Connect with us

Today News

مودی نے اپنی قوم کو پھر چونا لگادیا؛ تیجس طیارے خزاں رسیدہ پتوں کی مانند گرنے لگے

Published

on


بھارتی حکومت کی دفاعی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ تیجس کے تباہ ہونے کی خبروں کی تردید کردی تاہم شواہد پیش کرنے میں ناکام نظر آئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری دفاعی کمپنی نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کے طیارے کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تیجس طیارے کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا بلکہ یہ محض زمین پر پیش آنے والا ایک ’معمولی تکنیکی مسئلہ تھا۔

تاہم اس وضاحت سے قبل بھارتی میڈیا میں خبریں سامنے آچکی تھیں کہ فروری کے اوائل میں ایک فرنٹ لائن ایئر بیس پر تیجس طیارے کو رن وے سے پھسلنے کے باعث شدید نقصان پہنچا اور پائلٹ کو ایجیکٹ کرنا پڑا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعہ اتنا ہی معمولی تھا تو پھر پائلٹ کے ایجیکشن اور طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات کیوں سامنے آئیں؟

ناقدین کے مطابق یہ وضاحتیں وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے نام پر شروع کیے گئے دفاعی منصوبوں کی مسلسل ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔

ایچ اے ایل نے دعویٰ کیا ہے کہ تیجس دنیا کے محفوظ ترین لڑاکا طیاروں میں شامل ہے، لیکن حقائق اس دعوے سے مختلف نظر آتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں تیجس پروگرام کو متعدد حادثات، تکنیکی خرابیوں اور تاخیر کا سامنا رہا ہے، جن میں 2024 میں راجستھان کے علاقے جیسلمیر کے قریب طیارے کا گر کر تباہ ہونا اور 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران حادثہ شامل ہیں۔

اس کے باوجود مودی حکومت نے فروری 2021 میں 83 تیجس طیاروں کی خریداری کے لیے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے کا معاہدہ کیا جبکہ بعد ازاں مزید 97 طیاروں کے لیے 62 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نیا سودا بھی طے کیا گیا۔

ناقدین کے مطابق یہ معاہدے دفاعی ضرورت سے زیادہ سیاسی تشہیر کا حصہ ہیں جبکہ زمینی حقائق میں نہ بروقت ڈیلیوری ممکن ہو سکی اور نہ ہی تکنیکی مسائل حل کیے جا سکے۔

مزید یہ کہ تیجس طیارے میں استعمال ہونے والے امریکی جی ای ایف 404 انجن کی فراہمی میں تاخیر کے باعث بھارتی فضائیہ کی جدید کاری بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کا اعتراف خود بھارتی دفاعی حکام بھی کر چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے بار بار خود انحصاری کے دعووں کے باوجود بھارت اب بھی بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے پر مجبور ہے اور یہ تیجس طیارے نہیں بلکہ مودی کے دعوے ہیں جو زمین بوس ہوگئے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

رحیم یار خان  کا دونوں بازوں سے محروم 8 سالہ افتخار سب کیلیے مثال بن گیا

Published

on



ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے پسماندہ گاؤں احمد خان ڈاہر  سے تعلق رکھنے والا 8 سالہ محمد افتخار اپنی غیر معمولی ہمت اور عزم کے باعث سب کے لیے مثال بن گیا ہے۔ پیدائشی طور پر دونوں بازوؤں سے محروم ہونے کے باوجود وہ گورنمنٹ پرائمری سکول میں دوسری جماعت کا طالب علم ہے اور پاؤں کی انگلیوں سے نہ صرف لکھتا ہے بلکہ باقاعدگی سے اسکول بھی جاتا ہے۔

اساتذہ کے مطابق افتخار ذہین اور محنتی طالب علم ہے۔ وہ اپنے پاؤں میں قلم تھام کر خوبصورت انداز میں تحریر لکھتا ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ جاتا ہے۔ محمد افتخار کا کہنا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر  بننا چاہتا ہے تاکہ  علاقے  کا نام روشن کر سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ بازو نہ ہونے کے باوجود وہ مایوس نہیں اور اپنے پاؤں سے تمام کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

افتخار کے والد غلام مصطفیٰ ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں جو پانچ بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ محدود آمدنی کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم وہ اپنے بیٹے کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ غلام مصطفیٰ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو دانش اسکول رحیم یارخان  میں داخلہ دلوایا جائے تاکہ اسے بہتر تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔

اہلِ علاقہ اور اساتذہ نے بھی حکومتِ پنجاب، وزیر تعلیم اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ہونہار بچے کی سرپرستی کی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکے۔

 

محمد افتخار کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ جسمانی محرومی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، اگر عزم اور حوصلہ مضبوط ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اور سماجی حلقے اس باہمت بچے کے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی سی سی نے کھلاڑیوں کی نئی ٹی 20 رینکنگ جاری کر دی

Published

on



انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کھلاڑیوں کی نئی ٹی 20 رینکنگ جاری کر دی۔ پاکستانی کھلاڑی صائم ایوب پہلی پوزیشن سے محروم ہوگئے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کرہ ٹی 20 آل راؤنڈرز کی فہرست میں زمبابوے کے سکندر رضا پاکستان کے صائم ایوب کو پہلی پوزیشن سے محروم کرتے ہوئے نمبر ون پوزیشن پر آگئے اس تنزلی کے بعد صائم ایوب دوسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔

بیٹرز کی رینکنگ میں پاکستان کے صاحبزادہ فرحان دو درجے بہتری کے بعد تیسری پوزیشن پر آگئے جبکہ جنوبی افریقا کے ڈیوالڈ بریوس نے بھی ٹاپ 10 میں جگہ بنا لی۔

باؤلرز کی درجہ بندی میں پاکستان کے ابرار احمد تنزلی کے بعد دوسرے سے پانچویں نمبر پر چلے گئے جبکہ جنوبی افریقا کے کوربن بوش تیسری پوزیشن پر آگئے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد میں غیررجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

Published

on



وفاقی دارالحکومت میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم نجی اداروں کو فوری رجسٹریشن کے لیے دو ماہ کی مہلت اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے رجسٹریشن کی تجدید میں تاخیر والے اداروں کو ون ٹائم ایمنسٹی دیتے ہوئے رینول فیس میں 30 اپریل تک توسیع دے دی ہے۔

چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت اہم اجلاس میں غیر رجسٹرڈ اور تجدید کے منتظر نجی تعلیمی اداروں کے مسائل اور اسلام آباد بھر کے نجی اسکولوں میں طلبہ کے اندراج کے اعداد و شمار کی تیاری و تجزیے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور پیرا کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کا بنیادی مقصد ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنانا اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستی اور تصدیق یقینی بنانا تھا۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح نے شفافیت کے فروغ، باخبر فیصلوں اور مؤثر ضابطہ کاری کے لیے مستند اور تصدیق شدہ ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے درخواست کی کہ تجدید کے معاملات میں تاخیر کے باعث عائد جرمانوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ کی عام معافی دی جائے، مزید یہ کہ ایسے اداروں کو رجسٹریشن یا تجدید رجسٹریشن کی درخواستیں جمع کرانے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ آئی سی ٹی پیرا نے تاخیر سے تجدید کی درخواستیں جمع کرانے والے نجی تعلیمی اداروں کو ایک مرتبہ کی عام معافی دے دی ہے، یہ معافی یکم مارچ 2026 سے 30 اپریل 2026 تک مؤثر ہوگی تاکہ ایسے اداروں کو ضابطہ جاتی دائرے میں لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستی اور تصدیق یقینی بنائی جا سکے اور اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان اپنے اپنے علاقوں میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کی فہرستیں فراہم کریں گے تاکہ انہیں ضابطہ جاتی نظام میں شامل کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کی تجدید ہر سال 30 اپریل تک دی جائے گی، چاہے رجسٹریشن یا تجدید کی سابقہ تاریخِ معیاد کچھ بھی ہو۔

چیئرمین نے متنبہ کیا کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نجی تعلیمی ادارہ جات (رجسٹریشن و ریگولیشن) ایکٹ 2013 کی دفعہ 19 بمعہ دفعہ 13 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔



Source link

Continue Reading

Trending