Connect with us

Today News

موسیقی کا زوال – ایکسپریس اردو

Published

on


موسیقی کی دنیا بھی اک عجب دنیا ہے، جب آپ اداس اور غمگین ہوتے ہیں تو یہ آپ کے جذبات سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور جب آپ خوش ہوں تب بھی یہ آپ کے جذبات کو خوشی سے ہم کنار کردیتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی کلاسیکی اور سیمی کلاسیکل موسیقی کا دنیا میں جواب نہیں، اگر ہم بات کریں ابتدائی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی موسیقی کی تو بلاشبہ سہگل برصغیرکا پہلا سپراسٹار تھا، اس کے علاوہ امیربائی کرناٹکی، زہرہ بائی انبالے والی، پنکج ملک، سی ایچ آتما کے نام نظر آتے ہیں جنھوں نے نہایت دلکش اور دل کو چھو لینے والا سنگیت دیا، ایک نام راج کماری کا بھی ہے جنھوں نے فلم ’’محل‘‘ میں دو لازوال گیت گائے۔ بعد میں شمشاد بیگم، ثریا اور خورشید بھی اس کارواں میں شامل ہوگئیں۔ یہ ذکر ہے بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے لیے گائے جانے والے گیتوں کا اور ان گیتوں کے سنگیت کاروں کا۔

برصغیر میں فلمی موسیقی کے بانی تھے کھیم چندر پرکاش، آرسی بورال، بھائی چند، پنکج ملک، انل بسواس، ایس ڈی برمن، مدن موہن، ماسٹر غلام حیدر، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے وغیرہ لیکن ان میں کھیم چند پرکاش کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ ان کی ترتیب دی ہوئی دھنیں سنیں تو ان کی صلاحیتوں اور ان کے زرخیز ذہن کی داد دینا پڑتی ہے۔ کھیم چندر پرکاش نے یوں تو بے شمار فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔

یہ 12 دسمبر 1907جے پور کے شاہی محل میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد درباری موسیقار تھے۔ تقسیم سے پہلے راجے مہاراجے اور نوابین موسیقاروں کی بڑی آؤ بھگت کرتے تھے، انھیں رتبہ اور خطاب بھی دیتے تھے اور دل کھول کر تنخواہیں بھی دیا کرتے۔ کھیم چندر پرکاش نے فلم تان سین، شادی، چاندنی، کھلونا، ممتاز محل، آشا، ملاقات، سیندور، سماج کو بدل ڈالو، امید، پیاس، پردیسی، چراغ، گوری، شہنشاہ بابر، میرا گاؤں، ہالیڈے، دکھ سکھ، 1948 میں فلم ’’ضدی‘‘ کا سنگیت دیا جس میں لتا کی آواز میں یہ گانا بہت مقبول ہوا ’’چندا رے جارے جارے‘‘ تان سین فلم کے گانے جو سہگل اور خورشید نے گائے بہت مقبول ہوئے جیسے یہ گیت:

جگ مگ دیا جلاؤ … سہگل

گھٹا گھنگھور گھور مور مچائے شور…خورشید

میرے سجن آجا، آجا

فلم ’’ضدی‘‘ کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا:

تجھے او بے وفا ہم زندگی کا آسرا سمجھے

سہگل کا گایا ہوا فلم تان سین کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا:

بالم آئے بسو مورے من میں

سن 1935 سے 1950 تک کا زمانہ بلاشبہ کھیم چندر پرکاش کا زمانہ تھا، یوں تو انھوں نے بے شمار فلموں کا سنگیت دیا لیکن فلم ’’محل‘‘ کے سنگیت نے یکدم بے پناہ شہرت سے نوازا۔ آج بھی لوگ یوٹیوب پر پرانے گانے سنتے ہیں۔ یوٹیوب مجھے اسی لیے پسند ہے کہ اپنی پسند کا کوئی بھی گیت یا فلم اس پر دیکھی جا سکتی ہے۔ فلم ’’محل‘‘ کے تمام گانے سپر ہٹ ہوئے، خاص کر ان کا گایا ہوا یہ گیت:

آئے گا، آئے گا آنے والا

اس گیت سے لتا کو بھی بریک ملا اور وہ سنگیت کاروں کی نظروں میں آ گئیں، پھر لتا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ویسے تو لتا کو متعارف کروانے والے ماسٹر غلام حیدر تھے لیکن لازوال شہرت فلم ’’محل‘‘ کے گانے سے ملی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ HMV کے ریکارڈ پرگلوکارہ کا نام ’’کامنی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ ریکارڈ میرے والد کے کلیکشن میں شامل تھا، بلکہ فلم ’’محل‘‘ کے تمام گانوں کے ریکارڈ جنھیں پرانے لوگ کالا توا کہتے تھے، ان کے پاس تھے۔ ایک گیت امیربائی کرناٹکی اور راج کماری کی آواز میں ہے، بڑی خوبصورت بندش ہے، دل چاہتا ہے بس سنتے رہو:

یہ رات پھر نہ آئے گی، جوانی بیت جائے گی

یہ گیت ایک رقص پر مبنی ہے لیکن یہ وہ دور تھا جب فلم کے پردے پر رقاصائیں اور گلوکارائیں، پوری آستین کا لباس اور سر پر ڈوپٹہ لیتی تھیں، فلم ’’محل‘‘ 1949 میں ریلیز ہوئی۔ یہ کمال امروہوی کی فلم تھی، اس لیے موسیقی تو اچھی ہونی ہی تھی۔ اس فلم میں کھیم چندر پرکاش نے دو گیت راج کماری کی آواز میں ریکارڈ کیے تھے جو آج بھی سننے والوں کا دل موہ لیتے ہیں۔ بڑی سحر انگیز آواز تھی راج کماری کی۔ گیت یہ تھے:

گھبرا کے جو ہم سر کو ٹکرائیں تو اچھا ہو

اس جینے میں سو دکھ ہیں مر جائیں تو اچھا ہو

اور دوسرا گیت یہ ہے:

میں وہ دلہن ہوں راس نہ آیا جسے سنگھار

ہوں وہ چمن کہ جس میں نہ آئی کبھی بہار

کھیم چندر پرکاش نے سب سے پہلے کشور کمار کو متعارف کرایا، دیوآنند پر ایک گیت پکچرائز کیا جسے کشور کمار نے بڑی خوبصورتی سے گایا، گیت یہ تھا:

مرنے کی دعائیں کیوں مانگو، جینے کی تمنا کون کرے

اب یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے

کھیم چندر پرکاش نے سب سے پہلے مناڈے کو بھی متعارف کروایا۔ فلم تھی ’’چلتے چلتے‘‘ ۔ یہ فلم 1947 میں بنی تھی۔ مناڈے بہت جلد موسیقاروں کی نظروں میں آگئے۔ تان سین 1943 میں بنی تھی، اس فلم کا سنگیت بہت جاذب اور پراثر تھا۔

یہ کیسے موسیقار تھے، کیسے گلوکار تھے جن کا ذہن اتنا زرخیز تھا کہ جس پر زمانے کا اثر نہ تھا، پھر آہستہ آہستہ فلمی موسیقی میں بدلاؤ آیا، بٹوارے کے بعد لاہور سے موسیقار بمبئی (ممبئی) چلے گئے اور وہاں سے صرف ماسٹر غلام حیدر پاکستان واپس آئے۔ ممبئی فلموں کا مرکز تھا اور ہے، تقسیم نے بمبئی کی فلمی دنیا پہ زیادہ اثر نہ ڈالا۔ اسی لیے وہاں کام ہوتا رہا اور فلمیں بنتی رہیں۔ بٹوارے کے بعد جن موسیقاروں کے نام سامنے آئے ان میں اوپی نیئر، شنکر جے کشن، آر ڈی برمن، نوشاد علی وغیرہ۔ چلیں ان موسیقاروں نے تو بہت کام کیا۔ لاہور میں ماسٹر غلام حیدر، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، سلیم اقبال، ناشاد اور نثار بزمی نے بڑی اچھی دھنیں ترتیب دیں۔

لیکن آج موسیقی کہیں کھو گئی ہے، انڈیا میں اے آر رحمان بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کی فلموں میں نیم کلاسیکل موسیقی ہوتی ہے۔ خاص کر فلم ’’تال‘‘ اس کے علاوہ دوسرے موسیقار ویسا کام نہیں کر رہے۔ لکشمی لال پیارے لال نے بھی اچھی دھنیں ترتیب دی ہیں، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، اب نہ وہ اساتذہ ہیں جنھوں نے لازوال دھنیں ترتیب دیں نہ وہ موسیقار رہے جو ایک ایک گیت پر کئی کئی ماہ ریہرسل کرواتے تھے۔ سینما کی رات جا چکی ہے، ابتدائی موسیقی سے ہٹ کر فلمی موسیقاروں اور فلم میکرز نے راک اینڈ رول میوزک دیا جو جلد ہی اپنی موت آپ مرگیا، پاکستان میں نہ سینما ہے نہ موسیقی۔ وہ لوگ جنھوں نے محل، پاکیزہ، تان سین، بیجوباورا، مغل اعظم، پردیسی اور بہت سی فلمیں لازوال دور کی دیکھی ہوں، انھیں نقصان کا زیادہ اندازہ ہوتا ہے۔ کسی حد تک پاکستان میں نثار بزمی نے موسیقی کو سنبھالا دیا، لیکن اب ہر طرف سناٹا ہے۔ رونا لیلیٰ کی آواز میں نثار بزمی نے بڑے خوبصورت گیت گوائے۔ خاص کر فلم انجمن، ثریا بھوپالی، تہذیب، امراؤ جان وغیرہ۔ لیکن اب ہر طرف سناٹا ہے، نہ ویسے فلم ساز رہے نہ گلوکار نہ موسیقار۔ موسیقی کا سنہرا دور جب تک تھا جب اوپی نیئر، انل بسواس، مدن موہن، نثار بزمی، خواجہ خورشید انور اور جی اے چشتی تھے۔کھیم چندر پرکاش صرف اڑتالیس سال کی عمر میں 1950 میں وفات پا گئے ان کی موت کے بعد ان کے خاندان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔ کھیم چندر پرکاش اپنے پیچھے صرف ایک حویلی چھوڑ گئے تھے جسے ان کے پریوار نے گروی رکھ کر کام چلایا، پھر اس حویلی کو بیچ دیا، لیکن نہایت کسمپرسی میں زندگی گزاری۔ یہ وہ دور تھا جب اداکار موسیقار، مستقبل کے لیے کچھ نہیں سوچتے تھے، یہ نہیں سوچتے تھے کہ کل جب شہرت کا سورج ڈھل جائے گا تب کیا کریں گے؟ آج کا فنکار زیادہ سمجھدار ہے۔ وہ آنے والے وقت کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ کوئی ہوٹل بنا لیتا ہے کوئی فارم ہاؤس اور کوئی دوسرا بزنس۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے فنکار ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اچھی زندگی گزارتے دیکھے گئے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

تیل کی ہتھکڑیاں توڑو۔۔۔۔ سورج سے ناتا جوڑو

Published

on


تاریخ کا پہیہ جب بھی مشرق وسطیٰ کی ریت پرگھومتا ہے، اس کے نشانات پاکستان کے غریب گھرانوں کے باورچی خانوں تک گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج آبنائے ہرمزکے سمندر سے اٹھنے والا دھواں ایک عالمی معاشی زلزلے کا نقطہ آغاز معلوم دے رہا ہے اور ہمیں یہ باورکرایا جا رہا ہے کہ ہماری معیشت کی نبضیں ان پائپ لائنوں سے جڑی ہیں اور اب یہ موقع آ گیا ہے کہ ہماری معیشت اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے باہر آ کر پاکستان کی عوام کی اکثریت کے کرب کے ساتھ جڑ گئی ہے کیونکہ میرے نزدیک معاشیات صرف اعداد و شمار، معاشی اصولوں اور بہت سے معاشی بحث ومباحثے کا نام نہیں، یہ تو انسانی زندگی کے اس کرب کا نام ہے جو ایک باپ کی پیشانی پر اس وقت ابھرتا ہے جب پٹرول کی قیمت اس کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور ایک ماں کے حساب کتاب سے ظاہر ہو جاتا ہے جب وہ ایک روٹی اپنے چار بچوں میں برابر تقسیم کر دیتی ہے اور خود پانی کا ایک گلاس پی کر مطمئن ہو جاتی ہے کہ آج میرے بچوں کا پیٹ بھرگیا ہے۔

پاکستان کی معیشت اسی درد و کرب سے دوچار ہو کر حیران و پریشان کھڑی ہے کہ بظاہر 2 یا 3 ہفتوں کا پٹرول کا ذخیرہ اور جنگ کے آغاز کا تو سب کو پتا ہے انجام کی خبر نہیں ہے، کیونکہ امریکا، ایران جنگ میں پاکستانی معیشت ’’تیل زدہ جال‘‘ میں پھنسی ہوئی ہے،کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فی صد سے زائد حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ ان دنوں تیل کی قیمت میں جس طرح سے اضافہ ہوئے چلا جا رہا ہے اس سے پاکستان کا ماہانہ توانائی کا درآمدی بوجھ دو ارب ڈالر سے بھی زائد پہنچ چکا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ اس میں سب سے اہم کردار آبنائے ہرمز کا ہے، کیونکہ پاکستان اپنے درآمدی تیل کا 90 فی صد حصہ اسی آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے لے کر آتا ہے۔

پاکستان کے لیے تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ یہ معیشت کا خون ہے جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو جیساکہ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمت اور ڈیزل کی قیمت میں اچانک راتوں رات ہی 55 روپے کا اضافہ کر دیا گیا جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے، کیونکہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہی ترسیلات زر کا 80 فی صد سے زائد حصہ آتا ہے، جنگ کے باعث ان ملکوں کی معیشت خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ان کے کھاتے میں ڈال رکھا ہے تو دیگر ملکوں کی طرف پہلے دھیان کیوں نہیں گیا؟ ہر حکومت کو اپنے اپنے وقت پر یہ احساس کرنا چاہیے تھا کہ اپنے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دیگر ملکوں کو بھی اولیت دی جانی چاہیے تھی، لیکن اب اس جانب توجہ دینی ہوگی۔

وقت آگیا ہے کہ پاکستان توانائی کی خود مختاری کے حصول کے لیے فوری قدم اٹھائے، شمسی انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ سولر پینلز کے کاروبار کو ہر طرح کی سہولیات مراعات دی جائیں تاکہ غریب کی چھت پر بھی سولر پینلز کی بہار اتر سکے، کیونکہ شمسی توانائی قدرت کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک قیمتی لیکن مفت تحفہ ہے۔ پاکستان کے منصوبہ سازوں کو اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ بھارت ’’جموں‘‘ میں نئے پن بجلی منصوبوں کی تیاری کر رہا ہے ایسے منصوبے بنا رہا ہے جس سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پہلے ہی وہ کئی بڑے ڈیمز بنا چکا ہے اور ہم 1974 میں تربیلا ڈیم کے بعد کوئی قابل ذکر بڑا ڈیم نہیں بنا سکے۔ لہٰذا اب شمسی توانائی کے اس عظیم خزانے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں جہاں پانی کی ضرورت پڑے تو ٹیوب ویلوں کو سولر پینلز کا سہارا دیا جاسکے اور ایسا کرنا زرعی خودکفالت کے لیے ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ کے افق پر اٹھتا ہوا دھواں ہمیں ایک آخری مہلت دے رہا ہے کہ ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں اب خاموشی اور تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ کسان جو ہزاروں سال سے بادلوں کی طرف دیکھتا تھا اب اسے اپنی بنجر امیدوں کو سیراب کرنے کے لیے تیل کے ٹینکروں کے بجائے آسمان سے برستی ہوئی کرنوں کی ضرورت ہے۔ زرعی خود کفالت اب محض ایک خواب نہیں بلکہ ہماری بقا کا واحد راستہ بن چکی ہے، جب تک ہم اپنے کھیتوں کو شمسی حصار میں نہیں لائیں گے، اس وقت تک دوسروں کے ہی محتاج رہیں گے، لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رزق کو سورج کی سنہری کرنوں سے محفوظ سنہری دور کے ساتھ جڑ جائیں کیونکہ جو قوم سورج سے ناتا جوڑ لیتی ہے اسے کوئی بحران اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتا۔حکومت کو چاہیے کہ سولر پینلز سے وابستہ تاجروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے۔ ان کی راہ میں حائل سرخ فیتہ شاہی اور غیر ضروری نامناسب ٹیکسز دراصل سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو اہمیت دینا محض ایک توانائی پالیسی نہیں بلکہ سستی توانائی کی طرف ہجرت کا پہلا قدم ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

نیتن یاہو منظرعام پر آگئے؛ براہ راست پریس کانفرنس میں بڑا اعتراف کرلیا

Published

on


اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے لائیو پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جنگ میں اہداف، مقاصد اور حکمت عملی پر کھل کر گفتگو کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بقول اسرائیل اور امریکا مل کر پورے مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کا تحفظ کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 20 دن کی لڑائی کے بعد ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

انھوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر اس کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑی حد تک تباہ کیا جا رہا ہے اور انھیں مکمل طور پر ختم کرکے دم لیا جائے۔

اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ اس جنگ میں ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے اندر ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں حکومت یا کسی بھی تبدیلی کے لیے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی سطح پر بھی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔

ان کے اس بیان کو ماہرین خطے میں ممکنہ طور پر کسی بڑی حکمت عملی یا آئندہ اقدامات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

pmln bashir memon clarification – ایکسپریس اردو

Published

on


گورنر سندھ نہال ہاشمی کے مسلم لیگ ن سندھ بشیر میمن کی رہائش گاہ کے دوران کئی لیگی رہنماؤں کے دوران تنظیمی امور پر بحث ہوئی اور گورنر سندھ کے قریبی ساتھی کو صوبائی صدر نے مبینہ طور پر تھپڑ بھی مارا۔

بشیر میمن کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کی کچھ باتیں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ بشیر میمن نے گورنر سندھ کی موجودگی میں پارٹی کے سینئر رہنما خرم بھٹی کو مبینہ طور تھپڑ مارا ہے۔

اس حوالے سے یہ تاثر  سامنے  آرہا ہے کہ ن لیگ سندھ کے رہنماؤں مبینہ طور پراختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کی جانب سے رابطہ کرنے پر مسلم لیگ ن سندھ کے صدر بشیر میمن نے بتایا کہ مسلم لیگ ن میں کوئی اختلاف نہیں ہے، گورنر سندھ نہال ہاشمی میرے گھر آئے اور میں نے انہیں خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پارٹی رہنما خرم بھٹی بھی موجود تھے، جس میں مختلف امور پر بات ہوئی، یہ جمہوری عمل کا حصہ یے، میرا ہاتھ  محبت والے انداز میں خرم بھٹی کے چہرے پر لگ گیا تھا۔

بشیر میمن کے مطابق ’میں نے خرم بھٹی کے چہرے پر ہاتھ لگا کر کہا کہ کیا بات ہے آجکل آپ شیو نہیں کررہے ہیں، جس  پر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ میں نے خرم بھٹی کو تھپڑ مارا ہے، یہ الزام غلط ہے۔

بشیر میمن نے کہا کہ خرم بھٹی میرے بچوں جیسا اور پارٹی کا رہنما ہے، میڈیا پر کیے جانے والے دعوے غلط ہیں۔ 





Source link

Continue Reading

Trending