Connect with us

Today News

میکسیکو، فوجی آپریشن میں بدنام زمانہ کارٹیل سربراہ ہلاک، ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے

Published

on



MEXICO CITY:

میکسیکو کی وزارت دفاع کے مطابق مغربی ریاست جالسکو میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں بدنام زمانہ کارٹیل کا سربراہ نیمیسیو اوسیگوئرا المعروف ایل مینچو شدید زخمی ہوا جو میکسیکو سٹی منتقل کرتے ہوئے دم توڑ گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایل مینچو طاقتور  جیلسکو نیو جنریشن کارٹل (سی جے این جی) کا سربراہ تھا، جس نے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر منشیات اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کی شکل اختیار کرلی تھی اور حریف سینالوا کارٹل سے مقابلہ کر رہا تھا، جس کی قیادت گرفتار ڈرگ لارڈ جواکین ایل چیپو گزمان کر چکا ہے۔

کارروائی کے بعد ملک بھر میں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے، متعدد ریاستوں میں گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں اور مسلح افراد نے شاہراہیں بند کردیں۔ جالسکو کے گورنر پابلو لیموس ناورو نے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی جبکہ امریکی حکام نے بھی احتیاطی الرٹ جاری کیا۔

یہ کارروائی میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤم کی حکومت پر امریکی دباؤ کے تناظر میں کی گئی، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منشیات کے خلاف سخت اقدامات کے مطالبات سامنے آئے تھے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایل مینچو کی ہلاکت کو خطے کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا۔

دوسری جانب تشدد کے خدشات کے باعث ایئر کینیڈا نے ساحلی شہر پوئرٹو ولارٹا کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بنگلہ دیش انتخابات : مذہبی جماعتیں کیوں ناکام ہُوئیں؟

Published

on


بنگلہ دیش میں12 فروری کو ہونے والے معرکہ آرا پارلیمانی انتخابات اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔ بارہ کروڑ50لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی اپنی مرضی و منشا سے استعمال کیا۔50سے زائد سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا، مگر 42سیاسی جماعتیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں ۔ سات سیاسی جماعتوں کو صرف ایک ایک سِیٹ پر کامیابی مل سکی ہے۔ وہ پھر بھی مطمئن ہیں۔

یہ انتخابات شفاف بھی کہے گئے ہیں اور غیر جانبدار بھی ۔ اِکا دُکا ناقابلِ ذکر واقعات کے سوا، بنگلہ دیشیوں نے تمام پولنگ اسٹیشنز کو پُر امن رکھا۔ مذکورہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے عالمی اداروں ، انٹرنیشنل آبزرورز، بنگلہ دیش پہنچنے والے سیکڑوں غیر ملکی صحافیوں اور یورپین یونین ، سبھی نے بیک زبان اقرار و اعتراف کیا ہے کہ 12فروری کے بنگلہ دیشی انتخابات فیئر اینڈ فری تھے ۔یوں ہم نوبل انعام یافتہ ( پروفیسر محمد یونس) کی زیر نگرانی بنگلہ دیش کی (سابقہ) عبوری حکومت کو شاباش دے سکتے ہیں ۔

مذکورہ بنگلہ دیشی انتخابات میں ’’عوامی لیگ‘‘ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم(شیخ حسینہ واجد) پر متعدد سنگین الزامات عائد تھے ۔ اِسی وجہ سے حسینہ واجد کی حکومت اگست2024میں ختم ہو گئی تھی اور حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پناہ گزیں ہو گئی تھیں ۔ موصوفہ اب تک وہیں ہیں۔ حسینہ واجد کی غیر حاضری میں بنگلہ دیشی عدالت نے اُنہیں سزائے موت بھی سنائی۔ پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت نے بھارت سے کئی بار مطالبہ کیا کہ مجرم و سزا یافتہ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے ۔ یہ مطالبہ مگر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔

بارہ فروری کے انتخابات کا ایک اہم منظر یہ بھی سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کے جن انقلابی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے حسینہ واجد کا تختہ اُلٹ کر نئی سیاسی جماعت(NCP)بنائی تھی ، وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔’’این سی پی ‘‘ کے سربراہ ناہید اسلام ہیں۔ اُن کی پارٹی صرف 7سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔ حالانکہ اندازے یہی تھے کہ NCPبھاری اکثریت سے انتخابات جیتے گی ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و انتخابات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ یعنی ’’این سی پی‘‘ کو اس لیے انتخابات میں شکست ہُوئی ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کیا تھا ۔

اندازے اور توقعات تو یہ بھی تھیں کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( جس کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ہیں)، بھی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر حکمران جماعت بن جائے گی ۔ ہم نے تو اِنہی اندازوں اور قیافوں کی اساس پر اِنہی صفحات پر ’’ کیا جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا اقتدار سنبھالنے کو تیار ہے؟‘‘ کے زیر عنوان کالم بھی لکھ دیا تھا ۔ مگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ، دیگر کئی بنگلہ دیشی مذہبی جماعتوں کی طرح، ایسی بھاری کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہے کہ بنگلہ دیش کے اقتدار پر براجمان ہو سکے ۔

عام پارلیمانی انتخابات نے یہ سنہری اور تاریخی موقع BNP ( بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کو عطا کیا ہے ۔ بی این پی دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کر کے حکمران جماعت بن چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بھی بن چکے ہیں اور 24رکنی کابینہ بھی تشکیل دے چکے ہیں ۔جناب طارق رحمن کے والد گرامی( جنرل ضیاء الرحمن مرحوم ) بھی بنگلہ دیش کے صدر تھے( پارٹی کے بانی بھی) اور اُن کی والدہ محترمہ( خالدہ ضیاء مرحومہ) بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی ہیں ۔

 بنگلہ دیش کے بارہ فروری2026کے انتخابات میں اصل مقابلہ ’’بی این پی ‘‘ اور ’’جماعتِ اسلامی ‘‘ ہی میں تھا۔ جماعتِ اسلامی کو مگر صرف 77سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ بھی عظیم الشان انتخابی کامیابی ہے۔ خاص طور پر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنی سیٹیں تو کسی جنرل الیکشن میں پاکستان کی جماعتِ اسلامی کو بھی پچھلے78برسوں میں کبھی نہیں مل سکی ہیں۔

اِس پس منظرمیں بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کی یہ کامیابی ایک عظیم الشان کامیابی ہی نظر آنی چاہیے۔ مگر جماعتِ اسلامی کے نقادوں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت ِ اسلامی کو انتخابی شکست ہُوئی ہے ۔ حتمی انتخابی نتائج کے بعد بظاہر تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ ویسے بنگلہ دیش کی کئی دیگر اسلامی ومذہبی جماعتوں کو حالیہ تازہ انتخابات میں زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر :بنگلہ دیش خلافت مجلس کو 2، اور خلافت مجلس( زی) و اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے محض ایک ایک سِیٹ جیتی ہے۔بنگلہ دیش میں بروئے کار ’’جمعیت العلمائے اسلام‘‘ (جس کے سربراہ مولانا ممنون الحق ہیں) تو ایک بھی سِیٹ نہیں جیت سکی ، حالانکہ اِس جماعت کے بنگلہ دیش کی تبلیغی جماعت میں گہرے اثرات ہیں ۔

 جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ بیان کرتے ہُوئے مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ بنگلہ دیش کی کئی مذہبی جماعتیں بھی جماعتِ اسلامی کے خلاف تھیں ۔ مثلاً: جے یو آئی کے دو بڑے علماء نے جماعتِ اسلامی کے خلاف فتویٰ دیا کہ اِسے ووٹ دینا حرام ہے۔ اِسی طرح بنگلہ دیش کی بریلوی جماعت کے وابستگان نے بھی جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیے ۔‘‘ اگر ہم ’’برکلے سینٹر‘‘ میں شائع شدہ لامیا کریم کا تفصیلی مقالہ بعنوان Tableghi Jamaat and Regulation of Women in Bangladeshکامطالعہ کریں توسمجھ آ جاتی ہے کہ بنگلہ دیش کی ’’جمعیت العلمائے اسلام‘ کو بارہ فروری کے انتخابات میں زبردست شکست کیوں ہُوئی ؟ ہمارا بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش توقعات کے مطابق بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی ؟ بعض باخبر حلقے اور بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی پر کڑی نظر رکھنے والے محققین کا دعویٰ ہے کہ اِس انتخابی شکست کے اصل ذمے دار خود امیرِ جماعت ہیں۔

انتخابات کی گرمی کے عین درمیان میں جماعتِ اسلامی کے ایک معروف لیڈر ( ٹھاکر گاؤں ضلع کے امیر بلال الدین) ائر پورٹ پر نقد 50لاکھ ٹکہ کے ساتھ گرفتار کیے گئے ۔ حالانکہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت نے بہتیرا شور مچایا کہ یہ رقم کسی انتخابی مقصد کے لیے نہیں تھی ، بلکہ اُن کی کاروباری تھی، مگر جماعت کے مخالفین نے اِس بنیاد پر بے حد منفی پروپیگنڈہ کیا ۔

پھر انتخابات سے قبل امیرِ جماعت ، ڈاکٹر شفیق الرحمن ، سے منسوب ایک ایسے ٹویٹ میسج نے خواتین ووٹروں کو بددل کر دیا جس میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی خواتین کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ۔ جماعتِ اسلامی نے سوشل میڈیااور مین اسٹریم میڈیا پر اِس کی وضاحت کرتے ہُوئے بہت کہا کہ ’’امیرِ جماعت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرکے یہ میسج ٹائپ کیا گیا‘‘ مگر تب تک ٹوئیٹر میسج اپنا منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کر چکا تھا ۔ بعد ازاں اِس ٹویٹ میسج کو جماعت والوں نے ڈیلیٹ بھی کر دیا ۔

انتخابات سے چند دن قبل امیرِ جماعت بنگلہ دیش( ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب) نے ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافی(معصوم باللہ) کو جو تفصیلی انٹرویو دیا تھا، اِس نے بھی بنگلہ دیشی خواتین ووٹروں کو جماعت سے دُور کر دیا ۔ خواتین بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں امیرِ جماعت نے کہا تھا:’’ مرد بچہ جَن سکتا ہے نہ مرد اپنی چھاتی سے بچے کو دُودھ پلا سکتا ہے ۔ہم اللہ کی تقسیم نہیں بدل سکتے ۔ہم خواتین کو الیکشن لڑنے کے لیے جماعت کا ٹکٹ دے سکتے ہیں نہ کوئی خاتون جماعت کی سربراہ بن سکتی ہے ۔‘‘اِس بیان پر جماعتِ اسلامی کی مخالف جماعتوں نے یہ کہہ کر کہ ’’جماعتِ اسلامی خواتین کی برابری کی دشمن ہے ‘‘ اور یہ کہ’’ جماعتِ اسلامی خواتین کے بنیادی حقوق بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہے ‘‘ ، خوب منفی پروپیگنڈہ کیا۔

جماعت کے خلاف انتخابی بھَد اُڑانے کی کوششیں کی گئیں ۔ جماعت مخالف بعض بنگلہ دیشی ’’دانشوروں‘‘ نے تو یہاں تک کہا کہ ’’ایران اور افغانستان میں مقتدر مذہبی جماعتیں خواتین سے جو سلوک کررہی ہیں ، کیا اِس پیش منظر میں بنگلہ دیشی خواتین جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے کا رِسک لے سکتی ہیں؟۔‘‘ گویا جماعتِ اسلامی کو ہرانے کے لیے کئی قوتیں میدان میں کود پڑی تھیں ۔ بھارت کا خفیہ ہاتھ الگ کارفرما تھا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کے ووٹ بھی جماعت کی حریف(بی این پی کو) پڑے ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Today News

قرضوں، ٹیکسوں کا بوجھ، پاکستانی معیشت شدید دباؤ کا شکار

Published

on


پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ملک کی مسلسل مالی بے ضابطگیاں اسے بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبورکردیتی ہیں، جہاں وقتی ریلیف تو ملتا ہے، بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جو تقریباً مکمل طور پر سودی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔

صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خالص سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ماہرین ایک ممکنہ مالیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے دو ہی ذرائع ہیں، ٹیکس اور قرضہ، تاہم پاکستان ٹیکس وصولیوں میں مسلسل ناکام رہا ہے، جبکہ قرض لینے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا ہے۔

بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم نئی بیرونی فنانسنگ سے زیادہ ہو چکا ہے، جو تشویشناک امر ہے، گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹیکس پالیسی ایسی ہونا چاہیے جو کام اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں دبا دے، تجاویز میں سادہ اورکم شرح والے ٹیکس نظام، وسیع ٹیکس بنیاد، غیرضروری چھوٹ اور استثنیٰ کے خاتمے، آزادتجارت کے فروغ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم مالیاتی پالیسی اور نجکاری شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ریاستی ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں اور انہیں شفاف طریقے سے نجی شعبے کے حوالے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار اور تیزرفتار معاشی ترقی ہی واحد حل ہے، جس کیلیے مقامی سطح پر تیارکردہ اصلاحات ناگزیر ہیں، ان کے مطابق بیرونی سہاروں پر انحصار کے بجائے  اصلاحات کے ذریعے ہی ملک کو معاشی بحالی کی راہ پرگامزن کیا جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نظام شمسی – ایکسپریس اردو

Published

on


نظام شمسی کے چار سیارے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اُن کے سائز چھوٹے ہیں لیکن اُن کی سطح سخت ہے ۔ اگر نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر چلے جائیں تو یہاں پر جو سیارے نظر آئیں گے وہ گیسز سے بنے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے سائز کے ہیں ۔ سب کے گرد رنگز ہیں ۔

ان کے چاند بہت کم ہیں ۔ اور ان کا سورج سے فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا سورج 4.5 بلین سال پہلے جب پیدا ہوا تو اس وقت سورج کی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ تمام چیزیں گیسوں کی شکل اختیار کر گئیں، سورج بنا تو اس کے گرد درجہ حرارت بہت زیادہ تھا ۔ میٹلز سب سے پہلے لیکوڈ فارم میں آئے اس طرح دوسرے سیاروں کی شکل میں بھی آنا شروع ہو گئے ۔ یہ سارے سیارے میٹلز اور ڈسٹ کی شکل میں وجود میں آئے ۔

اگر ان چٹانوں کو دیکھا جائے تو پہلے دو سیارے مرکری اور وینس سورج کے بہت قریب ہیں ۔ اس لیے ان کا ٹمپریچر بہت زیادہ ہے ۔لیکن زمین کے ساتھ ایک اور سیارے مریخ پر بھی پانی پایا جاتا ہے ۔ یہ جگہ انسان کے لیے بہت موزوں ہے ۔ جب کہ وینس اور مرکری میں پانی اسٹیم کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن سورج کا ایریا آہستہ آہستہ جب پھیلے گا تو گولڈن کور آہستہ آہستہ دور ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں زمین کا پانی بھی بھاپ بن جائے گا۔

جب یہ سارے سیارے معرض وجود میں آرہے تھے تو اس وقت ابتداء میں ہماری کائنات بہت زیادہ تباہی کا شکار تھی اور چیزیں ایک دوسرے سے ٹکر ا رہی تھیں اور اس کی وجہ ہمیں چاند سے معلوم ہوتی ہے ۔ جب اپالو مشن چاند پر گیا اور وہاں سے 380کلو گرام راک اٹھا کر لایا تو چاند کے کئی چٹانی حصے ایسے تھے جو زمین کی چٹانوں جیسے تھے ۔سائنسدانوں نے اس پہلو پر بہت زیادہ غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچے ۔سورج جب وجود میں آیا تھا تو ابتداء میں اس کے گرد بیس سیارے چکر لگا رہے تھے ان میں ایک سیارہ جو مریخ جتنا تھا اور اس کا نام ہے تھیا وہ زمین سے آکر ٹکرایا تو بہت تباہی ہوئی۔ چٹانیں آہستہ آہستہ جو زمین اور سیارے سے نکلی تھیں وہ زمین کے گرد چکر لگانا شروع ہو گئیں اور اکٹھی بھی ہوتی چلی گئیں ۔

اس طرح سے چاند معرض وجود میں آیا ۔ آج ہم ان ساری چٹانوں کو چاند کی شکل میں دیکھتے ہیں اور یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کہ چاند ابتداء ہی سے وجود میں آگیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ چاند سورج بننے کے کچھ عرصہ بعد وجود میں آیا جب دوسیارے آپس میں ٹکرائے ۔ ایسٹرائیڈ بھی نظام شمسی میں پائے جاتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد دس ہزار اور لمبائی ایک میل ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسٹرائیڈ ہمارے بہت قریب ہیں جب کہ یہ ہم سے دس لاکھ میل دور واقع ہیں ۔

نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر جائیں گے تو وہاں پانی مائع شکل میں نہیں ملے گا بلکہ آئسی شکل میں ملے گا۔ ٹمپریچر یہاں پر بہت کم ہے ۔ یعنی مائنس 70سینٹی گریڈ ہے ۔ یہ وہ ٹمپریچر ہے جس میں گیسز ہائیڈروجن میتھین اور ایمونیا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جب ان گیسز کا سائز زمین سے 10گنا بڑھ جاتا ہے تو اس کا ایک اثر ہوتا ہے جسے سونا بال اثر کہتے ہیں ۔ یہاں پر جیوپیٹر اور Saturnموجود ہیں جن کے سائز بھی بہت بڑے ہیں ۔ جیو پیٹر 90فیصد گیسز سے بنا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ہمیں فائدہ بھی بہت ہے کیونکہ یہ زمین کے لیے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا ہے ۔یعنی جب بھی زمین کی طرف کوئی ایسٹرائڈ اور کومٹ آنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سب سے پہلے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اس طرح سے زمین اوراس کے باسی محفوظ رہتے ہیں ۔ چنانچہ جیوپیٹر سیارہ ہمیں باہر کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔

Saturn کے رنگز بہت زیادہ مشہور ہیں ۔ اگر Saturnذراسا بھی بڑا ہوتا یعنی جیوپیٹر کے سائز کا تو پھر یہ دونوں دیو مل کر باقی تمام سیاروں کو کھا جاتے اس لیے اس کا سائز جیو پیٹر سے چھوٹا ہونا نظام شمسی کی بقاء اور زمین پر انسانی حیات کا باعث ہے ۔ جب ہم سورج سے چالیس بلین میل فاصلے پر جاتے ہیں تو ہم کو ایک ایسی بیلٹ ملتی ہے جس کو کوپر بیلٹ کہا جاتا ہے ۔ اس میں بہت سے اسٹرائڈ موجود ہوتے ہیں اور یہ ہمارے سولر سسٹم کی بیرونی باؤنڈری بناتے ہیں اگر اس سے ہم آگے جائیں تو اوٹ کلاؤڈ ہے جس نے ہر طرف سے ہمارے نظام شمسی کو کور کیا ہوا ہے جس طرح مثال کے طور پر چھلکے نے کینو کو کور کیا ہوتا ہے ۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک نوری سال کا سفر کرنا پڑے گا اور یہ ہے ہمارے نظام شمسی کی آخری حد ۔اس کے بعد ہمارے سولر سسٹم کا باقاعدہ اختتام ہو جاتا ہے ۔

کائنات کا آخری سچ جاننے کے لیے نہ جانے انسان کو کتنے نوری سال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ جب کہ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق کائنات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending