Today News
ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، خطرات و آفات کا الرٹ جاری
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کی پیش گوئی کرتے ہوئے بارشوں کی وجہ سے ممکنہ خطرات و آفات کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جن میں کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ، مٹھی، تھرپارکر، میرپورخاص اور گرد و نواح کے علاقے شامل ہیں۔
الرٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جن میں ژوب، کوئٹہ، زیارت، قلات، قلعہ سیف اللہ، پشین، مستونگ، بارکھان، قلعہ عبداللہ، چمن، نوشکی اور گرد و نواح کے علاقے شامل ہیں۔
اسی طرح گلگت بلتستان اور کشمیر کے ریجن میں گلگت، اسکردو، ہنزہ، نگر، غذر، دیامر، استور، خپلو، شگر، مظفرآباد، باغ، حویلی، پونچھ، وادی نیلم، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان ہے جبکہ بالائی علاقوں میں بعض مقامات پر برف باری کا بھی امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں چترال، دیر، سوات، کالام، منگورہ، بٹگرام، پشاور، صوابی، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پنجاب میں مری، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، گوجر خان، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، سرگودھا، چنیوٹ، جھنگ، فیصل آباد، لاہور، ساہیوال، اوکاڑہ، قصور، گوجرہ، لیہ، میانوالی، بورے والا، ملتان اور ڈی جی خان میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بارش اور آندھی کے باعث حد نگاہ میں کمی اور سڑکیں پھسلن کا شکار ہو سکتی ہیں، ژالہ باری سے فصلوں، گاڑیوں اور کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے اور برف باری سے پہاڑی علاقوں میں ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، آندھی اور ژالہ باری کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، مقامی موسمی ہدایات پر عمل کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بروقت اطلاع کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کا استعمال کریں ۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور پیشی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں جاری بارش، برفباری اور ژالہ باری کے حوالے سے تمام موسمی صورت حال این ای او سی کی جانب سے جاری الرٹس کے عین مطابق ہے۔
Source link
Today News
اﷲ خیر کرے – ایکسپریس اردو
آج کل مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزاج کچھ ضرورت سے زیادہ ہی برہم ہے، وہ دنیا کی واحد سپرپاور کے سربراہ ہیں اور اپنے مقابلے میں ایک معمولی سے ملک سے برہمی انھیں زیب نہیں دیتی۔ چند روز قبل تو وہ ایران پر بڑے گرجے برسے یہاں تک کہ گالی گلوچ پر اتر آئے اور تمام ڈپلومیٹک اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر ایسی گالیاں بکیں جنھیں نقل کرنے کی جرات بھی اخبارات نہ کرسکے۔
جب ایک اخبار نویس نے جرات کرکے ان کی روایتی برہمی مزاج کا خیال نہ کرتے ہوئے انھیں کل کی گالی گفتار پر متوجہ کیا تو فرمایا ’’ہاں! مجھے معلوم ہے مگر مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں۔‘‘ گویا ایک عالمی سطح کے لیڈر کا اس انداز گفتگو پر مائل ہونا ان کے نزدیک کسی اعتراض کے لائق بات نہیں۔
ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ اب تک دنیا کے کتنے لیڈروں کو ان کی ذہنی بدحالی کے باعث اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے مگر یہ بات ہماری طرح ہر شخص کے علم میں ہے کہ ملکی سربراہان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے امتحانات وقفہ وقفہ سے ہوتے رہتے ہیں۔ امریکی قوم کو اپنے سربراہ کی ذہنی صحت کی فکر کرنی چاہیے کیوں کہ جس ذہنی کیفیت کا وہ اظہار کررہے ہیں وہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے کے لیے ہرگز مناسب نہیں ہے۔
وہ نہ صرف اس اعلیٰ عہدے کے منصب کے خلاف انداز گفتگو اور طرز فکر اختیار کرچکے ہیں بلکہ اپنے آپ کو اس عہدے کے لیے نامناسب ترین شخص ثابت کرچکے ہیں۔ وہ ایران جیسے چھوٹے ملک کو جس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اسے جہنم میں جھونک دینے اور ایک دن میں تباہ و برباد کردینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہ کسی صحیح الدماغ آدمی کا وطیرہ نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ بجا طور پر جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے۔
امریکا کا بغل بچہ اسرائیل بھی اس نوعیت کے جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ فلسطین کے جس علاقے پر اسرائیل نے اپنا ناجائز تسلط قائم کیا ہے ۔ وہاں فلسطینی بچوں کی حالت زار کی کچھ کہانیاں چھپ چھپا کر اخبارات میں در آئی ہیں۔ اہل فلسطین کی نسل کشی تو اسرائیل کے مقاصد میں شامل ہے اب اس نے نسل کشی کا یہ انداز اختیار کیا ہے کہ بچوں کو مظالم اور بدحالی کا شکار کرکے کہیں کا نہیں چھوڑ رہا ہے۔
عالمی ضمیر یا تو اس صورت حال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہے یا پھر اسے اس کی مطلق پرواہ نہیں ہے اور فلسطین کے بچے سسک سسک کر جان دے رہے ہیں۔ ایک طرف امریکا وحشیانہ بم باری کرکے اہل ایران کی تنہائی کا فائدہ اٹھارہا ہے تو دوسری طرف اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں میں انسانیت سوز سلوک کے ذریعہ فلسطین کے بچوں کو زندگی سے بے زار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔
اہل فلسطین پر دو طرفہ بلکہ سہ طرفہ مصائب حملہ آور ہیں امریکا اور اسرائیل ان پر حملہ آور ہیں اور ان پر تباہی کا ہر ممکن ذریعہ استعمال کرنے پر آمادہ ہیں تو دوسری طرف مسلم امہ کی بے اعتنائی انتہائی افسوس ناک صورت اختیار کرچکی ہے۔ مسلم اتحاد کا وہ خواب جو علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا تھا وہ چکنا چور ہوچکا ہے۔ ایک اکیلا ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا سے نبرد آزما ہے۔ امریکا جو خود کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اب اسرائیل کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ وہ اسرائیلی مقاصدکی تکمیل کے لیے پوری طرح نہ صرف اس کی ہم نوائی کررہا ہے بلکہ اپنی قوت و طاقت کو پوری طرح اسرائیل کے حوالے کرچکا ہے۔
دشمنوں کی دشمنی اپنی جگہ مسلم ہے۔ امریکا نے جس طرح ایران کو دھمکیاں دے کر مفلزاد گالیاں دے کر مخاطب کیا ہے اس کی توقع کسی نیم مہذب شخص سے بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ اب وہ بڑی بہادری کے ساتھ گھنٹے گن رہا ہے کہ ایران کے صدیوں پرانے کلچر کے فنا کا وقت کتنے گھنٹے رہ گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک چہرہ پوشی کی صورت یہ نکالی ہے کہ اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ ہم ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب یہ مسٹر ٹرمپ کی خوش فہمی ہے یا خام خیالی، کیونکہ ایران میں اس تبدیلی کو مسٹر ٹرمپ کے علاوہ کسی نے بھی محسوس نہیں کیا،لیکن انتہائی خطرناک گھنٹوں کے اواخر میں ایران کے ایک اقدام نے رجیم میں تو تبدیلی پیدا نہیں کی البتہ صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔
اب تک ایران مشرق وسطیٰ کے ان ممالک پر جو اپنے تحفظ کے لیے امریکا پر انحصار کیے ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے تحفظ کے نام پر وہاں امریکی فضائیہ کے اڈے قائم کر رکھے تھے ان پر ایران نے حملے کیے تھے، مگر یہ احتیاط ملحوظ رکھی تھی کہ ان حملوں کا نقصان امریکا کو ہو، مسلم ممالک کو نہیں مگر جنگی صورت حال میں ذرا سی غلطی تباہی کا سبب بن سکتی ہے اور ایران نے سعودیہ کے ایسے وسائل پر حملے شروع کردیے جو سعودی حکومت اور عوام کے مفاد کے مطابق تھے۔ اب پاکستان کو بھی ایران نے ایک مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان نے سعودیہ کو تحفظ فراہم کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اور سعودیہ حرمین شریفین کے تحفظ کا ذمے دار بنا دیاگیا ہے پھر دونوں ملکوں میں ایسا معاہدہ موجود ہے کہ اگر کوئی ملک سعودیہ پر حملہ آور ہو تو پاکستان اس کی مدد اور اس کا تحفظ کرے گا۔
اب ایران کا یہ حالیہ اقدام جس کے تحت ایران نے سعودیہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی پروا کیے بغیر امریکی اڈوں پر دھاوا بول دیا۔ اب پاکستان بڑی بری پوزیشن پر آگیا۔ کیا وہ سعودیہ کے تحفظ کی خاطر اس جنگ میں کود پڑے اور امن کی جو کوششیں پاکستان کے رہنما راتوں کوجاگ جاگ کر انجام دے رہے تھے، انھیں نظر اندازکردیں پھر پاکستان نے امن کے سفیر کی جو حیثیت اپنی کامیاب سفارت کاری سے حاصل کی ہے خاک میں مل جائے گی۔دراصل جنگی صورت حال میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ٹھنڈے دل سے فیصلے کرنا ہوتے ہیں ورنہ نتائج تباہی ہوتی ہے۔
Today News
ایمنسٹی اسکیم کی اشد ضرورت ہے!
فیلڈ مارشل کی قیادت میں‘ پاکستان نے جو کامیاب سفارت کاری کی ہے ۔ اس سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر ہماری توقیر میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد میں‘ دو حد درجہ متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا حد درجہ منفرد بات ہے۔ اس تمام محنت کا سہرا‘ عاصم منیر اوران کی ٹیم کوجاتا ہے۔
ذمے داری سے عرض کر رہاہو کہ اس دشوار اور نازک ترین کام کی براہ راست نگرانی اگر فیلڈ مارشل بذات خود نہ کر رہے ہوتے‘تو شاید کامیابی سمیٹنا ممکن نہ ہوتا۔ سیاسی ٹیم میں وزیر خارجہ کی بھاگ دوڑ‘ سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد کیا حالات ہوں گے، اس پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے؟ گمان یہی ہے‘ کہ یہ عارضی صلح‘ مستقل بنیادوں پر ٹھوس معاہدوں کی بنیاد ضرور بن سکتی ہے۔ اس سفارتی کامیابی کے خلاف‘ ہمسایہ ملک میں جو سینہ کوبی کی جا رہی ہے ، وہ دیدنی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہندوستان کے کئی سنجیدہ مبصرین ہمارے متعلق اتنی ادنیٰ گفتگو فرما رہے ہی کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ بلکہ ان کے متعلق گمان ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات کی نزاکت کوسمجھنے سے قاصر ہیں اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہوکر جو جی میں آئے‘ فرمائے جا رہے ہیں جو اکثر لایعنی معلوم پڑتا ہے۔ ہندوستان میںپراون ساہنی جیسے مدبر ‘ تجزیہ کار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس پورے معاملے کوغیر متعصب انداز پر دیکھتے ہیں۔ پراون ساہنی برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ‘ پورے ایشیاء میں ایک بہت کامیاب طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے ‘ وہ ایک مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بدولت ‘ ایک سفارتی گڑھ بن چکا ہے جس پر پوری دنیا کو اعتماد ہے۔
پراون تو یہاںتک کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا زبردست ملک ہے جس پر امریکا‘ چین‘ اور روس یعنی تمام عالمی طاقتیں بیک وقت اعتبار کرتی ہیں۔ طالب علم کی نظر میں یہ بالکل معمولی بات نہیں ہے، حد درجہ فخر اور شکر کا مقام ہے۔ اور یہ مرتبہ بہت ہی کم ممالک کی خوش بختی بنتا ہے۔ انشاء اللہ اگلے دوچار دن میں‘ ہمارے ملک کی سفارت کاری کی بدولت ‘ ہمیں مزید کامیابیاں نصیب ہوں گی۔
مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے اور دوسرا رخ سامنے لانا بھی ضروری ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ‘ کہ ہماری معیشت کمزور ہے اور فی الحال کوئی ایسا قدم بھی نظر نہیں آرہا جو ہماری معیشت کا رخ کامیابی کی طرف موڑ دے۔ وزیر خزانہ اور ان کی معاشی ٹیم‘ کاروباری اور صنعتی شعبے کے بارے میں غیر معمولی فیصلہ نہیں کر سکے۔ کرپشن کی بات نہیں کر رہا، وہ تو ہر دور میں‘ ہرسطح پر موجود رہی ہے اور آئندہ بھی موجود رہے گی۔ اس وقت ‘ میرا موضوع‘ کرپشن نہیں ہے۔
اس لیے بھی کہ برصغیر کے عظیم فلسفی’’چانکیہ‘‘ نے اپنی کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ میں ہزاروں برس پہلے لکھا ہے کہ برصغیر میں سرکاری عمال کی مالی بے ضابطگیاں بے حد بڑھ چکی ہیں، یہ بیماری صدیوں میں ٹھیک نہیں ہو پائی۔ اسے ‘ آج کے ماحول کے ’’ سیاسی لوگ‘‘ کیا درست کر پائیںگے؟ لہٰذا اس نازک معاملہ کو کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھیے۔ بات معاشی صورتحال کی ہو رہی تھی۔ اس نکتہ پر سارا دن بات ہوتی رہتی ہے مگر اس کے مستقل حل کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ طالب علم کی دانست میں‘ موجودہ حالات میں‘ اس کٹھن مشکل کوذہانت اور جرات سے حل کیا جا سکتاہے۔ غور فرمایئے ، یواے ای میں‘ پاکستانی سرمایہ کاروں کا مبینہ طور پر ایک سو بلین ڈالر بینکوںمیں موجود ہے۔ ٹاوراور رہائشی عمارتیں‘ ان کے علاوہ ہیں۔
یو اے ای میں اس وقت ہمارے شہریوں سے زیادتی ہو رہی ہے۔لوگوں کے ویزے منسوخ کر کے زبردستی پاکستان بھجوایا جا رہاہے۔ قواعد و ضوابط کو تھوڑی دیر کے لیے بالائے طاق رکھیے۔ ایک کاروباری ذہن کے ساتھ سوچیے، اگر یہ سرمایہ ‘ پاکستان آ جائے تو ہمارے ان گنت مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کرنا کیا ہے؟ یہ اہم ترین بات ہے۔ ایک بھرپور قسم کی ایمنسٹی اسکیم بنائی جائے۔ دوبئی یا خلیجی ممالک سے جو بھی پیسہ لانا چاہے اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں ہونی چاہیے اور اس ایمنٹسی اسکیم پر ایک فیصد ٹیکس لگا دینا چاہیے۔ آئینی تحفظ دے دیا جائے تو کیا کہنے۔ اگر ایک سو بلین میں سے پچاس بلین ڈالر بھی اپنے ملک میں آتے ہیں تو اندازہ فرمائیے کہ ہمارے ملکی ذخائر کتنے بلند ہو جائیں گے اوراقتصادی مشکلات میںکتنی کمی واقع ہوجائے گی۔ مگر یہاںایک بات کرنا ضروری ہے۔
اس ایمنسٹی اسکیم کوایف بی آر اور دیگر اداروں ‘ عسکری قیادت کی کڑی زیر نگرانی میں سرانجام دیں تو ہی معاملہ آگے بڑھ سکتاہے۔ دعویٰ سے عرض کروں گا کہ اگر اس تجویز پر محنت کی جائے‘ تو ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں میں اتنی صلاحیت نہیںہے کہ کوئی حکیمانہ فیصلہ کرسکیں۔ ان کے حوالے سے کوئی نیا کام کرنا‘ ویسے بھی مناسب نہیں۔ ثبوت کے طور پر یہ عرض کروں گا کہ رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے ٹیکس کم کرنے کی تجویز تھی۔غیر دانش مندی کی انتہا دیکھئے کہ وہ بھی مبینہ طور پرکچھ دن پہلے رد کر دی گئی۔ اس پیچیدہ صورتحال میں کیا کیا جائے۔ وہی جو میں نے پہلے عرض کیا کہ ایک ایمنسٹی اسکیم کو ترویج دیں۔ دبئی کا پیسہ اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی اٹھان دو ایسے قابل عمل کام ہیں جو معاشی طور پر ہمیں دوبارہ پیروں پر کھڑے کر سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکن اور راہنماؤں پر پرچوں کو ختم کیا جائے۔ اگر قیدی کی شخصیت سے کوئی اختلاف ہے تو بے شک اسے وزیراعظم نہ بنایاجائے۔ یقین ہے کہ سیاست دانوں کو اس تجویز سے شدید اختلاف ہو گا۔ اس کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ ان میں سے کئی بلدیاتی الیکشن جیتنے کے قابل بھی نہیں۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام سب سے زیادہ مقدم ہے اور اس پر کسی قسم کے کوئی اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہے۔
کسی بھی سیاسی گروہ کی وکالت نہیںکر رہا صرف اور صرف اپنے ملک کا وکیل ہوں۔ یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے اور خدانخواستہ اگر اس کی سالمیت پر کوئی زد پڑتی ہے تو سوچ کر بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ہمارے پاس مشاورت کے لیے ہر ذریعہ موجود ہے۔ خفیہ ادارے پاتال کی تہہ سے سوئی ڈھونڈنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔ پھرکوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی نسلوں کے درخشاں مستقبل کے متعلق غور و فکر نہ کریں۔ کسی انقلاب کی بات نہیں کر رہا صرف درست حکمت عملی پر سوچ بچار کرنے کی درخواست کر رہا ہوں۔ جس شاندار طریقے سے عسکری حکام نے سفارت کاری کے میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں‘ اسی طرح ایک پر کشش ایمنسٹی اسکیم کو رائج کرنے کا درست وقت یہی ہے۔ ساتھ ساتھ سیاسی استحکام پیدا کرنا ہمارے ملک کے لیے بہت زیادہ سود مند ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ میری تجاویز گھڑسواروں تک پہنچ جائیں۔ اورشاید ان پر عمل بھی ہو جائے؟
Today News
امریکا کیساتھ جنگ بندی مذاکرات؛ ایرانی وفد پاکستان پہنچ گیا؛ ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا مذاکراتی وفد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پہنچ گیا۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد کا طیارہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا جہاں وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حصہ لے گا۔
ایرانی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وفد میں ایران کے وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے متعدد ارکان شامل ہیں۔
ایرانی وفد میں شامل جن شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور ڈیفنس کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر شامل ہیں۔
تاحال ایران کی حکومت کی جانب سے اس خبر کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی میزبان ملک پاکستان نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکی وفد کے سربراہ نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی باقر قالیباف نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ جنگ بندی سے قبل دو شرائط پورا ہونی تھیں جو تاحال نہیں ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ جن دو شرائط پر اتفاق ہوا تھا ان میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں فوری جنگ بندی شامل ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان دو شرائط پر جنگ بندی سے قبل عمل درآمد ہونا تھا لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب کچھ دیر قبل فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 نے دعویٰ کیا تھا ایران کے دو سرکاری طیارے ایران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب گامزن ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
Rain with Strong Winds and Thunderstorms Forecast in Karachi on Saturday
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final