Today News
میزائل وہاں، مہنگائی یہاں۔ ایران امریکا ٹکرائو کی قیمت
آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کا تقریباً 20فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اور جب کسی بھی جنگ یا کشیدگی سے یہ رستہ متاثر ہو تو پاکستان کی معیشت فوراً ہچکولے کھانے لگتی ہے اور پھر ہرمز کی بے چین لہریں کراچی سے خیبر تک مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیتی ہے۔ جولائی تا فروری 2026 ان 8ماہ کے دوران پاکستان سے 10ارب 2کروڑ 90لاکھ ڈالرز کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔ جب عالمی سطح پر تیل کی فی بیرل قیمت 60سے 70 ڈالر تھیں ، تادم تحریر تیل کی عالمی قیمت 115ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد مزید بڑھنے کے خدشات ہیں۔
ان حالات میں 30جون تک پاکستان کو تیل کی درآمدات میں مزید کئی ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔ حکومت نے تیل کی عالمی قیمت میں اضافے کے پیش نظر 55 روپے فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا اس کے بعد کئی مواقعے پر قیمت میں اضافے کی سفارش کی گئی لیکن حکومت کی طرف سے غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت اضافہ نہیں کیاگیا، مزید اضافے کی توقع اپنی جگہ موجود ہے لیکن کیے گئے اضافے کے باعث ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ دیکھاگیا۔
خوراک کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مکانات کے کرائے بڑھ گئے اور یوں ایک جنگ نے جو کہ امریکا اور ایران کے بیچ لڑی جا رہی ہے اس نے بغیر گولی چلائے پاکستان کے غریب عوام کی جیبوں پر حملہ کردیا ہے، اسی دوران غیر ملکی پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔ فضائی راستے غیر محفوظ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ٹکٹوں کی قیمتیں کہیں دگنی بھی ہوگئی ہیں، ہزاروں ٹریول ایجنٹس بیروزگاری، کاروبار کے مندہ ہونے کے باعث شدید نقصان کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور یہ عمل ٹریول ایجنسی کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔
ادھر لاکھوں پاکستانی جو خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں جنگ کے مزید طول پکڑنے کے باعث ان کا روزگار متاثر ہوگا، لاکھوں پاکستانی واپس آنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا ڈالرکا ذریعہ کمزور پڑجائے گا۔گزشتہ 8ماہ کے دوران برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کے باعث جولائی تا فروری 2026پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب تیل کے درآمدی بل بڑھنے کے باعث تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے اور یہ لگنے والا ایسا زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت بچت پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
سرکاری اخراجات کم کیے جا رہے ہیں مہنگائی کم کرنے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن اب اس طرف فوری توجہ دینا ہوگی کہ جو چیزیں ہم خود بنا سکتے ہیں، ان کو بنانے کی پلاننگ کی جائے۔ توانائی میں خود کفالت کے حصول کے لیے مقامی گیس اور تیل کی تلاش کا کام مزید تیز کیا جائے۔ ایران سے گیس لینے کے معاہدے کا جائزہ لیا جائے۔ رکاوٹوں کو دور کیا جائے خاص طور پر سولر انرجی کے حصول کی کوششیں تیزکی جائیں۔ ترکیہ سے کیے گئے زرعی معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار کو تیز کرکے ہم زراعت کو جدید بنا سکتے ہیں تو خوراک کی زائد پیداوار کے حصول سے مہنگائی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ وقت کی پکار یہ ہے کہ اگر آج ہم نے خود کو نہ بدلا تو کل ہر عالمی جنگ ہماری گھریلو مہنگائی بن جائے گی۔
پاکستان میں ہر عالمی جنگ کا پہلا دھماکہ بارود سے نہیں بلکہ غریب کی خالی جیب سے سنائی دیتا ہے۔ ایک غریب مزدور امریکا اور ایران کی جنگ کو نہیں سمجھتا، مگر مہنگائی کی زبان کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ جب آبنائے ہرمز کے تیور بدلتے ہیں تو اس کے چولہے کی آنچ مدہم پڑجاتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر بننے والی جنگی لکیرآٹے، دال ، سبزی کی قیمت میں کھنچ جاتی ہے ۔ یہاں میزائل کے اثرات سے مہنگائی نیا دھماکہ کرتی ہے، ٹینک وہاں چلتے ہیں کرایوں کا پہیہ غریب یہاں کچل دیتا ہے فوجیں وہاں لڑتی ہیں لیکن یہاں مزدور اور دکاندار روز الگ نئی جنگ لڑتے ہیں ہر عالمی تنازعہ پاکستان میں غربت، بھوک ، بیروزگاری کی خبر بن کر آتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ میزائل وہاں چلتے ہیں اور مہنگائی یہاں ہوجاتی ہے۔ امریکا ایران ٹکراؤ کی ایک قیمت پاکستان کا غریب ادا کررہا ہے گولی ہزاروں میل دور چلتی ہے، میزائل وہاں گرتے ہیں دھماکے ہوتے ہیں مگر اس کی گونج یہاں پٹرول پمپ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی ، جوڑیا بازار میں سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسی معیشت جو اپنی توانائی، اپنی خوراک، اپنی پالیسیوں میں خود مختار نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف دیکھتا ہے، اسی لیے ہر عالمی جھٹکے سے پاکستانی معیشت لرز کر رہ جاتی ہے۔
Today News
آئی ایم ایف سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ، مہنگائی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
اسلام آباد:
پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا، بجٹ میں مالیاتی گنجائش نہ ہو نے پرقیمتوں میں اضافہ کر دیا جائیگا،دوسری طرف تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی گزشتہ ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔
ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں مالیاتی گنجائش کی نشاندہی نہیں ہو جاتی، ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200ارب کی مالیاتی گنجائش نکالنے کیلیے صوبوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ بجٹ میں زیادہ سبسڈی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدگی سے نظرثانی کی اجازت جاری رہے گی جب تک کہ اضافی گنجائش نہیں نکلتی، حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنسز میں کمی اور پچھلی سہ ماہی کے غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی سے 27 ارب روپے بچائے ہیں وفاقی ترقیاتی بجٹ سے مزید 100 ارب روپے کم کر دیئے گئے ہیں۔
تاہم حکومت کے اندر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طلب کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر اس جمعہ کو قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے باوجود گزشتہ ماہ کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت نے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایم ایف نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو دور کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کیلئے سہ ماہی وظیفے کو اگلے سال جنوری سے 35 فیصد بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کی نئی شرط بھی عائد کر دی ہے تاہم امداد میں 5ہزار روپے کا سہ ماہی اضافہ درمیانی آمدنی والے گروپوں پر اثرات کو پورا نہیں کر سکتا۔
بی آئی ایس پی امداد سے جون تک مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی دو لاکھ سے بڑھ کر 10.2 ملین تک پہنچ جائیگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جنوری 2027 سے غیر مشروط کیش ٹرانسفر کی رقم 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کے لیے مفاہمت ہو گئی ہے جو عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرط ہے،یہ اضافہ مہنگائی کے اثرات کو دور کرنے کے لیے کافی ہو گااور کم آمدنی والے طبقے کی جانب سے استعمال کی جانے والی بنیادی خوراک کی قیمت کے 15 فیصد کے قریب لے جایا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ مشروط منتقلی کے حصے کے طور پر، صحت اور تعلیم کی اسکیموں کے تحت تقریباً 7لاکھ مزید مستفید کنندگان کو شامل کیا جائے گا اور مزید 2لاکھ کو بی آئی ایس پی کے ذریعے چلائے جانے والے نیوٹریشن پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 1.2 بلین ڈالر کے قرض کی اقساط کی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹاف لیول سطح پر مشروط معاہدے تک پہنچنے سے پہلے آئی ایم ایف کو قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
اس سلسلے میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عدالتی مقدمات سے 322 ارب روپے ریونیو کمانے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایندھن کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 20 فیصد اضافہ کر کر کے قیمتیں برقرار رکھی ہیں تاہم حکومت اب بھی پٹرول پر غیر معقول حد تک زیادہ ٹیکس لگا رہی ہے جو اس سبسڈی سے کہیں زیادہ ہیں جو حکومت مصنوعات پر دے رہی تھی۔
دوسری جانب ادارہ شماریات کی گذشتہ روزکی رپورٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی جو گزشتہ 17ماہ کی بلند ترین سطح تھی تاہم یہ اب بھی حکومت کی توقعات سے کم اور سالانہ ہدف کی حد کے اندر تھی۔
گزشتہ ماہ خوراک کی قیمتوں کی بڑھنے کی شرح مزید کم ہوئی لیکن شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں غیر خوراکی قیمتوں میں اضافہ ہوا، گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ ماہ پٹرول میں 18 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔
غیر غذائی اور دیگر اشیاکی قیتمیں بھی گزشتہ ماہ بڑھ کر شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.4 فیصد تک پہنچ گئی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شرح سود میں اضافے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ سالانہ افراط زر کی شرح 7.5 فیصد کے ہدف سے بڑھ جائے۔
تاہم کوئی بھی عارضی تبدیلی شرح سود میں اضافے کی بنیاد نہیں بننا چاہیے ، اس سے معیشت مزید سست ہو سکتی ہے۔
Today News
مصنوعی ذہانت، 6 ہزار طلبہ کو تربیت دینے کامعاہدہ طے
اسلام آباد:
پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت ،مصنوعی ذہانت سے متعلق تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔
دستخط چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے۔
معاہدے کے تحت ملک بھر کی تقریباً 100 جامعات میں چھ ہزار طلبہ کو تربیت دی جائے گی، جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تعلیمی ادارے بھی شامل ہوں گے۔
اس موقع پررانا مشہود احمد نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی مہارتوں اور عالمی مقابلے کا میدان ہے۔
طلبہ کی رجسٹریشن کا عمل actaiaiskillbridgepk پر جاری ہے۔پروگرام کے آغاز کو باضابطہ طور پر لانچ کرنے کے لیے جلد قومی سطح پر ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔
Today News
ڈنمارک میں تاریخ رقم، ماں سے بچے میں ایچ آئی وی منتقلی کا خاتمہ، ڈبلیو ایچ او کی تصدیق
ڈنمارک دنیا کا پہلا یورپی یونین ملک بن گیا ہے جس نے ماں سے بچے میں موذی مرض ایچ آئی وی کی منتقلی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا سنگ میل حاصل کر لیا ہے جس کی تصدیق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کر دی۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہنم گیبریسیس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی عوامی صحت کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط حکومتی عزم اور صحت کے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری سے حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو ان بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ڈنمارک نے 2021 سے 2024 کے دوران تمام اہداف حاصل کیے جن میں بیماری کی منتقلی کی کم ترین شرح اور حمل کے دوران ٹیسٹنگ و علاج کی اعلیٰ سطح شامل ہے۔
یورپ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ہینس ہینری پی کلوگ نے کہا کہ یہ کامیابی ڈنمارک کے مضبوط نظامِ صحت اور ہر حاملہ خاتون تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے عزم کا نتیجہ ہے۔
ڈنمارک کی وزیر صحت نے اس کامیابی کو ملک کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق یونیورسل ہیلتھ کوریج حمل کے دوران مربوط اسکریننگ اور مضبوط ڈیٹا سسٹم اس کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ اب ڈنمارک ہیپاٹائٹس بی کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے تاکہ ٹرپل ایلیمینیشن کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper