Today News
مہنگا پٹرول، عوام پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ
وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271.27 جب کہ ڈیزل 496.97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایکسپریس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں درآمدی قیمت اس پر عائد ڈیوٹی ٹیکسوں کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کرایوں میں 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔لاہور سے کراچی کا کرایہ ایک لاکھ دس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 80 ہزار روپے ہو گیا، لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے کردیا گیا۔
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکومتی فیصلوں کی سمت نہ صرف معاشی اشاریوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے حکومت نے عالمی حالات، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی اور ناگزیر فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب اس کے اندرونی پہلوؤں، حکومتی ترجیحات اور معاشی ڈھانچے کی کمزوریوں کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک نظر آتی ہے۔
پاکستان کا توانائی کا ڈھانچہ تاریخی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا رہا ہے۔ یہ انحصار محض ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ پالیسی سازی کی ناکامیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ ماضی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں، تب بھی توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ نہ قابل تجدید توانائی کے منصوبے اس رفتار سے آگے بڑھے جس کی ضرورت تھی، نہ ہی مقامی وسائل جیسے تھر کے کوئلے، ہائیڈرو پاور یا شمسی توانائی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً آج جب عالمی سطح پر بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اور شدید اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یقیناً ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس بحران کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کر دینا ہی واحد راستہ تھا؟ حکومت نے ایک طرف یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جب کہ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔ یہ تضاد عوامی سطح پر بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔معاشی پالیسیوں کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ بحران کے وقت بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
ٹیکس نظام پہلے ہی محدود دائرے میں کام کر رہا ہے، جہاں چند طبقات مسلسل بوجھ اٹھا رہے ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور استثنیٰ موجود ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی بارہا تنقید کی زد میں رہی ہے، مگر اصلاحات کے دعوے عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ ایسے میں پٹرولیم لیوی کا سہارا لے کر ریونیو بڑھانا ایک آسان مگر نقصان دہ راستہ ہے، جو معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل ایک چین ری ایکشن کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ حالیہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں 60 سے 65 فیصد تک اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بوجھ کس تیزی سے عام آدمی تک منتقل ہو رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹا دکاندار اس اضافے کو کس طرح برداشت کرے گا، اس کا کوئی واضح جواب حکومتی پالیسیوں میں نظر نہیں آتا۔
یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں خوراک کی بنیادی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ انتظامی ناکامی، مارکیٹ ریگولیشن کا فقدان اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل ہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کی جاتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں بدانتظامی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، لائن لاسز، بجلی چوری اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل نہ صرف حل طلب ہیں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان نقصانات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان اداروں کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے؟ یا ہر بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے؟حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے دعوے بھی حقیقت سے زیادہ قریب نہیں لگتے۔
اگرچہ وزراء کی تنخواہوں میں کمی اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی جیسے اعلانات کیے گئے، مگر مجموعی طور پر سرکاری اخراجات میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بیوروکریسی کے اخراجات، سرکاری مراعات اور غیر ضروری منصوبے بدستور جاری ہیں۔ ایسے میں جب عوام سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ یکطرفہ محسوس ہوتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے بھی اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ہیں۔ قرضوں کے حصول کے لیے حکومت کو سخت شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، جن میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہوتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط کو قبول کرنے سے پہلے کوئی متبادل حکمت عملی تیار کی گئی؟ کیا معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے کوئی طویل المدتی منصوبہ موجود ہے؟
پاکستان کی معاشی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بار بار بیرونی قرضوں پر انحصار نے معیشت کو کمزور کیا ہے۔ ہر حکومت قلیل المدتی ریلیف کے لیے طویل المدتی مسائل کو نظرانداز کرتی رہی ہے۔ نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ ایک قسط کی ادائیگی کے لیے بھی نئے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اس کا آسان ترین ذریعہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ درآمدی قیمت، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کے درمیان فرق عوام کے لیے قابل فہم نہیں ہوتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے قیمتوں کے تعین کا مکمل اور شفاف نظام متعارف کروانا ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حالیہ اضافہ ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جب مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے تو اس کا اثر براہ راست مہنگائی پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک معاشی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھتی ہے، دوسری جانب آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر اقدامات کرے۔ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور مستحق طبقے کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل المدتی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔اگر موجودہ پالیسیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا اور عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ ریاست کا بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، نہ کہ ہر بحران کا بوجھ ان پر ڈال دے۔یہ وقت محض بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام کا راستہ عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے اور یہ اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب فیصلے شفاف، منصفانہ اور عوام دوست ہوں۔ بصورت دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔
Today News
جنگی طیارے کی تباہی سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایف 16 طیارے کی تباہی کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال جنگی نوعیت کی ہے اور ایسے حالات میں اس طرح کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ہے اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ لاپتا عملے کے رکن کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے امریکا کے تین جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان طیاروں کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے آنے والے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عملہ زخمی ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق امریکا کے جدید ایف 35 طیارے کو وسطی ایران میں نشانہ بنایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک اے 10 طیارہ بھی تباہ کیا گیا، قیشم جزیرہ کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر ایجنسی کو امریکی لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
Source link
Today News
غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں
برطانیہ اور یورپ میں صنعتی انقلاب کے ساتھ معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں ہونی شروع ہوگئیں۔ پہلی دفعہ متوسط اور مزدور طبقہ وجود میں آیا۔ کسانوں نے اپنے آبائی پیشہ ، چھوڑ کر شہروں کا رخ کیا۔ نئے شہر آباد ہوئے اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ سیاسی جماعتیں قائم ہوئیں۔ مزدور اور کسان تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دانشوروں کے ایسے گروہ معاشرے میں نظر آنے لگے جو فرد کی آزادی اور ریاست کی تنظیم نو کے بارے میں نئے خیالات پیش کرتے تھے۔ اخبارات نے عام آدمی کے مسائل کو اہمیت دینی شروع کی۔
اس صورتحال کے منطقی نتیجے میں برطانیہ میں بادشاہ اور چرچ کا کردار زیرِ بحث آنے لگا۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ، بادشاہ اور چرچ کے درمیان تصادم ہوا۔ متوسط اور مزدور طبقہ کی سیاسی جماعتوں اور آزادی کا پرچار کرنے والے دانشوروں نے اس لڑائی میں پارلیمنٹ کی حمایت کی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں بادشاہ کے اختیارات میگنا کارٹا معاہدے کے ذریعے محدود ہوئے۔ چرچ کی ریاست کے امور میں مداخلت ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ نے Bill of Right کی منظوری دی۔ اسی طرح ریاست کی تنظیم نو کا آغاز ہوا۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں عوام کی ریاست پر بالادستی قائم ہونا شروع ہوئی۔ خواتین کی انجمنوں نے ووٹ دینے کے حق کے لیے ایک تاریخی جدوجہد کی۔ مزدور تنظیمیں کارل مارکس کے سوشل ازم کے نظریے کی علم بردار بن گئیں۔ اسی دوران سول سوسائٹی مستحکم ہونا شروع ہوئی۔ سول سوسائٹی کی تعریف یوں کی گئی :
“Civil society is like the backbone of a democracy, yaar! It’s the glue that holds the system together, making sure the government stays accountable to the people.In Pakistan, civil society plays a crucial role in:- Promoting transparency and accountability- Advocating for human rights and social justice- Providing a platform for marginalized voices- Encouraging civic engagement and participation.”
برطانیہ اور یورپی ممالک میں سول سوسائٹی جمہوری نظام کے استحکام میں بنیادی ستون بن کر سامنے آئی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے انسانی حقوق کے تحفظ، آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے لیے ماحول کو سازگار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سول سوسائٹی کی کوششوں سے غلامی کا ادارہ ختم ہوا۔ معاشرے کے پسماندہ طبقات، مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے مردوں کے برابر حقوق کے لیے سول سوسائٹی نے رائے عامہ ہموار کی۔ ریاست کے نظام کو شفاف انداز میں چلانے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام کے جاننے کے حق (Right to know) کو تسلیم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بنیادی کردار ادا کیا۔
سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سول سوسائٹی کے ایجنڈا کو اپنایا، یوں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پسماندہ طبقات کی بہبود اور بنیادی شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔ بھارت میں سیکولر جمہوریت کے استحکام، مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ۔یہی وجہ تھی کہ بھارت کی تاریخ کے اہم موضوع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان اپنے قیام کے فوری بعد امریکا کا اتحادی بن گیا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونا شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں سیاسی کلچر کمزور ہوا اور سیاسی جماعتیں عوام سے دور ہونے لگیں۔ اگرچہ وکلاء ،صحافیوں، دانشوروں اور ادیبوں کی تنظیموں نے سیاسی عمل کے خاتمے پر ایک احتجاج شروع کیا مگر فوری طور پر اس احتجاج کے اثرات سامنے نہیں آئے، البتہ جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے سیاسی عمل کو پیچھے دھکیل دیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سول سوسائٹی کا ادارہ جو پہلے ہی کمزور تھا مزید کمزور ہوگیا۔ وکلاء کی تنظیموں نے اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود بنیادی شہری حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ صحافیوں کی نمایندہ تنظیم پی ایف یو جے نے آزادئ صحافت کو درپیش مسائل کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پسماندہ طبقات کی آوازوں کو شدید جھٹکا لگا۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ مزدور تحریک مشکلات کا شکار ہوگئی۔ فری مارکیٹ کے نظریے کے تحت استحصال کے نئے طریقے راج ہوگئے۔ مذہبی انتہاپسندی کے طوفان نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی۔ اس دوران پاکستان میں سول سوسائٹی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے طاقتور آواز بن کر سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دوراب پٹیل ، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو سپریم کورٹ میں غیر قانونی قرار دینے کے لیے متحرک وکیل عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں سول سوسائٹی میں نیا کردار ابھر کر سامنے آیا۔
انسانی حقوق کمیشن نے مزدوروں کے حقوق ، بائنڈڈ لیبر کے خاتمے اور پسند کی شادی جیسے اہم مسائل پر مختلف نوعیت کی تحقیق کی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے عدالتوں میں لڑائیاں لڑیں۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی ریاست کے تمام ستونوں پر بالادستی، آئین میں کی گئی غیر جمہوری ترامیم کے خاتمہ ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور شہریوں کے جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے ایچ آر سی پی نے تاریخی مہمیں چلائیں۔ اسی طرح خواتین، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور ان طبقات کے حقوق کے لیے قانون سازی کے لیے ایچ آر سی پی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے انتہائی بنیادی کردار ادا کیا۔
انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن وغیرہ کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان رہنماؤں کو عالمی اعزازات دیے گئے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں جب چوہدری نثار وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کے دور میں غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف ایک نہ نظر آنے والا آپریشن شروع ہوا۔ ان کے دور میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی روک تھام کی ٹاسک فورس (Financial Action Task Force – FATF) نے انتہاپسند مذہبی تنظیموں پر جو پابندیاں عائد کیں، ان پابندیوں کا اطلاق انسانی حقوق اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں پر بھی کیا گیا، یوں یہ ڈیولپمنٹ سیکٹر سکڑنے لگا۔ جب بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر تنقید ہوئی تو حالات کچھ بہتر ہوئے۔
گزشتہ حکومت کے دور اقتدار میں حالات مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ ایچ آر سی پی نے گزشتہ دنوں Regulation or Restriction کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ این جی اوز (N.G.Os) کو ہر صورت حکومت پاکستان کے Economic Affairs Division سے ایم او یو (مفاہمی یادداشت) پر دستخط کرنا ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع کی سطح پر نئی این جی او کے رجسٹریشن کے لیے این او سی کا حصول لازمی کردیا گیا۔ اس طرح Provincial Charities Commission سے رجسٹریشن کو لازمی کردیا گیا۔
اب کسی این جی او کے بینک اکاؤنٹ سیل کرنے سے لے کر اس کے دفتر کو سیل کرنے کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکاء نے متفقہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا کہ یہ پابندیاں مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں تنظیموں پر حملہ کے مترادف ہیں۔ اس سیمینار میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ذیشان نے کہا کہ این جی او پر اس طرح کی پابندیوں سے صرف مظلوم طبقات ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ جمہوری نظام بھی متاثر ہوگا۔ ایک اور دانشور نسیم انتھونی کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے معاشرے کی دانش وارانہ روایت کمزور ہوجائے گی۔
ایک وکیل ثاقب جیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پالیسی کو جو انسانی حقوق کے چارٹر کے خلاف ہے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک رہنما نیلم حسن کا یہ موقف تھا کہ ہر صورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک اور سماجی کارکن بشرہ خالق نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اس کے طریقہ کار سے جنوبی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد کو اقوام متحدہ نے بھی سراہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی موقع ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں نئی حکمت عملی پر غور کریں۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئرمین راجہ اشرف نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بنیادی حقوق کو ایک منصوبے کے تحت واپس لیا جارہا ہے۔ اس سیمینار کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے سویلین اسپیس کم کررہی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرداں این جی اوز کو جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے۔ ان تنظیموں نے انسانی حقوق کی پاسداری کرکے ایک طرف عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کیا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ ابھر کر سامنے آیا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا جمہوری تشخص متاثر ہوگا ۔
Today News
اسلام آباد میں ایران-امریکا ‘بریک تھرو’ مذاکرات ہوتے ہوتے رہ گئے
پاکستان نے خلیجی جنگ روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بھرپور خاموش سفارتی کوشش کی اور دو مرتبہ یہ مذاکرات میں بریک تھرو ہوتے ہوتے رہ گیا۔
حکومت کے پس منظر میں ہونے والی سفارت کاری سے واقف ایک سینئر عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد حال ہی میں دو مختلف اوقات میں ایرانی عہدیداروں سے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے دورے کے لیے تیار ہوئے تھے۔
جے ڈی وینس کی دونوں دفعہ اسلام آباد کے دورے کی کوششیں عین وقت پر تہران کی جانب سے اندرونی مشاورت اور بالآخر شرکت کے خلاف فیصلے کے بعد ناکام ہوئیں۔
حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی وفد اپنے نائب صدر کی سربراہی میں گزشتہ چند روز میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو تیار تھا، ہم بہت قریب تھے، گزشتہ 10 روز کے دوران دو مرتبہ ہم انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار تھے بدقسمتی سے دونوں مواقع پر ایران نے نظرثانی کی اور اپنی ٹیم نہیں بھیجی۔
پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے غیرجانب دار کردار کی پوزیشن سرگرم انداز میں برقرار رکھی ہے اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر پیش کش بھی کیا ہے۔
یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد کی علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر کوششیں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورت حال کے پیش نظر کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
وفاقی حکومت کے عہدیدار نے نشان دہی کی کہ امریکا نے مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تھی جبکہ ایران موجودہ حالات کے تحت مذاکرات میں شمولیت کے خطرات کا زیادہ محتاظ انداز میں جائزہ لے رہا تھا، ‘مجھے کہنے دیجیے ہم ایرانی جواب سے کسی حد تک مایوس بھی ہوئے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘امریکا کے حوالے سے ان کے تحفظات حالیہ سفارتی پیش رفت کے تحت قابل فہم ہیں لیکن سفارت کاری کو ہمیشہ موقع دینا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے نازک موقع پر’۔
حکومتی عہدیدار نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے کی کوشش کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ تہران میں اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ مذاکرات کے لیے دورے کی تیاری کرلی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ طے شدہ دورہ سیکیورتی خدشات کے باعث نہیں ہوسکا اور ایرانی حکام کی جانب سے آگاہ کردیا گیا کہ موجودہ حالت کے پیش نظر سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات ممکن نہیں ہوگی جس کے باعث پاکستان کو اپنا دورہ مؤخر کرنا پڑا۔
حکومتی عہدیدار کے بیانات خطے میں جاری پس پردہ ہونے والی فعال سفارتی سرگرمیوں کی ایک بڑی جھلک کا عکاس ہیں، یہ ایسی کوششیں ہیں، جو عام طور پر زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں لیکن علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
پاکستان کا کردار یہاں ثالثی تک محدود نہیں رہا، اس کا سفارتی عمل اور خاص طور پر اسرائیل پر تنقید کو خلیج کے مخصوص ممالک میں مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا جس کا عکس 19 مارچ کو ریاض میں منعقدہ 12 مسلم ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا جہاں یہ ممالک خطے کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔
عہدیدار کے مطابق اجلاس سے چند لمحے قبل ترک اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی اور ہاکان فیدان نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا بعد میں اسحاق ڈار بھی اس فون کال میں شامل ہوئے، اس دوران عباس عراقچی نے دونوں ممالک سے درخواست کی کہ اجلاس کا مشترکہ بیان یک طرفہ یا ایران پر غیرمتناسب تنقید کے ساتھ نہیں ہو۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس انتہائی کشیدہ صورت حال میں ہوا تھا جب پورے ریاض میں ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے خطرات کے باعث سائرن بج رہے تھے۔
پاکستانی عہدیدار کے مطابق اجلاس کے دوران بیان کا ایک ڈرافٹ دیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر ایران کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، پاکستان نے ڈرافٹ کی زبان پر سخت اعتراض کیا اور مؤف دیا کہ اس میں بحران کی بنیادی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے حملوں کا ذکر نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے زور دیا کہ اعلامیہ متوازن ہونا چاہیے اور بنیادی مسائل نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں’ اور کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد پاکستان کو ڈارفٹ میں اہم ترامیم، غیرجانب داری یقینی بنانے اور الزامات میں کمی لانے میں کامیابی ملی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا یہ سخت مؤقف تمام شریک کاروں کو اچھا نہیں لگا، چند ممالک اسلام آباد کی پوزیشن پر ناخوش نظر آئے اور اس کو ایران کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردانہ طور پر دیکھا گیا۔
عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان سفارتی کوششوں کے علاوہ کسی ایسے فوجی یا سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے محتاط بھی رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں کثیرالملکی ٹاسک فورس کی ممکنہ تشکیل کی تجویز کی مخالفت کی ہے، ٹاسک فورس کے حوالے سے اقدام کو بعض لوگ ممکنہ طور پر اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔
یہ محتاط حکمت عملی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی، جس کا مقصد اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو معمول پر لانے کے اقدامات پر غور کرنا تھا، اسلام آباد نے دعوت مسترد کر دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اقدام پاکستان کے کشیدگی کم کرنے اور غیر جانب داری کی وسیع تر پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
Source link
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports7 days ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines7 days ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق
-
Today News2 weeks ago
امریکی غرور اور طاقت کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
-
Today News2 weeks ago
رمضان کے بعد ضبطِ نفس کا امتحان