Connect with us

Today News

مہنگا تیل پلگ ان ہائبرڈز کی طرف رجحان میں اضافے کا باعث

Published

on



اسلام آباد:

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں اسپورٹ یوٹیلٹی وہیکلز (SUVs) چلانے کی معاشیات تبدیل ہو رہی ہے۔

اب پلگ اِن ہائبرڈ اور ایکسٹینڈڈ رینج الیکٹرک گاڑیاں زیادہ کم لاگت کا متبادل بنتی جا رہی ہیں۔پاکستان کے تازہ سرکاری پٹرول نرخوں کے مطابق ایکس ڈپو موٹر اسپرٹ (پٹرول) تقریباً 321 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کی وجہ سے روزمرہ سفری اخراجات کتنے غیر مستحکم ہو چکے ہیں۔

320 روپے فی لیٹر سے زائد کی غیر معمولی قیمتوں کے باعث ایس یو وی چلانے کی لاگت تیزی سے پلگ اِن ہائبرڈ اور ایکسٹینڈڈ رینج الیکٹرک گاڑیوں کے حق میں جا رہی ہے۔

چیری ماسٹر پاکستان کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ سید آصف احمد نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی توانائی کی گاڑیوں (NEVs) پر بحث اب صرف ماحولیاتی پہلو تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔

انھوں نے کہا پاکستانی صارفین خصوصاً ایس یو وی استعمال کرنے والوں کے لیے یہ اب ایک سیدھا معاشی فیصلہ بن چکا ہے۔ جب پٹرول کی قیمتیں اس سطح تک پہنچ جائیں تو روایتی پٹرول گاڑی چلانا گھریلو بجٹ پر بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔

آصف احمد کے مطابق پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (PHEVs) اور رینیوایبل رینج ایکسٹینڈر الیکٹرک وہیکلز (REEVs) اب سب سے عملی ریلیف فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک عام پیٹرول سے چلنے والی سی سیگمنٹ ایس یو وی، جو تقریباً 10 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہے، موجودہ نرخوں پر تقریباً 32 روپے فی کلومیٹر لاگت سے چلتی ہے۔

اسی طرح ایک روایتی ہائبرڈ گاڑی، جو تقریباً 18 کلومیٹر فی لیٹر ایندھن استعمال کرتی ہے، اس کی لاگت بھی تقریباً 18 روپے فی کلومیٹر بنتی ہے۔

انھوں نے کہاہائبرڈ گاڑی کارکردگی بہتر بناتی ہے، مگر پھر بھی پیٹرول کی قیمتوں کے جھٹکوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتی۔ خطرہ کم ہوتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔

انھوں نے وضاحت کی کہ پلگ اِن ہائبرڈ اور REEV گاڑیاں اس مسئلے کا بہتر حل پیش کرتی ہیں کیونکہ یہ شہری سفر کا بڑا حصہ بجلی پر مکمل کرنے کی سہولت دیتی ہیں۔

چیری ٹیگو 9 PHEV کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس گاڑی میں 34.46 کلوواٹ آور بیٹری موجود ہے، جو NEDC معیار کے مطابق تقریباً 170 کلومیٹر خالص الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہے۔

انھوں نے کہااگر گھریلو بجلی کی قیمت 50 روپے فی یونٹ ہو تو مکمل چارج کی لاگت تقریباً 1,723 روپے بنتی ہے، جو 170 کلومیٹر پر تقسیم کرنے سے تقریباً 10 روپے فی کلومیٹر خرچ بنتا ہے۔’’یہ لاگت پٹرول ایس یو وی کے مقابلے میں تقریباً 22 روپے فی کلومیٹر کم اور روایتی ہائبرڈ سے بھی تقریباً 8 روپے فی کلومیٹر کم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ فائدہ ان شہری خاندانوں کے لیے اور بھی بڑھ جاتا ہے جو گھروں میں سولر سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔پاکستان میں چھتوں پر سولر سسٹمز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور 2025 تک نیٹ میٹرنگ کے تحت کئی گیگاواٹ صلاحیت حاصل کی جا چکی ہے، جو صارفین کے خود بجلی پیدا کرنے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

آصف احمد نے کہا، ‘‘یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی توانائی اور ٹرانسپورٹ کی تبدیلی ایک دوسرے سے جڑ رہی ہیں۔ جو گھر اپنی بجلی خود پیدا کرتا ہے، وہ نہ صرف بجلی کے بل میں کمی لاتا ہے بلکہ گاڑی چلانے کی لاگت بھی کم کر سکتا ہے۔

پاکستان کے فِسکل رسک اسٹیٹمنٹ کے مطابق اگر عالمی تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہو جائے تو مالی سال 2026 میں مالی خسارہ 487 ارب روپے تک بڑھ سکتا ہے، جس کی وجہ پٹرولیم لیوی میں کمی اور سبسڈی میں اضافہ ہوگا۔

انھوں نے کہاPHEVs اور REEVs کا معاملہ صرف کسی ایک برانڈ یا گاڑی تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستانی صارفین کو ایک ایسا عملی حل فراہم کرنے سے متعلق ہے جو لاگت کم کرے، تیل کے جھٹکوں سے تحفظ دے اور مقامی ضروریات کے مطابق ہو۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں بارش، بیشتر علاقوں میں بجلی منقطع

Published

on



شہر میں دوبارہ بارش کا سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی اور کے-الیکٹرک کے 200 سے زائد فیڈرز بند ہوگئے ہیں۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کی گھن گرج دوسرے روز بھی ہوئی اور مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔

شہر کے علاقے اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی، ماڑی پور میں ژالہ باری، لیاری، جمشید روڈ، مارٹن کوارٹرز، کلیٹن روڈ، پی آئی بی و اطراف میں بوندا باندی گھن گرج کے ساتھ بارش ہوئی۔

اسی طرح کلفٹن اور صدر میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ شہر میں بارش کے دوران ہواؤں کی رفتار معتدل ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کا امکان ہے تاہم جمعے کو بیشتروقت مطلع صاف رہنے اور دھوپ نکلنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ عیدالفطرکے پہلے روز(21 مارچ) کوبارش کی شدت میں قدرے اضافہ ہوسکتا ہے اور اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27 سے 29 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 18 سے 21 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ شہر میں جنوب مغرب اور مغرب کی سمت سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند

شہر میں بارش کے دوران کے-الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام بری طرح متاثر ہوگیا اور کے-الیکٹرک کے 200 سے زائد فیڈرز بند ہو گئےاور بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی اور اس حوالے سے بتایا گیا کہ پی ایم ٹی اور انڈر گراونڈ کیبل میں پانی جانے سے بجلی بند ہوگئی ہے۔

کراچی کے علاقے بلدیہ میں 30 ،ڈی ایچ اے میں 10، کلفٹن میں 11، انڈسٹریل زون ون میں 16، انڈسٹریل زون ٹو میں 21، گلستان جوہر میں 36، کورنگی میں 18، اورنگی میں 12، سوسائٹی میں 17، سرجانی میں 21 اور اوتھل میں 4 فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں۔

اس کے علاوہ نارتھ کراچی، صدر، اولڈ سٹی ایریا، سوسائٹی، شاہ فیصل کالونی، لیاقت آباد، کاٹھور، گڈاپ، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچیِ، شادمان ٹاؤن، کورنگی بلدیہ، ڈی ایچ اے، گلستان جوہر، سرجانی، ملیر، سعود آباد، لانڈھی، رزاق آباد، سہراب گوٹھ، سائٹ، اختر کالونی،کشمیر کالونی، پاپوش نگر، قصبہ کالونی، نصرت بھٹو کالونی، خواجہ اجمیر نگری، موسی کالونی، جیکب لائنز، شیریں جناح کالونی، پاک کالونی، گلبہار، گلشن اقبال، احسن آباد اور بنارس میں بجلی بند ہو گئی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

شمالی کوریا؛ کم جونگ اُن کی جماعت 99.93 فیصد ووٹ لیکر ایک بار پھر کامیاب

Published

on


شمالی کوریا میں انتخابی عمل مکمل ہوگیا جس میں حکمراں جماعت نے یک طرفہ طور پر بڑی کامیابی حاصل کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کی حکمراں جماعت اور اس کے اتحادیوں نے تقریباً تمام ہی نشستیں اپنے نام کر لیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ووٹوں کی شرح ننانوے فیصد سے بھی زائد رہی جب کہ پارلیمان کے تمام ارکان بلا مقابلہ یا محدود مقابلے کے ذریعے منتخب قرار دیے گئے۔

انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی حد تک زیادہ ظاہر کیا گیا، جسے سرکاری ذرائع قومی اتحاد اور عوامی حمایت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین اس قسم کے اعداد و شمار کو روایتی جمہوری معیار سے ہٹ کر دیکھتے ہیں۔

دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ معمولی تعداد میں ووٹ مخالف امیدواروں کے خلاف ڈالے جانے کا ذکر کیا گیا جسے بعض تجزیہ کار انتخابی عمل کو بظاہر متنوع دکھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

نئی منتخب ہونے والی سپریم پیپلز اسمبلی کا اجلاس بائیس مارچ کو طلب کیا گیا ہے جہاں اہم آئینی اور پالیسی معاملات زیر غور آئیں گے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

آپریشن غضب للحق اور خطے کی بدلتی حقیقتیں

Published

on


حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’’غضب للحق‘‘ میں پانچ روزہ عارضی وقفے کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان نے اس وقفے کا اعلان نہ صرف اپنے طور پر کیا بلکہ برادر اسلامی ممالک کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی اور اسلامی دنیا میں اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔

ماضی میں کئی بار پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس بار ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم مسئلہ ان عناصر کا ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔

پاکستان کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی معقول ہے جس پر افغانستان حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو افغان طالبان کو اس معاملے میں واضح اور موثر اقدامات کرنے سے روکتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان حکومت خود اندرونی اور بیرونی پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے ، دوسری طرف مختلف عسکری گروہوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ایک حقیقت ہیں۔

تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک ریاست کے طور پر افغانستان کو اپنی سرزمین کے پرامن استعمال کی ذمے داری لینا ہوگی۔کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک نہ صرف منظم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنائے اور ایسے خطرات کا بروقت سدباب کرے۔ افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید اپنی جگہ، مگر پاکستان کا یہ کہنا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، معاملے کو واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔اس پورے تناظر میں بھارت کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔

یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ بھارت کا یہ گھناؤنا کردار نیا نہیں، بلکہ ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آتے رہے ہیں جو اس کے تخریبی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا یہ فیصلہ اگرچہ وقتی ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا قدم ہے جو نہ صرف اس کی داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دیگر فریقین بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اقدام ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ محض ایک عارضی وقفہ بن کر رہ جائے گا جس کے بعد پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا پڑے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending