراق کے تجربات نے امریکی عسکری حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران جیسے ملک کے ساتھ تصادم فوری، محدود یا کنٹرولڈ نہیں رہ سکتا۔
ایران نے پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔دوسری طرف ایران کے بارے میں عالمی منظرنامہ پر ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ مختصر مگر شدید کشیدگی (یعنی 12 روزہ جنگ) کے بعد ایران ایک نسبتاً مضبوط اسٹرٹیجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔
ایرانی قیادت نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ وہ نہ صرف دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ مستقبل کے فریم ورک میں اپنی شرائط منوانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہے۔
معروف عرب تجزیہ کار ماہر امور فلسطین اور غرب ایشیاء عبد الباری عطوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کشیدگی میں اس وقت امریکا جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور جوکچھ اب ہو رہا ہے، وہ سب نفسیاتی جنگ حصہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے یہ جنگ بغیر جنگ کے ہی جیت لی ہے۔
دنیا بھر میں ماہرین کا ایران کے بارے میں یہ تجزیہ کرنا کہ ایران مستحکم پوزیشن میں ہے۔ اس عنوان سے ایران کی حکمت عملی اور اب تک سفارتی سطح پر بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی فوجوں کا ایرانی ہدف ہونا بھی شامل ہے۔
خطے میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر موجودگی، سخت بیانات اور بحری و فضائی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، اگرکوئی محدود جھڑپ وسیع تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بڑی طاقتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
برطانوی مورخ اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر David Hearst کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پرکھڑا ہے، جہاںغلط اندازہ (miscalculation) کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں امریکا کے پاس نکلنے کے راستے کم ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی امریکی صدر اب ایران پر حملہ کا حکم نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکا اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک خطے کی بری جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور اس میں سب سے زیاد ہ جانی و مالی نقصان بھی امریکا کو اٹھانا ہو گا۔
آج امریکا اور اسرائیل کے لیے اصل مسئلہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تصادم کے دائرے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس مرحلے پر خطے میں فیصلہ کن عنصر ایران کا رد عمل اور اس کی حکمت عملی ہے۔
یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ اب ہر قدم کا حساب ہے، ہرکارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شرائط کو مسترد کرنا محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹرٹیجک پیغام ہے۔
یعنی ایران نے خطے کے تمام ممالک کے لیے بھی یہ راستہ کھول دیا ہے کہ خطے کا مستقبل اب یکطرفہ فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے توازنِ طاقت کا امکان بھی موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس نئے توازن کو قبول کریں گی یا خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟ بہرصورت اگر جنگ شروع ہوتی ہے یا شروع ہوئے بغیر ختم ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں نہیں رہے گا۔
Today News
کراچی کی خاموش چیخیں – ایکسپریس اردو
کراچی کبھی خاموش شہر نہیں رہا۔ یہ ہمیشہ ٹریفک کے شور، بازاروں کی چیخ و پکار،کارخانوں کی گونج اور پاکستان کو دنیا سے جوڑنے والی بندرگاہوں کی سست رفتاری سے بھر رہی ہے۔
یہ ایک ایسا شہر ہے جو سانس لیتا ہے اور جدوجہد کی زندگی گزارتا ہے، لیکن اب فضا میں ایک انجانی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
یہ امن یا استحکام کی خاموشی نہیں ہے، بلکہ دبے درد کی خاموشی ہے، وہ خاموش چیخ ہے جو سنائی نہیں دے گی بلکہ اندر سے محسوس کی جائے گی۔ پاکستان کا معاشی ستون کراچی ہے۔
یہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے، صنعتی توسیع کرتا ہے، لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور قومی تجارت کو سپورٹ کرتا ہے۔
وہ آنکھوں میں امید لیے اس شہر میں آتے ہیں اور لوگ ملک کے کونے کونے سے اس شہرکی طرف اس امنگ کے ساتھ ہجرت کرتے ہیں کہ یہ شہر انھیں ایک موقع اور وقار فراہم کرے گا۔
روز گار کے وسیع مواقع نے نہ صرف مزدوروں کو کراچی کی جانب راغب کیا بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف کھینچا۔ سرمایہ کار کو بھی یہاں ترقی اور خوشحالی کے مواقع ملے جس سے کراچی شہر ترقی کی دوڑ میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔
سرمایہ کاری کے اس عمل سے کراچی سے ریونیو بھی خوب ملنے لگا۔ بندرگاہ ہونے کے ناطے ملک بھر میں تاجروں نے بھی اپنے مال کی درآمد اور برآمد کے لیے کراچی کا رخ کیا۔ جس سے کراچی میں کاروبار بڑھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کراچی ہی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی گئی حالانکہ یہ ملک کی معیشت کا دل ہے اور اس میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ بجلی، پانی اور گیس انسانوں کی بنیادی ضروریات ہیں، جوکہ کراچی والوں میں روزمرہ کی لڑائی بن چکی ہے۔
شدید گرمیوں میں طویل عرصے تک بلیک آؤٹ گھروں کو تندور بنا دیتا ہے۔ بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے،کیونکہ صبح کے وقت گیس نہیں ہوتی اور وہ خالی پیٹ اسکول جاتے ہیں۔ پانی جو زندگی ہے اور اب نلکوں سے باہر نہیں آتا۔
اسے اعلیٰ قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح ٹینکر مافیا کا کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔ گیس کی کمی بھی گھریلو زندگی کو مزید مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے۔
کچن خاموش اور چولہے ٹھنڈے اور لوگوں کے پاس غیر محفوظ اور مہنگے سلنڈر استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
بات یہ ہے کہ ایک میگا سٹی کے شہری اس طرح کی اذیتیں کب تک برداشت کر سکتے ہیں؟ شہر میں جذباتی نقصان اس کے جسمانی ڈھانچے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، اجڑی ہوئی گلیاں اورکھلے گٹر ہمیشہ بے دھیان رہ جاتے ہیں۔
وہ محض پریشانیوں سے زیادہ ہیں۔ وہ خاموش قاتل ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک سال جانیں چھین رہے ہیں۔ نقل و حمل کا نیٹ ورک بڑا، غیر محفوظ اور غیر موثر ہے اور روزانہ سفر کرنا آسان نہیں ہے۔
تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسے کسی بھی ترقی پسند معاشرے کے ستون بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ریاست کے زیر انتظام اسکولوں میں کرپشن عروج پر ہے، تعلیم یافتہ اور ماہر اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
اس کے برعکس، پرائیویٹ اسکول جن کے پاس بہتر سہولیات ہیں وہ بڑھتی ہوئی فیسوں کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔ والدین کے پاس اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا وژن ہوتا ہے لیکن مہنگائی اور معاشی تنگی ان بچوں کی امیدوں کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
اسی طرح سرکاری اسپتالوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے اور فنڈزکی کمی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کا معیار عام شہری کے لیے ناقابل رسائی ہے۔ آج مہنگائی عوام کی سب سے خوفناک دشمن ہے۔
صرف ایک بنیادی گروسری ایک عیش و آرام کی چیز بن گئی ہے کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اجرتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
جو لوگ حقوق، انصاف اور ترقی کی بات کرتے تھے اب ان کو زندہ رہنے کی فکر ہے، اگلا کھانا کیسے کھائیں، اگلے بل کی ادائیگی، اسکول کی فیس۔
ان سب معاشرتی مصائب خاموش نفسیاتی عوارض میں مبتلا کردیا ہے۔ عوام تھک چکے ہیں اور پر تشدد ہونے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دے رہے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ! کراچی خاموش کیوں ہے؟
کیا اس کے لوگ تھک چکے ہیں؟ کیا وہ نا امید ہیں؟ یا وہ روزمرہ کے چکر میں اتنے پھنسے ہوئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ نظام کو چیلنج کرنے کا مطلب جوئے شیر لانا ہے۔ یہاں بحران یہ خاموشی ہے۔
خاموشی اس وقت ہوتی ہے جب لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی آوازوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سنی یا دیکھی نہیں جا رہی ہے اور یہ خاموشی اس لیے خطرناک ہے کہ جب یہ سوچ موجود ہے کہ فیصلے عوام کی منظوری کے بغیر ہوں گے، ناانصافی ایک معمول ہوگا اور غفلت کی پالیسی ہوگی۔
کراچی کی چیخ و پکار اس شہرکے لیے مخصوص نہیں، وہ پورے پاکستان میں گونجتے ہیں۔
وہ بنجر پانی کے پائپوں میں اندھیروں میں ڈوبے ہوئے گھروں میں ان کی جیبوں میں جن میں کچھ بھی نہیں ہے اور مہنگائی سے دب رہے ہیں۔
تاریخ جانتی ہے کہ کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں رہ سکتی۔ جب دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، تو چیخیں نکلتی ہیں اور یہ بھی، یا تو پرسکون یا غصے کے انداز میں ظاہر ہوتے ہیں
یہ خاموشی بیداری، بولنا بدنظمی نہیں ہے۔
سوال پوچھنے میں بے عزتی کی کوئی بات نہیں۔ بنیادی حقوق مانگنا بغاوت نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ اور باشعور قوم کے اشارے ہیں۔کراچی کوکسی بھی قسم کے انتشار یا نفرت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتحاد، ذمے داری اور احتساب کی ضرورت ہے۔
کراچی اٹھنے کی صورت میں پاکستان طاقتور ہوگا۔ کراچی بولتا ہے تو پورے ملک میں سنا جاتا ہے۔ یہ شہر بے جان نہیں، یہ زندہ ہے، مضبوط اور سخت ہے۔ اس نے محض اپنی آواز کو دبایا ہے۔
اب یہ قوم پر منحصر ہے کہ وہ اس آواز کو واپس لے۔ کراچی کی چیخیں خاموش ہیں لیکن پھر بھی سننے کی ضرورت ہے۔ اب یہ بات نہیں کہ حالات اتنے سنجیدہ کیوں ہیں، لیکن سوال صرف یہ ہے کہ ہم کب تک خاموش رہیں گے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad