Today News
میگا کرپشن کی تصدیق ہو گئی
پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں ’’احتساب‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، عوام بھی اتنی بھولی ہے کہ ہر جماعت سے یہ امید باندھ لیتی ہے کہ وہ واقعی ملک و قوم کی جڑوں میں سرایت کر جانے والے کرپشن کے زہر کا تریاق کرے گی لیکن کچھ عرصہ بعد علم ہوتا ہے کہ ’’کرپشن مکاؤ‘‘ کا دعوی کرنے والی حکومت میں ہی سب سے زیادہ’’مک مکاؤ‘‘ ہوا ہے،پاکستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہمارا سیاست دان اخلاقی اور مالی کرپشن کا شکار ہے اور اسی کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں تو یہ رواج بن گیا ہے کہ کرپشن کرنے کو ’’حق‘‘ سمجھا جانے لگا ہے ،کسی دور میں صرف سفارش پر کام ہوجاتا تھا اب سفارش کروانا الٹا گلے پڑجاتا ہے اور آخر کار ڈبل رشوت دے کر کام کروانا پڑتا ہے۔ویسے تو ہر سرکاری محکمے میں کرپشن موجود ہے لیکن چند محکمے ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم سب نے یہ تسلیم کر رکھا ہے کہ کرپشن میں ان کا مدمقابل کوئی دوسرا نہیں۔محکمہ خوراک پنجاب کا شمار بھی کچھ عرصہ قبل تک انھی خاص محکموں میں ہوتا تھا لیکن گزشتہ دو برس میں اس محکمے میں ہونے والی انقلابی اصلاحات اور سبسڈی میں انتہائی کمی نے کرپشن کے چور دروازوں کو بند کرنا شروع کر رکھا ہے۔
کئی دہائیوں تک عوام کو سبسڈائزڈ آٹا فراہم کرنے کے لیے کسانوں سے گندم خرید کر اسے انتہائی سستے داموں فلورملز کو فراہم کرتا تھا اور افسوس یہ کہ ’’کوٹہ سسٹم‘‘ کی وجہ سے چور فلورملز بھی اتنی ہی سرکاری گندم لینے کی اہل تھیں جتنی کارکردگی والی ملز کو ملتی تھی ۔عجب تماشہ تھا کہ کوٹہ چور فلورملز محکمہ خوراک کے گودام سے سرکاری گندم سے لدی گاڑی کسی فعال مل کی جانب بھیج کر بنا فلورمل چلائے، آٹا بنائے روزانہ لاکھوں روپے کا ’’خالص‘‘ منافع کماتی تھیں۔ اوپن مارکیٹ کی قیمت اور سرکاری گندم کی ریلیز پرائس میں پایا جانے والا غیر معمولی فرق اس قدر زیادہ ہوتا تھا کہ نہ صرف محکمہ خوراک بلکہ گندم آٹا سے منسلک ہر محکمہ، انتظامیہ اپنا حصہ لے کر اس کوٹہ نظام کے سہولت کار بن جاتے تھے۔
گزشتہ پانچ چھ سالوں میں سرکاری گندم کوٹہ نظام کے خلاف مضبوط آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس نظام سے مستفید ہونے والے اس قدر با اثر اور منظم تھے کہ اس کے خاتمہ میں مضبوط رکاوٹ تھے۔ اہم ترین عہدوں پر براجمان فیصلہ ساز بیوروکریٹس، کابینہ ارکان بھی چونکہ اپنا حصہ لیتے تھے اس لیے کوٹہ مافیا جب چاہتا انھیں بلیک میل کر کے اپنی بات منوا لیتا تھا ،کبھی ریاستی اداروں کو گندم آٹا کے ممکنہ بحران کی غیر حقیقی صورتحال سے ڈرا کر ان کے ذریعے حکومت اور محکموں کو دباؤ میں لایا جاتا تھا ۔نگران دور حکومت میں جب اسٹیبلشمنٹ نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام شروع کیا اور اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں سے رابطے کیے تو جن چند معاملات کو’’میگا کرپشن ‘‘ کا ذریعہ قرار دیا گیا ان میں سے ایک سرکاری گندم آٹا کا سبسڈائزڈ کوٹہ نظام بھی شامل تھا۔نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے سب سے پہلے سرکاری اور اوپن مارکیٹ کی گندم قیمت کے درمیان فرق کو ختم کیا اور پھر محترمہ مریم نواز شریف نے وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد گندم آٹا سیکٹر میں اصلاحات کا آغاز کیا۔
محترمہ مریم نواز درجنوں بار کہہ چکی ہیں کہ سرکاری گندم خریدو فروخت اور کوٹہ سسٹم ہر سال اربوں روپے کی کرپشن کا سبب تھے ،بہت سے لوگوں نے ان کی بات سے اتفاق نہیں کیا لیکن اب ایسے مصدقہ اعداد وشمار سامنے آ چکے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ وزیر اعلی مریم نواز نے گندم آٹا بارے جو کہا وہ درست ہے۔پنجاب میں سرکاری گندم کے اجراء کا جائزہ لیں تو گزشتہ10 برس میں اوسطاً 35 لاکھ ٹن گندم ہر برس فلورملز کو سستے داموں فروخت کی جاتی رہی ہے ، گندم ریلیز کے چند اعداد و شمار انتہائی غیر معمولی ہیں،2018 میں محکمہ نے56 لاکھ ٹن،2019 میں45 لاکھ ٹن، 2020 میں51 لاکھ80 ہزار ٹن جب کہ2022 میں54 لاکھ ٹن گندم بھی ریلیز کی ۔پنجاب حکومت پچھلے پندرہ برس میں سرکاری گندم کی فلورملز کو سستے داموں فروخت پر750 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی کا بوجھ اٹھا چکی ہے۔
2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد محترمہ مریم نواز نے گندم کی سرکاری خریداری ختم کی تو انھیں انتہائی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ گندم مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور کسان کو کھیت میں 2ہزار سے2200 روپے فی من تک قیمت ملی جو اس کی لاگت کاشت کو بھی بمشکل پورا کرسکی۔نجی شعبہ نے لاکھوں ٹن گندم سستے داموں خرید کر اس امید پر اسٹاک کی کہ چند مہینوں بعد ڈبل یا ٹرپل قیمت پر فروخت کریں گے۔2024/25 میں وزیر اعلی نے کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے نجی شعبہ کو آگے لانے کے لیے ایک نظام بنانے کی ہدایت کی جسے ’’ای ڈبلیو آر‘‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن اس وقت کی بیوروکریسی مختلف وجوہات کی وجہ سے ناکام رہی اور ان حالات میں گندم آٹا بحران جنم لیتے رہے۔گزشتہ برس وزیر اعلی نے پنجاب میں گندم آٹا خرابیوں کو دور کرنے اور کسان صارف دوست اصلاحات کے نفاذ کے لیے اپنے انتہائی قابل اعتماد افسر اور اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ امجد حفیظ کو ڈی جی فوڈ پنجاب تعینات کیا تھا جنھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نجی شعبے نے جو سستی گندم خرید کر بنا سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے اسٹاک کی ہوئی تھی اسے سرکاری نگرانی میں لیا ۔
اس کے بعد انھوں نے فعال اور غیر فعال فلورملز کو الگ کیا اور پھر قابل تصدیق فارمولا بناکر فعال فلورملز کو نجی گندم کی فروخت شروع کروائی۔اس موقع پر کوٹہ والی فلورملز نے شدید احتجاج کیا، لابنگ، الزام تراشی، دباؤ سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ کسی طرح سرکاری گندم کی مساویانہ ریلیز شروع ہو سکے مگر وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کسی دباؤ میں نہیں آئے۔وزیر اعلیٰ نے صوبے کی گندم مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے پاسکو سے بھی تین لاکھ ٹن خرید لی اور آج یہ صورتحال ہے کہ آیندہ ماہ کے وسط میں جب ریلیز ختم ہوگی تو محکمہ مجموعی پر18 لاکھ ٹن گندم فروخت پر سیزن اختتام کرے گا جس میں سے سرکاری گندم محض10 لاکھ ٹن ہوگی باقی کی8 لاکھ ٹن تو پکڑی گئی نجی گندم ہے۔
ماضی کی سالانہ اوسط ریلیز35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 18 لاکھ ٹن ریلیز کے ساتھ بنا کسی بحران کے آٹا کی وافر سپلائی نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اس وژن پر تصدیق کی مہر ثبت کردی ہے کہ سرکاری گندم کوٹہ نظام ،میگا کرپشن تھی ۔وزیر اعلیٰ نے اپنی فوڈ ٹیم کے ساتھ آٹا دستیابی کا نظام تو درست کر لیا ہے لیکن اب ان کا اگلا چیلنج نجی شعبے کے ذریعے پنجاب کے کسانوں سے گندم خریداری کے نئے نظام کو کامیاب بنانا ہے۔ ڈی جی فوڈ امجد حفیظ نے دانشمندانہ مشاورت کے بعد یہ نظام وضع کیا ہے،پری کوالیفائی کی گئی35 کمپنیاں، فلورملز اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے والا ادارہ’’گرین پاکستان انیشی ایٹو‘‘ کسانوں سے 3500 روپے فی من قیمت پر 30 لاکھ ٹن گندم خریدے گا ،اس خریداری کا مقصد گندم مارکیٹ میں قیمت کو مستحکم بنانا اور صوبائی حکومت کے لیے گندم کے اسٹریٹجیک اور بفر اسٹاکس تعمیر کرنا ہے۔کسان کو اگر کھیت میں کم ازکم 3200/3300 روپے فی من قیمت بھی مل گئی تو یہ حکومت اور نئے نظام کی بڑی کامیابی ہو گی اور کوٹہ بہاریں لوٹنے کے منتظر مافیاز کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔
Today News
بجلی سبسڈی کیلیے ایک کھرب منظوری کی کوشش، آئی ایم ایف کا اعتراض
اسلام آباد:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی جانب سے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی تجویز پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔
اس رقم میں 400 ارب روپے سے زائد بجلی چوری اور نظام کی نااہلیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
بجلی کے شعبے میں مسلسل مالی خسارے اور ہر سال بھاری بجٹ مختص کیے جانے سے حکومت کا یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے کہ گزشتہ 2برسوں میں اس شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی سبسڈی کی مد میں تقریباً 990 ارب روپے درکار ہوں گے، جو رواں سال کے مقابلے میں 11 فیصد یا تقریباً 100 ارب روپے زیادہ ہیں۔
یہ اضافی 100 ارب روپے تقریباً اس رقم کے برابر ہیں جو حکومت بجلی صارفین سے کراس سبسڈی کے نام پر وصول کرتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دینے کے لیے دیگر صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے تک اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بجٹ تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ سبسڈی کی رقم کو موجودہ مالی سال کے 893 ارب روپے سے کم رکھا جائے۔
پاور ڈویڑن کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک کے قرضوں کی معافی اور گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیوں کے باعث اضافی سبسڈی درکار ہوگی، خاص طور پر اس لیے کہ چین نے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے، اس لیے صرف وزارت خزانہ ہی آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت پر موقف دے سکتی ہے۔
موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف گردشی قرضے کے بہائو کی اجازت تو دے رہا ہے لیکن ایک مقررہ حد کے اندر۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے اگلے مالی سال میں گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ 300 سے 325 ارب روپے کے درمیان محدود رہے، جو رواں سال کی سطح سے بھی کم ہو۔
گزشتہ ماہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا تھا کہ بجلی چوری اور نظام کی نااہلی کے اخراجات ٹیرف میں شامل نہیں کیے جاتے بلکہ وزارت خزانہ انھیں سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔
تاہم یہ سبسڈی دراصل ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں،گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔وزیر توانائی نے میڈیا بریفنگ میں اعتراف کیا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی چوری اور کم وصولیوں کے باعث حکومت کو 497 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث نقصانات کم نہیں کیے جا سکے۔
تاہم ذرائع کے مطابق سندھ میں زیادہ نقصانات کے بارے میں آئی ایم ایف کے سوال کا پاور ڈویڑن کے پاس تسلی بخش جواب نہیں تھا۔حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نئے بورڈ ممبران کی تقرری کے عمل میں ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بجائے اب نیٹ بلنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک فروخت کی جائے گی جبکہ شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔
حکومت نے گردشی قرضے کے مجموعی حجم کو کم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی حاصل کیا ہے۔حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گردشی قرضے کے بہائو کو 2031 سے پہلے صفر تک لانا ممکن نہیں ہوگا۔
Today News
بااختیار مقامی حکومتوں کی اصل رکاوٹ
1999 کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کر کے بغیر مارشل لا لگائے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑی تھیں تو ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جو ارکان اسمبلی تھے، ان کی مدت جنرل پرویز نے ختم کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک خلا موجود تھا۔ عوام سے منتخب جو ارکان اسمبلی تھے وہ فارغ ہو چکے تھے۔
اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔
طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔
جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔
ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔
1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔
صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔
Today News
کراچی والوں کیلئے اچھی خبر، مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ کا ایک ٹریک چند دن میں کھولنے کا اعلان کر دیا
کراچی:
میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور شہریوں کے لیے اچھی خبر دیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ایک ٹریک کو آئندہ چند دنوں میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔
معائنے کے دوران میئر کراچی نے کہا کہ انہیں عوام کو درپیش مشکلات اور تکالیف کا مکمل اندازہ ہے، اسی لیے وہ ہر ہفتے خود ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے آتے ہیں تاکہ کام کی رفتار کو تیز رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پورا شہر ان کی ذمہ داری ہے اور اس وقت کراچی کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، جو ان کی جماعت کی قیادت اور چیئرمین سے کیے گئے وعدوں کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں شہر بھر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور اب ہر کام شفافیت اور عوامی جوابدہی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کام میں سستی ہوئی تو ایسے افسران کی ضرورت نہیں، وہ کوئی اور کام تلاش کر لیں۔
میئر کراچی نے مزید اعلان کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے عوام سے براہِ راست تجاویز بھی حاصل کرے گی تاکہ شہریوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی جا سکے۔
بعد ازاں میئر کراچی نے سر غلام حسین ہدایت اللہ روڈ پر جاری کارپٹنگ کے کام کا بھی دورہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی ٹی ایس بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade