Connect with us

Today News

مودی کا دورۂ اسرائیل؛ مغربی کنارے میں مسجد نذر آتش؛ فلسطینی آبادیوں پر حملے

Published

on


مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکیورٹی فورسز کی آشیربا سے ایک بار پھر شدت پسند مسلح یہودی آبادکاروں نے فلسطینی آبادی پر دھاوا بول دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے نابلس میں یہودی آبادروں نے مسجد ابو بکر صدیق پر حملہ کرکے اسے نذر آتش کردیا۔

فلسطینی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مسجد کے داخلی دروازے کو جھلسا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جب کہ مسجد کی دیوار پر عبرانی زبان میں “انتقام” اور “پرائس ٹیگ” جیسے اشتعال انگیز نعرے تحریر تھے۔

خیال رہے کہ یہ نفرت آمیز نعرے عموماً شدت پسند یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو اپنے بقول جوابی کارروائی قرار دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے معان کے مطابق آگ مسجد کے دروازے پر لگائی گئی جس سے بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا تاہم مقامی افراد نے بروقت آگ پر قابو پا لیا۔

دوسری جانب ایک گروہ گروہ نے فلسطینی آبادی پر حملہ کرکے متعد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ جلتے ہوئے گھروں میں بچے بھی موجود تھے۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق اس گاؤں میں کم از کم چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں ایک رہائشی خیمہ اور ایک گھر کا داخلی راستہ شامل تھا جہاں اس وقت خاندان موجود تھا۔

فلسطینی ہلالِ احمر نے بتایا کہ دھویں سے متاثر ہونے والے چار افراد کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔

سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک درجن سے زائد نقاب پوش افراد کو گاڑیوں کو آگ لگاتے اور لاٹھیاں اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی کو چیختے ہوئے سنا گیا کہ “بچوں کو بچاؤ، گھر کے اندر بچے ہیں!

مسجد اور گھروں پر حملے اور انھیں نذر آتش کرنے کے دہشت گردی پر منبی ان واقعات نے خطے میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج اور پولیس نے کہا کہ مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف نے حملے کو نسل پرستانہ اسرائیلی اشتعال انگیزی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی عکاسی کرتے ہیں۔

فلسطین اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف کے مطابق گزشتہ برس مغربی کنارے میں 45 مساجد پر حملے ہوئے۔

یاد رہے کہ تشدد پر مبنی یہ واقعات ایسے وقت میں کیے گئے جب فلسطینی ماہ مقدس رمضان میں روزے سے ہیں اور ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ فائرنگ، آتش زنی اور دیگر 128 پرتشدد جرائم رپورٹ ہوئے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

60 لاکھ روپے بھتہ نہ دینے کی سزا، کار شوروم پر نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے نیو کراچی سیکٹر الیون ڈی میں واقع ایک کار شوروم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق واقعہ گینگ وار سے وابستہ بھتہ خوروں کی جانب سے پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان شوروم مالک سے 60 لاکھ روپے بھتہ طلب کر رہے تھے اور اس سے قبل بھتے کی پرچی بھی دی گئی تھی۔

شوروم مالک نے دھمکیوں کے خلاف نیو کراچی تھانے میں مقدمہ درج کرا رکھا تھا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث افراد کا تعلق مبینہ طور پر صمد کاٹھیواڑی گروپ سے بتایا جا رہا ہے۔

ملزمان دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت میں بوائے فرینڈ کے سامنے گرل فرینڈ سے 7 افراد کی اجتماعی زیادتی

Published

on


بھارتی ریاست آسام میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے میں چاقو کی نوک پر 28 سالہ خاتون کو اس کے بوائے فرینڈ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوناک واقعہ 19 فروری کو پیش آیا جس کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی شکایت پر درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بیان دیا ہے کہ حملہ آوروں نے اسے اغوا کرکے ایک ایک کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جنسی زیادتی کرنے والوں نے  بعد ازاں خاتون کے اکاؤنٹ سے 10 ہزار روپے ایک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر بھی مجبور بھی کیا۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی اپنے ایک دوست کے ساتھ چند کلومیٹر دور بائی پاس روڈ پر ایک کار میں موجود تھی کہ اچانک جانور نما مردوں کا ایک گروہ نمودار ہوا۔

ملزمان نے دونوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور بوائے فرینڈ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر واردات انجام دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے دو ملزمان 25 سالہ نیلوتپل داس اور 27 سالہ سبول داس کو شناخت کرلیا جو اب پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس کے بقول متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کروا لیا گیا ہے اور تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کی مودی سرکار کے دور میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ہندوستان کو اب ریپستان کہا جانے لگا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ مودی سرکار میں ایک گائے تو محفوظ ہے جس کی دیوی مان کر رکھشا کی جاتی ہے لیکن خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

جنسی ہراسانی کا الزام پر قانونی جنگ؛ ماڈل ماہ نور اور عمر مختار آمنے سامنے

Published

on


ابھرتی ہوئی ماڈل ماہ نور رحیم نے پروڈیوسر عمر مختار پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے جس پر دونوں کے درمیان اب قانونی جنگ چھڑ گئی ہے۔

نوجوان ماڈل ماہ نور رحیم نے شوبز انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر عمر مختار کو جواب میں قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

جس سے ایک بار پھر اس معاملے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے بالخصوصاً شوبز کی دنیا میں جنسی جرائم پر کھل کی گفتگ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ماہ نور رحیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے شوبز انڈسٹری کے ایک بااثر شخص پر نامناسب پیغامات بھیجنے اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔

اگرچہ ماہ نور نے ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا تاہم سوشل میڈیا صارفین اور بعض شوبز حلقوں نے اندازہ لگایا کہ ان کا اشارہ پروڈیوسر عمر مختار کی جانب ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت مزید طول پکڑ گیا جب کئی دیگر خواتین نے بھی سوشل میڈیا پر ماہ نور کے مؤقف کی تائید کی اور تمام اشارے عمر مختار کی جانب تھے۔

عمر مختار کا شمار پاکستان کے معروف پروڈیوسرز میں ہوتا ہے اور وہ متعدد بڑے شوبز ستاروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اس تنازع کے بعد عمر مختار کی قریبی سمجھی جانے والی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی خود کو پروڈیوسر سے دور کر لیا تھا جس پر سوشل میڈیا پر خاصی توجہ دی گئی۔

جس کے باعث عمر مختار نے ماڈل ماہ نور رحیم کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوا دیا تھا اور اسے اپنا باضابطہ جواب قرار دیا تھا۔

ماڈل ماہ نور رحیم بھی کب پیچھے ہٹنے والی تھیں انھوں نے بھی اپنے وکیل کے ذریعے عمر مختار کو قانونی جواب بھیجوادیا۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ وہ سچ پر مبنی ہیں۔

ماڈل ماہ نور نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سچ بولنے کے اپنے فیصلے کو درست سمجھتی ہیں اور کسی دباؤ یا قانونی دھمکیوں سے خوف زدی ہوکر خاموش نہیں ہوں گی۔

انھوں نے اس موقع پر عوام، شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی اور حوصلہ بڑھایا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending