Today News
مہنگائی گزیدہ پاکستانیوںاور جنگ زدہ ایرانیوں کی عید!
رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔خوش بخت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اِس ماہِ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی مقدور بھر کوششیں کیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلے رمضان شریف کی برکات کون سمیٹ سکے گا اور کون اِن کے فیوض سے مستفیض ہو سکے گا۔ عید مگر آ رہی ہے۔ شائد آج بروز جمعہ عیدالفطر ہو ہی جائے ۔ یہ’’ شائد‘‘ کا بھی عجب معاملہ ہے۔پکی بات نہیں ہے کہ آج 20مارچ 2026کو عید ہو گی یا نہیں ۔ ہر سال عید الفطر کی آمد آمد پر ایسا ہی ’’شائد‘‘ والا معاملہ درپیش ہو جاتا ہے ۔
شائد اِسی لیے 16مارچ کو اسلام آباد کے ایک شہری ( عبداللہ شفیق)نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک انوکھی درخواست دائر کی ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ’’ روئتِ ہلال کمیٹی کو عید الفطر کا چاند نظر آنے پر جَلد اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے کہ عید کے اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ رات تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے کے باعث بازاروں میں اچانک رَش بھی بڑھ جاتا ہے اور انتظامیہ کے لیے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘
دیکھا جائے تو عدالتِ عالیہ کے رُو برو یہ درخواست اتنی بے جا بھی نہیں ہے ۔ مگر کیا کِیا جائے کہ ہماری عید جناب چاند صاحب کے طلوع ہونے سے مشروط ہے ۔ مگر یہ عید بھی کیا عید ہے ؟ بے لگام اور بے انتہا مہنگائی نے اگر اکثریتی پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے تو ایرانیوں اور اہلِ غزہ کو جنگ نے پریشان حال اور در بدر کر رکھا ہے ۔ امریکی و اسرائیلی طاغوت نے مل کر ایران اور غزہ پر جنگوں کے مہیب اور مہلک سائے مسلّط کر رکھے ہیں ۔ غزہ کی راکھ اور کھنڈرات پر مظلوم و برباد شدہ فلسطینی عید منائیں بھی تو کیسے ؟ یہی حال ایرانی بھائیوں کا ہے ۔
اِس وقت عالمِ اسلام کی جو مجموعی صورتحال ہے ، اِس پر کچھ عرصہ قبل ممتاز عالمِ دین و مفکر و مصنف علامہ یوسف القرضاوی( جو تھے تو مصری، مگر اُنھوں نے زندگی کا زیادہ حصہ قطر میں گزارا اور وفات کے بعد بھی قطر ہی میں دفن ہُوئے )نے عید کی آمد پر کہا تھا:’’ہم عید کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں ۔لیکن ہم عید کیسے منائیں؟ جب کہ ہماری اُمت اِس حال میں ہے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل اور ذبح کیا جارہا ہے ، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزررہی ہیں ، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اِن مصیبت زدگان کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم زندگی اور عیدین سے کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں؟ہم کیسے ہنس اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں؟۔‘‘
علامہ یوسف القرضاوی مرحوم نے ٹھیک اور درست ہی تو لکھا اور کہا تھا۔ہم اِس عید کے موقع پر بھی سرکش و غاصب صہیونی اسرائیل اور منہ زور و انتہائی طاقتور امریکا کی جانب دزدیدہ و خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ عید ایسے حال میں آئی ہے جب اسرائیل و امریکا متحد و متفق ہو کر ایران کے سب سے بڑے اور بزرگ ترین روحانی رہنما، 86سالہ جناب آئیت اللہ علی خامنہ ای کو (اُن کے کئی فیملی ممبرز سمیت) شہید کر چکے ہیں ۔17مارچ 2026کو صہیونی اسرائیل نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ، علی لاریجانی ، اور اُن کے صاحبزادے ( مرتضیٰ لاریجانی) کو بھی شہید کر ڈالا۔ اِس عید پر ہم سب اِنہیں شدت سے یاد کر رہے ہیں ۔
تہران و اصفہان ایسے مرکزی ایرانی شہر صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی بموں اور میزائلوں کے دھماکوں سے تقریباً کھنڈر بن رہے ہیں ۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی ناجائز جنگ کو مسلّط ہُوئے آج تیسرا ہفتہ ہو چکا ہے ۔ تقریباً دو ہزار ایرانی شہید کیے جا چکے ہیں ۔ 36لاکھ ایرانی گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ مگر شاباش دینی چاہیے دلیر ایرانی حکام اور ایرانی عوام کو کہ پوری ہمت کے ساتھ جارح و قاہر قوتوں کے خلاف ڈٹے ہُوئے ہیں۔ ایرانی افواج و اسٹیبلشمنٹ نے آبنائے ہرمز کی شہ رَگ پکڑ کر پاکستان سمیت امریکا و یورپ اور عالمِ عرب کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے (سابق) سربراہ ، علی لاریجانی شہید، نے کہا تھا : ’’آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں پر بند رہے گی ۔‘‘
پاکستان تو ایران کے دشمنوں میں سے نہیں ہے ۔ الحمد للہ۔ ایران کے وزیر خارجہ ( جناب عباس عراقچی) نے تو 16مارچ کو اپنے’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی محبتوں اور تعاون کی تعریف بھی کی ہے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔ اِس سے قبل پچھلے سال ( جب جون میں صہیونی اسرائیل نے ایران پربے جا حملہ کیا تھا) بھی ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا تشکر کیا تھا کہ پاکستان نے کسی بھی خطرے اور کسی کی بھی ناراضی کی پروا نہ کرتے ہُوئے ایران کی زبردست حمائت کی تھی۔
پاکستان جاری پُر خطر حالات میں شاندار سفارتکاری کرتے ہُوئے مستحسن کوششوں میں ہے کہ کسی طرح امریکا اور ایران میں سفارتی اور مکالماتی تعلقات بحال ہو جائیں اور دُنیا جاری بڑے جنگی عذابوں اور مالی بحرانوں سے نجات پا جائے ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان اور پاکستانی عوام بجا طور پر توقعات رکھتے ہیں کہ بہادر اور غیور اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں اُن پاکستانی ٹینکروں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو پاکستان کے لیے تیل اور گیس لا رہے ہیں ۔
ہم یہ عید کیسے منائیں جب حملہ آور صہیونی اسرائیل و امریکا کے ہاتھوں ہمارے ایرانی اسلامی بھائیوں کا دن رات خون بہایا جا رہا ہو ۔ جب ایران کے چپے چپے پر آتش و آہن کی بارش ہو رہی ہو ۔ہم یہ عید خوشی ، مسرت اورامن کے ساتھ کیسے منا سکتے ہیں جب خلیجی ریاستیں جنگ کے مہیب سایوں میں اپنا امن و چَین کھو چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں دینی فریضہ سمجھ کر عید الفطر تو بہرحال منانی ہی ہے۔یہ عید ایسے حالات میں پاکستانیوں پر طلوع ہُوئی ہے جب نئی مہنگائی کے شکنجے نے سارے پاکستانیوں کو بے بسی اور بے کسی کے آہنی چنگل میں جکڑ رکھا ہے ۔
جب پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رُوح فرسا اور کمر شکن اضافہ ہو چکا ہے ۔ جب خورو نوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا گراف بے تحاشہ بلند ہو چکا ہے اور اِس گراف کے نیچے آنے کی کوئی صورت و شکل سامنے نہیں آ رہی ۔ بلکہ یہ ہوشربا خبریں گردش میں ہیں کہ ابھی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔ مطلب غریب اور چند نوالوں کے محتاج عوام کی محتاجیاں اور عسرتیں مزید قیامت خیز ہونے والی ہیں ۔ ایسے مایوس کن حالات میں پاکستانی عید منائیں بھی تو بھلا کیسے ؟
عید تو خوشیوں اور مسرتوں کا نام ہے ،مگر جب جیب مطلوبہ روپوں سے خالی ہو ، جب ہاتھ تہی ہو گئے ہوں تو کیسی عید ؟محدود سی تنخواہ اور مزدوری پانے والے بھی عید پر اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے خرید کر دینا چاہتے ہیں ۔ مگر بازار میں آسمان سے لگی قیمتیں دیکھ کر دل تھام کر اور نظریں جھکا کر رہ جاتے ہیں۔ مایوسیوں اور دل گرفتگی کی کوئی حد نہیں ہے۔دوسری طرف وطنِ عزیز کے اعلیٰ سرکاری مراعات یافتہ طبقات ، اعلیٰ ترین جملہ سرکاری افسران و بیوروکریسی ، خود ساختہ اشرافیہ اور بے مہار کاروباری طبقات کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اکثریتی عوام کے دلوں اور دماغوں پر مہنگائی اور گرانی کی جو بجلیاں گررہی ہیں۔
اِن سے اِن طبقات کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ اورنہ ہی کوئی سروکار۔ہر محلے، ہر گلی ،ہر شہر میں کئی سماجی خلیجیں جنم لے چکی ہیں ۔ محروم و محتاج تر ہوتے طبقات میں غصہ بڑھ رہا ہے ۔ سماجی پریشر کُکرمیں بھاپ روز افزوں ہے ۔ مراعات یافتہ سرکاری طبقات اور سرکاری اشرافیہ کے اللے تللے دیکھ کر عوام کئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں ۔ مگر حکمران قوانین کا سہارا لے کر عوام کو ڈرا رہے ہیں : خبردار ، کوئی سوال مت پوچھنا ، وگرنہ دَھر لیے جاؤ گے !وفاقی وزیر قانون اور پنجاب کی ایک سینئر وزیر نے ابھی اگلے روز ہی ہم سب کو متنبہ کیا ہے ۔ شاد لکھنوی نے کہا تھا:نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے /گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے !!
Today News
شمالی کوریا؛ کم جونگ اُن کی جماعت 99.93 فیصد ووٹ لیکر ایک بار پھر کامیاب
شمالی کوریا میں انتخابی عمل مکمل ہوگیا جس میں حکمراں جماعت نے یک طرفہ طور پر بڑی کامیابی حاصل کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کی حکمراں جماعت اور اس کے اتحادیوں نے تقریباً تمام ہی نشستیں اپنے نام کر لیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ووٹوں کی شرح ننانوے فیصد سے بھی زائد رہی جب کہ پارلیمان کے تمام ارکان بلا مقابلہ یا محدود مقابلے کے ذریعے منتخب قرار دیے گئے۔
انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی حد تک زیادہ ظاہر کیا گیا، جسے سرکاری ذرائع قومی اتحاد اور عوامی حمایت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین اس قسم کے اعداد و شمار کو روایتی جمہوری معیار سے ہٹ کر دیکھتے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ معمولی تعداد میں ووٹ مخالف امیدواروں کے خلاف ڈالے جانے کا ذکر کیا گیا جسے بعض تجزیہ کار انتخابی عمل کو بظاہر متنوع دکھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
نئی منتخب ہونے والی سپریم پیپلز اسمبلی کا اجلاس بائیس مارچ کو طلب کیا گیا ہے جہاں اہم آئینی اور پالیسی معاملات زیر غور آئیں گے۔
Today News
آپریشن غضب للحق اور خطے کی بدلتی حقیقتیں
حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’’غضب للحق‘‘ میں پانچ روزہ عارضی وقفے کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان نے اس وقفے کا اعلان نہ صرف اپنے طور پر کیا بلکہ برادر اسلامی ممالک کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی اور اسلامی دنیا میں اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔
ماضی میں کئی بار پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس بار ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم مسئلہ ان عناصر کا ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔
پاکستان کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی معقول ہے جس پر افغانستان حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو افغان طالبان کو اس معاملے میں واضح اور موثر اقدامات کرنے سے روکتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان حکومت خود اندرونی اور بیرونی پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے ، دوسری طرف مختلف عسکری گروہوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ایک حقیقت ہیں۔
تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک ریاست کے طور پر افغانستان کو اپنی سرزمین کے پرامن استعمال کی ذمے داری لینا ہوگی۔کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک نہ صرف منظم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنائے اور ایسے خطرات کا بروقت سدباب کرے۔ افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید اپنی جگہ، مگر پاکستان کا یہ کہنا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، معاملے کو واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔اس پورے تناظر میں بھارت کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔
یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ بھارت کا یہ گھناؤنا کردار نیا نہیں، بلکہ ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آتے رہے ہیں جو اس کے تخریبی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا یہ فیصلہ اگرچہ وقتی ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا قدم ہے جو نہ صرف اس کی داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دیگر فریقین بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اقدام ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ محض ایک عارضی وقفہ بن کر رہ جائے گا جس کے بعد پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا پڑے گی۔
Today News
کراچی میں طوفانی بارش، بلدیاتی اداروں کی ناکامی
کراچی میں ہلاکت خیز طوفان اور بارش سے 19 افراد جاں بحق ہوگئے، شاہراہ فیصل پر ہواؤں کی رفتار90 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، شہر میں طوفان اور بارش کے بعد 645 فیڈرز متاثر ہوئے، جس کے باعث کراچی کے بیشتر علاقے رات گئے تک بجلی سے محروم رہے۔
کراچی ایک ایسا شہر ہے جو اپنی وسعت، آبادی اور معاشی اہمیت کے باعث ملک کا دل کہلاتا ہے، مگر ہر بارش اور ہر طوفان اس دل کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ شاہراہ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے نہ صرف درخت اکھاڑے، بجلی کے کھمبے گرائے بلکہ شہری زندگی کے اس نظام کو بھی بے نقاب کر دیا جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔
یہ سوال اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ آخر ایک میگا سٹی، جو ملک کی معیشت کا انجن سمجھا جاتا ہے، وہ معمول کی بارش اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کرنے سے کیوں قاصر ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا؟ کیا انتظامیہ کو اس طوفان کی پیشگی اطلاع نہیں تھی؟ اگر تھی، تو پھر حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟طوفان کے بعد 645 فیڈرز کا متاثر ہونا اور شہر کے بیشتر علاقوں کا رات گئے تک بجلی سے محروم رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بجلی کا نظام بھی کسی بڑے امتحان کے لیے تیار نہیں۔ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے علاقے، بند ٹریفک سگنلز، اور سڑکوں پر جمع پانی ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو کسی ترقی پذیر نہیں بلکہ ایک بے یار و مددگار شہر کا عکاس ہے۔نالوں کی صفائی نہ ہونا، سیوریج کا نظام ناکارہ ہونا، سڑکوں کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا، اور غیر قانونی تعمیرات کا پھیلاؤ، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا بحران پیدا کرتے ہیں جو ہر بارش کے ساتھ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ شہری انتظامیہ کی نااہلی کا ایک اور پہلو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔
کسی بھی بڑے شہر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایک اہم جزو ہوتا ہے، مگر کراچی میں اس کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ نہ تو فوری ریسکیو کے مؤثر انتظامات ہیں، نہ ہی عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کا کوئی مربوط نظام۔ سوشل میڈیا اور نجی ذرائع کے ذریعے معلومات کا حصول ایک عارضی حل تو ہو سکتا ہے، مگر ایک منظم اور قابل اعتماد نظام کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح ہر بارش اور طوفان کے سامنے بے بس رہیں گے؟ کیا یہ شہر صرف ٹیکس دینے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہے یا اس کے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمے داری ہے؟اس کے ساتھ ساتھ، شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور زمینوں کے استعمال کے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ہر بار آزمائش سے گزرنا پڑے۔ یہ شہر بہتری کا مستحق ہے، اس کے لوگ محفوظ زندگی کے حق دار ہیں، اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو آنے والا مون سون سیزن ایک بار پھر اسی تباہی کی داستان دہرائے گا اور شاید اس بار نقصان اس سے بھی زیادہ ہو۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Today News2 weeks ago
mobile phones banking cyber attacks increased 56 percent in 2025
-
Today News2 weeks ago
Pakistan 1st lower price ev car will introduce in july 2026